0
Monday 10 Oct 2016 01:29
مسئلہ کشمیر کو برطانوی حکومت بہتر طریقے سے حل کرا سکتی ہے

عاشور کے بعد عمران خان مزید ناکامیوں کا شکار ہونگے، اپوزیشن کی تقسیم نے نواز شریف کو فائدہ پہنچایا، مخدوم جاوید ہاشمی

عاشور کے بعد عمران خان مزید ناکامیوں کا شکار ہونگے، اپوزیشن کی تقسیم نے نواز شریف کو فائدہ پہنچایا، مخدوم جاوید ہاشمی
مخدوم جاوید ہاشمی یکم جنوری 1948ء کو ملتان میں پیدا ہوئے۔ وہ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی صدر کے عہدے سے مستعفی ہوئے ہیں۔ مخدوم جاوید ہاشمی کو نواز لیگ چھوڑ کر تحریک انصاف جوائن کرنے پر پی ٹی آئی کا مرکزی صدر نامزد کیا گیا تھا، تاہم قیادت کے ساتھ اختلافات پر انہوں نے تحریک انصاف کو خیر باد کہہ دیا۔ جاوید ہاشمی وفاقی وزیر صحت، وفاقی وزیر یوتھ افیئر بھی رہے ہیں۔ 1999ء میں پرویز مشرف کے شب خون کے بعد جاوید ہاشمی نے نواز لیگ کو سنبھالے رکھا۔ سیاسی بنیادوں پر جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی۔ جاوید ہاشمی نے عام انتخابات میں شیخ رشید کو شکست دی اور رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ جاوید ہاشمی نے اپنے تنظیمی کیریئر کا آغاز زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے کیا، بعد ازاں سیاسی میدان میں قدم رکھا اور خود کو بہترین سیاست دان ثابت کیا۔ اسلام ٹائمز نے پانامہ لیکس، بھارتی جارحیت اور اپوزیشن کے کردار کے حوالے سے ان سے ایک نشست کی، جسکا احوال اپنے قارئین کے لئے پیش کر رہے ہیں۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: 30 ستمبر کو عمران خان کیجانب سے دی جانیوالی محرم کے بعد کی دھمکی کس حد موثر ثابت ہوگی۔؟
مخدوم جاوید ہاشمی:
(بسم اللہ الرحمن الرحیم،بہت شکریہ) ہر شے کو عروج اور زوال ہے، اسی طرح سیاست میں بھی سیاستدانوں کو عروج و زوال کا سامنا رہا ہے، عمران خان کے عروج کے دن میں سمجھتا ہوں کہ اب ختم ہوچکے ہیں، گو کہ 30 ستمبر کا جلسہ ایک کامیاب جلسہ تھا، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ محرم کے بعد عمران خان کوئی ایسے اقدامات کر پائیں گے، جن سے حکومت کو کوئی خطرہ ہوگا۔ عمران خان جہاں پہنچ چکے ہیں، اس سے آگے اب جلائو گھیرائو باقی ہے اور عمران خان کا یہ عمل اس کی تحریک کو ختم کرنے کے لئے کافی ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کے حصے میں مزید کامیابیاں نہیں ہیں، پارٹی کے اندرونی اختلافات ورکر اور رہنمائوں کے درمیان مسلسل فاصلے پیدا کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: عمران خان کی جن ناکامیوں کی آپ بات کر رہے ہیں، انکے پیچھے کونسے عوامل ہیں۔؟
مخدوم جاوید ہاشمی:
میرے نزدیک دو اہم عوامل ہیں، پہلا پارٹی انتشار اور دوسرا اپوزیشن سے دوری۔ عمران خان اپنے جلسوں میں پیسے کے بل بوتے پر لوگوں کو جمع کرتے ہیں، پی ٹی آئی میں نظریاتی ورکر کی بڑھوتری ختم ہوچکی ہے، ایک وقت تھا کہ جب تمام سیاستدان پی ٹی آئی میں شمولیت کے خواہشمند تھے، لیکن اب معاملہ برعکس ہے۔ پی ٹی آئی کا موجودہ ورکر دھڑے بندی کا شکار ہے اور ناکامی کی دوسری بڑی وجہ عمران خان کی اپوزیشن جماعتوں کے خلاف سخت تنقید ہے، جس کے باعث پاکستان پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی، اے این پی اور مسلم لیگ قاف کی قیادت عمران خان کے رویے سے نالاں ہے، میں وزیراعظم سمیت تمام شہریوں کے احتساب کے حق میں ہوں، لیکن جس طرح عمران خان احتساب چاہتے ہیں، ایسا حکومت نہیں کرے گی۔

اسلام ٹائمز: شنید ہے کہ اگلے الیکشن سے پہلے آپ مسلم لیگ نون جوائن کر لیں گے۔؟
مخدوم جاوید ہاشمی:
برائے مہربانی اسے شنید نہ کہیں بلکہ افواہ کہیں، جو کہ اکثر و بیشتر چھوڑی جاتی ہیں اور میں اب ان افواہوں کو اہمیت نہیں دیتا۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے، میرا حکومتی اراکین اور وزراء کے ساتھ رابطہ ضرور ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں مسلم لیگ نون میں شمولیت اختیار کر رہا ہوں۔ میں نے سیاست کو خدمت سمجھ کر کیا ہے اور اگر آئندہ بھی سیاسی میدان میں حصہ لیا تو عوامی خدمت اولین ترجیح ہوگی۔ بہرحال ایک بات واضح ہے کہ اگر میں نے مسلم لیگ نون میں جانا ہوتا تو اسی وقت چلا جاتا جب پی ٹی آئی کو خیرباد کہا تھا۔

اسلام ٹائمز: پانامہ لیکس کی تحقیقات میں حکومت رُکاوٹ ہے یا اپوزیشن جماعتیں۔؟
مخدوم جاوید ہاشمی:
(مسکراتے ہوئے) آپ مجھ سے کیا کہلوانا چاہتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ اس حوالے سے دونوں کا حصہ بقدر جثہ موجود ہے، کیونکہ اگر یہ دونوں طبقے سنجیدہ ہوتے اور کرپشن کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے تو مشکل نہیں تھی، لیکن اکثر پارٹیوں میں ایسے افراد موجود ہیں، جو مختلف ادوار میں کرپشن میں ملوث رہے ہیں، جس بناء پر وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ کرپشن کے خلاف اقدامات کئے جائیں، حکومت اپنے افراد کو بچانا چاہتی ہے اور اپوزیشن اپنے رہنمائوں کو محفوظ کرنا چاہتی ہے۔

اسلام ٹائمز: گذشتہ دنوں آپ نے ایک بیان میں بھارت کے کئی ٹکڑے ہونیکا انکشاف کیا ہے۔؟ کیا واقعی ایسا ممکن ہے۔؟
مخدوم جاوید ہاشمی:
میں نے گذشتہ دنوں ایک تقریب میں اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ بھارت ٹوٹنے والا ہے، ایک طرف بھارت میں بھوک و افلاس بڑھ رہی ہے، ایک طرف خالصتان تحریک ہے، ایک طرف انتہا پسندی عام ہو رہی ہے اور مسئلہ کشمیر کئی دہائیوں سے حل طلب ہے، میں دیکھ رہا ہوں کہ بہت جلد بھارت کا عام شہری حکومت کے اقدامات کی نفی کرے گا، بھارت نے جس طرح بیانات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو دبانا چاہا ہے، حکومتی افراد کی وجہ سے کیس کمزور ہوا ہے۔ آزادی کشمیر کی تحریک میں شہداء کا لہو شامل ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس مسئلے کو برطانوی حکومت بہتر حل کراسکتی ہے، لیکن برطانوی حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی کردار نظر نہیں آ رہا۔ عالمی سطح پر بھارت جھوٹ کو فروغ دے کر پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے کر رہا ہے۔ کاش پاکستانی قیادت اپنے اور کشمیری موقف کو عالمی سطح پر اُٹھاتی اور کشمیر کے حوالے سے اپنا مضبوط موقف بیان کرتی۔

اسلام ٹائمز: مسئلہ کشمیر پر عالمی طاقتوں کا جھکائو پاکستان کیجانب ہے یا بھارت کیجانب۔؟
مخدوم جاوید ہاشمی:
عالمی حالات روز بروز تبدیل ہو رہے ہیں، دوست دشمن بن رہے ہیں اور دشمن دوست۔ اگر عالمی طاقتوں کی بات کریں تو بھارت اس وقت امریکہ کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہوچکا ہے، جس کا حکومت پاکستان کو بھی احساس ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس احساس کے بعد حکومت نے اپنی خارجہ پالیسی کو تبدیل کیا ہے اور امریکہ مخالف بلاک روس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا شروع کئے ہیں، حالیہ پاک روس جنگی مشقیں امریکہ کو پیغام ہے کہ اگر ہماری طرف سے منہ موڑا گیا تو ہمارے پاس آپشن موجود ہے۔ لامحالہ طور پر اسی طرح کی پالیسی اُن ممالک کے ساتھ اپنانی چاہیے جو بھارت کو اپنا دوست کہتے ہیں، میں کسی ملک کا نام نہیں لینا چاہتا، بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ دشمن کا دوست بھی دشمن ہوتا ہے، اب حکومت خود تعین کرے کہ بھارت کس کے ساتھ حق دوستی نبھا رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 574203
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب