0
Tuesday 8 Nov 2016 23:22
دنیا بھر کے ممالک سے دوستانہ تعلقات قائم کریں لیکن قومی مفاد کے برعکس کوئی فیصلہ اختیار نہ کریں

اقتصادی راہداری منصوبے میں ایران کی شمولیت پاکستان اور قومی مفاد میں بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگی، لیکچرر امجد علی

اگر پاکستان کا دفاع کرنا ہے تو سیاسی عسکری قیادت اور سول عسکری بیوروکریسی کو ایک پیج پر آنا ہوگا
اقتصادی راہداری منصوبے میں ایران کی شمولیت پاکستان اور قومی مفاد میں بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگی، لیکچرر امجد علی
نوجوان لیکچرر جناب امجد علی کا تعلق پاکستان کی معروف درسگاہ جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے ہے۔ آپ بین الاقوامی تعلقات میں ایم فل کر چکے ہیں، گذشتہ تین سالوں سے بحیثیت لیکچرر جامعہ کراچی میں تدریسی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں، اس سے قبل آپ معروف تعلیمی ادارے شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں تین سال ، شاہ لطیف یونیورسٹی خیرپور میں دو سال تدریسی فرائض انجام دے چکے ہیں، آپ سندھ یونیورسٹی سے گولڈ میڈل بھی حاصل کر چکے ہیں، آپ بین الاقوامی تعلقات سمیت ملکی و عالمی ایشوز پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے جناب امجد علی کے ساتھ پاکستانی خارجہ پالیسی، پاک چین اقتصادی راہداری، منصوبے مین ایرانی شمولیت کے موضوعات کے حوالے سے جامعہ کراچی میں انکے دفتر میں مختصر نشست کی، اس موقع پر آپ کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے کیا کہیں گے، آزاد ہے یا امریکا یا کسی اور ملک کے زیر اثر نظر آتی ہے۔؟
امجد علی:
ہمارے ساتھ مسئلہ یہ آرہا ہے کہ ہم نے اپنی خارجہ پالیسی پر طویل عرصے سے نظر ثانی نہیں کی، ہم قیام پاکستان سے ہمارا جھکاؤ امریکا یا مغرب کی طرف رہا، ہم اسی ایک سمت چلتے گئے، پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک اور امریکا و مغرب جیسے ترقی یافتہ ممالک کے درمیان جب مفادات کا ٹکراؤ ہوتا ہے تو وہ ہمیں آسانی سے نظرانداز کر دیتے ہیں، اور پھر ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مثلاً کچھ عرصہ پہلے امریکا نے پاکستان کو نظر انداز کرکے بھارت کے ساتھ ایٹمی ڈیل کی، اس کے باوجود کہ ہم شروع سے امریکی اتحادی رہے ہیں، دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں ہم امریکا کے ساتھ فرنٹ لائن پر موجود ہیں، لیکن ان سب کو نظر انداز کرکے امریکی صدر بش نے انڈیا کا دورہ کرکے ان کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل کرلی، اس کے بعد اب نیوکلیئر سپلائی گروپ (NSG) کی ممبرشپ میں بھی امریکا پاکستان کو نظر انداز کرکے بھارت کے ساتھ کھڑا ہے، چونکہ ہم نے ایک طویل عرصے تک اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی نہیں کی یا دیر کر دی تو امریکا کو یہ یقین رکھتا ہے کہ پاکستان تو اس سے دور نہیں جائیگا، تو وہ دوسرے ممالک پر محنت کر رہا ہے، لہٰذا ہمیں اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگی، اور دوسرا یہ کہ ہمیں خارجہ پالیسی کیلئے کہ وزیر خارجہ کی ضرورت ہے جو آج بھی ہمارے پاس نہیں ہے، جب کے پاکستان انتہائی اہم دور سے گزر رہا ہے، وزیراعظم، وزیراعظم ہاؤس چلائیں گے یا خارجہ امور کا آفس، یہ فیصلہ کرنا ضروری ہے، انتہائی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں ہمیں ان چیزوں کا احساس کرنا ہوگا، مغرب کو ہم نے بہت آزما لیا، اب ہمیں مشرق کی طرف بھی دیکھنا ہوگا، چین سے ہمیں بہت اچھا رسپانس مل رہا ہے، ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پاک چین اتحاد بنا، امریکا چین تعلقات میں پاکستان نے پل کا کردار ادا کیا، لہٰذا ہمیں مشرق سے اچھے نتائج مل رہے ہیں، لہٰذا ہمیں کسی ایک کی طرف جھکاؤ نہیں رکھنا چاہیئے، ہمیں ایک بیلنس اور آزاد خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے۔

اسلام ٹائمز: کہا جاتا ہے کہ افغان وار میں شمولیت اور روس سے ٹکرانا نامناسب خارجہ پالیسی کا نتیجہ تھے، جو پاکستان میں دہشتگردی کے بحران کا باعث بنا، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
امجد علی:
70ء کی دہائی کے اوائل میں بھٹو حکومت نے سوویت یونین (موجودہ روس) کے ساتھ تعلقات بڑھائے،آپ کو ان سے اسٹیل مل ملی، آپ نے چین کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا جو آج تک آپ کیلئے سازگار ہے، وہی روس جس کے ساتھ آپ دوستی بڑھا رہے تھے 79ء میں آپ ان کے ساتھ جنگ میں چلے گئے، افغان جنگ کے دوران پاکستان میں سماجی تبدیلی و ترقی نظر انداز کر دی گئی اور ا سکی جگہ اس جنگ نے لے لی جو اصلاً ہماری نہیں تھی، جنگ کسی اور کی تھی ہم اس میں پھنس گئے، ہمیں اگر اپن ادفاع کرنا تھا تو اپنے آپ کو مظبوط بنانا چاہیئے تھا، ناکہ ہم امریکا کیلئے کسی اور ریاست میںلڑنے چلے جاتے، آج جو دہشتگرد کے خلاف عالمی جنگ میں دنیا مصروف ہے اس کی جڑیں اسی افغان جنگ سے ملتی ہیں جس میں امریکا پیش پیش تھا، ہم اس کے اتحادی تھے، امریکا نے اپنا مقصد پورا کیا جو کہ روس کو شکست دینا تھا، کمیونزم کا خاتمہ تھا، لیکن میں سوائے دہشتگردی، اسلحہ، منشیات کے کیاملا، پھر اس وقت کی ایک سپر پاور سے چیلنجز سامنے آئے۔

اسلام ٹائمز: ایسی خارجہ پالیسی جو حقیقی معنوں میں پاکستان اور عوام کے مفادات کا تحفظ کرے، اس کے بننے میں کیا رکاوٹ ہے اور بننا کیسے ممکن ہے۔؟
امجد علی:
ہمارے پاس سیاسی قیادت ہے، سول ملٹری بیورو کریسی ہے، ان کے بیچ میں ایک پوشیدہ محاذ آرائی ہے، لیکن دونوں عناصر خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں، دونوں کے درمیان ایک دوسرے کو سمجھنے کے حوالے سے ایک خلا موجود ہے، مشترکہ مفاد پر تقسیم ہیں، بعض اوقات سیاستدان ایسے کام کر بیٹھتے ہیں جو ہمارے قومی مفاد میں نہیں ہوتی، بعض اوقات عسکری بیوروکریسی سے سیاسی قیادت کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے حکومت گرنے کے نتیجے میں، لہٰذا سیاسی عسکری قیادت اور سول عسکری بیوروکریسی کو ایک پیج پر ہونا چاہیئے، یہ ملک و عوام کی ضرورت ہے، اگر پاکستان کا دفاع کرنا ہے تو سب کو ایک پیج پر آنا ہوگا۔ عوام کا بھی ایک اہم اور بڑا کردار ہے، ملک کے بہت سے اہم مسائل سے عوام خود کو الگ تھلگ رکھتے ہیں، عوام سوچتی ہے کہ ہمارا اس سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے، یہ انتہائی غلط سوچ ہے، لہٰذا تمام عام و خاص عناصر کو یکساں طور پر ذمہ دار ہونے کی ضرورت ہے، پھر ہم اچھے نتائج حاصل کر سکتے ہیں، وگرنہ ہم بحرانوں کا شکار رہیں گے، نقصانات اٹھاتے رہیں گے۔

اسلام ٹائمز: سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے گذشتہ دنوں کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ نواز حکومت کی سعودی نوازی کا یہ عالم ہے کہ وہ سعودی سفارت خانے کی ایک خود ساختہ خبر پر ریاستی پالیسی دینا شروع کر دیتے ہیں، ان کی اس لائن کا سیاق سباق پاکستانی وزارت خارجہ کا وہ بیان ہے کہ جس میں ترجمان نے کہا کہ حوثی جنگجوؤں کی جانب سے مکہ پر میزائل حملے کے واقعے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، جبکہ حوثیوں نے اس کی باضابطہ تردید کی، عالمی میڈیا نے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں کی، آپ اس تناظر میں پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی کے دعوے کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
امجد علی:
میں یہاں پر کسی ایک خاص موقع کے حوالے سے نہیں بلکہ ایک عمومی بات کروں گا کہ جہاں بھی غلط ہو رہا ہو ہمیں اپنا مؤقف دینا چاہیئے لیکن قومی مفاد اور حقائق کے برعکس جا کر بیان نہ دیں، کسی کی بھی مذمت کرنے سے قبل آپ کو زمینی حقائق کا معلوم ہونا ضروری ہے، لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے ہم عالمی و مقامی میڈیا کی خبروں کو دیکھ کر مؤقف اختیار کرتے ہیں، لوگ اسے دیکھ کر ردعمل ظاہر کرتے ہیں، جج صاحبان خبریں دیکھ کر، خبروں کو بنیاد بنا کر سوموٹو ایکشن لیتے ہیں، ہمیں ماننا پڑے گا کہ ہم زمینی حقائق سے واقف نہیں ہیں، بعض اوقات ممکن ہے کہ ہم جس کے حق میں مؤقف اختیار کررہے ہوں، وہی مظلوم ہو، پھر جتنا ہم سعودی یمن تنازعے پر فکرمند ہیں اس سے کہیں زیادہ ہمیں پاک بھارت تنازعات پر فکر مند ہونا چاہیئے، دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسلم ممالک کی اکثریت مسئلہ کشمیر پر خاموش اختیار کئے ہوئے ہے، آپ نے مذمت کی، صحیح ہے میزائل حملہ نہیں ہونا چاہیئے، لیکن جو کچھ کشمیر میں میں بھارت ظلم و بربریت ڈھا رہا ہے، وہ دنیا سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، لیکن یہی بھارتی وزیراعظم مودی جب سعودی عرب جاتا ہے تو سعودی بادشاہ اسے اعلیٰ ترین سعودی سول اعزاز سے نوازتا ہے، آپ اس پر کیوں آواز بلند نہیں کرتے، اس پر تو آپ خاموش رہتے ہیں، بہرحال دنیا بھر کے ممالک سے دوستانہ تعلقات قائم کریں لیکن قومی مفاد کے برعکس کوئی فیصلہ اختیار نہ کریں۔

اسلام ٹائمز: پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں ایران کی شمولیت کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
امجد علی:
اقتصادی راہداری منصوبہ صرف چین اور پاکستان تک محدود نہیں ہے، اس میں ایران کی شمولیت پاکستان اور اس کے قومی مفاد میں بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگی، خطے پر بھی اسکے اچھے اثرات مرتب ہونگے۔

اسلام ٹائمز: اقتصادی راہداری منصوبے اور اس میں ایرانی شمولیت پر بعض دوست عرب ممالک کے تحفظات نظر آتے ہیں۔؟
امجد علی:
پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی بات جب سامنے آئی تو یہ ایک بڑا نیا منصوبہ تھا، انڈیا، امریکا، مغرب ممالک، کئی عرب ممالک نے تحفظات کا اظہار کیا، لیکن پاکستان ان تحفظات کو کنٹرول کر سکتا ہے، ابھی ہو سکتا ہے کہ پاکستان سمجھائے کہ یہ پورے خطے کیلئے مفید و کامیاب منصوبہ ہے لیکن انہیں سمجھ نہیں آئے، لیکن جب اس منصوبے کے فوائد سب کو ملنا شروع ہونگے تو تحفظات رکھنے والے ممالک اسے تسلیم کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے، کیونکہ یہ منصوبہ صرف پاکستان اور چین کیلئے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی ترقی کا باعث ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 582131
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب