0
Tuesday 15 Nov 2016 19:49
اربعین کی پیادہ روی اسلام کی سرخروئی، سربلندی اور افتخار کی علامت ہے

خانہ کعبہ قاتلوں اور ظالموں کی پناہ گاہ اور چھپنے کی جگہ نہیں ہے، مولانا سید تقی رضا عابدی

یمن کے خونین کھیل کو اسلام کا نام نہیں دیا جاسکتا ہے
خانہ کعبہ قاتلوں اور ظالموں کی پناہ گاہ اور چھپنے کی جگہ نہیں ہے، مولانا سید تقی رضا عابدی
مولانا سید تقی آغا عابدی کا تعلق بھارتی ریاست حیدر آباد دکن سے ہے، آپ تقریباً 2002ء سے ہندوستان میں اپنی دینی و سماجی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، اور مختلف دینی، سماجی و سیاسی سرکردہ تنظیموں سے جڑے ہوئے ہیں، اس وقت بھی یونائیٹڈ مسلم فورم کے جنرل سیکرٹری ہیں جو ہندوستان بھر میں مختلف مذہبی و مسلکی مکاتب فکر کے علماء کرام کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے، یہ فورم غیر سیاسی ہوتے ہوئے سیاسی پارٹیوں کی رہنمائی کرتا ہے، اس کے علاوہ آپ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سے بھی وابستہ ہیں، مجلس کے میلاد النبی (ص) کے ڈیڑھ لاکھ مجمع میں ہر سال آپ کا خطاب خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے، مولانا سید تقی رضا عابدی (تقی آغا) حیدر آباد میں مسلم پرسنل بورڈ کے نمائندے بھی ہیں، مجلس علماء ہند کی حیدر آباد کی نمائندگی بھی آپ کے پاس ہے، آپ 2015ء کے اوائل سے انٹرنیشنل مسلم یونٹی کونسل کے چیئرمین بھی ہیں، اس کے علاوہ آپ شیعہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن حیدر آباد کے روح رواں بھی ہیں، اسلام ٹائمز کے نمائندے نے مولانا سید تقی آغا عابدی سے ایک خصوصی نشست کے دوران انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: بھارتی شہر لکھنؤ میں MI6 کے آلہ کاروں کی فعالیت اور حال ہی میں یہاں ایک مدرسہ کی افتتاح کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے۔؟
مولانا سید تقی رضا عابدی:
یہ اسی سازش کا حصہ ہے کہ بھارت سے مرجعیت اور ولایت کے خلاف لوگوں کو اکسایا جائے انہیں اس الہی نعمت سے منحرف کیا جائے، مسلمانوں کے درمیان انتشار پھیلایا جائے، انکے درمیان منافرت پھیلائی جائے، یہ مدرسہ لکھنؤ شہر میں انکی یہاں فعالیت کی شروعات ہے، لکھنؤ کو مرکز بناکر یہ پورے بھارت میں انتشار کی وبا پھیلانے میں سرگرام ہیں، چاہتے ہیں کہ یہاں کے اہل تشیع کو مرجعیت اور ولایت سے دور کیا کریں، علماء نے اس پر ردعمل اگرچہ محدود انداز میں ہی ظاہر کیا لیکن ایسے عناصر کے خلاف کھل کر سامنے آنے کی ضرورت ہے۔ علماء و دانشوروں کو آئندہ اس خطرے کے اثرات کے بارے میں سوچنا چاہیے اور اسکی توڑ کرنی چاہیے، اسے معمولی خطرہ نہیں سمجھنا چاہیے، ہمارا ماننا ہے کہ اگر دشمن اسلام کی یہ کوشش بڑھے گی تو یہ پورے ہندوستان کو اپنی لپیٹ میں لے گی، یہ فتنہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف بڑھانے اور اسلامی مقدسات کی توہین پر مبنی فتنہ ہے۔ اور لکھنؤ شہر میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف کا ماحول پہلے سے ہی موجود ہے، اب اگر ایسے عناصر کھل کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں تو حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں، اسی لئے انہوں نے لکھنؤ میں ہی اپنا مرکز تشکیل دیا، حیدر آباد دکن اور ممبئ شہر میں ایسے عناصر اگرچہ پہلے سے ہی موجود ہیں لیکن اب یہاں باقاعدگی سے انہوں نے اپنے مکروہ عزائم کی عمل آوری شروع کردی ہے۔ یہ تمام کی تمام سرگرمیاں اور فعالیت تشویش ناک ہیں، جہاں بھی بصیرت پر کام نہیں ہوگا اور شعور بیدار نہیں ہوگا وہاں ایسے عناصر داخل ہونگے، تو بصیرت اور سیاسی شعور پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے، اسلام شعور کی بلندی، بصیرت، بیداری اور دشمن شناسی کا ہم سے مطالبہ کرتا ہے، جہاں شعور ہوگا دشمن اور اسکے آلہ کار وہاں ناکامی سے دوچار ہونگے، جذباتی قوم دشمن کے حربوں اور حیلوں کو نہیں پہچان پاتی ہے، اسی لئے MI6 اور اسکے آلہ کاروں نے جذباتی لوگوں کو اپنی جانب مائل کیا ہے، اور انکے جذبات سے فائدہ اٹھایا ہے، اور جو لوگ آگاہ ہیں با بصیرت ہیں وہ ان عناصر کے حیلوں میں نہیں آتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: بھارت بھر میں بھاجپا حکومت کی جانب سے ’’یکساں سیول کوڈ‘‘ کے نفاذ کی بحث زور پر چل رہی ہے، اس پر آپ کا تجزیہ جاننا چاہیں گے۔؟
مولانا سید تقی رضا عابدی:
دیکھئے یکساں سیول کوڈ کا نفاذ بھارت کے تمام مذاہب کے لئے نقصان دہ اور ناقابل قبول ہے، اور خود بھارت کی سالمیت کے لئے بھی یہ نقصان دہ ثابت ہوگا۔ کوئی بھی فرد کسی بھی مذہب کا ماننے والا یہ نہیں چاہے گا کہ اسکے مذہبی قوانین اور احکامات کے بجائے یکساں سیول کوڈ کا نفاذ عمل میں لایا جائے کہ جس کے نتیجے میں اسکی مذہبی آزادی سلب کی جائے۔ بھاجپا کا یہ خواب پورا نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ یکساں سیول کوڈ کی تمام مذاہب کے ماننے والے مخالفت کریں گے اور یہ کسی کو قبول نہیں ہوگا۔ تمام لوگ جانتے ہیں کہ یہ فیصلہ خود ہندو مذہب کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔ اور آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہ دراصل مسلم پرسنل لاء بورڈ آف انڈیا کو نشانہ بنانے کی ایک سازش ہے، یکساں سیول کوڈ کا شور مچاکر یہ لوگ دراصل مسلم پرسنل لاء بورڈ کو کمزور یا ختم کرنے کی سازیں کررہے ہیں، اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کا کمزور کرنا درحقیقت مسلمانوں کو کمزور کرنا ہے، ہمیں آگاہ رہنا چاہیے، ہم نے بارہا اس خطرے سے مسلمانوں کو باخبر کیا ہے، اور جب شیعہ پرسنل لاء بورڈ کا شوشہ چھوڑا گیا تھا تب بھی ہم نے ملت کو درپیش خطرات سے آگاہ کیا تھا، ہم نے اس دور میں شیعہ پرسنل لاء بورڈ کی حمایت اسی لئے نہیں کی تھی کیونکہ ہم تقسیمی اور انتشاری عناصر کے حربوں اور سازشوں سے واقف تھے۔ دشمن کا اصل ہدف کہاں ہوتا ہے ہمیں سمجھنا چاہیے۔

اسلام ٹائمز: بھارت جو مختلف مذاہب و ادیان کا ملک ہے، یہاں کے مسلمانوں کی ذمہ داریاں کیا بنتی ہے۔؟
مولانا سید تقی آغا عابدی:
مسلمانوں کے رہنماؤں اور علماء کرام کا اس حوالے سے اہم رول بنتا ہے، انہیں چاہیے کہ اپنے معاشرے کی صحیح ترجمانی و تربیت کرے اور عوام کو صحیح سمت کی جانب لے جائیں، اور اگر معاشرے میں کوئی سستی و غفلت پائی جاتی ہے تو اسے متحرک کرے، اگر علماء کرام اپنی ذمہ داریاں انجام نہیں دیتے ہیں تو امت کا شیرازہ بکھر جائے گا اور دشمن حاوی ہوجائے گا۔ علماء کرام کا رول یہی ہوتا ہے کہ مردہ معاشرے میں جان پیدا کریں، انکا کردار مردہ قوم کو زندہ قوم میں تبدیل کرنا ہوتا ہے، علماء کرام اگر اپنا رول نبھاتے ہیں تو ہم دنیا بھر میں سر اٹھا کر جی سکتے ہیں، بقول علامہ اقبال ’’نہ سمجھوں گے تو مٹ جاؤں گے اے ہندوستان والو، تمہاری داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔‘‘ ایسی صورتحال ہمیں نظر آرہی ہے کہ ہندوستان کا مسلمان تقسیم ہورہا ہے اور اسکے اتحاد کا شیرازہ بکھر رہا ہے، ضروری ہے کہ عالمی ادارے جو بھی ہیں ہم ان سے روابط استوار کریں، استکبار ہرگز نہیں چاہتا کہ مسلمان آپسی اتحاد و بھائی چارگی کا مظاہرہ کریں، کاش عالمی سطح پر مسلمان ایک دوسرے سے جڑے ہوتے، کیا ہمارا معاشرہ بحرین، شام، عراق و یمن و دیگر اسلامی ممالک سے جڑے ہوئے ہیں، کیوں ہم ایک دوسرے سے دور ہوتے جارہے ہیں، اگر عالمی سطح پر یہ رابطہ برقرار ہوجائے تو ہمارے تمام مسائل کا حل ممکن ہے، آج یمن میں جو کچھ ہورہا ہے ہم اس حوالے سے غافل اور لاتعلق و خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، یہ لاتعلقی ہمیں تباہی سے ہمکنار کرے گی۔ غرضیکہ ہمیں کمونیکیشن گیپ کو ختم کرنا ہوگا۔

اسلام ٹائمز: آل سعود نے جو جنایت کاری یمن میں جاری رکھی ہوئی ہے، اس پر کیوں عالم اسلام خاموش ہیں اور جب یمن کے مجاہدین جوابی حملہ کرتے ہیں تو اس کو آل سعود اسلام پر حملہ قرار دیتے ہیں، اس پر آپ کا نقطہ نگاہ جاننا چاہیں گے۔؟
مولانا سید تقی رضا عابدی:
آل سعود نے پہلے سے ہی یہ سوچ کر رکھا تھا کہ اگر یمن کے مجاہدین کی جانب سے ہم پر حملہ ہوا تو ہم اسے اسلام اور مقدسات اسلام پر حملہ قرار دیں گے۔ مسلمانوں کو کھلے ذہن سے سوچنا چاہیے کہ یہ حملہ آل سعود پر حملہ ہے نہ کہ اسلام اور مقدسات اسلام پے، یہ کہاں کی سیاست اور کہاں کا انصاف ہے کہ آپ معصوم بچوں، خواتین اور نوجوانوں کو ماریں، ان پر میزائیل حملے کریں جب وہ مجاہدین واپسی حملہ کریں تو آپ خانہ کعبہ کی دیواروں میں چھپ جائیں، اگر انہوں نے یمن میں جنایت کاری اور قتل غارتگری کی ہے تو اسکا جواب انہیں برداشت کرنا پڑے گا، کاش یمن پر آل سعود کے حملوں کی کوئی مذمت کرتا اور اس پر اپنی آواز بلند کرتا اور پریس بیانات جاری کرتا، تب پوری دنیا، تمام مسلمان خاموش تھے اب جب آل سعود پر حملہ ہوا تو بیان بازیوں کے لئے گھر گھر سے مفتی نکل پڑے۔ ہمیں ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ کعبہ قاتلوں اور ظالموں کی پناہ گاہ اور چھپنے کی جگہ نہیں ہے، جب یہ کعبہ کی حرمت کا پاس و لحاذ نہیں رکھتے ہیں تو دوسروں سے اس چیز کی امید کیوں رکھتے ہیں، کعبہ کی سرزمین سے کسی کو تکلیف نہیں پہونچنی چاہیے، اس سرزمین سے دنیا کے لئے رحمت برسنی چاہیے نہ کہ تیر و میزائیل۔ کعبہ کو لٹیروں اور قاتلوں کا پناہ گاہ نہیں بنایا جاسکتا ہے، یمن کے خونین کھیل کو اسلام کا رنگ اور اسلام کا نام نہیں دیا جاسکتا ہے۔

اسلام ٹائمز: اربعین امام حسین (ع) و شہداء کربلا کی مناسبت پر نجف تا کربلا مسلمانوں کی پیادہ روی کو آپ کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
مولانا سید تقی رضا عابدی:
یہ پیادہ روی اہل تشیع کی طاقت کا مظاہرہ ہے، لوگ سمجھ رہے تھے کہ ایک واقعہ کربلا میں چودہ سو سال پہلے پیش آیا اور اسکے اثرات اب ختم ہوئے ہیں لیکن اس پیادہ روی نے واضح کردیا کہ اہل تشیع کا اہل بیت اطہار پر ایمان و ایقان تازہ اور مستحکم ہے۔ یہ ان تمام طاقتوں کے لئے دندان شکن جواب ہے جو شیعت کو کمزور سمجھ رہے ہیں، اربعین کی یہ پیادہ روی شیعت کی پہچان اور سربلندی ہے۔ علماء کی دانشمندی کا نتیجہ ہے کہ شام و عراق میں اسلام دشمن عناصر پسپا ہورہے ہیں، اور اس پیادہ روی نے دشمن کی کمر توڑ دی ہے، ہر نئے سال اس پیادہ روی کا زیادہ سے زیادہ اہتمام ہونا چاہیے، اسے اور منظم بنایا جانا چاہیے، اس دوران مراجع کرام کی تقاریر اور انکا لیٹریچر تقسیم ہونا چاہیے، یہ پیادہ روی در حقیقت اسلام کا عظیم اجتماع ہے، یہ پیادہ روی اسلام کی سرخروئی اور سربلندی اور افتخار کی علامت ہے۔
خبر کا کوڈ : 583819
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے