0
Tuesday 15 Nov 2016 23:26
تمام تر دہشتگرد کارروائیوں کی ذمہ داری حکومت اور سکیورٹی اداروں پر عائد ہوتی ہے

مشترکہ ملی مسائل کے حل کیلئے ملی تنظیموں کے پاس مشترکہ جدوجہد کے سوا کوئی آپشن نہیں، علامہ مختار امامی

کالعدم تنظیموں اور دہشتگرد عناصر کیخلاف فیصلہ کن کارروائی میں حکومتی و ریاستی اداروں میں موجود کالی بھیڑیں رکاوٹ ہیں
مشترکہ ملی مسائل کے حل کیلئے ملی تنظیموں کے پاس مشترکہ جدوجہد کے سوا کوئی آپشن نہیں، علامہ مختار امامی
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مختار احمد امامی کا تعلق سندھ کے تاریخی شہر نواب شاہ سے ہے، ابتدائی دینی و دنیاوی تعلیم نواب شاہ سے حاصل کرنے کے بعد اعلٰی دینی تعلیم کے حصول کیلئے حوزہ علمیہ قم، اسلامی جمہوری ایران کا رخ کیا، قم المقدسہ میں طویل قیام اور حصول علم کے بعد واپس پاکستان تشریف لائے اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے ساتھ تبلیغی امور کی انجام دہی میں مصروف ہوگئے، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی تشکیل کے سلسلے میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری و دیگر علماء کرام کے ہمراہ سندھ بھر میں ہنگامی دورہ جات کرکے پیغام وحدت کو صوبہ بھر میں پہنچایا۔ علامہ مختام احمد امامی کا شمار ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے بانی رہنماؤں میں ہوتا ہے، وہ اس سے قبل ایم ڈبلیو ایم سندھ کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے بھی اپنے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے علامہ مختار احمد امامی کے ساتھ سانحہ شاہ نورانی، بڑھتی ہوئی دہشتگردی، علامہ مرزا یوسف کی گرفتاری، گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں میں یوم حسینؑ کے اجتماعات پر پابندی و دیگر موضوعات کے حوالے سے کراچی میں ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر ان کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: گذشتہ دنوں سانحہ شاہ نورانی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ دہشتگرد عناصر جب چاہیں کارروائیاں کرسکتے ہیں، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
علامہ مختار احمد امامی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ دہشتگرد عناصر عوامی مقامات کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اداروں، ایئر بیس، جی ایچ کیو، پولیس، رینجرز، عسکری مقامات پر بڑی آسانی سے کارروائیاں کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، جب تک ایک جامع پالیسی کے تحت حکومتی و عسکری ادارے پوری سنجیدگی کے ساتھ دہشتگرد عناصر کے خلاف ایکشن نہیں لیں گے، اس وقت تک اس قسم کے سانحات رونما ہوتے رہینگے۔ جب ریاستی ادارے کالعدم دہشتگرد تنظیموں کو ملک و عوام دشمن سمجھنے کے بجائے انہیں اسٹرٹیجک اثاثے سمجھیں گے تو پھر یہ اثاثے جب اور جہاں چاہیں گے دہشتگردانہ کارروائیاں کرتے رہیں گے۔

اسلام ٹائمز: آپریشن ضرب عضب ہو یا کراچی آپریشن، ملک بھر میں دہشتگردوں کیخلاف جاری آپریشنز کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
علامہ مختار احمد امامی:
دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب ہو یا کراچی میں جاری نام نہاد ٹارگٹڈ آپریشن، ہم نے کبھی بھی اس میں سنجیدگی نہیں دیکھی، ان میں دوہرا معیار دیکھا جاتا ہے، وفاقی و صوبائی ادارے، حتٰی وفاقی وزیر داخلہ کالعدم تنظیموں کے سربراہان سے ملاقاتیں کرتے ہیں، سرکاری مقامات پر انہیں جلسے، جلوسوں اور اجتماعات کی اجازت دیتے ہیں، پھر باقاعدہ وہاں کافر کافر شیعہ کافر کے نعرے لگتے ہیں، پھر اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا، یعنی دہشتگردوں کو شہ دی جاتی ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کراچی سمیت ملک بھر میں اہل تشیع مسلمانوں کو شہید کیا جاتا ہے، حتٰی خواتین کی مجالس پر دہشتگردانہ حملے کئے جاتے ہیں۔ دوسری جانب شیعہ مظلومین و متاثرین کے ساتھ ہمدردی کے بجائے اہل تشیع علمائے کرام و شخصیات کو گھروں پر رینجرز اور پولیس کی جانب سے چھاپے مار کر گرفتار کیا جاتا ہے، شیعہ علمائے کرام کے ساتھ توہین و ہتک آمیز رویہ اپنایا گیا ہے، انہیں ہتھکڑیاں لگا کر پیش کیا گیا ہے، ان کے خلاف جھوٹی ایف آئی آرز کاٹی گئی ہیں، محب وطن اہل تشیع کو دہشتگردوں کے ساتھ ایک ہی صف میں کھڑا کرکے دوہری پالیسی، بیلنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے، جس سے ملت تشیع میں احساس محرومی پیدا ہو رہی ہے، اس احساس محرومی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے، دہشتگردی کے بحران کا خاتمہ ہوسکتا ہے بشرطیکہ سکیورٹی ادارے پوری سنجیدگی کے ساتھ، حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ، ملکی سالمیت و بقاء کے جذبے کے ساتھ کام کریں، اگر دوہرا معیار اپنایا جاتا رہے گا، دہشتگردوں اور مظلوموں دونوں کے ساتھ بیلنس پالیسی اپنائی جائے گی تو دہشتگردی کا خاتمہ ناممکن ہے۔

اسلام ٹائمز: تو پھر ملک میں جاری دہشتگرد کارروائیوں کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔؟
علامہ مختار احمد امامی:
ملک میں ہونے والی تمام تر دہشتگرد کارروائیوں کی ذمہ داری حکومت اور سکیورٹی اداروں پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ جب باقاعدہ کالعدم قرار دی گئی دہشتگرد تنظیموں کو کھلے عام سرگرمیوں کی اجازت ہوگی، تو پھر ان کی فہرست جاری کرنے، انہیں کالعدم قرار دینے کا کیا فائدہ۔ عوام سوال کرتی ہے کہ ان کالعدم دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیوں کو کون روکے گا، کیوں انہیں عوامی و سرکاری مقامات پر جلسے جلوسوں اجتماعات کی اجازت ہے، کیوں انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہے، کیوں ان کو پروگرامات منعقد کرنے کیلئے این او سی جاری کی جاتی ہے، کیوں انہیں سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے، کیوں کالعدم دہشتگرد تنظیموں کو میڈیا میں جگہ دی جاتی ہے، ان کی میڈیا کوریج کی جاتی ہے، لہٰذا دہشتگرد کارروائیوں کی ذمہ داری حکومت سکیورٹی اداروں پر عائد ہوتی ہے اور صاف نظر آتا ہے کہ انہی کی آشیرباد سے کالعدم تنظیمیں فعال ہیں۔

اسلام ٹائمز: کچھ بڑے حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومتی اور ریاستی اداروں کی صفوں میں دہشتگرد عناصر کے سہولت کار موجود ہیں، جنکو نکالے بغیر کالعدم دہشتگرد تنظیموں پر قابو پانا مشکل ہے، اس بات میں کتنی صداقت موجود ہے۔؟
علامہ مختار احمد امامی:
اس بات سے انکار ممکن نہیں ہے کہ حکومتی اور ریاستی اداروں کے اندر ایسی کالی بھیڑیں موجود ہیں، جو کالعدم تنظیموں اور دہشتگرد عناصر کی سہولت کار بنی ہوئی ہیں، نیول بیس ہو یا ایئربیس، کئی عسکری و حساس مقامات پر دہشتگردوں کو اندر موجود کالی بھیڑوں کی سپورٹ حاصل تھی، لہٰذا عسکری و ریاستی اداروں میں موجود کالی بھیڑوں اور دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکال باہر کیا جائے، خرابی چاہے نچلی سطح پر ہو یا اعلٰی سطح پر، اسے دور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ کالعدم تنظیموں اور دہشتگرد عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی میں یہی کالی بھیڑیں اور سہولت کار رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

اسلام ٹائمز: وزیراعلٰی سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت کے باوجود علامہ مرزا یوسف حسین کی درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی، اس سارے معاملے کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
علامہ مختار احمد امامی:
اتحاد بین المسلمین کے داعی، بزرگ شیعہ عالم دین علامہ مرزا یوسف حسین کی بلاجواز و ناجائز گرفتاری اور ان کی ضمانت کو مسترد کرنا ملت تشیع کو دیوار سے لگانے کی کوششوں کا حصہ ہے، جسے کسی صورت بھی کامیاب نہیں ہونے دینگے، شہید خرم ذکی کے جنازہ پر جو ایک پُرامن اجتماع تھا، اس میں محض شرکت کو تقریر کا نام دے کر علامہ مرزا یوسف حسین پر بے بنیاد، جھوٹا اور ناجائز مقدمہ درج کیا گیا، وزیراعلٰی سندھ اس جھوٹی اور انتقامی کارروائی پر مبنی ایف آئی آر کو ختم کرنے کیلئے احکامات صادر کریں، اس کے ساتھ ساتھ متعصب افسران کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیں، جنہوں نے دہشت گردوں کو تو آزاد چھوڑ رکھا ہے اور محب وطن علماء اور باکردار شخصیات کو اپنی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ شیعہ علمائے کرام کو ہتھکڑیاں پہنا کر جھوٹے مقدمات قائم کرکے ملت تشیع کو انتہائی غلط پیغام دیا جا رہا ہے، اگر قوم احتجاج کیلئے نکلے گی تو پھر آپ شیعہ علمائے کرام سے کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ وہ جوانوں کو صبر کی تلقین کریں اور تعاون کی امید کریں، لہٰذا سندھ حکومت ہوش کے ناخن لے اور علامہ مرزا یوسف حسین کے خلاف قائم کئے گئے جھوٹے مقدمے کو ختم کرے۔

اسلام ٹائمز: گلگت بلتستان حکومت کیجانب سے تعلیمی اداروں میں یوم حسینؑ کے اجتماعات پر عائد کی گئی پابندی کو حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
علامہ مختار احمد امامی:
پہلے ہی دن سے جب گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت بننے جا رہی تھی تو اس وقت یہ تحفظات و خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا مختلف حلقوں اور طبقات کی طرف سے کہ ایک انتہائی متعصب شخص کو گلگت بلتستان کا وزیراعلٰی بنایا جا رہا ہے، جو گلگت بلتستان اور وفاق کیلئے مسائل کا باعث بنے گا اور عملاً ایسا ہی ہوا ہے، ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں یوم مصطفٰی، یوم حسینؑ سمیت پُرامن مذہبی پروگرامات منعقد ہوتے ہیں، صوفیائے کرام و اولیاء اللہ کی مناسبت سے بھی اجتماعات منعقد ہوتے رہتے ہیں، پھر ایک ایسے خطے میں جہاں شیعہ اکثریت ہے، جہاں کئی دہائیوں سے یوم حسینؑ کے پروگرامات منعقد ہو رہے ہیں، اسے متنازعہ بنایا جا رہا ہے، خصوصاً ایک ایسے حساس موقع پر کہ وفاق میں نواز حکومت صبح و شام اقتصادی راہداری منصوبے کا رونا روتی ہے، عمران خان کر مسلسل مورد الزام ٹہراتی رہتی ہے کہ وہ سی پیک منصوبے کو خراب کرنا چاہتے ہیں، لیکن آب تو گلگت بلتستان کی نواز حکومت خود وہاں امن و امان کی فضا خراب کرکے سی پیک منصوبے کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے، یوم حسینؑ کے اجتماعات جس میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام و شخصیات شرکت کرتے ہیں، اس پر پابندی سراسر گلگت بلتستان حکومت کی نااہلی ہے، اس طرح سے یہ قومی مفاد کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اپنے لئے بھی مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: تکفیری دہشتگرد عناصر بلاامتیاز سنی و شیعہ مسلمانوں کو دہشتگردی و بربریت کا نشانہ بنا رہے ہیں، کیا کہیں گے۔؟
علامہ مختار احمد امامی:
سانحہ شاہ نورانی پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے پہلے عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر دہشتگرد حملہ ہوچکا ہے، داتا دربار پر حملہ ہوچکا ہے، شاہ فرید گنج شکر کے مزار پر حملہ ہوچکا ہے، اس سے پہلے، اس کے علاوہ درجنوں درگاہوں و مزارات پر دہشتگرد حملے ہوچکے ہیں، لہٰذا ہماری اہلسنت صوفی مسلمان بھی منظم ہوکر تکفیری دہشتگرد عناصر کے خلاف میدان عمل میں آئیں، پہلے سے موجود شیعہ مسلمانوں سمیت تمام مظلوم طبقات کے ساتھ ملکر گرینڈ الائنس بنا کر تکفیری دہشتگرد عناصر کے خاتمے کیلئے جدوجہد کریں، مزارات و درگاہوں پر ہونے والے دہشتگرد حملوں کو چند دن بعد فراموش کرکے خاموش نہ ہوجائیں، بلکہ تکفیریوں کے خلاف مربوط و منظم ہوکر سامنے آئیں اور اکثریت شیعہ و سنی مسلمانوں کے اتحاد کے ذریعے مٹھی بھر تکفیری دہشتگرد عناصر کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے ان کا خاتمہ کریں۔

اسلام ٹائمز: کراچی سے لیکر گلگت بلتستان تک درپیش مشترکہ مسائل کے حل کیلئے مشترکہ جدوجہد کیوں نظر نہیں آتی، مشترکہ جدوجہد کیسے ممکن ہے۔؟
علامہ مختار احمد امامی:
مشترکہ مسائل کے حل کیلئے تمام ملی تنظیموں اور خواص کو اس کا ادراک کرنا چاہیئے، اس وقت ملت تشیع کو ایک طرف سے تکفیری دہشتگرد عناصر نشانہ بنا رہے ہیں تو دوسری جانب حکومتی نااہل ادارے دہشتگرد عناصر کی سرکوبی کے بجائے ساری توجہ ملت تشیع کی طرف کئے ہوئے ہیں اور دیوار سے لگانے کی کوشش کر رہے ہیں، ایسی حساس صورتحال میں کوئی بھی عقل مند قوم، جماعت، تنظیم، قیادت کیلئے یہ ناقابل تصور ہے کہ وہ انفرادی حیثیت سے اپنے پارٹی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے جدوجہد کرے، ملت کو درپیش مشترکہ مسائل کے حل کیلئے ملی تنظیموں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھیں، مشترکہ جدوجہد کریں، پرخلوص تعاون کریں، متفقہ مؤقف و رائے پیدا کریں، متحد ہوکر معاملات کو آگے بڑھائیں، ورنہ حکومت تو ہمیشہ چاہتی ہے کہ قومیں متحد نہ ہو پائیں یا اگر ہیں بھی تو انہیں تقسیم کر دیں، لہٰذا ملی تنظیموں کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ متحد ہوں اور قومی امنگوں پر پورا اتریں اور یہی قومی امن و تمنا ہے کہ تمام ملی تنظیمیں متحد ہوکر فیصلہ جات و جدوجہد کریں، خاص کر ایسے مسائل میں کہ جہاں زندگی موت کا مسئلہ ہے، عقائد کے مسائل ہیں، خواتین کی عزت و حرمت و تحفظ کا مسئلہ ہے، علمائے کرام کی توہین کا مسئلہ ہے، لہٰذا تمام مشترکہ مسائل کے حل کیلئے مل بیٹھنے اور متحد ہو کر جدوجہد کرنے کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔
خبر کا کوڈ : 584129
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب