0
Sunday 25 Dec 2016 22:58
امریکا کی ہر بات ماننا قطعاً پاکستان کی پالیسی نہیں تھی کہ وہ اپنا سارا وزن امریکا اور سعودی عرب کے پلڑے میں ڈال دے

پاکستان کے امریکا و سعودیہ کیجانب جھکاؤ کا ایران سے تعلقات پر منفی اثر نہیں پڑنا چاہیئے، پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر

ایران کے حوالے سے پاکستان کو ہمیشہ امریکی دباؤ کا سامنا رہا ہے، جسے وہ کافی حد تک برداشت کرتا رہا ہے
پاکستان کے امریکا و سعودیہ کیجانب جھکاؤ کا ایران سے تعلقات پر منفی اثر نہیں پڑنا چاہیئے، پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر
پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر پاکستان کی معروف درسگاہ جامعہ کراچی کی آرٹس فیکلٹی کے سربراہ ہیں، آپ گذشتہ تیس سال سے زائد عرصے سے جامعہ کراچی سے وابستہ ہیں، آپ نے ایم فل اور پی ایچ ڈی بھی جامعہ کراچی سے ہی کیا، آپ جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ اور جامعہ کراچی ہی کے ایریا اسٹڈی سینٹر برائے یورپ کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں، آپ مختلف موضوعات پر 20 سے زائد کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور یورپ، مشرق وسطیٰ سمیت عالمی ایشوز پر آپ گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر کے ساتھ پاک ایران تعلقات اور قضیہ شام کے موضوع پر جامعہ کراچی میں انکے دفتر میں مختصر نشست کی، اس موقع پر آپ کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: پاک ایران تعلقات کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے، انہیں کس سطح پر دیکھتے ہیں۔؟
پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر:
پاک ایران تعلقات دو حصوں میں تقسیم کئے جا سکتے ہیں، ایک 1947ء سے لیکر 1979ء ہے اور دوسرا فروری 1979ء میں جب ایران میں اسلامی انقلاب آیا، اس وقت سے لیکر اب تک اسلامی انقلاب سے پہلے یعنی 1979ء سے پہلے رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت کے دور میں پاک ایران تعلقات بے مثال تھے، بہر قربت تھی، ایک طرح سے ذاتی تعلقات استوار ہوتے تھے، 1979ء میں جب ایران میں اسلامی انقلاب آیا، جس نے اس پورے خطے کی جغرافیائی، سیاسی، عسکری، معاشی صورتحال پر گہرا اثر ڈالا، میں یہ نہیں کہوں گا کہ 1979ء کے بعد پاک ایران تعلقات خراب رہے ہیں یا پاک بھارت تعلقات جیسے ہیں، قطعاً ایسا نہیں ہے، مگر اس میں اتر چڑھاؤ آتا رہا، 1980ء تا 1988ء جاری رہنے والی ایران عراق جنگ کو فرقہ ورانہ جنگ کا رخ دیا گیا، پاکستان میں ایران نے کوشش کی کہ شیعہ گروہوں یا جماعتوں کو تقویت دی جائے دوسری جانب سعودی عرب و دیگر سنی عرب ریاستوں نے یہاں بے شمار مدارس قائم کئے اور سنی گروہوں اور جماعتوں کو فنڈنگ کی، جس کے نتیجے میں پاکستان کے اندر ایک طرح کی سعودی ایران پراکسی وار شروع ہوگئی، لیکن ہمیں مذہبی اختلافات سمیت ان تمام چیزوں سے آگے نکلنا چاہیئے۔

اصل چیز یہ ہے کہ امریکا نے ایران پر جو اقتصادی و دیگر پابندیاں لگائیں، پھر دس بارہ سال پہلے ایک منصوبہ سامنے آیا جسے ایران پاکستان انڈیا گیس پائپ لائن منصوبہ، جسے امن کی پائپ لائن کا نام دیا گیا، کیونکہ وہ ایران سے ہوتے ہوئے پاکستان اور پھر انڈیا جانی تھی، پاکستان اس کیلئے بالکل تیار تھا، لیکن انڈیا نے امریکی ناراضگی سے بچنے کیلئے اس منصوبے سے پسپائی اختیار کرتے ہوئے نکل گیا، جس کے بعد وہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ بن گیا، امریکا نے پاکستان کو واضح طور پر تنبیہ بھی کی کہ وہ اس منصوبے میں شامل نہ ہو، کیونکہ اس نے ایران پر لگائی ہوئی تھیں، لیکن پاکستان نے کسی حد تک امریکی دباؤ کا مقابلہ بھی کیا، پھر پچھلے ایک ڈیڑھ سال میں ایرانی پالیسی میں تبدیلی واقع ہوئی، ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل پانچ ممبران اور جرمنی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، جس کے نتیجے میں ایران پر لگائی گئیں عالمی پابندیاں آہستہ آہستہ ہٹنا شروع ہوئیں اور پاکستان کے ان ممالک سے تعلقات بہتر ہونا شروع ہوئے، امید یہ تھی کہ یہ معاہدہ آگے بڑھے گا لیکن ایسا نہیں ہوا، قیمتوں کے تعین نہ ہونے کے باعث بھی یہ معاہدہ کھٹائی میں پڑ گیا، پھر ایران کو یہ خدشات لاحق ہوئے کہ پاکستان کی گوادر پورٹ کے باعث اسکی چاہ بہار بندرگاہ پر فرق پڑے گا، لیکن حال ہی میں ایران نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں شمولیت کیلئے دلچسپی ظاہر کی، جس پر پاکستان مثبت جواب دیا کہ یہ منصوبہ سارے ممالک کیلئے ہے۔

اسلام ٹائمز: پاک ایران تعلقات میں سب بڑی رکاوٹ کسے سمجھتے ہیں۔؟
پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر:
پاک ایران تعلقات میں ایک بہت بڑی رکاوٹ شکوک و شبہات کی ہے، جو ایک عرصے سے موجود ہیں، مثال کے طور پر ایرانی بلوچستان میں جند اللہ نامی تنظیم ہے، جس کے حوالے سے ایران کا کہنا ہے کہ اسے پاکستان کی طرف سے مدد ملتی ہے، جبکہ پاکستان اسے مسترد کرتا ہے، ایسے کئی خدشات، شکوک و شبہات موجود ہیں، اسی وجہ سے پاک ایران تعلقات میں اتار چڑھاؤ پیدا ہوتا رہتا ہے، افسوسناک امر ہے کہ بجائے اس کے کہ پاک ایران تعلقات میں گرم جوشی پیدا ہو، بہتری آئے مگر ایسا نہیں ہوا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تعلقات خراب ہیں، ایک طرح سے درمیانے درجے کے تعلقات قائم ہیں۔

اسلام ٹائمز: پاک ایران تعلقات کی بہتری میں کیلئے دونوں ممالک کے تحفظات کیسے دور کئے جا سکتے ہیں۔؟
پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر:
میرے خیال میں پاکستان کسی طریقے سے ایران پر صرف یہ واضح کر دے کہ سعودی عرب یا وہ ممالک جو ایران کے مخالف ہیں، وہ انکے زیر اثر نہیں ہے، اس سے تحفظات دور کرنے میں آسانی ہوگی، نواز حکومت جب آئی تو فوراً سعودی عرب نے ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد دے دی، پھر نواز شریف اور انکے خاندان کی سعودی عرب سے ایک خاص قربت بھی ہے، جلاوطنی کے دوران بھی وہ سعودی عرب میں قیام پزیر رہے، لیکن نواز شریف اور انکے خاندان کی سعودی عرب سے قربت ایران سے منفی تعلقات کا باعث نہیں بننا چاہیئے، اسی حوالے سے سعودی یمن تنازعہ میں سعودی و عرب امارات کی خواہش کے باوجود پاکستان نے اسکا حصہ بننے سے انکار کر دیا، جو ایک انتہائی مثبت اقدام تھا، کیونکہ اگر پاکستان اس تنازعے میں الجھ جاتا تو پاک ایران تعلقات مزید بگڑ جاتے۔ دوسری جانب ایران کو یہ سوچتا چاہیئے کہ پاکستان نے کبھی بھی اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی، ایران کو پاکستان میں فرقہ واریت میں ملوث ہونے سے بچنا چاہیئے، اسی طرح سعودی عرب بھی پاکستان میں فرقہ واریت سے اپنے آپ کو الگ تھلگ کرے، پاکستان یہاں موجود فرقہ واریت کے زہر کو ختم کرنے کیلئے خود نمٹ لے گا۔

اسلام ٹائمز: کیا یہ تاثر درست ہے کہ پاک ایران تعلقات میں بہتری کے خلاف سعودی عرب سے زیادہ امریکی دباؤ پایا جاتا ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر:
ایران کے حوالے سے پاکستان کو ہمیشہ امریکی دباؤ کا سامنا رہا ہے، جسے وہ کافی حد تک برداشت کرتا رہا ہے، پاکستان نے یہ نہیںکیا کہ امریکا کی ہر بات مان لی، امریکا کی ہر بات ماننا قطعاً پاکستان کی پالیسی نہیں تھی کہ وہ اپنا سارا وزن امریکا اور سعودی عرب کے پلڑے میں ڈال دے، ایسا پاکستان نے کبھی نہیں کیا، مگر ظاہر ہے کہ جھکاؤ تو امریکی سعودی جانب ہے، لیکن اس کا ایران سے تعلقات پر منفی اثر نہیں پڑنا چاہیئے، اس تناظر میں پاکستان کی فرقہ واریت کے حوالے سے پالیسی بہت واضح ہونی چاہیئے کہ ملک میں فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیںہے، امریکا ہو یا ایران یا سعودی عرب، پاکستان کے تمام ممالک سے تعلقات برابری کی بنیاد پر ہونے چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: پاک ایران فوجی و اسٹراٹیجک تعلقات کیسے مضبوط کئے جا سکتے ہیں۔؟
پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر:
پاک ایران مشترکہ جنگی مشقیں ہونی چاہیئے، پھر ایران سے لوگ ٹریننگ کیلئے پاکستان آتے رہتے ہیں مختلف اسٹاف کالجز میں، اس سے واضح ہوتا ہے کہ فوجی و اسٹراٹیجک تعلقات ہیں، اقتصادی راہداری منصوبے میں شمولیت سے اسٹراٹیجک تعلقات مضبوط ہونگے، چین سے ایران کے کافی بہتر تعلقات ہیں، اس منصوبے میں ایرانی شمولیت سے پاک ایران تعلقات مضبوط ہونگے۔

اسلام ٹائمز: ایران کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل پانچ ممبران اور جرمنی کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے امریکا پیچھے ہٹتا نظر آ رہا ہے، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر:
اگر ایران عالمی طاقتوں سے ہونے والے معاہدے پر عمل کر رہا ہے تو امریکا کو پیچھے ہٹنے کا موقع ہی نہیں ملے گا، کیونکہ یہ معاہدہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان نہیں ہوا ہے، اس میں دیگر عالمی طاقتیں شامل ہیں، اب کیونکہ امریکا میں نئی حکومت بن چکی ہے، اس کی کیا حکمت عملی ہوتی ہے، یہ تو آنے والا وقت بتائے گا، لیکن چونکہ ایک معاہدہ ہو چکا ہے، جس کی ایران پوری طرح پاسداری کر رہا ہے، وہ جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی کر چکا ہے، اس سے زیادہ وہ کیا کر سکتا ہے، جس کی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کڑی نگرانی کرتی ہے، ایران میں یورینیم کی افزودگی کے عمل کی وہ نگرانی کر رہی ہے کہ جس کی کوئی خلاف ورزی نہ ہو، اگر ایران معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا تو امریکا کو کوئی جواز نہیں مل سکتا اور نہ ہی وہ پیچھے ہٹ سکتا ہے، اور ویسے بھی امریکا اپنے طور پر یہ معاہدہ ختم نہیں کر سکتا۔

اسلام ٹائمز: گذشتہ دنوں شام کے مسائل کے حل کیلئے ہونے والی ایران، روس اور ترکی کے اجلاس اور قضیہ شام میں عالمی اداروں کے کردار کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر:
شام میں حالات بہتر بنانے کے حوالے سے اقوام متحدہ نے کوئی کردار ادا نہیں کیا، عرب لیگ نے کوئی کردار ادا نہیں کیا، او آئی سی نے بھی کوئی کردار ادا نہیں کیا، یہ تین ایسی بین الاقوامی تنظیمیں ہیں، جن بہترین کردار ادا کر سکتی تھیں، لیکن انہوں نے کوئی کردار ادا نہیں کیا، پھر امریکا اور سعودی عرب نے ایک انا کا مسئلہ بنا رکھا ہے کہ بشار الاسد حکومت کو قائم رہنے کا جواز ہی نہیں ہے، بہرحال وہاں حالات بہتر بنانے کیلئے چند روز قبل موسکو میں روس، ایران اور ترکی کا مشترکہ اجلاس ہوا ہے، لیکن شام کا مسئلہ بہت سنگین ہے، یہ اس اجلاس سے صحیح نہیں ہوگا، اقوام متحدہ کو اپنا عملی کردار ادا کرنا ہوگا، سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کو اپنے اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر مثبت کردار ادا کرنا ہوگا، وہاں اقوام متحدہ کو فوجی امن دستے بھیجنا ہونگے، اس کے ساتھ ساتھ امریکا، سعودی عرب، روس، ترکی اور قطر جب تک شام میں مختلف گروہوں کو فوجی، سیاسی و مالی امداد دینا ترک نہیں کریں گے، اس وقت تک شام میں خون خرابہ ہوتا رہے گا۔

اسلام ٹائمز: شام سے انخلا کرنے والے انتہاپسند دہشتگرد عناصر کو افغانستان سمیت کئی دیگر ممالک میں منتقل کرنے کی اطلاعات ہیں، کیا کہیں گے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر:
یہ منصوبے تو بنتے رہتے ہیں، سوویت یونین کے ٹوٹنے کے القاعدہ کھڑی کی گئی، اسامہ بن لادن کے بعد جو ایک خلا تھا، اسے پُر کرنے کیلئے داعش کا قیام عمل میں لایا گیا، اب جب داعش کا خاتمہ ہو رہا ہے تو کسی اور دہشتگرد تنظیم کو بنایا جائے گا، اہم سوال یہ ہے کہ یہ سب ہوتا کیوں ہے، یہ اس لئے ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں سے ہی کچھ ملے ہوئے ہوتے ہیں، پیسے کی لالچ میں بک جاتے ہیں، کوئی بھی ان کی وفاداریاں خرید سکتا ہے، مغرب کو پتہ ہے یہاں کیا کیا کمزوریاں ہیں، اگر افغانستان، پاکستان، عراق، شام و دیگر ممالک کے لوگ طے کر لیں کہ کسی بھی قیمت پر اس گھناؤ نے کھیل میں شامل نہیں ہونگے، جس سے خود ان کا اپنا نقصان ہو رہا ہے، افسوس کہ ایسا نہیں ہوتا، آپ مسلمانوں کی تاریخ پڑھ لیں، چاہے وہ برصغیر کی ہو یا عرب کی، باہر والوں نے ہمیشہ مقامی لوگوں کو استعمال کیا ہے، ان کو خریدا، ان کو لڑا کر تقسیم کیا، آپس میں بانٹا، ان کے اختلافات کو ہوا دی، لارنس آف عریبیہ کی مثال دنیا کے سامنے ہے، تو عرب اتنے بے وقوف تھے کہ انہوں نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف جنگ شروع کر دی، صحیح ہے کہ سلطنت عثمانیہ میں بھی مسائل تھے لیکن اس نے مسلمانوں کو متحد رکھا ہوا تھا، مگر عربوں کو بھڑکایا گیا، لالچ دی، ترکوں کے خلاف، لیکن خود قابض ہوگئے۔

اسرائیل کی مثال آپ کے سامنے ہے، 1917ء میں بالفورڈ ڈیکلریشن کے وقت یہودیوں کی آبادی فلسطین میں 7 فیصد تھی، لیکن اب ان کی اکثریت کیسے ہوگئی، اس لئے ہو گئی کہ انہوں نے ایک منظم منصوبہ بندی کے ساتھ وہاں یہودیوں کو بسایا، ہولوکاسٹ کو استعمال کیا، اقوام متحدہ نے اسرائیل کو قانونی شکل دی، آج آپ دیکھیں کہ شام، عراق، لیبیا، افغانستان و دیگر مسلم ممالک میں حالات کے خراب ہونے سے اصل فائدہ تو اسرائیل کو ہوا ہے، اب کوئی اسرائیل کے حوالے سے بات ہی نہیں کرتا کہ اسرائیل نے گولان ہائٹس پر قبضہ کر رکھا ہے، مغربی کنارے پر قابض ہے، غیر قانونی آباد کاریاں کر رہا ہے، اسرائیل نے غزہ میں جس طرح قتل عام کیا، کوئی نہیں بات کرتا، لہٰذا سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو ہوا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ان ممالک کو ہوا جو اپنا اسلحہ بیچ رہے ہیں، لہٰذا مسلمانوں کا مسئلہ ہی یہی ہے، ایمان کی کمزوری، عقل کی کمزوری، اسی لئے پچھلے ہزار سال سے ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 594610
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب