0
Sunday 1 Jan 2017 11:33
یہ صدی اسلام کی صدی ہے

جدید تعلیم میں پیشرفت اور مشترکہ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنائے بغیر عظمت رفتہ کی بحالی ممکن نہیں، سرفراز نقوی

نظام تعلیم کا اسلامی اصولوں اور موجودہ تقاضوں کے مطابق ہونا ضروری ہے
جدید تعلیم میں پیشرفت اور مشترکہ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنائے بغیر عظمت رفتہ کی بحالی ممکن نہیں، سرفراز نقوی
سید سرفراز حسین نقوی آئی ایس او کے دوسرے مرکزی صدر ہیں، جنہیں ایم ٹی ایم کا بھی مرکزی صدر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے، گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں اور فیصل آباد زرعی یونیورسٹی میں ایم فل مکمل کرچکے ہیں۔ 2009ء میں آئی ایس او میں شامل ہوئے، فیصل آباد یونیورسٹی، فیصل آباد ڈویژن کے صدر کی ذمہ داریاں سرانجام دی ہیں اور دو سال مرکزی نائب صدر کی ذمہ داری پہ فائز رہے ہیں۔ وسیع المطالعہ اور حالات حاضرہ پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ امامیہ نوجوانوں میں ہردلعزیز ہیں، یونیورسٹیز اور فکری تربیت کو ترجیح قرار دیتے ہیں۔ آئی ایس او کی ترجیحات، مشرق وسطٰی اور عالم اسلام کی موجودہ صورتحال میں نوجوانوں کے کردار کے بارے میں اسلام ٹائمز کیساتھ انکی گفتگو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: وحدت اور اتحاد ساری امت کیلئے ضروری ہے، ہفتہ وحدت کی مناسبت سے ہونیوالی سرگرمیوں میں صرف شیعہ مسلک کی جماعتوں پر ہی فوکس ہوتا ہے، اسکا دائرہ بڑھانے کیلئے اقدامات کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔؟
سید سرفراز علی نقوی:
ہر دردمند مسلمان عالم اسلام کو اکٹھا دیکھنا چاہتا ہے۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ آرزو تھی کہ دشمن کے مقابلے میں مسلمان یکجا ہو جائیں۔ اسلام دشمن طاقتوں نے ہمیشہ انتشار اور افتراق پھیلانے کی سازشیں کی ہیں، امامِ راحل نے امت مسلمہ کو متحد کرنے کے لئے جہاں کئی اقدامات کئے، وہیں ربیع الاول، جو حضور ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت باسعادت کی مناسبت رکھتا ہے، اس ماہ میں امامِ راحل نے ہفتہ وحدت منانے کا اعلان فرمایا۔ آئی ایس او پاکستان سمیت امت کا درد رکھنے والے ادارے، جماعتیں اور فعال عناصر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات بابرکات کو مسلمانوں کی عقیدتوں کا محور و مرکز مانتے ہوئے ہفتہ وحدت کی مناسبت سے بھرپور انداز میں سرگرمیاں انجام دیتے ہیں، تاکہ مسلمانوں کے درمیان قربتیں پیدا ہوں۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والی جماعتیں زیادہ سرگرمی دکھاتی ہیں، تو یہ اعزاز کی بات ہے، یہ ذمہ داری سب کی ہے، تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے بھائی ہیں، سب کو شریک کیا جاتا ہے، سب کو شریک ہونا بھی چاہیے۔ آئی ایس او پاکستان نے کھلے دل کیساتھ تمام مسلمان بھائیوں کو ہمیشہ خوش آمدید کہا ہے، کہ آئیں مل کر باہم شیر و شکر ہو جائیں، متحدہ طلبہ محاذ کا پلیٹ فارم بھی اس کے لئے فعال ہے۔ آئی ایس او کی جانب سے ان کوششوں کو تمام طلبہ تنظیموں نے سراہا ہے، تمام طلبہ تنظیموں کے سربراہوں نے تقریبات میں شرکت بھی کی ہے اور اس سفر میں مل کر کوشش کرنے کا عہد بھی کیا ہے۔

اسلام ٹائمز: پاکستان کا نظام تعلیم بدحالی کا شکار ہے، آپکے خیال میں طالب علم ہونے کے ناطے طلبہ تنظیمیں اس کیلئے کیا کردار ادا کرسکتی ہیں۔؟
سید سرفراز علی نقوی:
بلاشبہ طلبہ ہی براہ راست متاثر ہو رہے ہیں، تعلیم اور نظام تعلیم کا عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق استوار ہونا قومی مستقبل کے لئے ازحد ضروری ہے۔ اسکا اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر
قائم ہوا ہے، پاکستان کے تعلیمی اداروں میں اسلامی اور اخلاقی قدروں کو فروغ ملنا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے ایسا کوئی نظام موجود نہیں۔ نوجوانوں کی شخصیت کو اسلامی اصولوں کے مطابق استوار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ نظام تعلیم میں ان تقاضوں کو پورا کیا جائے، ورنہ ہم قیام پاکستان کے مقاصد کو حاصل نہیں کرسکتے۔ پاکستان کے موجودہ نظام تعلیم کا صرف یہی ایک مسئلہ نہیں، بلکہ حصول علم کے لئے بھی خاطر خواہ مواقع اور ماحول موجود نہیں۔ حالانکہ جن قوموں نے ترقی کی ہے، وہاں تعلیم و تربیت دونوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ علم دوستی ہی میں قوموں کی ترقی اور اوج کا راز پوشیدہ ہے، اس کے لئے فقط ڈگری تک محدود رہنا نقصان دہ ہے، قومی ضروریات کے مطابق حصول علم کی سچی لگن پیدا کرکے اس کے مواقع فراہم کرنا، اصل میں نظام تعلیم کا مقصد ہونا چاہیے۔ ہم ان شاء اللہ کوشش کر رہے ہیں، دیگر طلبہ تنظیموں کو ساتھ ملا کر نظام تعلیم میں بہتری کے لئے ذمہ دار اداروں اور افراد کو متوجہ کریں۔ جیسا کہ اس وقت بھی سرکاری تعلیمی اداروں کو پرائیویٹ کیا جا رہا ہے، حالانکہ پہلے ہی نظام تعلیم میں طبقاتی تقسیم موجود ہے، جسے ختم ہونا چاہیے۔

اسلام ٹائمز: مشرق وسطٰی کے حالات کو آپ کس طرح دیکھ رہے ہیں، ان حالات کا سبب کیا ہے، امت مسلمہ کا کیا لائحہ عمل ہونا چاہیے۔؟
سید سرفراز علی نقوی:
جب سے اس خطے میں فلسطینیوں کی سرزمینوں پر غاصبانہ قبضہ کروایا گیا ہے، مشرق وسطٰی کے حالات اس وقت سے خراب ہی رہے ہیں، مسلمان بدترین صورتحال کا شکار ہیں۔ جیسا کہ اماؒم راحل نے فرمایا کہ اسرائیل کا وجود امت مسلمہ کے قلب میں خنجر کی مانند ہے۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے، حالات کی خرابی کی۔ اب بھی جبر و طاقت کے بل بوتے پر مسلمانوں کو دبانے کی سازشیں جاری ہیں، علاقہ ابھی جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ لیکن دشمن کے ناپاک عزائم چکنا چور ہو رہے ہیں، بہت اچھی developments ہو رہی ہیں۔ دشمن کے سارے ناپاک خواب چکنا چور ہوگئے ہیں۔ یہ حالات ایک عمدہ مستقبل کی طرف جا رہے ہیں، یہ صدی، اسلام کی صدی ہے، اسلام حقیقی کا بولا بالا ہوگا اور دشمن نابود ہوگا۔

اسلام ٹائمز: مجموعی طور پر مسلمانوں کی زبوں حالی کی کیا وجوہات ہیں؟ نوجوان مسلمانوں کی عظمت رفتہ کے احیاء میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں۔؟
سید سرفراز علی:
مسلمان تمام تر صلاحیتوں اور وسائل کے باوجود ترقی کی منزل سے دور ہیں۔ عالم اسلام کی اس صورتحال کا اصل سبب اسلام حقیقی کے نظام سے دوری ہے۔ اسلام ہی ایسا نظام ہے، جس کی بنیاد پہ انسانیت سعادت اور کمال کی راہ طے کرسکتی ہے، مسلمان نہ صرف خود اس نظام سے دور ہیں، بلکہ اسی وجہ سے عالم انسانیت بھی اس نظام کے فیوض و برکات سے مستفید نہیں ہو پایا، کیونکہ مسلمانوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ اللہ کے نظام کو دنیا بھر میں رائج کریں۔ اس نظام کا نفاذ الٰہی نمائندگان کی پیروی کے بغیر ممکن نہیں۔ عالم اسلام کا زوال اور زبوں حالی، ذاتی اقتدار اور مفادات کی خاطر اسلامی اصولوں کو پائمال کرنیوالے حکمرانوں کی وجہ سے ہے۔ اسی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ہوا
دی گئی، مسلمان کمزور ہوتے چلے گئے۔ علم اور تحقیق سے مسلمانوں کی دوری بھی زوال کا اہم سبب ہے، علم ایک طاقت ہے، مسلمان اس کے وارث ہیں، ہمیں لوٹ کر اس متاع گراں کو حاصل کرنا ہوگا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کے اوج اور کمال کی کلید اسلام کے حقیقی نظام کی پیروی اور علم و تحقیق سے وابستہ ہے۔ سب سے پہلے عالم اسلام کے رہنماوں کو مشترکہ دشمن کیخلاف متحد ہونا چاہیے۔ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنائے بغیر عظمت رفتہ کی بحالی ممکن نہیں۔ نوجوانوں کا کردار ہر قوم و ملت میں سب سے اہم ہوتا ہے، مسلمانون کا مستقبل بھی نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ یہ ضروری ہے کہ نوجوان سب سے پہلے حقیقی اسلام کے پیغام کو سمجھیں اور اسلام کے نظام سے وابستہ ہوں، اس کا حصہ بنیں، ایمان کو مضبوط کریں، محنت کو شعار بنائیں، ہر شعبہ علم میں دلچسپی اور دلجمعی کیساتھ آگے بڑھیں، ہر شعبہ زندگی میں کام کرنے اور آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، لیکن اسلام کے بنیادی اصولوں کی معرفت اور بصیرت ہی وہ واحد راستہ ہے، جو کامیابی کی منزل پہ پہنچا سکتا ہے۔ اس کے بغیر ترقی اور نجات کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔

اسلام ٹائمز: امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نوجوانوں کی تنظیم ہے، آئی ایس او کس طرح کا نوجوان تیار کرتی ہے؟ گذشتہ 40 سالوں میں تنظیم نے جو افراد تیار کرکے معاشرے کو دیئے ہیں، وہ کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔؟
سید سرفراز علی نقوی:
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان اپنے نصب العین کی روشنی میں تعلیمات قرآن اور سیرت محمؐد و آلؑ محؐمد کے مطابق نوجوان نسل کی زندگی استوار کرتی ہے، جو معاشرے میں جا کر الٰہی اور حقیقی انسانی اقدار کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ 40 سالوں میں جو افراد آئی ایس او میں فعال رہے ہیں، وہ اصلاحی، فلاحی، تعلیمی شعبوں میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ آئی ایس او میں کام کرنیوالے افراد الٰہی اقدار اور اسلامی اصولوں کے پابند ہوتے ہیں، اسی کو زندگی میں شعار بناتے ہیں۔ معاشرے میں دین مبین کی سربلندی اور دین کی ترویج کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: یہ change management کا دور ہے، ادارے نئے دور کی ترقی کیساتھ ساتھ اپنے آپکو ڈھال رہے ہیں، موجودہ زمانے کی ضروریات کیمطابق آئی ایس او کے مقاصد اور ترجیحات میں تبدیلی کیلئے کیا plans ہیں۔؟
سید سرفراز علی نقوی:
آئی ایس او کی تخلیق کا جو مقصد اور ultimate goal تھا، اس کے حصول تک، آئی ایس او کے اہداف اور ترجیحات یقنی طور پر وہی رہیں گے۔ بنیادی طور پر مقصد میں تو کوئی تبدیلی نہیں آسکتی، البتہ اس مقصد کے حصول کے لئے، زمانے کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق جو تبدیلیاں آنی چاہیں تھیں، وہ تسلیم کرنے والی بات ہے کہ نہیں آسکی ہیں، البتہ ہم نوجوانوں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لئے موجودہ وسائل کو استعمال کر رہے ہیں۔ بہت بڑی تبدیلی تو نہیں آ رہی، لیکن ڈھانچے میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ پروگرام اور اقدامات میں تبدیلیوں کے لئے مستقل بنیادوں پر ادارے کام کر رہے ہیں، کافی سوچ بچار ہو رہی ہے، ان شاء اللہ زمانے کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، بہتری آئے گی۔
خبر کا کوڈ : 596146
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے