0
Wednesday 4 Jan 2017 12:44
ترکی کو جہادی عسکری گروہوں کو سپورٹ کرنیکا خمیازہ بھگتنا پڑیگا

شام میں بشار الاسد حکومت گرانے کا امریکی منصوبہ ناکام ہو چکا ہے، محمد علی شاہ

کسی اور کی جنگ کا حصہ بننا پاکستانی مفاد میں نہیں ہوگا
شام میں بشار الاسد حکومت گرانے کا امریکی منصوبہ ناکام ہو چکا ہے، محمد علی شاہ
ماہر بین الاقوامی امور محمد علی شاہ کا تعلق پاکستان کی معروف نجی درسگاہ شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (SZABIST) کے شعبہ سوشل سائنسز سے ہے۔ وہ گذشتہ 15 سالوں سے تدریسی و تحقیقی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں، جن میں جامعہ کراچی سمیت کئی نجی جامعات شامل ہیں، وہ کئی تحقیقی اداروں سے بھی وابستہ رہے ہیں، اسکے ساتھ ساتھ وہ وائس آف امریکا سمیت ذرائع ابلاغ کے کئی دیگر اداروں میں صحافتی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں، ملکی و غیر ملکی جریدوں میں ان کے تحقیقی مضامین و مقالے وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہتے ہیں، سرکاری و نجی جامعات کیساتھ ساتھ غیر ملکی اداروں میں بھی ان کے لیکچرز کا سلسلہ جاری رہتا ہے، وہ بین الاقوامی تعلقات سمیت ملکی و عالمی ایشوز پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے محمد علی شاہ کیساتھ شام میں امریکی پالیسی، روس امریکا تعلقات کا مستقبل، جنرل (ر) راحیل شریف کے سعودی فوجی اتحاد کے عسکری مشیر بننے کے حوالے سے ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر ان کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: شام میں امریکی پالیسی کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
محمد علی شاہ:
دنیا بھر کے 86 ممالک کے ہزاروں جنگجوؤں نے شام آکر کر وہاں لڑائی میں حصہ لیا ہے، جس کا ریکارڈ بھی ہے، کافی غیر ملکیوں نے تو اپنے پاسپورٹس بھی جلائے ہیں، صرف یورپین یونین سے پانچ ہزار سے زائد افراد شام پہنچے ہیں، ان میں نہ صرف جوان لڑکے بلکہ لڑکیاں بھی شامل ہیں، لیکن امریکا کا جو منصوبہ تھا شام کیلئے، جس کیلئے اس نے کروڑوں ڈالرز مختص کئے، جس کے تحت اس نے شام کے اندر بشار الاسد حکومت گرانے کیلئے، اس سے لڑنے کیلئے ایک اسپیشل فورس بنانی تھی، لیکن اسے اس منصوبے میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، مختصر یہ کہ اوبامہ دور میں شام کیلئے بنائی گئی امریکی پالیسی ناکامی سے دوچار ہوچکی ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ شام میں امریکی اتحاد کو شکست ہوئی ہے، جو بشار الاسد حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے۔؟
محمد علی شاہ:
عراق میں اپنے مقاصد کے حصول میں ناکامی کے بعد امریکا کیلئے شاید انتہائی مشکل تھا کہ وہ دوبارہ مشرق وسطٰی کے کسی ملک کے اندر براہ راست جنگ میں کود جائے، انہوں نے مختلف مواقع پر شام کے اندر فوجیں اتارنے کی دھمکیاں ضرور دیں، لیکن جس طرح انہوں نے عراق میں فوجی مداخلت کی، اس طرح سے شام میں مداخلت نہیں کر پائے، لہٰذا امریکا نے خود سے شام میں اترنے کے بجائے وہاں پراکسی وار لڑنے کا منصوبہ بنایا، جس کیلئے انہوں نے بشار حکومت کو کمزور کرنے کیلئے مسلح گروہوں کو استعمال کیا، لیکن امریکا نے کروڑوں ڈالرز اس مقصد کے حصول کیلئے ضائع کر دیئے۔

اسلام ٹائمز: حلب میں دہشتگرد گروہوں کی شکست کے بعد ترکی کی پوزیشن کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
محمد علی شاہ:
بین الاقوامی تعلقات میں ہمارے ایک استاد samuel huntington کہتے تھے کہ ترکی کو خود نہیں پتہ کہ اسے کہاں جانا ہے، پچھے ستر سالوں میں اس نے بہت زیادہ کوششیں کی کہ یورپ سے مل جائے، لیکن یورپ نے اسے تسلیم نہیں کیا، ابھی بھی وہ تمام تر کوششوں کے باوجود یورپین یونین کا ممبر نہیں بن سکا ہے، اس ناکامی کے بعد ترکی نے کوشش کی کہ وہ مشرق وسطٰی میں کوئی اہم کردار ادا کرنا شروع کرے، اس کردار کو شروع کرنے کے بعد اس نے سنی کارڈ کو استعمال کیا، شام کی بشار حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کے ساتھ ساتھ سنا ہے کہ ترکی نے باغی دہشتگرد گروہوں کو مالی سپورٹ بھی کیا ہے، دیکھا جائے تو مشرق وسطٰی میں داعش کے آنے سے سب سے زیادہ فائدہ ترکی کو ہوا ہے، داعش سب سے سستا اور زیادہ تیل ترکی کو بیچتی تھی، داعش نے یوپین یونین کے ممالک کو بھی تیل بیچا ہے، ترکی کے سفارتکاروں کو داعش نے باقاعدہ رہا بھی کیا ہے، ترکی کے پس پردہ داعش سے تعلقات رہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ کچھ سالوں کیلئے روس اور ترکی اچھے دوست بن جائیں، کیونکہ ترکی کی مجبوری ہے، موجودہ اردگان حکومت نے "zero percent problems with our neighbors" کی پالیسی بنائی تھی، یہ اردگان حکومت کا مشن تھا، لیکن صورتحال اس کے بالکل برعکس یعنی "Hundred percent problems with neighbors" ہوچکی ہے، جس طرح انہوں نے نام نہاد جہادی عسکری گرہوں کو سپورٹ کیا ہے، انہیں اس کا خمیازہ تو بھگتنا پڑے گا، لہٰذا روس سے دوستی کچھ سالوں سے زیادہ شاید ممکن نہیں ہوسکے، دوسری جانب ترکی استحکام کے بجائے عدم استحکام سے دوچار ہوتا نظر آرہا ہے۔

اسلام ٹائمز: روس امریکا تعلقات کا مستقبل کیا نظر آتا ہے۔؟
محمد علی شاہ:
روس کا سیاسی ڈھانچہ آمرانہ (authoritarian) اور مغرب سے بھی بالکل مختلف ہے، روس میں انتخابات ہوتے ہیں، لیکن حقیقی معنوں میں جمہوریت نہیں ہے، لیکن روسی اپنے لیڈر کو لیڈر سمجھتے ہیں، روس میں حکومت بعد میں آتی ہے، لیڈر پہلے آتا ہے، روس میں ڈویلپمنٹ ہو رہی ہے، لیکن جدیدیت (modernity) کا تصور اس طرح متعارف نہیں کرایا گیا ہے، دوسری جانب انہوں نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے منحرف ایجنٹ ایڈورڈ اسنوڈن کو پناہ دی، جس نے امریکا کے حوالے سے خفیہ معلومات روس کے ساتھ شیئر کیں، جس سے بھی روس امریکی تعلقات پر کافی منفی اثرات مرتب ہوئے، لیکن موجودہ منظر نامے میں ہوسکتا ہے کہ روس اور امریکا کچھ معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ معاونت کریں، لیکن بڑے پیمانے پر معاملات میں معاونت نظر نہیں آتی۔ جہاں تک امریکا سے روسی سفارتکاروں کی بے دخلی کا معاملہ ہے، تو اوبامہ کا دور ختم ہوچکا ہے، وہ جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نکتہ نظر روس اور صدر پیوٹن کو بہت زیادہ سپورٹ کرتا ہے، ٹرمپ کہہ رہا ہے کہ روس وہ کر رہا ہے، جو ہمیں یعنی امریکا کو کرنا چاہیئے تھا، یعنی روس اگر (نام نہاد) جہادیوں کو مار رہا ہے، تو یہ کام امریکا کو پانچ دس سال پہلے ہی کر دینا چاہیئے تھا، اب اگر روس امریکا کا کام کر رہا ہے، تو ہمیں بجائے تعلقات خراب کرنے کے روس کا شکر گزار ہونا چاہیئے، لہٰذا امریکا سے روسی سفارتکاروں کی بے دخلی کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں بنے گا۔

اسلام ٹائمز: مشرق وسطٰی میں امریکی اتحاد کی شکست اور روسی ایرانی بلاک کی فتح کے تناظر میں پاکستان کی پالیسی کیا ہونی چاہیئے۔؟
محمد علی شاہ:
ہم بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں، کیا ہونی چاہیئے کی بات نہیں کرتے، بلکہ ہم بات کرتے ہیں کہ کیا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ یہ رہی ہے کہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک، خاص طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، ان کے ساتھ ہمارا عسکری اتحاد ہے، اس کے ساتھ ساتھ ان ممالک کے ساتھ ہمارا ایک نظریاتی الائنس بھی ہے، ان ممالک کی بھرپور خواہش کے باوجود پاک فوج پر ملک کے اندر دباؤ تھا کہ جس کی وجہ سے اس نے یمن سعودیہ تنازعے کا حصہ بننے سے انکار کر دیا تھا، لیکن پس پردہ تقریباً پاکستان ہی خلیج تعاون کونسل کے ممالک کی تربیت کرتا ہے، سعودیہ کے ساتھ تعلقات بگاڑنا پاک فوج کیلئے آسان کام نہیں ہوگا، کیونکہ پاکستان میں دو سے پانچ فیصد افراد ٹیکس دیتے ہیں، اس لئے ہماری معیشت جس طرح بیرونی امداد اور غیر ممالک سے ترسیلات زر کے حوالے سے محتاج ہے، ہم ان ممالک سے تعلقات خراب نہیں کرسکتے۔ جہاں تک آپ کا سوال ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیئے، اس کا آسان سا جواب یہ ہے کہ ہمیں قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہیئے اور یہ ہمارے قومی مفاد میں نہیں ہوگا کہ ہم کسی اور کی جنگ کا حصہ بنیں، کسی کی خاطر اس کی جنگ لڑیں اور ملک و قوم کیلئے مزید مسائل و بحران پیدا کریں۔

اسلام ٹائمز: خبریں عام ہو رہی ہیں کہ پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف یمن پر حملہ آور سعودی فوجی اتحاد کے عسکری مشیر بننے جا رہے ہیں، کیا کہیں گے اس حوالے سے، جبکہ پہلے ہاکستان نے سعودی درخواست کو رد کرتے ہوئے یمن کے تنازعہ میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا تھا، اس فیصلے کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہونگے۔؟
محمد علی شاہ:
یمن تنازعے کا حصہ نہ بننے کے حوالے سے عرض کر دوں کہ پاک فوج نے شروع میں منع نہیں کیا، بلکہ جب پارلیمنٹ کے اندر یہ مسئلہ گیا تو فوج کے اوپر پریشر آیا تھا، جس کی وجہ سے یمن تنازعہ کا حصہ بننے سے منع کیا گیا تھا، لیکن یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ ہم سعودی عرب، عرب امارات، کویت، قطر وغیرہ کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتے، جس طرح ہمارے ان خلیجی ممالک سے تعلقات رہے ہیں، اس تناظر میں آپ کے سوال کا جواب ہے کہ اتنی آسانی کے ساتھ ہم ان ممالک کو منع نہیں کرسکیں گے، جہاں تک سوال ہے عسکری مشاورت کے حوالے سے، وہ تو پاکستان پہلے سے کر ہی رہا ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی، اگر راحیل شریف اس عہدے کو لے لیتے ہیں، تو پاکستانی حکومت کو اتنا زیادہ مسئلہ نہیں ہوگا، کیونکہ حکومت اس سے لاتعلقی کا اظہار کر دے گی، وہ کہے گی کہ اگر کوئی حاضر سروس جنرل یہ کام کر رہا ہو تو اس مسئلے میں حکومت منع کرسکتی ہے، لیکن اگر ریٹائرڈ جنرل کسی کیلئے کام کرتا ہے، تو وہ اس کا اپنا مسئلہ ہے۔
خبر کا کوڈ : 597014
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے