0
Tuesday 31 Jan 2017 22:21
حکمرانوں کو آنکھیں کھلی اور دہشتگردی کیخلاف سنجیدہ اقدامات کرنے چاہیئے

39 ممالک کا اتحاد اسلامی نہیں بلکہ یہ ایران کیخلاف نیا محاذ بن رہا ہے، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر

پاکستان کو مصالحانہ کوششیں کرنی چاہیئے، ورنہ یہ 2 بلاک کی جنگ عالم اسلام کو تباہ کرکے رکھ دیگی
39 ممالک کا اتحاد اسلامی نہیں بلکہ یہ ایران کیخلاف نیا محاذ بن رہا ہے، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر
ملی یکجہتی کونسل کے صدر اور جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی رہنما صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کا شمار ملک کے اہم مذہبی و سیاسی رہنمائوں میں ہوتا ہے، ملک میں نظام مصطفٰی (ص) کا نفاذ انکی جماعت کا مشن ہے، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے دوسری مرتبہ ملی یکجہتی کونسل پاکستان کی صدارت سنبھالی ہے۔ اسلام ٹائمز نے صدر ملی یکجہتی کونسل سے ملٹری کورٹس کے دوبارہ قیام اور ملکی معاملات پر اہم انٹرویو کیا ہے، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: حکومت فوجی عدالتوں کے دوبارہ قیام کی بات کر رہی ہے، آپکی نظر میں فوجی عدالتوں کو دوبارہ وقت ملنا چاہیئے۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر:
دیکھیں حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ عدلیہ کے اندر اصلاحات لائیں گے اور مستقبل میں فوجی عدالتوں کی ضرورت نہیں پڑے گی، یہ ان کی ناکامی ہے کہ یہ اس عرصے کے دوران اصلاحات نہیں لائے اور یہ موجودہ عدالتیں کارآمد نہیں بن سکیں۔ اب اصلاحات نہیں لاسکے تو خلا کو تو پُر کرنا ہوگا، دہشت گردی کے خاتمے میں فوجی عدالتوں کی وجہ سے کامیابیاں ملی ہیں، کچھ حدود و قیود کے تحت فوجی عدالتوں کو وقت ملنا چاہیئے، انہیں ٹارگٹ دینا چاہیے، پوری قوم کو امید تھی کہ ’’را‘‘ کے ایجنٹوں کو سزا ملے لگی، لیکن نہیں ملی، بلدیہ فیکٹری میں اڑھائی سو افراد کو جلا دیا گیا، ملوث افراد کو قرار واقعی سزا نہیں مل سکی، اب اس کیس کیخلاف بھی سازشیں شروع ہوگئی ہیں، کراچی میں چیف جسٹس والا واقعہ جس میں دن دیہاڑے 22 مئی کو میڈیا کے سامنے لوگوں کو قتل کر دیا گیا، ان کو سزائیں نہیں مل سکیں، نشتر پارک کے سانحہ میں ہمارے 65 علماء و مشائخ کو شہید کر دیا گیا، وہ لوگ دندنانتے پھر رہے ہیں، ان پر کوئی ہاتھ ڈالنے والا نہیں ہے۔ یہ جو اتنے اہم کیسز ہیں، ان پر فیصلے نہیں آتے تو پھر ان فوجی عدالتوں کا کیا فائدہ ہے، فوجی عدالتوں کے قیام کا مقصد تو یہی تھا کہ ایسے کیسز پر جلد کارروائی مکمل ہو اور دہشتگردی میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا ہوسکے۔ یہ عدالیں اگر مقررہ مدت میں انصاف کرتی ہیں تو پھر فائدہ ہوگا، ورنہ کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ نیشنل ایکشن پلان کے دیگر نکات پر عملدرآمد کے حوالے سے مطمئن ہیں یا یہی صورتحال نظر آتی ہے۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر:
جی بالکل یہی صورتحال ہے، بہت سارے نکات پر عمل ہی نہیں ہوا، بلکہ عمل تو دور کی بات اس پر کام کا آغاز ہی نہیں ہوا، پوری قوم نے جبر کرکے ان چیزوں کی منظوری دی تھی، فوجی عدالتوں کو اس لئے مانا تھا کہ دہشتگردی ختم ہو، ہم مانتے ہیں کہ بہت حد تک دہشتگردی ختم ہوگئی ہے، لیکن جو کام رہتا ہے، اسے مکمل کریں۔ سب سے بڑا مسئلہ تھا کہ اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن پیدا کیا جائے، اس طرح کی خامیوں کو دور کرنا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: ایک نیا بیانیہ سامنے آیا ہے کہ کالعدم جماعتوں کو قومی دھارے میں لایا جائے تو یہ تکفیر چھوڑ دیں گی، کیا آپ ایسا ہی سمجھتے ہیں۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر:
جی اچھی بات ہے، اگر ایسا ہوتا ہے تو، انہیں لائحہ عمل دیا جائے، اگر ہوسکتا ہے تو اس پر عمل کرائیں، انہیں قانون کا پابند بنایا جائے۔

اسلام ٹائمز: یہ نکتہ نظر فرقہ وارانہ جماعتوں کیلئے ہے یا فقط بلوچستان کی حد تک بات کر رہے ہیں۔ دوسرا اس حوالے سے ملی یکجہتی کونسل کوئی رول ادا کرلے۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر:
میرے خیال میں جو بھی ہیں، انہیں موقع دیا جانا چاہیئے، حکومت بیٹھ کر انہیں لائحہ عمل دے اور اس پر عمل درآمد کرائیں۔ باقی رہا ملی یکجہتی کونسل کے حوالے سے سوال تو اتنا کہوں گا کہ کونسل نے تمام جماعتوں کو متحدہ کیا ہوا ہے کہ اس طرح کی فضاء نہ ہونے پائے، ہم کام کر رہے ہیں، لیکن جو بیرونی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، وہ نہ کسی کی بات پر عمل کریں گے، نہ ہماری بات مانیں گے، نہ وہ تقریر چھوڑیں گے، نہ محبت کی باتوں پر عمل کریں گے، ان کو پیسہ مل رہا ہے، وہ پیسے پر پاکستان میں دہشتگردی کر رہے ہیں، ان کو سنبھالنے کیلئے حکمران ہی کچھ کرسکتے ہیں، حکومت انہیں پابند بنائے، اگر حکومت سمجھتی ہے کہ وہ انہیں قابو کر لے گی تو یہ کوشش بھی کرکے دیکھ لیں اور اگر سمجھتی ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانیں گے تو پھر طاقت سے انہیں خاموش کرائے۔ یہ ذمہ داری حکومت کی ہے، وہ دیکھے کہ کونسی چیز قابل عمل ہے، جس کے ذریعے امن لایا جاسکتا ہے، اگر حکومت سمجھتی ہے کہ ان کو باتوں کے ذریعے سمجھایا جاسکتا ہے تو ضرور سمجھائیں، ورنہ پھر قانون کی زبان میں انہیں سمجھائیں اور حربہ استعمال کریں، یہ حربہ انہی کے پاس ہے۔

اسلام ٹائمز: پانامہ کیس میں کیا نظر آرہا ہے اور کیا توقعات ہیں۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر:
جی اللہ کو معلوم کہ کیا ہونے والا ہے، سیاسی معاملات ہیں، کیا کہہ سکتے ہیں، ججز کے ریمارکس پر کبھی ایک گروپ خوش ہوتا ہے تو کبھی دوسرا، کبھی کسی گروپ کے خلاف بات ہوتی ہے تو دوسرا خوش ہو جاتا ہے اور کبھی دوسرے کیخلاف بات ہوتی ہے تو پہلا خوش ہو جاتا ہے، یہ خوشی غمی کا سلسلہ جاری ہے۔ جب فیصلہ آئیگا تو پھر ہی کوئی چیز واضح ہوگی، البتہ پوری قوم کی نگاہیں اس وقت سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں۔

اسلام ٹائمز: جنرل راحیل شریف کیجانب سے 39 ممالک کے اتحاد کی فوجی کمان سنبھالنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر:
اس اتحاد کے اندر کے بہت سارے ممالک شامل نہیں ہیں، اگر انہیں بھی شامل کر لیا جائے تو پھر یہ اسلامی اتحاد کہلائے گا، ورنہ یہ ایک بلاک ہے، جو ایران کیخلاف ہے۔ ایران کے ساتھ کچھ ممالک ہیں اور ان کیساتھ بھی کچھ ممالک ہیں، ایسی صورتحال میں کسی بھی ایک بلاک کی طرف کھڑا ہونا مناسب نہیں ہے۔ جب آپ ایک بلاک کیساتھ کھڑے ہوں گے تو دوسرا ناراض ہوگا، آپ کے دونوں کیساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ دونوں آپ سے محبت کرتے ہیں، ایک طرف جائیں گے تو دوسرے کو دشمن بنا رہے ہوں گے، ایسی صورتحال میں حکومت کو سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہیے، اگر راحیل شریف صاحب اپنی مرضی سے جا رہے ہیں تو یہ بڑی خطرناک بات ہوگی، پہلی بات یہ ہے کہ وہ حکومت کی مرضی کے بغیر نہیں جا سکتے۔ راحیل شریف نے حکومت کو اعتماد میں لیا ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ راحیل شریف کو نہیں جانا چاہیئے، اس سے پاکستان کی غیر جانبدارانہ حیثیت کو نقصان پہنچے گا۔ بلآخر انہوں نے جاکر پاکستان کی نمائندگی کرنی ہے، اس کی پاکستانی عوام اجازت نہیں دی سکتی۔ حکومت کو دونوں صورتوں میں نوٹس لینا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: کہا جا رہا ہے کہ او آئی سی واحد ایسا پلیٹ فارم ہے، جہاں تمام اسلامی ممالک کسی مشترکہ چیلنج سے نمٹنے کیلئے کوئی لائحہ عمل ترتیب دے سکتے ہیں، اس پلیٹ فارم سے ہٹ کر 39 ممالک کو شامل کرنا کیا پیغام رکھتا ہے۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر:
جی میں نے پہلے عرض کر دیا ہے کہ ایک بلاک دوسر ے ملک کیخلاف بن رہا ہے، اس ملک کیساتھ بھی دو تین اسلامی ملک شامل ہیں، اس لئے یہ تو ایک بلاک دوسرے کیخلاف بن رہا ہے۔ اس کو اسلامی اتحاد نہیں کہہ سکتے، اسلامی اتحاد وہی ہوگا جو او آئی سی کے پلیٹ فارم سے سامنے آئیگا، ورنہ ایک بلاک کہلائے گا۔ میں یہ بات زور دیکر کہہ رہا ہوں کہ پاکستان ایسا اسلامی ملک ہے، جس کے دونوں اسلامی ممالک کیساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ اس کو اس غیر جانبدارنہ حیثیت اور مصالحانہ کوشش کو نہیں گنوانا چاہیئے۔ اس کو مجروح نہیں کرنا چاہیئے۔ پاکستان کو مصالحانہ کوششیں کرنی چاہیئے، ورنہ یہ دو بلاک کی جنگ عالم اسلام کو تباہ کرکے رکھ دے گی۔ پاکستان کی غیر جانبدارانہ پالیسی عالم اسلام کو تباہی سے بچا سکتی ہے اور اسے یہ حیثیت برقرار رکھنی چاہیئے۔ اس حیثیت سے ہی عالم اسلام کی خدمت کی جاسکتی ہے، ورنہ نہیں۔

اسلام ٹائمز: چین، روس اور پاکستان نے مشترکہ اجلاس میں افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس نئی صورتحال پر کیا کہتے ہیں۔ کیا اگلا بڑا تھرٹ داعش ہوگا۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر:
داعش کیخاف پہلے بات ہو رہی ہے اور کارروائی بھی، پاکستان کے حکمرانوں نے مذاق بنا رکھا ہے، کبھی کہتے ہیں داعش نہیں آئی، کبھی کہتے ہیں آچکی ہے، حقیقت یہ ہے کہ داعش آچکی ہے، انہوں نے اپنے نمائندے مقرر کر دیئے ہیں۔ ان کا وجود ہے، انہوں نے کارروائی شروع کر دی ہیں، ایسی صورتحال میں حکمرانوں کو آنکھیں کھلی رکھنی چاہیں اور دہشتگردی کیخلاف سنجیدہ اقدامات کرنے چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 605153
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب