0
Tuesday 7 Feb 2017 23:59
شام، یمن سمیت تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنیکی کوشش کرنی چاہیئے

پاکستان میں لوگوں کے اندر جو وحدت و اخوت کی فکر ہے، وہ امام خمینیؒ اور انقلاب اسلامی کا فیض ہے، اسد اللہ بھٹو

پاکستان کے وجود اور انقلاب اسلامی ایران دونوں کی بنیاد کلمہ طیبہ ہے
پاکستان میں لوگوں کے اندر جو وحدت و اخوت کی فکر ہے، وہ امام خمینیؒ اور انقلاب اسلامی کا فیض ہے، اسد اللہ بھٹو
جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر اسد اللہ بھٹو کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ وہ ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر بھی ہیں۔ پاکستان خصوصاََ کراچی و سندھ بھر میں انکی اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے کوششوں کو ہر حلقے میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ کراچی سے قومی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ اس کیساتھ ساتھ وہ جماعت اسلامی سندھ کے امیر کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے انقلاب اسلامی ایران کی 38 ویں سالگرہ کی مناسبت سے کراچی میں خانہ فرہنگ ایران میں منعقدہ تقریب کے موقع پر انکا مختصر خصوصی انٹرویو کیا، جو قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: انقلاب اسلامی ایران کی 38 ویں سالگرہ کی مناسبت سے کیا کہنا چاہیں گے؟
اسد اللہ بھٹو:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ آج سے 38 سال پہلے امام خمینیؒ نے ایران کے اندر انقلاب اسلامی برپا کیا تھا، اس وقت ملک میں ایک طرف بادشاہت تھی، ظلم کا نظام تھا، غریب، غریب تر اور امیر، امیر تر ہوتا جا رہا تھا، مغرب کی بے دین و خدا دشمن تہذیب و افکار کو وہاں فروغ دیا جا رہا تھا، لیکن انقلاب اسلامی کے ذریعے ان تمام کا خاتمہ کر دیا گیا۔ اس زمانے میں امام خمینیؒ، ابوالاعلٰی مودودی اور حسن البنا نے دنیا میں اسلامی انقلاب کی بات کی تھی، جب امام خمینیؒ کی قیادت میں ایران میں اسلامی انقلاب آیا تو مولانا ابوالاعلٰی مودودی نے اس وقت کہا تھا کہ ایران کا انقلاب اسلامی انقلاب ہے، جبکہ اس وقت امام خمینیؒ کے تین نمائندے مولانا ابوالاعلٰی مودودی کے پاس بھیجے گئے تھے۔ دنیا میں جتنے بھی انقلاب آئے، ان میں صاحب انقلاب ہی سب کچھ ہوتا نظر آیا، لیکن یہ امام خمینیؒ کا کمال تھا کہ انہوں نے کہا کہ یہ فرد کا انقلاب نہیں بلکہ یہ حضرت محمد مصطفٰی (ص) کا اسلامی انقلاب ہے، انہوں نے بادشاہ بننے کے بجائے امت مسلمہ کی رہبری و رہنمائی کا دینی فریضہ انجام دیا، یہ انتہائی کمال کی بات ہے کہ امام خمینیؒ نے تمام تر مواقع ہونے کے باوجود فقیری کے اندر زندگی گزاری۔

جب طاغوتی قوتوں نے ایرانی پارلیمنٹ کو بم دھماکے سے اڑا دیا تھا، اس وقت موقع تھا کہ ملک میں مارشل لاء لگتا، آمریت قائم ہوتی، لیکن امام خمینیؒ نے ملک کو اسلامی کے ساتھ ساتھ جمہوری بھی بنایا۔ درحقیقت امام خمینیؒ نے اپنی زندگی میں جو کہا وہ کرکے دکھایا، جہاں وہ اسلامی مفکر و رہنما ہیں، وہیں وہ دنیا میں جمہوری نظام کے علمبردار بھی ہیں۔ ان کی شخصیت امت رسول کیلئے بہت بڑی مثال ہے، امام خمینیؒ نے اتحاد امت، وحدت امت کا علم اٹھایا، ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد وہاں اللہ اکبر کے نعرے، امت کا ذکر، امت کا تصور امام خمینیؒ کا ایسا تحفہ ہے کہ آج پاکستان کے اندر بھی ہم لوگوں کے اندر بھی جو وحدت و اخوت کی فکر ہے، وہ امام خمینیؒ اور انقلاب اسلامی کا فیض ہے، جب تک یہ دنیا قائم ہے، ان شاء اللہ امام خمینیؒ کا نام و انقلاب اسلامی کا پیغام زندہ رہے۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ دنیا میں جہاں جہاں مظلومین و مستعضفین کو کسی قسم کے بھی مسائل درپیش ہوتے ہیں، ایران صف اول کا کردار ادا کرتا نظر آتا رہے گا، آج بھی ایرانی حکومت اسلامی انقلاب و اسلامی نظام کی بات کرتے ہوئے امام خمینیؒ کے فلسفے و پیغام کو آگے بڑھا رہی ہے اور وحدت امت کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: حضرت امام خمینیؒ کی انقلابی جدوجہد کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
اسد اللہ بھٹو:
امام خمینیؒ نے اللہ کی حاکمیت کو قائم کرنے کیلئے اللہ پر بھروسے کے ذریعے ابتداء تا آخر جو انقلابی جدوجہد کی، وہ دنیا بھر میں انقلاب اسلامی کیلئے جدوجہد کرنے والوں کیلئے ایک عظیم مثال ہے۔ امام خمینیؒ نے جلاوطنی کے بعد بھی اپنے اسلامی مشن کو ترک نہیں کیا، ہمیں بھی اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے انقلاب اسلامی کیلئے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ امام خمینیؒ نے دنیا بھر کو واضح پیغام دیا تھا، جس پر کسی بھی قسم کے شک کا شکار نہیں ہونا چاہیئے کہ امام خمینیؒ نے بالکل واضح طور پر اسلامی انقلاب، اسلامی نظام اور اللہ کی حاکمیت کو قائم کرنے کا پیغام دیا تھا۔ امام خمینیؒ کی نظر میں اللہ کی حاکمیت کا تصور یہ تھا کہ مسجد میں بھی اللہ کی حاکمیت ہو اور ایوان اقتدار میں بھی اللہ کی حاکمیت ہو۔ آج بھی اگر ہم امام خمینیؒ کے اس راستے پر چلیں تو اللہ کی مدد و نصرت بھی ہمارے ساتھ ہوگی۔

اسلام ٹائمز: امریکہ کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ عرب ممالک کو انقلاب اسلامی ایران سے ڈرائے رکھے، اسکے پس پردہ کیا امریکی مقاصد و عوامل نظر آتے ہیں۔؟
اسد اللہ بھٹو:
جب ایران میں اسلامی انقلاب پربا ہوا تو امریکہ و مغرب نے اسے شیعہ انقلاب کہہ کر اس کے خلاف پروپیگنڈا کیا، تاکہ امت مسلمہ کو سنی دنیا اور شیعہ دنیا میں تقسیم کر دیا جائے، مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جائے، اسلام کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیا جائے اور دنیا بھر میں ایران کے اسلامی انقلاب کا راستہ روکا جائے، لیکن امام خمینیؒ نے الٰہی بصیرت و افکار کے ذریعے اس طاغوتی پروپیگنڈے کو ناکام بناتے ہوئے کہا کہ یہ شیعہ انقلاب نہیں بلکہ اسلامی انقلاب ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اللہ کی حاکمیت کے قیام کا اعلان کیا۔ امریکا نے ہمیشہ جہاں امت مسلمہ کیخلاف سازشیں کیں، وہیں انقلاب اسلامی ایران کے خلاف بھی سازشیں کی ہیں، عرب دنیا میں ڈر و خوف پھیلایا گیا کہ اگر امام خمینیؒ کا اسلامی انقلاب کامیاب ہوگیا تو ان کی عرب بادشاہتیں برقرار نہیں رہیں گی، اسی لئے عراق ایران جنگ چھیڑ کر اسلامی انقلاب کا راستہ روکنے کی ناکام کوشش کی گئی، لیکن اللہ کی مدد و نصرت کے ذریعے امام خمینیؒ اور ایرانی قوم نے اسلامی انقلاب کو جاری و ساری رکھا، آج بھی ایران اسی اسلامی انقلاب کے راستے پر عمل پیرا ہے۔

اسلام ٹائمز: شام، یمن سمیت جتنے بھی تنازعات ہیں، انکا حل کیا پیش کرینگے۔؟
اسداللہ بھٹو:
چاہے یمن کا مسئلہ ہو، چاہے شام کا مسئلہ ہو یا دیگر جتنے بھی مسائل ہیں، میرا خیال ہے کہ تمام مسلم ممالک کو مذاکرات کے ذریعے ان تمام مسائل اور تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے، کوئی اگر یہ سمجھتا ہے کہ بندوق کی زور پر مسائل حل کرسکے گا تو یہ ممکن نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: پاک ایران تعلقات کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
اسد اللہ بھٹو:
پاکستان اور ایران کے تمام سنی شیعہ مسلمان حضرت محمد اور انکے اہل بیت اطہار (ع) سے والہانہ محبت و عقیدت رکھتے ہیں، اللہ کی بندگی کا احساس بھی انکے دلوں میں بھرا ہوا ہے، یہ ہماری مشترکہ میراث ہے، ایران اور پاکستان کے تاریخی روابط ہیں، دونوں برادر پڑوسی اسلامی ممالک ہیں، اسی لئے پاک ایران عوام کے دل آپس میں ملے ہوئے ہیں، ان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں، ہمارے خیالات بھی آپس میں ملتے ہیں، پاکستان اور ایران دو بھائیوں کی طرح ہیں، 65ء کی پاک بھارت جنگ ہو یا مسئلہ کشمیر، بدترین زلزلہ ہو یا کوئی اور مشکل موقع ہو، ایران نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیتے ہوئے بھرپور مدد کی ہے، پاکستان نے بھی ایران کا ہمیشہ ساتھ دیا ہے، لہٰذا اس جذبے کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ایران اور پاکستان مل کر دنیا کے اندر ایک اسلامی نظام و انقلاب کا پیغام دے سکتے ہیں، کیونکہ پاکستان کلمہ کی بنیاد پر وجود میں آیا ہے اور انقلاب اسلامی ایران بھی کلمہ طیبہ کی بنیاد پر برپا ہوا ہے۔

اسلام ٹائمز: سعودی ایران تعلقات کی بہتری کیلئے پاکستان کو کیا کردار ادا کرنا چاہیئے۔؟
اسد اللہ بھٹو:
آج بھی امریکہ کی سب سے بڑی خواہش ہے کہ امت مسلمہ شیعہ سنی میں تقسیم ہو جائے، کسی بھی طرح سعودی عرب اور ایران کے تعلقات خراب ہو جائیں، عرب ممالک اور ایران کو لڑایا جائے، اس موقع پر پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ امت کو تقسیم کرنے کی سازش کا قلع قمع کرنے کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کرے، مسلم ممالک جہاں جہاں بھی آپس میں تنازعات کا شکار ہیں، وہاں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کرکے مسائل کو حل کرنے کیلئے کوشش کرے، ہر ایک پاکستانی کی دلی خواہش ہے کہ سعودی ایران تعلقات بہتر سے بہتر ہوں، یہ خواہش تمام سنی شیعہ مسلمانوں کی بھی ہے، پاکستان کے دونوں ممالک سے اچھے تعلقات ہیں، جسے بروئے کار لاکر وہ سعودی عرب اور ایران کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرے۔
خبر کا کوڈ : 607410
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش