0
Wednesday 15 Feb 2017 20:52
مسلم زعماء کو تنظیموں اور گروہوں سے بلند ہوکر اسلام ناب کیلئے کام کرنا چاہئے

حسین ابن علی (ع) نے حق و باطل کی راہیں الگ الگ کر دیں، اب کوئی شیطانی قوتوں کیساتھ ساز باز نہیں کرسکتا ہے، مفتی نذیر احمد

آل سعود نے اپنی عزت و ناموس کو اسلام دشمن عناصر کے لئے وقف کر رکھا ہے
حسین ابن علی (ع) نے حق و باطل کی راہیں الگ الگ کر دیں، اب کوئی شیطانی قوتوں کیساتھ ساز باز نہیں کرسکتا ہے، مفتی نذیر احمد
مولانا نذیر احمد صوفی کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے شمالی ضلع بارہمولہ سے ہے، وہ اپنے والد مرحوم غلام محمد صوفی کے زیر سایہ پروان چڑھے، جو عرفان کی بلند منزلوں پر فائز تھے، مولانا نذیر احمد صوفی پچھلے 27 سال سے مقبوضہ کشمیر کے اطراف و اکناف میں اپنی دینی و تبلیغی ذمہ داریاں جاری رکھے ہوئے ہیں، وہ کشمیر یونیورسٹی سے "بی ایس سی"، "بی ایڈ" کے علاوہ "مولوی فاضل" سے فارغ التحصیل ہیں، اہم سرگرمیوں کے باوجود وہ کسی تنطیم یا جماعت سے وابستہ نہیں رہے اور نہ خود کسی پارٹی کو وجود میں لائے، کیونکہ انکا خیال ہے کہ ہم مسلمان پیغمبر اسلام (ص) کے امتی ہیں اور قرآن ہمارا دستور و آئین ہے، یہی ہماری جماعت ہے اور مسلمانوں کے قائد و رہبر پیغمبر اسلام (ص) ہیں، ہمیں کسی خود ساختہ جماعت کی ضرورت کیا، فعلاً مولانا نذیر احمد صوفی سوپور کی حنفیہ جامع مسجد میں امام جمعہ کے فرائض انجام دے رہے ہیں، انکی سرپرستی میں 17 سال سے مقامی گاؤں میں دارالعلوم رحمۃ للعالمین اور مدرسہ غوثیہ فعال ہے، مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں جن میں سرینگر، بڈگام، ماگام، مکہامہ، چاڑورہ، کانیہامہ، حیدر بیگ، ہمہامہ، گاندربل اور سوپور قابل ذکر ہیں، میں انہوں نے تبلیغی ذمہ داریاں اور امام جمعہ کے فرائض انجام دیئے، اسلام ٹائمز نے مولانا نذیر احمد صوفی سے انکی رہائش گاہ پر خصوصی نشست کے دوران ایک انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: عالم اسلام کی موجودہ تشویشناک صورتحال پر آپکا تجزیہ جاننا چاہیں گے، کیوں ایسا ہوا کہ خیر امت تذلیل و تحقیر کی شکار ہوتی گئی۔؟
مفتی نذیر احمد صوفی:
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ دیکھئے قرآن کریم کے مطابق واقعاً مسلم امہ بہترین امت قرار پائی ہے، ہمیں رسول اللہ (ص) کے امتی ہونے پر فخر ہونا چاہیے، بنی اسرائیل کے انبیاء نے تمنا کی تھی کہ اے کاش ہم رسول نازنین کے امتی ہوتے، یعنی انہوں نے نبی ہونے کے بجائے پیغمبر اسلام (ص) کے امتی ہونے کو ترجیح دی تھی اور اس کی تمنا کی تھی۔ ہمیں رسول اکرم (ص) کہ جو رحمت للعالمین بن کر آئے ہیں، کے امتی ہونے پر فخر ہونا چاہئے، ہماری منزم یہی ہونی چاہئے کہ ہم رحمت للعالمین (ص) کے حقیقی پیروکار بن جائیں، ہمیں دیگر اقوام کے لئے بھی رحمت بن کر پیش آنا چاہئے، آج ہم اس لئے عالمی سطح پر تفرقہ کا شکار ہوگئے ہیں، کیونکہ ہم نے سیرت پاک کو چھوڑ دیا ہے، اپنی منزل صہیونیت اور استکبار جہانی کی اطاعت سمجھی ہے۔ مسلمانوں کو سمجھنا چاہئے کہ یہود و نصارٰی مسلمانوں کے کبھی بھی خیر خواہ نہیں ہوسکتے ہیں۔ ان عناصر نے ہمیشہ مسلمانوں کو آپس میں لڑوایا ہے، مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پھیلایا ہے، شام و عراق میں کیا ہو رہا ہے، ہمیں سمجھنا ہے کہ اس جنگ میں شیعہ و سنی کی کوئی تفریق نہ تھی، افغانستان و پاکستان میں بھی یہی آپسی منافرت کی آگ پھیلی ہوئی ہے، شام میں اسلام دشمنوں نے ابوبکر بغدادی کو مسلمانوں کا خیلفہ متعارف کرایا، جو خلیفہ تو نہیں ثابت ہوا البتہ دجالِ وقت ضرور ثابت ہوگیا، اس شیطان کے کارناموں سے امت مسلمہ لرز اٹھی اور خوفزدہ ہوگئی۔ ایسا فرد کہاں مسلمان ہوسکتا ہے۔

مسلمان کبھی تفرقہ باز اور منافرت پھیلانے والا نہیں ہوسکتا ہے، مسلمان کسی بے گناہ کا قتل نہیں کرسکتا، مسلمان کے ہاتھوں قتل و غارتگری اور بربریت و جنایت کاری نہیں ہوسکتی ہے، مسلمان سراپا امن و آشتی، اخوت و برابری اور مساوات کا علمبردار ہے، ایک مسلمان دشمن شناس ہوتا ہے، وہ دشمن کی سازشوں اور منصوبوں کو پہچاننے والا ہوتا ہے، مجھے امام خمینی (رہ) کا ارشاد گرامی یاد آرہا ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ یہ نہ دیکھو کہ مسلمان ہاتھ کھول کر نماز ادا کر رہا ہے کہ ہاتھ بند کر نماز ادا کر رہا ہے، بلکہ یہ دیکھو کہ تمہارا دشمن تمہارے ہاتھ کاٹنے کے درپے ہے، یعنی شیعہ و سنی ہونا اہم نہیں ہے، اہم یہ ہے کہ ہم دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کی ترکیب تلاش کریں، دشمن اسلام نے ہمشیہ مسلمانوں کو آپس میں تقسیم کروایا اور ان کا قتل عام جاری رکھا۔ امام خمینی (رہ) مسلمانوں کے پہلے رہنما تھے، جنہوں نے مسلمانوں کو یکجا اور متحد ہونے پر اتنا زور دیا، امام خمینی ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن انکے افکار سے ہماری تقدیر سنور سکتی ہے، ہمیں امام خمینی (رہ) کے افکار کو تمام مسلمانوں تک پہنچانا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: کیوں مسلمانوں کیساتھ ہی ایسا ہو رہا ہے کہ وہ تقسیم اور آپسی تفرقہ کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔؟
مفتی نذیر احمد صوفی:
اس کی اہم وجہ جو روایات میں بھی درج ہے کہ مسلمانوں نے احکامات دین، تعلیمات اسلام کو پس پشت ڈالا ہوا ہے۔ انہوں نے اللہ کے بجائے شیطان کو اپنا ولی قرار دیا ہے، ان کا سربراہ شیطان ہے، انہوں نے ولی اللہ کے بجائے شیطان بزرگ امریکہ کو تسلیم کیا ہوا ہے، مسلمانوں نے حقیقی آخرت کے بجائے دنیاوی عیش و عشرت کو اپنا مقام قرار دیا ہے۔ عالم اسلام اسی لئے آپسی منافرت اور تقسیم کا شکار ہوا ہے۔ سعودی عرب کو مسلمانوں کے مرکز کا مقام حاصل ہے، جہاں مشرکین و کفار کا داخلہ سخت ہونا چاہیئے تھا، لیکن آل سعود نے اپنی عزت و ناموس کو اسلام دشمن عناصر کے لئے وقف کر رکھا ہے، ہمیں شرم آتی ہے کہ انہوں نے یہ سب اسلام کے نام پر جاری رکھا ہوا ہے، انہوں نے اولیاء کرام اور اہل بیت اطہار کی عظیم قربانیوں کا کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھا۔ انہوں نے اسلامی مقدسات کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ حسین ابن علی (ع) نے حق و باطل کی راہیں الگ الگ کر دیں ہیں، اب کوئی عذر کسی کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ اب کوئی شیطانی قوتوں کے ساتھ ساز باز نہیں کرسکتا، آج اگر ہم تذلیل کا شکار ہو رہے ہیں، عالم اسلام میں ہر چہار سمت قتل و غارتگری جاری ہے تو اسکی وجہ نام نہاد مسلم حکمرانوں کی سیرت النبی (ص) سے دوری ہے۔

اسلام ٹائمز: داعش کا فتنہ جس سے مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کیا گیا، اس فتنہ کی کارروائیوں کو آپ کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
مفتی نذیر احمد صوفی:
رسول اللہ (ص) کی حدیث مبارک جس کے راوی عامر بن عقبٰی ہیں، حدیث بخاری شریف میں موجود ہے، جس میں آپ (ص) نے قسم کھا کر کہا ہے کہ ’’مجھے اپنی امت کے مشرک ہونے کا خوف نہیں ہے، اگر خوف ہے تو وہ یہ کہ مسلمان دنیاوی مادیت پرستی کی جانب مائل ہونگے۔‘‘ دنیوی مادیت کی طرف مائل ہونا واقعاً مسلمانوں کا بڑا المیہ ہے، آج کے نام نہاد مولوی اور مفتی جو داعش کی حمایت کر رہے ہیں، یہ دشمن کے ہاتھوں بک چکے ہیں، ان مولویوں نے اپنا ایمان دنیوی دولت کے عوض بیچ ڈالا ہے، یہ اپنے مفادات کے خاطر نام نہاد جہاد، قتل و غارتگری، عصمت دریوں کی اجازت دیتے ہیں، یہ اسلام دشمن عناصر کی آلہ کاری نہیں تو اور کیا ہے، قرآن و حدیث کی مخالفت میں جو جہاد برپا کیا جائے وہ حرام ہے، اگر عبادات میں بھی طریقہ نبی اکرم (ص) نہ ہوتا تو عبادات بھی عبادات نہیں رہتیں، داعش کی تمام تر کارروائیاں حرام ہیں۔

اسلام ٹائمز: عالم اسلام کے ذمہ دار افراد کی ذمہ داری اس حوالے سے کیا بنتی ہے۔؟
مفتی نذیر احمد صوفی:
مجھے عالم اسلام کے مفکرین اور دانشوروں پر افسوس ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے حالات کے حوالے سے خاموشی سے کام لیا ہوا ہے، وہ عالم اسلام کی تشویشناک صورتحال پر تماشائی بنے ہوئے ہیں، انہیں میدان عمل میں آنا چاہئے، انہیں اپنی ذمہ داریاں انجام دینی چاہئے، اگر یہ مفکرین، علماء کرام اور دانشور حضرات اپنا مثبت رول ادا کریں گے تو عالم اسلام کی حالت ایسی نہیں رہے گی۔ تمام مسلم زعماء کو تنظیموں اور گروہوں سے بلند ہوکر اسلام ناب کے لئے کام کرنا چاہئے، ذاتی مفادات کے بجائے اسلامی تعلیمات کو ترجیح دینی چاہئے۔

اسلام ٹائمز: ایسی تشویشناک صورتحال کے ہوتے ہوئے اتحاد اسلامی کی اہمیت و ضرروت۔؟
مفتی نذیر احمد صوفی:
ہمارے پاس اتحاد اسلامی کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہے، ہم نے تفرقہ اور انتشار کے نتائج دیکھ لئے اور بھی اگر سالہا سال لڑتے رہیں گے تو یہی کچھ دیکھنے کو ملے گا، اگر اب بھی اتحاد اسلامی کا مظاہرہ مسلمان نہیں کریں گے تو مٹ کر ختم ہو جائیں گے، اپنی بقاء و سلامتی کے لئے ہمیں متحد ہونا ہی ہوگا۔ ہمیں امید ہے کہ مسلمان مزید تقسیم ہونے سے بچیں گے اور امت واحدہ بن کر سامنے آئیں گے۔ ابھی جس طرح ایران سے کوششیں ہو رہی ہیں، باقی مسلم ممالک سے بھی اتحاد اسلامی کی کوشش ہونی چاہئے۔ ایران کے پاس کم ذرائع اور بہت کم وسائل ہیں، پھر بھی وہ اتحاد اسلامی کے لئے تگ دو کر رہے ہیں۔ انہوں نے استقامت دکھائی۔ آج دیکھئے ایرانی نوجوان کہاں پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے دشمن اسلام کے خلاف کمر باندھ لی ہے، انکا بچہ بچہ صہیونیت و استکباریت کے خلاف لڑنے کے لئے تیار بیٹھا ہے، انکی تمام جنگ دشمنان اسلام کے خلاف ہے، نہ کہ مسلمانوں کے خلاف۔ ہمیں ان کی استقامت اور جوان مردی سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔
خبر کا کوڈ : 607837
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش