0
Friday 17 Mar 2017 23:57
مبارز و مجاہد وسائل کی کمی، مایوسی و خوف کا شکار ہوئے بغیر ہر حال میں خدا کی راہ میں آگے بڑھتا ہی رہتا ہے

پاکستانی تشیع کو ملکی و عالمی سطح پر مؤثر بنانے اور ظہور امامؑ کی زمینہ سازی کرنے کیلئے منظم کرنیکی ضرورت ہے، علامہ شبیر بخاری

اگر خواص میں خدانخواستہ کہیں کچھ کمی آئی ہے تو وہ شہید قائد و شہید ڈاکٹر کی جدوجہد کی روشنی میں اپنے آپ پر نظرثانی کریں
پاکستانی تشیع کو ملکی و عالمی سطح پر مؤثر بنانے اور ظہور امامؑ کی زمینہ سازی کرنے کیلئے منظم کرنیکی ضرورت ہے، علامہ شبیر بخاری
حجة الاسلام والمسلمین علامہ سید شبیر بخاری کا تعلق آزاد کشمیر پاکستان سے ہے۔ وہ اسوقت مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی شوریٰ عالی کے رکن اور جامعہ بعث رجوعہ سادات کے مسئول بھی ہیں، وہ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر بھی رہ چکے ہیں، انکا شمار بانی آئی ایس او شہید ڈاکٹر سید محمد علی نقوی کے خاص رفقاء میں ہوتا ہے۔ انہوں نے شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینیؒ کے آثار کی جمع آوری کے حوالے سے کارہائے نمایاں سرانجام دیئے، اسکی مثال نہیں ملتی۔ ”اسلام ٹائمز“ نے پاکستان سمیت عالمی سطح پر تشیع کی نہضت و تحریک اور موجودہ ملی صورتحال کے حوالے سے علامہ سید شبیر بخاری کیساتھ مختصر نشست کی، اس موقع پر ان کیساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: عالمی منظر نامے میں تشیع کی تحریک کے حوالے سے آپکی نگاہ کیا کہتی ہے۔؟
علامہ شبیر بخاری:
تشیع کی نہضت اور تحریک تیزی کے ساتھ اپنی منازل کو طے کر رہی ہے، جس کی منزل حضرت امام عصر (عج) کا ظہور ہے، اس ظہور کی زمینہ سازی کیلئے جن اقدامات کو طے کرنے کی ضرورت ہے، نہضت انہیں کامیابی کے ساتھ اٹھا رہی ہے، 1979ء کو ایران کی سرزمین سے حضرت امام خمینیؒ کی سرپرستی میں انقلاب اسلامی کی صورت میں ایک انفجار نور ہوا اور ایک حکومت حق کا قیام عمل میں آیا، اس وقت سے ہی دنیائے استکبار اس انقلاب اسلامی کو مٹانے کیلئے سازشوں میں مصروف ہے، عالمی استعمار کی پشت پناہی کے ساتھ صدام نے اسلامی ایران پر جنگ مسلط کی، شیطان بزرگ امریکہ نے انقلاب اسلامی کو اسلامی کے بجائے شیعہ انقلاب کہہ کر پروپیگنڈا کیا، پاکستان میں جماعت اسلامی نے انقلاب اسلامی ایران کو ویلکم کیا، لیکن اپنی محافل میں کہا کہ یہ شیعہ انقلاب ہے، آل سعود نے اسلامی انقلاب کے خلاف سازشیں کیں، ایک مرحلہ یہ بھی آیا کہ دوران حج برأت از مشرکین کرنے والے سینکڑوں حاجیوں کو شہید کر دیا گیا، انقلاب اسلامی ایران کا سیاسی، اقتصادی، سفارت بائیکاٹ کیا گیا، لیکن اس وقت بھی دنیا بھر میں مستعضفین نے خمینی بت شکن کی آواز پر لبیک کہا، انقلاب اسلامی کا دفاع کیا، اس وقت بھی دنیا بھر میں موجود حق و حقیقت سے آگاہ مبارز و مجاہدین میدان عمل میں نکلے، فکر خمینی کو دنیا بھر کی عوام تک پہنچایا، ایران پر صدام کی جانب سے مسلط جنگ کا اختتام ہوا، اس وقت انقلاب اسلامی کی دشمنوں نے یہ سمجھا کہ انقلاب اسلامی سرحدوں میں بند ہوگیا ہے، لیکن اس وقت بھی حضرت امام خمینی نے فرمایا تھا کہ جنگ کے زمانے میں بھی ہم نے اپنے اسلامی انقلابی پیغام کو دنیا تک پہنچا دیا۔

امام خمینی نے دنیا بھر پر واضح کر دیا کہ اسلام وہ زندہ نظریہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام ہو یا کمیونزم، سوشل ازم یا دیگر تمام باطل و فاسد نظاموں کا مقابلہ کرسکتا ہے، حضرت امام خمینی کی رحلت کے بعد جب انقلاب اسلامی کی قیادت ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی حسینی خامنہ ای (حفظ اللہ) کو سونپی گئی تو ٹوٹے پھوٹے جنگ زدہ ایران کو دینی و دنیاوی ہر شعبہ ہائے زندگی میں آگے بڑھایا، اپنے پیروں پر کھڑا کیا، ایران کو معنوی کے ساتھ ساتھ دنیاوی حوالوں سے بھی آباد کیا، جس انقلاب اسلامی کو شیعہ انقلاب کہہ کر عالمی استعمار و استکبار نے سرحدوں کے اندر قید کرنا چاہا، اسکی نورانی کرنیں دنیا بھر میں پھیل گئیں، تیونس، لیبیا، الجزائر، مصر میں بھی اس انقلاب اسلامی کے اثرات سامنے آئے، وہاں عوامی تحریکیں اٹھیں، جنہیں رہبر معظم نے اسلامی تحریکیں اور اسلامی بیداری قرار دیا، یہ عوامی بیداری عالم مغرب میں بھی دکھائی دے رہی ہیں، یمن میں مستضعفین نے کئی دہائیوں سے مسلط امریکی اسرائیلی پٹھو ڈکٹیٹر کے اقتدار کا خاتمہ کرکے اسے بھاگنے پر مجبور کر دیا، آج یمن میں مجاہدین تمام تر بے سروسامانی کے باوجود میدان میں نہ صرف ڈٹے ہوئے ہیں، بلکہ کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں، یہ سب خمینی بت شکن کی قیادت میں آنے والے انقلاب اسلامی کے اثرات ہیں، نہ صرف عالم اسلام بلکہ عالم کفر تک میں لوگ اس نور کے ذریعے ظلمات سے نجات پا رہے ہیں۔ تشیع دنیا بھر میں کل خمینی بت شکن کے زمانے میں مجاہد و مبارز کی جو ذمہ داری تھی کہ وہ میدان میں رہے، انقلابی اسلامی نظریئے سے عملی طور پر وابستہ رہے، سمجھے اور سمجھائے، آج بھی ان مجاہدین و مبارزین کی ذمہ داری وہی ہے، رہبر معظم سے عملی طور پر وابستہ رہتے ہوئے حجت آخر (عج) کے ظہور کی زمینہ سازی کیلئے جدوجہد کریں، اس کیلئے مزید بہتر امید کے ساتھ آگے بڑھیں۔

اسلام ٹائمز: عام تاثر ہے کہ پاکستان میں تشیع عالمی تشیع سے پیچھے نظر آتی ہے، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
علامہ شبیر بخاری:
شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی نے ایک مثال دی تھی، جو اس تاثر کو سمجھنے کیلئے بہت زیبا ہے کہ ایک ڈرائیور کو جب کہا جاتا ہے کہ گاڑی چلائے تو وہ ہر وقت، ہر راستے، ہر سڑک پر سو، ایک سو بیس کی رفتار سے نہیں چلاتا، اس رفتار سے وہ موٹر وے پر گاڑی چلاتا ہے، جہاں اسپیڈ بریک، کھڈا یا کوئی اور رکاوٹ یا مشکل نہیں ہوتی، لیکن وہی ڈرائیور صحرائی، پہاڑی یا اس جیسے علاقوں میں جائے گا تو وہ ایک خاص حد سے زیادہ رفتار تیز نہیں کر سکتا، اسی طرح نہضت اسلامی کے حوالے سے بھی حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں، کبھی سخت و دشوار ہیں، کبھی نرم و آسان ہیں، کبھی بہتر تو کبھی کمتر حالات ہیں، کبھی اپنے ہی اس نہضت کے مقابل رکاوٹ بن جاتے ہیں، نفس ہے، شیطان ہے، بیرونی دنیا ہے، غیر الٰہی طاقتیں اس نہضت کو شکست دینے کیلئے سازشیں کرتی ہیں، لہٰذا کہیں اگر رفتار تھوڑی کم بھی ہو جاتی ہے تو کسی بھی مومن کو مایوس نہیں ہونا چاہیئے، ان حالات میں اس کی جو بھی ذمہ داری بنتی ہے، اسے سمجھ کر انجام دینا چاہیئے، تشیع دنیا میں جن خطوں میں تیزی کے ساتھ سفر کر رہی ہے، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں روحانیت و غیر روحانیت کے اعتبار سے حالات اس قدر موافق نہیں ہیں، لیکن یہاں بھی وہ چنگاری موجود ہے، وہ فکر و ہدایت موجود ہے، آج نہیں تو دو سال بعد، پانچ سال بعد بہتر مقام پر ہو، ہوسکتا ہے کہ دس بیس سال کے بعد ہماری اس تیاری کا نتیجہ یہ ہو کہ ہم عالمی منظر نامے میں بھی کئی دوسری نہضتوں سے آگے بڑھ جائیں، رفتار کبھی تیز تو کبھی آہستہ ہو جاتے ہیں، لیکن مومن وہ ہوتا ہے، جو ہر طرح کے حالات میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر ادا کرے، کٹھن و آسان حالات تو آتے جاتے رہتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: ماضی میں پاکستان میں تشیع کے حوالے کون سے اہم کام کئے گئے۔؟
علامہ شبیر بخاری:
ہم ماضی کی بات کریں کہ جب شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کے ابتدائی زمانے میں کہ جب انقلاب اسلامی برپا نہیں ہوا تھا، پاکستان میں تشیع کروڑوں میں موجود تھی، ایک عام تشیع نظریہ، پاکستانی تشیع میں نظم نہیں تھا، مضبوط تبلیغاتی سلسلہ موجود نہیں تھا، ہمارے حوزہ علمیہ بہت کمزور تھے، ایسا انقلابی نظریہ کہ جس کی وجہ سے جوش و جذبہ ملتا ہے، جس سے کامیابیاں ملتی ہیں، جس سے انسان کی رفتار تیز ہوتی ہے، جو نوجوانوں کو جذب کرتا ہے، اس مرحلے میں شہید ڈاکٹر نے تشیع کو منظم کرنا شروع کیا، اس وقت کے شیعہ جماعت اسلامی اور جمعیت کے مقابلے میں کمیونسٹ جماعتوں کے ساتھ ہوتے تھے، اس مرحلے میں شہید ڈاکٹر اور ان کے ساتھیوں نے شیعہ نوجوانوں کو حفظ کیا، انہیں دین داری کی طرف لے کر آئے، انہیں وظیفہ شناسی، کربلا شناسی، تشیع شناسی کی طرف لے کر آئے، شیعہ نوجوانوں اور طلباء کو منظم کیا، ان کی تنظیم سازی کی، انہیں اسلام و تشیع کے حقیقی ہدف کی طرف متوجہ کیا، اس کے بعد نفاذ فقہ جعفریہ کی تحریک کا مرحلہ تھا، مولانا مفتی جعفر حسین کی قیادت وجود میں آئی، پوری ملت اب ایک نظم میں پرونا شروع ہوئی، گجرانوالہ میں ابتدائی کنونشن منعقد ہوا، پھر بھکر میں کنونشن ہوا، جس میں مفتی جعفر حسین کی قیادت کا اعلان ہوا، ملک بھر سے ہزاروں افراد بھکر کی دور دراز سرزمین پر جمع ہوئے۔

پھر خدا نے شیعہ قوم کو شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی جیسی الٰہی قیادت سے نوازا، شہید ڈاکٹر نے قوم کو ہر حوالے سے منظم کرنے کیلئے جو جامع منصوبہ بندی کی تھی، شہید قائد کی سرپرستی میں انہیں اس منصوبہ بندی کو عملی کرنے کا موقع نصیب ہوا، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ، معاشی، تعلیم، روزگار ہر ہر حوالے سے کام کئے، علماء کرام اور دینی طلاب کے کئی بنے، مختصر یہ کہ ملت کو ہر سطح پر منظم کیا گیا، اس نظم کو گاؤں گاوں، شہر شہر، قریہ قریہ پہنچایا گیا، انقلاب اسلامی کا پیغام پہنچایا گیا، شہید قائد اور ڈاکٹر شہید کے زمانے میں قوم کو نظم میں پرونے جیسا اہم کام کیا گیا، خمینی بت شکن کے پیغام، نہضت اسلامی کا پیغام، انقلاب اسلامی کا پیغام پہنچانا اور ظہور حجت آخر (عج) کی زمینہ سازی کیلئے تعلیم و تربیت کے عمومی پروگرام پر عمل درآمد ان کا اہم کام تھا، مجالس، سیمینارز، جلسے، جلوس، دروس، فکری نشستیں وغیرہ کا ایک ملک گیر وسیع سلسلہ شروع کیا، جس کے اثرات آج تک محسوس کئے جاتے ہیں، لہٰذا آج بھی شہید قائد و شہید ڈاکٹر کی جدوجہد و منصوبہ بندی کی روشنی میں قوم کو منظم کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ناصرف قومی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہو سکے اور ظہور حجت آخر (عج) کی زمینہ سازی کیلئے اپنا اہم کردار ادا کر سکے۔

اسلام ٹائمز: ماضی میں کی گئی جدوجہد و منصوبہ بندی کی روشنی میں آج کن حوالوں سے کام کرنیکی ضرورت ہے۔؟
علامہ شبیر بخاری:
ماضی میں قوم کو منظم کرنے اور اس ضمن میں ہم نے کئی کام کئے، ان کاموں کے اثرات دیکھ لئے کتنے تھے، جو کام اس وقت ماضی میں شروع کئے گئے تھے، ہمیں ان کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہیئے، پہلے مرحلے میں، ماضی میں ہمیں پیسے دینے کیلئے لوگ نہیں تھے، آج ہمارے پاس ہزاروں افراد موجود ہیں، ماضی میں تنظیمی افراد و ادارے نہیں تھے، لیکن نفاذ فقہ جعفریہ کی تحریک کے نتیجے میں کتنے لوگ وابستہ ہوئے اور تنظیمی تجربہ حاصل ہوا، اس حوالے سے اگر ہمیں دیکھیں تو آج ہم غنی ہیں، آج ضرورت ہے اور ہم کر سکتے ہیں کہ ماضی کے مقابلے میں اس سے بہتر سسٹم اور نظم وجود میں لائیں، سیاسی، معاشی، تعلیمی، روزگار، تربیت سمیت ہر ہر حوالوں سے کاموں کو بہتر انجام دیں، اب ہمیں سسٹم سازی کے مرحلے میں داخل ہونا چاہیئے، حقیقی مبارز و مجاہد کو حالات کی اونچ نیچ سے مایوس ہونے کے بجائے کوششیں کرنی چاہیئے، کسی کو بھی ایک دوسرے پر تنقید کرنے کے بجائے اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیئے، اس طرح ایک شخص، دوسرا شخص اپنی اپنی ذمہ داری نبھائے گا تو ہزاروں لاکھوں افراد ذمہ داری نبھانا شروع ہو جائیں گے، اس طرح رکے ہوئے قافلے خودبخود چلنا شروع ہو جائیں گے، ایک ایک فرد سمیت پوری ملت متحرک ہو جائے گی، خود لوگ ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے میدان عمل میں اتریں گے۔

اسلام ٹائمز: علامہ عارف حسین الحسینی شہید کے زمانے کے بزرگ علمائے کرام سمیت جوان علماء سے کس کردار کے خواہاں ہیں۔؟
علامہ شبیر بخاری:
یہ تو نہیں ہوتا کہ چالیس سالوں سے کام کرنے والے لوگ ہی میدان میں رہیں گے، ایسا نہیں ہے، بلکہ ان بزرگان کے کاموں کا نتیجہ یہ ہونا چاہیئے کہ نئی نسل اور علماء آئیں، جو لوگ حوزہ علمیہ قم میں تربیت پائے ہیں، ہمارے مدارس میں جنہوں نے تربیت پائی ہے، وہ آگے آکر ذمہ داریوں کو اپنے کاندھوں پر لیکر نبھائیں، کیونکہ پرانی نسل کی جگہ نئی نسل کو لینا ہوتی ہے، ورنہ تسلسل ٹوٹ جائے گا، مجلس وحدت مسلمین کی مثال سامنے ہے، ان کے پاس پہلے چند علماء کرام ہوتے تھے، آج سینکڑوں علمائے کرام آپ کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیار ہیں اور کر بھی رہے ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ ان جوان علماء کیلئے اچھا نظم لے کر آئیں، اچھے انداز میں اعتماد بحال کریں، سینکڑوں علماء موجود ہیں، جو خدمات فراہم کرسکتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: عوام کا اعتماد بحال کرنا کیسے ممکن ہے۔؟
علامہ شبیر بخاری:
ضروری ہے کہ آج کے دور میں لوگوں کا اعتماد بحال کریں، انکی حوصلہ افزائی کریں، پہلے خود اور پھر لوگوں کو خدا سے وابستہ کریں، لوگوں کو دینداری کی طرف متوجہ کریں، جب ایک باایمان شخص میدان میں اترتا ہے، جب ایک بایمان شخص سیدالشہداء (ع) کے عشق سے لبریز ہو کر نکلتا ہے تو وہ وسائل کی کمی کا رونا رو کر بیٹھ نہیں سکتا، آج ویسے بھی وسائل اور طاقت تھوڑی نہیں ہے، ماضی کے مقابلے میں صورتحال اچھی ہے، الٰہی کاموں کے ذریعے لوگوں کا اعتماد حاصل کریں، انہیں جوش و جذبہ دیں، ایمان و عزم و حوصلہ دیں، یقین کی کیفیت میں لے کر آئیں، ان کے اندر عشق سیدالشہداء (ع) کا احیاء کریں، جیسا کہ عالمی سطح پر عشق سید الشہداء (ع) کا احیاء ہو رہا ہے، ماضی کے مقابلے بہت زیادہ مضبوط اور منظم تشیع کی نہضت اور تحریک وجود میں آچکی ہے، جو دنیا بھر میں بیداری کا باعث بن چکی ہے، اس لئے امید ہے کہ اگر آج پاکستان میں کہیں کوئی کمی بیشی یا خدانخواستہ کوتاہی ہے تو اسے دور کرنے کیلئے اگر ہم اپنے آپ کو قرآن و اہلبیت (ع) کے ساتھ جوڑ لیں، تو ہر قسم کی کمی یا کوتاہی کی تلافی ہوسکتی ہے، ہم دوبارہ بہتر سے بہتر نتائج دے سکتے ہیں۔ بزرگان نے جس طرح عوام سے رابطہ مضبوط بنایا تھا، ہمیں اس حوالے سے مزید متوجہ ہونے کی بھی ضرورت ہے، عوامی رابطے کے ذریعے بڑے بڑے مسائل آسانی کے ساتھ حل کئے جا سکتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل ہمیں پاراچنار کے محاصرے کا مسئلہ درپیش آیا، علماء کی ایک ٹیم جوانوں کیساتھ نکلی، اس نے پاراچنار کے مسئلے کو اٹھایا، پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس مسئلے کو اٹھایا گیا، عوام تک اس مسئلے کے حوالے سے پیغام پہنچایا گیا، پھر دنیا نے دیکھا کہ اس ملت نے کہ جسے لوگ سمجھتے ہیں کہ اختلافات کا شکار ہو کر ٹوٹ گئی ہے، اس پر فاتحہ پڑھی جا چکی تھی، سمجھتے تھے کہ اس ملت کے اندر سے اب جان نکل چکی ہے، لیکن عوام نے علماء کا ساتھ دیا، پاراچنار کا مسئلہ حل ہوا، وہاں کا محاصرہ ختم ہوا، ملت نے ثابت کی کہ وہ زندہ ہے، اس کے اندر روح باقی و بیدار ہے، لہٰذا جو بھی خلوص و الٰہی جذبے کے ساتھ میدان میں فعال ہوتا ہے، عوام اس کا ساتھ ضرور دیتی ہے اور دیگی۔ جوان علمائے کرام اور خواص کو چاہیئے کہ وہ شہید قائد و شہید ڈاکٹر نقوی کی جدوجہد کو غور و فکر کے ساتھ پڑھیں، تاکہ ماضی میں انتہائی کٹھن حالات میں ان بزرگان کی جانب سے کی گئی انتھک جدوجہد سے سبق حاصل کرکے اس سے موجودہ حالات میں استفادہ کر سکیں، اگر خواص میں خدانخواستہ کہیں کچھ کمی آئی ہے تو وہ ان بزرگان کی جدوجہد کی روشنی میں اپنے آپ پر نظرثانی کریں، ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ خدا پر توکل، اہلبیت سے توسل، ایمان و یقین کی دولت سے آراستہ مبارز و مجاہد کبھی بھی مایوس نہیں ہوتا، خوف کا شکار نہیں ہوتا، وسائل کی کمی اس کی راہ میں رکاوٹ کا باعث نہیں بنتی، وہ ہر صورت، ہر حال میں خدا کی راہ میں آگے بڑھتا ہی رہتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 619196
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب