0
Sunday 28 May 2017 23:56
امریکہ اور اسکے پٹھو اتحادی عرب و مسلم ممالک ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے بجائے جلد آپس میں لڑینگے

پاکستان کو امام مہدیؑ مخالف امریکی سعودی فوجی اتحاد میں گھس کر اپنے آپکو ذلیل و رسوا نہیں کرنا چاہیئے، علامہ مرزا یوسف حسین

امریکی سعودی اتحاد کا اصل مقصد اسلامی مقاومتی بلاک کے سربراہ و ظہور امام مہدی کی زمینہ سازی کرنیوالے ایران کو نشانہ بناکر اسرائیل کا تحفظ فر
پاکستان کو امام مہدیؑ مخالف امریکی سعودی فوجی اتحاد میں گھس کر اپنے آپکو ذلیل و رسوا نہیں کرنا چاہیئے، علامہ مرزا یوسف حسین
پاکستان کے معروف بزرگ شیعہ عالم دین اور اتحاد بین المسلمین کے داعی علامہ مرزا یوسف حسین کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں، وہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن ہونے کیساتھ ساتھ ایم ڈبلیو ایم کے ذیلی ادارے مجلس علمائے شیعہ کے بھی سربراہ ہیں۔ وہ آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی کے مرکزی محرک ہونے کیساتھ ساتھ تمام شیعہ سنی مکاتب فکر کے علمائے کرام و مشائخ عظام پر مشتمل متحدہ دینی محاذ پاکستان کے بھی سربراہ ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے علامہ مرزا یوسف حسین کیساتھ انکی رہائشگاہ پر سعودی عرب میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سربراہی میں ہونیوالی امریکی عرب اسلامی کانفرنس، امریکی سعودی فوجی اتحاد اور اسکے ایران مخالف عزائم سمیت دیگر موضوعات پر ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر ان سے کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: گذشتہ دنوں ہونیوالے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب اور ریاض میں اسلام دشمن امریکہ کی سربراہی میں ہونیوالی عرب اسلامی کانفرنس کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
علامہ مرزا یوسف حسین:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ قران مجید میں سورہ مائدہ کی 51 ویں آیت میں اللہ تعالٰی نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ، یہ لوگ آپس میں دوست ضرور ہیں اور تم میں سے جو انہیں دوست بناتا ہے، وہ یقیناً انہیں میں سے ہے، بیشک اللہ ظالموں کی رہنمائی نہیں کرتا۔“ یعنی یہود و نصاریٰ ایمان والوں کے دوست نہیں بلکہ دشمن ہیں، نہ تو ان سے دوستی کرو اور نہ ہی انہیں اپنا سرپرست بناؤ، اگر تم میں سے کوئی ان کے ساتھ دوستی کرتا ہے تو پھر وہ بھی ان میں سے ہی شمار ہوگا، پھر اسکا رشتہ اسلام کے ساتھ باقی نہیں رہے گا، یعنی قرآن مجید میں اللہ تعالٰی نے انتہائی واضح طور پر اپنے فرمان میں اعلان کر دیا ہے، یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والی تمام تر دہشتگردی کے ذمہ دار امریکہ، اسرائیل اور انکی اتحادی عالمی قوتیں ہیں، انقلاب اسلامی ایران کے برپا ہونے کے بعد آج سے 35، 36 سال پہلے ہی خمینیؒ بت شکن دنیا پر واضح کرچکے تھے کہ دنیا میں کہیں بھی شر و فساد نظر آئے تو سمجھ لینا اس کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے، اب اگر واضح حکم قرآنی کی کوئی خلاف ورزی کرتا ہے تو پھر اس کو اپنے اسلام و ایمان پر نظرثانی کرنا چاہیئے۔ امریکہ عالم اسلام کو شیعہ سنی میں تقسیم کرکے امت مسلمہ کو تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے، اس کے ساتھ امریکہ عالم اسلام کو عرب و عجم کے نام پر بھی لڑانا چاہتا ہے، ماضی میں مسلمانوں کو سوویت یونین (موجودہ روس) سے بھی اسلام و کفر کی جنگ کے نام پر لڑایا، حالانکہ وہ امریکہ کی اپنی جنگ تھی، یعنی عالم اسلام کو شیعہ سنی، عرب و عجم، اسلام و کفر کے نام پر لڑا کر کمزور کرنا چاہتا ہے، لیکن ہمارے بدبخت حکمران اس حقیقت کے باوجود امریکہ کی دوستی پر فخر کرتے ہیں یعنی اللہ تعالٰی جس چیز سے واضح منع فرما رہا ہے، یہ نام نہاد بدبخت مسلم و عرب حکمران ان سے دوستی کرکے فخر کر رہے ہیں۔ ریاض میں امریکی سعودی کانفرنس میں شرکت کیلئے وزیراعظم نواز شریف وہاں گئے، وہاں امریکی صدر ٹرمپ نے ان سے ہاتھ نہیں ملایا تو اس پر یہاں بڑی باتیں ہو رہی ہیں کہ امریکہ کے صدر نے ہاتھ نہیں ملایا، ایسا لگتا ہے کہ بہت بڑی نعمت سے یہ لوگ محروم ہوگئے ہیں، یعنی اسکا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ امریکہ کے ساتھ دوستی پر فخر کرتے ہیں کہ جس سے اللہ تعالٰی واضح طور پر منع فرما رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب کے بعد واضح ہوگیا کہ سعودی فوجی اتحاد دراصل ایران مخالف اتحاد ہے، اس صورتحال کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
علامہ مرزا یوسف حسین:
دنیا کو بے وقوف بنانے کیلئے سعودی فوجی اتحاد کے بارے میں ہمیشہ کہا جاتا رہا کہ یہ کسی ملک کے خلاف اتحاد نہیں ہے، لیکن ٹرمپ کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے بعد یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ یہ امریکی سعودی فوجی اتحاد دراصل جمہوری اسلامی ایران کے خلاف ہے، واضح ہے کہ سعودی فوجی اتحاد کو بناتے ہوئے یہ کبھی نہیں کہا گیا کہ ہم اسرائیل سے لڑنے کیلئے، قبلہ اول بیت المقدس سمیت مقبوضہ فلسطین کو آزاد کرانے کیلئے یہ اتحاد بنا رہے ہیں، کبھی بھی یہ نہیں کہا گیا کہ مظلوم کشمیریوں کو بھارتی ظلم و بربریت سے نجات دلانے کیلئے یہ اتحاد بنا رہے ہیں، اور آج تک مظلوم فلسطینیوں و کشمیریوں کی کسی قسم کی مدد نہیں کی ہے، پھر آپ نے دہشتگردی کے خلاف اتحاد تو بنایا، لیکن اس میں شام، یمن، عراق سمیت دیگر ان ممالک کو تو شامل ہی نہیں کیا جو براہ راست دہشتگردی کا شکار ہیں، تمام تر منافقت کے باوجود ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب میں اس نام نہاد فوجی اتحاد کی حقیقت آشکار ہوگئی کہ سعودی فوجی اتحاد امریکی اسرائیلی ایماء پر ایران کے خلاف بنایا گیا ہے۔

اسلام ٹائمز: امریکی سعودی فوجی اتحاد کا ایران کو دہشتگردی کا مرکز کہہ کر اسے تنہا کرنیکے پس پردہ کیا مقاصد نظر آتے ہیں۔؟
علامہ مرزا یوسف حسین:
اسلامی مقاومتی بلاک کے سربراہ اور امام مہدیؑ کے ظہور کی زمینہ سازی کرنے والے ایران کو تنہا کرنا یا اسے دہشتگردی کا مرکز کہہ کر اس کے خلاف کارروائی کا اصل مقصد صہیونی جعلی ریاست اسرائیل کو تحفظ دینا ہے، اسرائیل کو ایران سے خطرہ ہے، ایران کی سربراہی میں اسلامی مقاومتی بلاک سے خطرہ ہے، پہلے گریٹر اسرائیل کی بات کی جا رہی تھی مگر ایران کی قیادت میں اسلامی مقاومتی بلاک کی وجہ سے اب جو اپنے گرد حفاظتی دیواریں بنانے پر مجبور ہوچکا ہے، یعنی اسرائیل اپنے آپ کو انتہائی غیر محفوظ سمجھتا ہے، امریکی نیو ورلڈ آرڈر کا خواب چکنا چور ہوچکا ہے، اللہ کے ارادے کے آگے شیطان بزرگ امریکہ کے ارادے پاش پاش ہوچکے ہیں، امریکی سعودی فوجی اتحاد کا اصل ٹارگٹ ایران کے ساتھ ساتھ حزب اللہ ہے، جس نے شام میں امریکی سعودی حمایت یافتہ تکفیری دہشتگردوں کو شکست سے دوچار کیا، امریکی سعودی بلاک شام کو فتح کرکے فلسطین کا راستہ کاٹنا چاہتے ہیں، تاکہ فلسطین کیلئے نہ تو اسلحہ جائے، نہ پیسہ جائے، نہ خوراک جائے، یہ شام اور اسلامی مقاومتی بلاک کو تباہ کرکے اسرائیل کا تحفظ چاہتے ہیں، ریاض میں امریکہ، سعودی عرب اور انکے تمام حواریوں کا اسی بات کا رونا تھا، حزب اللہ، حماس و دیگر فلسطینی مزاحمتی تحریکوں کو حمایت کرنے پر ایران کو دہشتگردی کا مرکز قرار دیا جا رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ امریکی سعودی بلاک ایران کو تنہا کرنے میں کامیاب ہو جائیگا۔؟
علامہ مرزا یوسف حسین:
یہ ایران کو تنہا کرنے کا اعلان کریں یا نہ کریں، یہ تو انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد سے ایران کو تنہا کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں، لیکن ہمیشہ ناکام و نامراد رہے ہیں، حتٰی امریکی صدر بھی ایران کے مقابل اپنی شکست کا اعلان کرتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ خدا ایران کے ساتھ ہے، اب جب جس کے ساتھ اللہ ہو، جس کی مدد اللہ کرے، اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا، اسے کسی بھی قسم کے خوف و ہراس کا شکار نہیں کیا جا سکتا، اچھا پھر اپنے حالیہ دورہ سعودی عرب میں امریکی صدر ٹرمپ نے مضحکہ خیر بات یہ کی کہ ایران کو تنہا کر دو، اس بے وقوف گدھے انسان کو یہ نظر نہیں آ رہا کہ جب وہاں پچپن ممالک کے سربراہ موجود ہیں تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ایران تنہا ہی ہے، اسے مزید کیا تنہا کرینگے، مگر امریکی سعودی بلاک یہ جان لے کہ ایران ان پٹھو ممالک کے درمیان تنہا رہتے ہوئے بھی خوفزدہ نہیں ہے، لیکن امریکہ اور اسکے پٹھو پچپن ممالک ایک ساتھ ہوتے ہوئے بھی خوفزدہ ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے کفار و منافقین کے دلوں میں خوف ڈال دیا ہے، جیسا کہ قرآن کے مطابق اللہ تعالٰی نے کفار و منافقین کے دلوں میں ایسا رعب و خوف ڈالا ہوا ہے کہ یہ اللہ سے زیادہ تم سے ڈرتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: ایران مخالف اہداف کے حصول میں ناکامی کے نتیجے میں ان پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔؟
علامہ مرزا یوسف حسین:
اللہ تعالٰی قرآن مجید میں سورہ حشر کی گیارہویں اور بارہویں آیات میں فرماتا ہے کہ ”کیا آپ نے ان منافقین کو نہیں دیکھا جو اپنے اہل کتاب کافر بھائیوں سے کہتے ہیں: اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ ضرور نکل جائیں گے اور تمہارے بارے میں ہم کبھی بھی کسی کی بات ہرگز نہیں مانیں گے اور اگر تمہارے خلاف جنگ کی جائے تو ہم ضرور بالضرور تمہاری مدد کرینگے۔ لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ قطعاً جھوٹے ہیں (11) اگر وہ نکالے گئے تو یہ انکے ساتھ نہیں نکلیں گے اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ انکی مدد نہیں کرینگے اور اگر یہ ان کی مدد کیلئے آبھی جائیں تو ضرور پیٹھ پھر کر بھاگ جائیں گے، پھر انکی مدد نہیں کی جائیگی(12)۔ لہٰذا امریکہ اور اسکے پٹھو اتحادی عرب و مسلم ممالک ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے بجائے جلد آپس میں لڑیں گے، جو کہ نظر آنا بھی شروع ہوگیا ہے، قطر کا جھگڑا شروع ہوگیا ہے، امارات کا جھگڑا شروع ہوگیا ہے، کویت ناراض دکھائی دیتا ہے، سعودی عرب امریکی ایماء پر اتحاد بنا رہا ہے، اس میں موجود ممالک ہی اس سے مطمئن نہیں ہیں۔ امریکہ بھی کچھ نہیں کرے گا، کیونکہ اس کو بھی اس حقیقت کا بخوبی اندازہ ہے کہ یہ نام نہاد پچپن مسلم عرب حکمران تو لفظی جی حضوری کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتے۔

اسلام ٹائمز: پھر امریکہ نے اس تمام معاملے سے کیا حاصل کیا۔؟
علامہ مرزا یوسف حسین:
امریکہ نے ان تمام ممالک کو ایران سے خوفزدہ کرکے ان سے اربوں ڈالرز لینے تھے جو کہ وہ لے چکا ہے، سعودی عرب سے 380 ارب ڈالرز کے دفاعی، معاشی، اقتصادی و دیگر حوالوں سے معاہدے کئے ہیں، ایک حصہ بطور ایڈوانس حاصل بھی کر چکا ہے، لہٰذا ٹرمپ نے دورہ سعودی عرب کے تحت اپنے مالی مقاصد حاصل کر لئے ہیں، خوفزدہ عرب حکمرانوں کو بے وقوف بنا کر، انہیں ایران سے خوفزدہ کرکے اربوں ڈالرز حاصل کر لئے ہیں۔

اسلام ٹائمز: امریکی سربراہی میں سعودی عرب میں ہونیوالی عرب اسلامی کانفرنس میں بھارت کو دہشتگردی سے متاثرہ ملک قرار دیا گیا، جبکہ پاکستان کی قربانیوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا، وزیراعظم نواز شریف کو تقریر کا موقع نہیں دیا جانا، اس سارے معاملے کو لیکر تجزیہ نگار اسے پاکستان کی جگ ہنسائی قرار دے رہے ہیں، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
علامہ مرزا یوسف حسین:
دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن کے طور پر عظیم قربانیاں دینے والے وطن عزیز پاکستان کو سعودی عرب میں نظر انداز کرنا اور بھارت کو دہشتگردی سے متاثرہ ملک قرار دینا ہمارے ساتھ انتہائی زیادتی کرنے کے مترادف ہے، ہم امریکہ کی جنگ اپنی جنگ کہہ کر لڑتے رہے، اسی وجہ سے ستر اسی ہزار سے زائد پاکستانی شہری و سکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہوچکے ہیں، سینکڑوں ارب ڈالرز کا نقصان اٹھا چکے ہیں، دنیا پر واضح ہے کہ ہم کتنا نقصان اٹھا چکے ہیں، آج بھی دہشتگردی کی زد میں ہیں، طالبان، القاعدہ، لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ کے نام سے اور اب داعش کے نام سے، سب سے زیادہ متاثر پاکستان ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں جس طرح نہتے مظلوم کشمیریوں کو شہید کیا جا رہا ہے، جس طرح وہاں بھارتی ریاستی دہشتگردی کا بازار گرم ہے، وہ الگ ہے۔ دنیا اس وقت واضح طور پر دو بلاک میں تقسیم ہوچکی ہے، ایک امام مہدیؑ کا حامی بلاک ہو جو لشکر مہدی کہلائے گا اور دوسرا ان کا مخالف بلاک ہے جو لشکر سفیانی کہلائے گا، نواز حکومت تو ہے ہی سعودی نواز، اس کا کیا کہنا، لیکن ہمیں افسوس ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف جنہیں اللہ تعالٰی نے بہت عزت دی تھی، مگر سفیانی فوجی کی سربراہی قبول کرکے انہوں نے اس عزت کو خاک میں ملا دیا، ساری کمائی گئی عزت برباد کرکے گنوا دی، یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی۔

اسلام ٹائمز: امریکی سعودی فوجی اتحاد سمیت موجودہ دیگر حساس صورتحال میں پاکستان کو کیا پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔؟
علامہ مرزا یوسف حسین:
سب سے پہلے تو پاکستان کو ایک لائق فائق وزیر خارجہ کی ضرورت ہے، جو عالمی حالات پر سنجیدگی کے ساتھ گہری نگاہ رکھے، ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرے۔ پھر یہ کہ پاکستان کی ایران، بھارت، افغانستان اور چین سے سرحدیں ملتی ہیں، بھارت اور افغانستان کے ساتھ تو سرحد پر حالات کشیدہ ہیں ہی، اب ہمارے حکمران ایران کے ساتھ پُرامن سرحد کو بھی خطرے سے دوچار کرنے پر تلے ہوئے ہیں، اب ہم ہمسائیوں کو دشمن بنا کر دور دراز کے ممالک کے ساتھ دوستی بڑھا کر آپ ملک نہیں بچا سکتے، ملک و قوم کی خدمت نہیں کرسکتے، پاکستان کو تو عالم اسلام کے ان معاملات میں غیر جانبدار رہنا چاہیئے، ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے، ہمیں عالمی استعمار و استکبار کی لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی کا شکار نہیں ہونا چاہیئے اور عالم اسلام کو بھی اس استعماری پالیسی کا شکار ہونے سے بچانا چاہیئے، اب جبکہ امریکی سعودی فوجی اتحاد واضح طور پر ایران کے خلاف کھل کر سامنے آچکا ہے، امام مہدیؑ کے ظہور کو روکنے اور ان سے جنگ جیسے عزائم بے نقاب ہوچکے ہیں، لیکن عالم کفر اور انکے اتحادی منافقین امام مہدیؑ کے ظہور نہ ہی روک سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں شکست دے سکتے ہیں، تو جب یہ امام مہدیؑ کے ظہور کو نہیں روک سکتے ہیں، تو پاکستان کو بھی امریکی سعودی فوجی اتحاد میں گھس کر اپنے آپ کو ذلیل و رسوا نہیں کرنا چاہیئے، اس کے ساتھ ساتھ جنرل (ر) راحیل شریف کو بھی فی الفور پاکستان واپس آجانا چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 641384
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش