0
Friday 16 Jun 2017 23:58
ریاض کانفرنس سے مسلم دنیا کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچا ہے

مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھنے کیلئے پورے عالم اسلام کو عالمی یوم القدس بھرپور انداز میں منانا چاہیئے، ثروت جمال اصمعی

پاکستان ایسے کسی عمل کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی بننا چاہیئے کہ جو مسلم دنیا میں اختلافات بڑھانے کا باعث ہو
مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھنے کیلئے پورے عالم اسلام کو عالمی یوم القدس بھرپور انداز میں منانا چاہیئے، ثروت جمال اصمعی
کراچی سے تعلق رکھنے والی ثروت جمال اصمعی معروف سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں، آپ روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں، زمانہ طالب علمی میں آپ اسلامی جمعیت طلبہ میں سرگرم رہے، آپ نے صحافت کا آغاز 1970ء میں روزنامہ جسارت سے کیا، بھٹو دور میں جسارت تین سال بندش کا شکار رہا تو اس دوران آپ ڈھائی سال اسلامک ریسرچ اکیڈمی کی اکنامک ڈیسک پر فعالیت انجام دی، جسارت بحال ہونے پر آپ نے وہاں دوبارہ صحافتی خدمات انجام دینا شروع کر دیں، بعض وجوہات کی بناء پر آپ نے جسارت کو خیرباد کہہ دیا، محمد صلاح الدین صاحب نے ہفت روزہ تکبیر کراچی نکالنے کا منصوبہ بنایا، آپ آغاز سے پندرہ سال تک تکبیر سے وابستہ رہے، جولائی 1999ء میں تکبیر چھوڑا، جس کے چند ماہ بعد ہی فروری 2000ء سے آپ روزنامہ جنگ سے وابستہ ہوگئے اور تاحال روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں، آپ سات آٹھ سال انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹیڈیز اسلام آباد میں تحقیقی فرائض انجام دے چکے ہیں، آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں، آپ کی کتاب ”دہشتگردی اور مسلمان، عالم اسلام کا مقدمہ عالمی ضمیر کی عدالت میں“کو بہت زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ ”اسلام ٹائمز“ نے سینئر صحافی اور کالم نگار ثروت جمال اصمعی کیساتھ ریاض کانفرنس، ایران کو تنہا کرنے کا اعلان، عرب ممالک کی جانب سے قطر کا بائیکاٹ، عالمی یوم القدس سمیت دیگر موضوعات پر انکی رہائش گاہ پر ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر آپ کےساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں امریکا عرب اسلامی سربراہی کانفرنس میں امریکا کو انتہائی زیادہ اہمیت دی گئی، سعودی عرب نے امریکا کے ساتھ تقریباً چار سو ارب ڈالرز کے دفاعی اقتصادی معاہدے کئے، ایران کو تنہا کرنے کا اعلان کیا گیا، پس پردہ عوام اور اس تمام معاملے کو کیسے دیکھتے ہیں۔؟
ثروت جمال اصمعی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ امریکا کے حوالے سے یہ بات انتہائی واضح ہے کہ اس کے منصوبے مسلم ممالک میں ہر طرح کے اختلافات کو ہوا دیکر اپنے مفادات حاصل کرنے کے ہیں، اس کے ناقابل تردید شواہد سامنے آ چکے ہیں، رینڈ کارپوریشن کی ایک نہیں کئی رپورٹس موجود ہیں جن کے اندر یہ بات کی گئی ہے کہ امریکا مسلم دنیا میں اپنے مفادات حاصل کرنے کیلئے ان کے باہمی اختلافات کو بڑھائے اور ہوا دے، اور اس سے کچھ فوائد حاصل کر سکے، یہ تمام باتیں ہمارے حکمرانوں کے علم میں بھی ہونی چاہیئے، مسلم دنیا اپنے ارکان کے مفادات کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے، افغانستان کو ناجائز حملہ کرکے اس کو تباہ کر دیا گیا، سارے مسلم ممالک اس کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے، جبکہ اس سے قبل روس کے افغانستان پر حملے کے خلاف مسلم ممالک نے غیر ملکی افواج کو واپس بھیجنے کیلئے تعاون کیا تھا، افغانستان پر امریکی حملے کے حوالے سے جنرل مشرف کی حکومت نے امریکا کے ساتوں کے ساتوں مطالبات سر جھکا کر تسلیم کر لئے تھے، جس پر سابق امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے حیرت کا اظہار کیا تھا کہ میں نہیں سمجھتا تھا مشرف اس طرح سے مان جائیں گے، میں سمجھتا تھا کہ مشرف تین چار سے زیادہ مطالبات نہیں مانیں گے، یہ ساری باتیں ریکارڈ پر ہیں۔ موجودہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تو اپنی صدارتی انتخابی مہم کے دوران کھلے عام اپنی اسلام دشمنی کا اظہار کیا تھا، پھر بھی یکایک اسی ٹرمپ کو اتنی اہمیت دے دینا، جبکہ میرے خیال میں پیشگی کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی تھی کہ اسلامی سربراہی کانفرنس بھی ہوگی، ان میں ٹرمپ صاحب آئیں گے، جبکہ بظاہر تو ٹرمپ کا صرف سعودی عرب کا دورہ تھا، لیکن اس موقع کے اوپر اتنے سارے ممالک کو جمع کرکے کانفرنس منعقد کی گئی، ٹرمپ کو سربراہی دی گئی، یہ اسلامی دنیا کے مفاد کے نکتہ نظر سے یہ کوئی دانشمندانہ اقدام نہیں ہے۔ پھر اس موقع پر ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ معاملات اسلامی دنیا کے اتحاد کی جانب بڑھتے، عالم اسلام کی تقسیم کا باعث بنا، ریاض کانفرنس میں کھل کر کہا گیا کہ ایران کے خلاف سب کو متحد ہونا چاہیئے، یہ بات سعودی حکمرانوں نے بھی کہی، اس موقع پر ریاض کانفرنس میں پاکستان نے اپنی پوزیشن برقرار رکھی کہ ہم ایران کے معاملے میں بالکل غیر جانبدار ہیں، ہم سعودی ایرانی اختلافات کو ختم کرنے، دونوں ممالک کو قریب لانے کا کام کرینگے، اسی وجہ سے شاید وزیراعظم پاکستان کو وہاں خطاب کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ سعودی ایرانی اختلاف کو ہم ختم کرنا چاہتے ہیں، پاکستانی عوام بھی یہی خواہش رکھتی ہے، اسلامی فوجی اتحاد جب بن رہا تھا تو پاکستانی پارلیمنٹ نے قرارداد منظور کی تھی کہ پاکستان ایسے کسی عمل کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی بننا چاہیئے کہ جو مسلم دنیا میں اختلافات بڑھانے کا باعث ہو، عرب حکمران چاہتے تھے کہ یمن میں پاکستانی فوج لڑنے جائے، لیکن ہم نے صاف منع کر دیا تھا۔ لہٰذا ریاض کانفرنس کے دوران اتحاد کی فضا بننے کے بجائے یہ اختلاف کھل کر سامنے آگیا کہ یہ چالیس پچاس ممالک ایران کے خلاف متحد ہو رہے ہیں، جو کہ ہمارے پاکستان کی عوام کیلئے انتہائی تکلیف دہ بات تھی، وہ یہ بالکل نہیں چاہتے، اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان کے اندر مسلکی اختلافات کو ابھارنے کی سازش کبھی کامیاب نہیں ہو سکی، پاکستانی عوام آج بھی مل جل کر، پیار و محبت، بھائی چارے کے ساتھ رہ رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: قطر ریاض کانفرنس میں شریک اہم عرب اتحادی ملک تھا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کی جانب سے قطر کے حالیہ بائیکاٹ کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
ثروت جمال اصمعی:
سعودی عرب میں امریکا عرب اسلامی سربراہی کانفرنس کے چند روز بعد اچانک چھ عرب ممالک نے قطر کا بائیکاٹ کر دیا، اس پر دہشتگردی میں مالی معاونت و سہولت کاری کے الزام عائد کئے، جبکہ اب تک قطر ہر لحاظ سے ان چھ عرب ممالک کے ساتھ تھا، خلیج تعاون کونسل میں تھا، اس کے اجلاسوں میں شریک ہوتا تھا، ریاض میں امریکی صدر ٹرمپ کی سربراہی میں ہونے والی امریکا عرب اسلامی سربراہی کانفرنس میں بھی شریک تھا، لیکن اچانک چند روز بعد قطر پر الزامات کی بارش شروع کر دی کہ یہ تو دہشتگردوں کی مدد کر رہا ہے، یہ بظاہر عرب ممالک کو امریکی ڈکٹیشن کا نتیجہ نظر آتا ہے، اس کی وجہ جو بھی ہو، بہرحال بھی تک حقائق سامنے نہیں آ سکے ہیں۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ قطر اخوان المسلمین کا حامی ہے، حماس کا حامی ہے، ایران کی بعض گروپوں کو یہ سپورٹ کرتا ہے، یہ باتیں کہی جا رہی ہیں، جبکہ واضح ہے کہ قطر تو اس کانفرنس سے پہلے سے اخوان المسلمین و حماس کا حامی تھا، جہاں تک بات ہے کہ قطر ایران کو تنہا کرنے کے خلاف ہے اس لئے بائیکاٹ کیا جا رہا ہے، تو پھر پاکستان بھی تو ایران کا دوست ملک ہے،ایران کو تنہا کرنے کے خلاف ہے، لیکن پاکستان کو اس طرح سے بائیکاٹ نہیں کیا گیا، لہٰذا یہ وجہ بھی سمجھ نہیں آتی، بہرحال اب تک قطر کے بائیکاٹ کرنے کی ابتک واضح وجوہات سامنے نہیں آ سکی ہیں، البتہ امریکی صدر ٹرمپ جس طرح خوش ہو رہے ہیں، اس سے لگتا ہے کہ یہ امریکا کے کہنے پر ہوا ہے۔

اسلام ٹائمز: ریاض کانفرنس میں ایران کو تنہا کرنے کے اعلان اور اس کے بعد قطر کے گھیراؤ کے نتیجے میں مسلم دنیا کے متحد یا تقسیم ہونے کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
ثروت جمال اصمعی:
ریاض کانفرنس کے نتیجے میں ایک مسلک سے تعلق رکھنے والے ممالک کو جو مجتمع کرنے جا رہے تھے، قطر کے خلاف کارروائی سے تو اب یہ بھی ختم ہو گیا، جبکہ ہمارا اصل ہدف تو یہ ہونا چاہیئے کہ مسلک و فرقوں سے بالاتر ہو کر مسلم دنیا کو متحد کیا جائے، جیسا کہ ماضی میں رہا بھی یہی ہے، جب 1969ء میں او آئی سی بنی تھی تو اس وقت یہی پوزیشن تھی، بہرحال حالیہ ریاض کانفرنس کے بعد ایک تو ایران سے واضح اختلاف کیا گیا، دوسری جانب اب قطر کو الگ کرنے کے نتیجے میں خود سنی دنیا کے اندر بھی، خود عرب دنیا کے اندر بھی واضح اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ لہٰذا ریاض کانفرنس سے مسلم دنیا کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچا ہے۔

اسلام ٹائمز: تہران میں ایرانی پارلیمنٹ اور حضرت امام خمینیؒ کے مرقد پر ہونے والے دہشتگردانہ حملوں پر آپ کی نگاہ کیا ہے۔؟
ثروت جمال اصمعی:
اس طرح کے خودکش حملے اور دھماکے تو مسلم دنیا کے بہت بڑے حصے میں ہو رہے ہیں، پاکستان میں بے تحاشہ ایسے واقعات ہو چکے ہیں جن کا سلسلہ تاحال جاری ہے، ترکی میں بہت ہو چکے ہیں، اہم نکتہ یہ ہے کہ ایسے دھماکے ایران پر اثر انداز ہونگے یا نہیں، تو میں سمجھتا کہ اس قسم کے دہشتگردانہ واقعات ایران پر اثر انداز نہیں ہو سکتے، یہ تو بہت چھوٹے واقعات ہیں، ایسے حملے تو اب مسلم دنیا تک محدود نہیں رہے، اب تو یہ فرانس، برطانیہ، امریکا میں بھی ہو رہے ہیں، اسی لئے دہشتگردی ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے، اسے ختم کرنے کیلئے ان مسائل کو ختم کرنا ہوگا جن کی وجہ سے لوگ دہشتگرد بنتے ہیں۔ افغانستان، عراق، لیبیا کو تباہ کر دیا گیا، اب جہاں لوگوں میں خوف پیدا ہوتا ہے تو وہیں انتقام کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے۔

اسلام ٹائمز: ریاض کانفرنس میں عالم اسلام کے اہم ترین مسئلہ فلسطین کو بھی نظر انداز کر دیا گیا، جو کہ مسلم دنیا میں اتحاد کا مرکز بن سکتا ہے، آپ کی کیا رائے ہے۔؟
ثروت جمال اصمعی:
مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے مسلم عوام تو اس پر یکسو ہیں، فلسطین پر اسرائیلی غاضبانہ قبضے کو ناجائز سمجھتے ہیں، مسلم حکمران بھی ایک عرصے تک یہی کہتے رہے اور جب 1967ء کی جنگ ہوئی ہے تو اس وقت تک پوری مسلم دنیا کا یہی مو¿قف تھا، لیکن جن انہوں نے دیکھا کہ یہ مسئلہ فوجی طاقت سے حل نہیں کر سکتے تو وہاں سے مصلحتیں پیدا ہونا شروع ہوئی، سادات کے زمانے میں کیمپ ڈیویڈ معاہدہ ہوا، اب صورتحال یہ ہے کہ بہت سارے مسلم ممالک اسرائیل کو عملاً تسلیم کر چکے ہیں یا اس تسلیم کر لیا ہے لیکن اس کا اظہار نہیں کر رہے اور ا نکی پالیسیوں میں تبدیلی آ گئی ہے، حماس کا سپورٹراب آپ کو پوری عرب دنیا میں کوئی نہیں ملتا، جبکہ پہلے آنکھوں کا تارا تھی، یہ سمجھتے ہیں کہ اب شاید یہ مسئلہ ھل نہیں ہو سکتا یا یہ کہ اسرائیل کو ختم نہیں کیا جا سکتا، جبکہ درحقیقت اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، جسے فلسطین کی سرزمین پر امریکا اور برطانیہ کو قبضہ دلانے کا کوئی حق نہیں تھا، اقوام متحدہ میں بھی معاملہ قراردادوں کی حد تک محدود ہے، جیسا کہ آپ نے سوال میں کہا کہ فلسطین مسلم دنیا کیلئے نکتہ اتحاد بن سکتا ہے، لیکن اب یہ عملی طور پر نہیں ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم دنیا حقیقی قیادت سے محروم نظر آتی ہے، اب کسی کو فلسطین کو آزاد کروانے سے دلچسپی نہیں ہے بلکہ اسرائیل سے تعلقات میں اضافہ ہوا ہے، مصر کے تعلقات ہیں، ترکی بھی اردگان حکومت سے پہلے سے اسرائیل کو تسلیم کر چکا ہے، اردگان حکومت اسے ختم نہیں کر سکتی، ہو سکتا ہے کہ آگے جا کر انہیں طاقت ملے تو وہ کوئی فیصلہ کریں۔ فلسطین نکتہ اتحاد ہونا چاہیئے مگر ایسا نہیں ہے، کیونکہ مسلم حکمرانوں کے اپنے مفادات ہیں۔

اسلام ٹائمز: مسلم حکمرانوں نے مسئلہ فلسطین کو پس پشت ڈالا ہوا ہے تو ایسی صورتحال میں مسلم عوام کا کردار کیا ہونا چاہیئے۔؟
ثروت جمال اصمعی:
یہ حقیقت ہے کہ مسئلہ فلسطین کے معاملے میں مسلم عوام کبھی پیچھے نہیں ہٹے، ان کے جذبات برقرار ہیں، اسلامی تحریکوں کو چاہیئے کہ اس معاملے کو دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ عوام کی مدد سے اٹھائیں، ایوانوں تک پہنچائیں، اسلامی تحریکوں کو اقتدار حاصل کرنا چاہیئے، جیسا کہ مصر میں مل گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے فلسطین کے ساتھ جو رکاوٹیں تھیں وہ ہٹا دی تھیں، اس کے بعد فلسطینیوں کا مصر آنا جانا شروع ہو گیا تھا، لہٰذا اگر مسلم دنیا میں حقیقی معنوں میں جمہوریت فروغ پائے، جمہوری حکومتیں اقتدار میں آئیں، اسلامی ممالک میں جمہوریت آنی چاہیئے، اس کے نتیجے میں وہاں اسلام آئے گا اور ا سکے نتیجے میں مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے بھی پالیسیاں بنیں گی اور اسلامی اتحاد بھی بنے گا۔

اسلام ٹائمز: حضرت امام خمینیؒ نے مظلوم فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی اور مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعة الوداع کو عالمی یوم القدس منانے کا اعلان کیا تھا، اس کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
ثروت جمال اصمعی:
پاکستان سمیت دنیا بھر میں پورے عالم اسلام کو عالمی یوم القدس کو بھرپور انداز منانا چاہیئے، اس میں شرکت کرنی چاہیئے، تاکہ مسئلے کو کم از کم روایتی طور پر ہی صحیح زندہ رکھا جا ئے، اسلامی میڈیا کو عالمی یوم القدس کی مناسبت سے خصوصی اشاعت و نشریات کا اہتمام کرنا چاہیے، تاکہ دنیا بھر کی عوام کو مسئلہ فلسطین کے حوالے سے شعور و آگہی دینے کا سلسلہ جاری ہے، تاکہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے تمام تفصیلات بھی دنیا کے سامنے آتی رہیں، مسئلہ فلسطین کو کمزور کرنے والی چالوں کو بھی بے نقاب کرنے کا سلسلہ جاری رہے۔
خبر کا کوڈ : 646533
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے