0
Wednesday 21 Jun 2017 23:46
حکومت پاکستان یوم یکجہتی کشمیر کی طرح مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے یوم القدس کو سرکاری سطح پر منانیکا اعلان کرے

امریکی قیادت میں بننے والا کوئی بھی مسلم اتحاد امریکی مفاد میں تو ہوسکتا ہے عالم اسلام کے مفاد میں نہیں، محمد اسلم غوری

اگر عالم اسلام قبلہ اول کی آزادی کے ایجنڈے کے تحت متحد ہو جائے تو دیگر تمام مسائل بھی خودبخود حل ہو جائیں گے
امریکی قیادت میں بننے والا کوئی بھی مسلم اتحاد امریکی مفاد میں تو ہوسکتا ہے عالم اسلام کے مفاد میں نہیں، محمد اسلم غوری
محترم جناب محمد اسلم غوری جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ہیں، وہ جے یو آئی (ف) کی مرکزی مجلس شوریٰ، مرکزی مجلس عمومی اور مرکزی پالیسی ساز ادارے کے بھی رکن ہیں، آج کل وہ جے یو آئی (ف) سندھ کے قائم مقام سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری بھی سرانجام دے رہے ہیں، وہ 1970ء سے اپنے زمانہ طالب علمی سے ہی جے یو آئی سے وابستہ ہیں، انکا شمار جمعیت کے انتہائی فعال رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ ”اسلام ٹائمز“ نے محمد اسلم غوری کیساتھ عالمی یوم القدس اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر ان سے کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے حضرت امام خمینیؒ کے اعلان کردہ جمعة الوداع عالمی یوم القدس کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
محمد اسلم غوری:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔
میں سمجھتا ہوں کہ عالمی یوم القدس امام خمینیؒ کا ایک احسن قدم تھا، انہوں نے عالمی یوم القدس کا اعلان کرکے عالم اسلام سمیت دنیا بھر کو مسئلہ فلسطین کی طرف متوجہ کیا، ضروری ہے تمام مسلم ممالک میں عالمی یوم القدس عظیم الشان طریقے سے منایا جائے، جب ہم پانچ فروری کو کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کرسکتے ہیں تو بیت المقدس تو ہمارے ایمان کا حصہ ہے، بیت المقدس تو ہم سب کی جان کا حصہ ہے، کشمیر میری شہ رگ ہے جبکہ بیت المقدس میری جان و ایمان کا حصہ ہے۔ حکومت پاکستان فوری طور پر عالم یوم القدس کو پاکستان میں سرکاری یوم قرار دیکر اسے حکومتی سطح پر منانے کا اعلان کرے۔

اسلام ٹائمز: مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنیکے حوالے سے عالمی یوم القدس کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
محمد اسلم غوری:
مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے کے حوالے سے عالمی یوم القدس ایک بہترین کوشش ہے۔ جب امریکہ نے نیو ورلڈ آرڈر کا اعلان کیا تو ہم اسی وقت سمجھ گئے تھے کہ بہت کچھ ہونے جا رہا ہے، نیو ورلڈ آرڈر کا آغاز کیا گیا، جس نے افغانستان، عراق، شام، یمن، لیبیا سمیت پوری مسلم دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، ان حالات میں تو لوگ القدس کو تقریباً بھول گئے، کسی کو افغانستان کی پڑ گئی تو کسی کو شام کی، کسی کو عراق کی پڑ گئی تو کسی کو یمن کی، ہر کسی کو اپنی اپنی پڑ گئی، یہ صہیونیوں یہودیوں کا ایجنڈا اور منصوبہ تھا، ان حالات میں عالمی یوم القدس نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں بہترین کردار ادا کیا، میں سمجھتا ہوں کہ القدس کے حوالے سے کو لوگ آواز بلند کر رہے ہیں، وہ درحقیقت جہاد کر رہے ہیں، القدس کیلئے آواز بلند کرنا بھی ایک جہاد ہے، اسی آواز و جہاد کو روکنے کیلئے تو امریکی نیو ورلڈ آرڈر بنایا گیا، تاکہ مسلمانوں کی توجہ اپنے اپنے ممالک میں محدود ہو جائے اور مسئلہ فلسطین سے سب کی نظریں ہٹ جائیں، لہٰذا ان حالات میں جہاں جہاں یوم القدس کے تحت مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے کیلئے آواز اٹھ رہی ہے، وہ جہاد ہے، ہم سب کو ہم آواز ہونا چاہیئے، اس آواز کو سپورٹ کرنا چاہیئے، تاکہ اس آواز کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

اسلام ٹائمز: ایک عرصہ سے یہ سازش جاری ہے کہ مسئلہ فلسطین کو پہلے مسلمانوں کا مسئلہ قرار دیا گیا، پھر عربوں اور آہستہ آہستہ اسے فلسطینیوں تک ہی محدود کرکے رکھ دیا گیا، حالانکہ یہ انسانیت کے وقار کا مسئلہ ہے کہ صہیونی مظالم کو رکوایا جائے، آپکی کیا رائے ہے۔؟
محمد اسلم غوری:
دنیا میں دو ہی ملک پاکستان اور اسرائیل ایسے ہیں، جو مذہب کے نام پر وجود میں آئے، صہیونیوں یہودیوں نے اسرائیل کو تحفظ دینے کیلئے لابنگ کی، دنیا بھر میں مالی وسائل اکٹھے کئے، عالمی میڈیا پر کنٹرول حاصل کیا، حکومتوں پر کنٹرول حاصل کیا، امریکہ، برطانیہ و دیگر مغربی ممالک میں موجود صیہونی یہودیوں کے وہاں اتنے اثرورسوخ ہیں کہ وہ وہاں کی حکومتوں اور میڈیا پر انتہائی اثر انداز ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مسئلہ فلسطین کو دبا دیا گیا ہے یا دبانے کی سازشیں ہوتی رہتی ہیں، اس کا واحد حل یہ ہے کہ عالم اسلام کو متحد ہونا چاہیئے، آپس میں الجھنے کے بجائے اتحاد و وحدت کی فضا پروان چڑھانی چاہیئے، جبکہ عالم کفر مسلم ممالک کو آپس میں لڑانے کی بھرپور سازشیں کر رہا ہے، عالم اسلام کو اس سازش سے بچنا ہوگا، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ عالم کفر کی سازش کا اگلا شکار پاکستان نہ بن جائے، پاکستان میں تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں و سرکردہ شخصیات کو اس سازش کے حوالے سے غور کرنا چاہیئے، تاکہ دوسرے ممالک کی جنگ و لڑائی پاکستان کے اندر نہ آ جائے، ہمیں کم از کم پاکستان کو متحد کرنے کرنا چاہیئے، تاکہ پھر پاکستان عالم اسلام کی قیادت کرسکے، بجائے یہ کہ ہم کہیں کہ ایران، سعودی عرب یا کوئی دوسرا ملک اٹھ کر عالم اسلام کی قیادت کرے، ہم خود کیوں نہ عالم اسلام کی قیادت کریں، پاکستانی قوم و مذہبی طبقہ عالم اسلام کی قیادت کیلئے اٹھے، تاکہ پاکستان عالم اسلام کی قیادت کرتے ہوئے اسے متحد کرسکے اور مسئلہ فلسطین، مسئلہ کشمیر و دیگر تمام مسائل کو حل کرنے کیلئے مشترکہ جدوجہد کی جا سکے، عالم اسلام اپنے اتحاد کے ذریعے ہی ناصرف مسئلہ فلسطین کو دبانے کی سازش ناکام بنا سکتا ہے، بلکہ قبلہ اول بیت المقدس سمیت پورے مقبوضہ فلسطین کو آزاد بھی کروایا جا سکتا ہے۔

اسلام ٹائمز: مسئلہ فلسطین سمیت عالم اسلام کے مسائل کے حل کے حوالے سے او آئی سی کے انتہائی مایوس کن کردار کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
محمد اسلم غوری:
اس حوالے سے تو بڑا طنزیہ سا جملہ لوگ بولتے ہیں، پنجابی کا جملہ ہے، او، آئی اور سی، آئی سی اور چلی گئی، بس اتنا ہی ہے، او آئی سی کا کوئی کردار نہیں ہے، اسے تو عالم اسلام کے خلاف استعمال ہونی والے اقوام متحدہ کے سامنے ڈٹ جانا چاہیئے تھا، لیکن اس کے برعکس او آئی سی کے نام پر جو ڈرامہ بازی جاری ہے، ہم نہیں سمجھتے کہ یہ اپنے آپ کو عالم اسلام کے دلوں کی آواز بنا پائے، اس افسوسناک صورتحال اور بے حسی کا حل یہ ہے کہ مسلم عوام اٹھ کھڑی ہو۔

اسلام ٹائمز: آپ نے کہا کہ مسلم عوام اٹھ کھڑی ہو، ایسی صورتحال میں مسلم عوام پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔؟
محمد اسلم غوری:
مسلم عوام کو اٹھ کھڑا ہونا ہوگا، کیونکہ نام نہاد مسلم حکمران بزدل ہیں، کوئی امریکہ سے ڈرتا ہے، کوئی روس سے ڈرتا ہے، کوئی کسی گروپ میں بیٹھا ہے تو کوئی اس کے مخالف گروپ میں بیٹھا ہے، کوئی چین کے گروپ میں جا رہا ہے، لیکن کوئی مسلمان بحیثیت مسلمان نہیں سوچ رہا ہے، ان حالات میں مسلم ممالک کی عوام کو اٹھانا ہوگا، جب تک حکومتی ایوانوں میں مسلمانوں کے دل پر راج کرنے والے ان کے حقیقی نمائندے نہیں بیٹھیں گے اور باہر سے لائے ہوئے مہروں کو ایوانوں میں بٹھایا جائے گا، عوام پر فیصلے مسلط کئے جائیں گے، اس وقت تک مسائل پیدا ہوتے رہینگے۔

اسلام ٹائمز: حالیہ ریاض کانفرنس میں امریکہ کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی، کیا ضروری نہیں ہے کہ امریکہ کو اہمیت دینے کے بجائے عرب و مسلم ممالک ایک دوسرے سے الجھنے کے بجائے اسرائیل کی نابودی اور سرزمین مقدس فلسطین کی آزادی کیلئے عظیم اسلامی اتحاد بنائیں۔؟
محمد اسلم غوری:
ہم تو شروع سے مسلمانوں کے تمام مسائل کا ذمہ دار امریکہ کو سمجھتے ہیں، مسلم ممالک کو جو تباہ و برباد کیا جا رہا ہے، اسرائیل کو جو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے، فلسطینی سرزمین پر قبضے کا سلسلہ جاری ہے، ان سب کا ذمہ دار امریکہ ہے، وہی ان سب کے پیچھے ہے، امریکہ کی قیادت میں بننے والا کوئی بھی مسلم اتحاد خود امریکہ کے مفاد میں تو ہوسکتا ہے، لیکن عالم اسلام کے مفاد میں کبھی بھی نہیں ہوسکتا، میں سمجھتا ہوں کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونی والی کانفرنس میں جو بھی ہوا، وہاں کے ذمہ داران کو سوچنا چاہیئے، غلطیاں ہوتی ہیں، اسے درست کیا جا سکتا ہے، جو اسلامی ممالک ریاض کانفرنس میں شریک نہیں تھے، انہیں بھی شامل کیا جانا چاہیئے، پاکستان سمیت تمام مسلم امہ کی مذہبی قوتوں کو آگے آنا چاہیئے، جن کی دوسرے ممالک میں بھی اہمیت ہے، پاکستان میں ایسے شیعہ علماء ہیں، جن کی ایران میں بات سنی جاتی ہے، پاکستان میں ایسے سنی علماء ہیں، جن کی بات سعودی عرب میں سنی جاتی ہے، ایسے علماء آگے آئیں اور اپنا مثبت کردار ادا کریں، ان مسلم ممالک کے درمیان جو فاصلے بڑھ رہے ہیں، ان فاصلوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے، تاکہ مسلم امہ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوسکے۔ جب ہم اکٹھے ہونگے تو ہی ہم بیت المقدس کی آزادی کیلئے اور اسرائیل کی نابودی کیلئے ہی مسلم ممالک کی مشترکہ اسلامی فوج بنا سکیں گے، تمام مسلم ممالک کے اتحاد و وحدت کے بغیر بننے والی فوج کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک دوسرے کے خلاف لڑنے لگ جائے۔

اسلام ٹائمز۔ بیت المقدس کی آزادی کیلئے عالم اسلام کو کیا حکمت عملی اختیار کرنیکی ضرورت ہے۔؟
محمد اسلم غوری:
قبلہ اول بیت المقدس کی آزادی کیلئے عالم اسلام کی حکمت عملی فقط یہی ہوسکتی ہے کہ تمام مسلم ممالک آپس میں اتحاد و وحدت کی فضاء پروان چڑھاتے ہوئے متحد ہوں، تمام مسلم امہ اس ایک ایجنڈے پر متحد ہو کہ ہمیں قبلہ اول بیت المقدس کو اسرائیل سے آزاد کرانا ہے، جب عالم اسلام اس ایجنڈے پر متحد ہو جائے گا تو ان شاء اللہ بیت المقدس سمیت سارا مقبوضہ فلسطین آزاد ہو جائے گا، کیونکہ القدس تمام مسلمانوں کا نکتہ اتحاد ہے، اگر عملی طور پر ایسا نہیں بھی تو ہونا چاہیئے، کیونکہ قبلہ اول تو ہر مسلمان کیلئے ہے، شیعہ ہے، سنی ہے، بریلوی ہے، دیوبندی ہے، اہل حدیث ہے، کوئی بھی مسلم فرقہ ہے، سعودی عرب ہو یا ایران یا دیگر مسلم ممالک، بیت المقدس تو سب کے ایمان کا حصہ ہے۔ لہٰذا اگر عالم اسلام قبلہ اول کی آزادی کے ایجنڈے کے تحت متحد ہو جائے، تو دیگر تمام چھوٹے بڑے مسائل بھی خودبخود حل ہو جائیں گے۔

اسلام ٹائمز: عالمی یوم القدس اور اسکو منانے کے حوالے سے پاکستانی حکومت اور عوام سے کیا مطالبہ یا اپیل کرینگے۔؟
محمد اسلم غوری:
پاکستانی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ جیسے پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے، اسی طرح یوم یکجہتی فلسطین کیلئے جمعة الوداع عالمی یوم القدس کو سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کرے، تاکہ ہماری نئی نسل کو مسئلہ فلسطین کے حوالے سے شعور و آگہی حاصل ہوسکے، کیونکہ ہماری نئی نسل کو مسئلہ فلسطین سے لاعلم ہے، ہمارے نصاب سے مسئلہ فلسطین کو نکال دیا گیا ہے، جہاد کو نکال دیا گیا ہے، یہ تو چھوڑیں ہماری نئی نسل کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ مسئلہ کشمیر بھی کچھ ہے، لہٰذا ان حالات میں پاکستانی حکومت کو چاہیئے کہ یوم یکجہتی کشمیر کی طرح مظلوم فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیلئے، مسئلہ فلسطین کو ملکی و عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے یوم القدس کو سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کرے۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر لگی ہوئی ہیں، غیر مسلم ممالک پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں، جبکہ مسلم ممالک پاکستان سے اپنے لئے مدد کی توقع رکھتے ہیں، لہٰذا پاکستانی حکومت کو، عوام کو، سیاسی و مذہبی قیادت کو شعور و بیداری کا مظاہرہ کرنا چاہیئے، آپس میں اتحاد و وحدت کی بات کرنی چاہیئے، تاکہ پاکستان عالم اسلام میں اپنا قائدانہ کردار ادا کرسکے، جس کی مسلم امہ کو اشد ضرورت ہے۔ میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جمعة الوداع عالمی یوم القدس کو پاکستان میں پہلے سے زیادہ عظیم الشان طریقے سے منا کر مظلوم فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کریں۔
خبر کا کوڈ : 647930
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب