0
Friday 28 Jul 2017 00:01
پھانسی کا پھندا شریف برادران کا مقدر ہے

نواز شریف کے اقتدار کا ٹائی ٹینک چند دن بعد پانامہ کے سمندر میں غرق ہونیوالا ہے، مظہر محمود علوی

جے آئی ٹی نے حکمران خاندان کا ایم آر آئی اور ایکسرے کر دیا
نواز شریف کے اقتدار کا ٹائی ٹینک چند دن بعد پانامہ کے سمندر میں غرق ہونیوالا ہے، مظہر محمود علوی
پاکستان عوامی تحریک موجودہ نظام کی جمہوری انداز میں تبدیلی کیلئے سرگرم عمل ہے، منہاج القرآن یوتھ لیگ اس جدوجہد میں شریک ہراول دستہ ہے۔ پوٹھوہار سے تعلق رکھنے والے مظہر محمود علوی منہاج القرآن یوتھ لیگ کے صدر ہیں۔ سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کا فیصلہ محفوظ کیا ہے اور جے آئی ٹی کی رپورٹ سے نیا منظرنامہ سامنے آرہا ہے، شروع میں عوامی تحریک کیطرف سے پاکستان پیپلز پارٹی کیطرح جے آئی ٹی کی تشکیل سے متعلق عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا، لیکن رپورٹ آنے کے بعد ان جماعتوں کے موقف میں نمایاں تبدیلی آئی۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے گرد بہت سے سوالات میں سے چند بنیادی ایشوز کے متعلق، منہاج القرآن یوتھ لیگ کے صدر  کیساتھ اسلام ٹائمز کا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: پانامہ کیس کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ کیا کرپشن کا دور دورہ ختم ہوجائیگا۔؟

مظہر محمود علوی:
کرپشن کیخلاف مہم اور آئین کی بالادستی کی جدوجہد ڈاکٹر طاہر القادری نے 23 دسمبر 2013ء مینار پاکستان سے شروع کی۔ پھر سانحہ ماڈل ٹاؤن اور طویل دھرنے کے بعد آج پاکستان میں عدل اور انصاف کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ نواز شریف کے اقتدار کا ٹائی ٹینک چند دن بعد پانامہ کے سمندر میں غرق ہونے والا ہے، پوری قوم کو پاناما کیس کے فیصلے کا انتظار ہے، لہذا سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ کیس کا فیصلہ جلد سنایا جائے، تاکہ قوم آگے بڑھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں حالات بگڑ رہے ہیں، معیشت تباہ ہوگئی ہے، لیکن ساری حکومت وزیراعظم کی کرپشن بچانے میں مصروف ہے، لیکن 4 میں سے 2 صوبے اور وکلا وزیراعظم سے استعفٰی مانگ رہے ہیں، جبکہ لاہور کا اتنا بڑا حادثہ ہوا، وزیراعظم مالدیپ چلے گئے، حالانکہ ملک کو اس وقت چیف ایگزیکٹو کی ضرورت ہے اور وہ ملک میں موجود ہی نہیں ہیں۔ یہ لوگ بجائے اپنی صفائی پیش کرنے کے کہہ رہے ہیں کہ ملک میں باقی بھی سب کرپٹ ہیں، جبکہ لوگوں کو خریدنے کیلیے پیسہ استعمال ہو رہا ہے، یہ قوم کو پاگل سمجھتے ہیں اور 30 سال سے بیوقوف بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار کے دبئی میں ڈیڑھ ڈیڑھ ارب روپے کے گھر ہیں اور ان کے وزیر اقامے لئے پھرتے ہیں، یہ سارے قوم کے مجرم ہیں اور واقعی گاڈ فادر ہیں، جبکہ کسی جمہوریت میں کبھی نہیں ہوا ہوگا کہ کسی ملک کا وزیراعظم اقامہ لیکر دوسرے ملک کا سیلز منیجر بنا ہو۔

اسلام ٹائمز: آپکے خیال میں جے آئی ٹی کی رپورٹ ملکی سیاست پر اثر انداز ہوگی۔؟
مظہر محمود علوی:
مکمل احتساب تو تب کہلائے گا، جب کرپٹ لوگوں کو اقتدار سے اٹھا کر باہر پھینک دیا جائیگا، جب انہیں سزائیں دی جائیں گی۔ لیکن عوامی دباؤ کے نتیجے میں ایک عمل شروع ہوا، ایک نقطہ آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔ بے شک ہمیں تو مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملا، لیکن ان تحقیقات کے کچھ نہ کچھ اثرات تو مرتب ہوئے ہیں، خود حکمران جماعت میں دراڑ پیدا ہوچکی ہے، فارورڈ بلاک بن چکا ہے۔ دوسرے حکمرانوں کی بوکھلاہٹ بھی بہت کچھ ظاہر کر رہی ہے، رانا ثناء اللہ کو جے آئی ٹی جِن نظر آتی ہے، انکو اٹھتے بیٹھے بھوت بھی نظر آئینگے، کیونکہ یہ خود لاتوں کے بھوت ہیں اور قوم جانتی ہے یہ باتوں سے نہیں مانیں گے۔ جے آئی ٹی اور اسکی رپورٹ کو انکا باپ بھی مانے گا۔ قوم گو نواز گو کے نعرے پر اکٹھی ہوچکی۔ ماڈل ٹاؤن کیس پر پھانسیاں چڑھیں گے۔ اسی طرح شریف خاندان نے انتظامیہ اور پولیس کو ہمیشہ استعمال کیا ہے اور اداروں میں کرپشن کا رواج پروان چڑھایا ہے، جے آئی ٹی نے بیوروکریسی کی اس بری روایت کو توڑ دیا ہے، خود سرکاری افسران کا شہنشاہ وقت سے باز پرس اور پوچھ گچھ کرنا، ثبوت سامنے لے آنا، سپریم کورٹ کا موجودہ وزیراعظم اور انکی ساری فیملی کو اپنے فیصلے اور ریمارکس میں گاڈ فادر اور مافیا کہنا، سوچنے والوں کیلئے عبرت کا بڑا سامان ہے، لیکن سوچنے اور عبرت حاصل کرنے کیلئے عقل اور ہوش چاہیے، جس پر پردہ پڑا ہوا ہے۔

ظالم کا ظلم بڑھ رہا ہے، قہر خداوندی کو دعوت دی جا رہی ہے، لیکن بہت ساری نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی ہیں، اب بھی میڈیا کو کرپٹ مافیا کو بچانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں اور جو خاندان 30 سالوں سے قوم کا پیسہ لوٹ رہا ہے، یہ ان سے پیسے لے کر انہیں تحفظ فراہم کر رہے ہیں، حالانکہ میڈیا کا کام کسی کو بچانا نہیں ہے، اسی طرح پانامہ کیس اور جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد بالخصوص رائے عامہ میں خاص قسم کی تبدیلی آرہی ہے، سپریم کورٹ کی طرح کرپشن اور کرپٹ حکمرانوں کو بے نقاب کرنے میں میڈیا کا بھی بڑا کردار ہے، جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد اس میں اضافہ ہوا ہے۔ پانامہ JIT کے بارے میں ہمارے تجزیہ غلط اور دعائیں قبول ہوئی ہیں، شاندار رپورٹ مرتب کرنے پرJIT کے جملہ ممبران مبارکباد کے مستحق ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی اسی سمت پر آیا تو کرپشن روکنے میں اہم پیش رفت ہوگی۔ جے آئی ٹی نے حکمران خاندان کا ایم آر آئی اور ایکسرے کر دیا۔ حکمرانوں کے جرائم کی فہرست بڑی طویل ہے۔ کرپشن کی وجہ سے انہوں نے قومی سیاست کا شیرازہ بکھیر دیا۔ یہ ریاستی اداروں پر حملوں کے منصوبے بنا رہے ہیں، مگر یہ اپنے ناکام ارادوں میں کبھی کامیاب نہیں ہونگے۔ حکمران اگر عوام کا مال کھاتا ہے تو وہ اولی الامر نہیں بلکہ چور اور ڈاکو ہے۔ ایسا حکمران حرام خور ہے۔ ایسے خائن حکمران کی لوٹ مار، کرپشن اور کارناموں کو ننگا کرنا اللہ کا حکم ہے۔

اسلام ٹائمز: کرپشن کیخلاف احتساب کا عمل جاری ہے، آپکی نظر میں آئندہ قومی انتخابات کا عمل شفاف اور غیرجانبدار ہونیکی توقع کی جا سکتی ہے۔؟
مظہر محمود علوی:
دنیا امید پہ قائم ہے، لیکن جو نظر آرہا ہے، یہ مشکل لگتا ہے۔ عملی طور شفافیت کا عمل بعد میں شورع ہوگا، پہلے اصلاحات ہونی چاہیں، جو نہیں ہوئی ہیں۔ پاکستان کے سیاسی کلچر میں کوئی بنیادی تبدیلی نظر نہیں آرہی۔ آپ قریب کی مثال لے لیں۔ لاہور کے حلقہ این اے 122 کا ضمنی انتخاب جس میں سردار ایاز صادق کو علیم خان کے مقابلہ میں منتخب قرار دیا گیا، سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، اس ضمنی الیکشن میں نئی قسم کے ٹیکنیکل حربے استعمال کرتے ہوئے ایسے خاندان جن کے بارے میں محلہ کمیٹیوں نے رپورٹ دی کہ ان کی ہمدردیاں تحریک انصاف کے ساتھ ہیں، ان کے ووٹوں کو ان کی مرضی اور علم کے بغیر اس طرح کسی دوسرے یا تیسرے حلقے میں منتقل کر دیا کہ جب وہ اپنے پنے پولنگ اسٹیشن پہنچے تو انہیں نادرا کی طرف سے خبر دی گئی کہ آپ کا تو ووٹ یہاں نہیں بلکہ کاہنہ، شیرا کوٹ یا بابو صابو منتقل کر دیا گیا ہے۔ الیکشن کمشن اور عدلیہ کو تمام شواہد کے ساتھ اس کی رپورٹ دی گئیں، لیکن کیا آج تک کسی نے اس بے ایمانی اور جرم پر اس کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ہمت کی، جسے ہم جمہوریت کا نام دیتے ہیں، یہ جمہوریت نہیں، یہ عوامی مینڈیٹ نہیں، ان ووٹوں سے نواز شریف یا کوئی اور بھی منتخب وزیراعظم نہیں کہلا سکتا۔ ہم نے جنوری 2013ء میں انتخابی اصلاحات اور آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کو اس کی روح کے مطابق نافذ کرنے کے لئے لانگ مارچ کیا تھا، 5 دن وزیراعظم ہاؤس کے سامنے بیٹھے رہے، انتخابی اصلاحات اور آرٹیکل 62 اور 63 پر سپریم کورٹ ہماری درخواست منظور کر لیتی تو قوم کو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔

اسلام ٹائمز: طویل جدوجہد کے باوجود سانحہ ماڈل ٹاون کے مجرموں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا گیا، کارکنوں میں مایوسی کے آثار پیدا ہوئے ہیں؟ مستقبل میں کیا لائحہ عمل ہوگا۔؟
مظہر محمود علوی:
جس طرح پانامہ لیکس پر قائم JIT رپورٹ پبلک کی گئی، اسی طرح سانحہ ماڈل ٹاؤن پر قائم جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ پبلک کی جائے، انسانی خون بہانا مال لوٹنے سے بڑا جرم ہے۔ ہمارے کارکنوں نے اس ظالم نظام کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے جانیں دیں، ہزاروں کو حبس بے جا میں رکھا گیا۔ سینکڑوں آج بھی دہشتگردی کے جھوٹے مقدمات بھگت رہے ہیں، مگر ہمارے موقف میں کوئی نرمی نہیں آئی، ہم 3 سال سے جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ مانگ رہے ہیں۔ اس حوالے سے ٹرائل کورٹ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں بیٹھے ہیں۔ آخر کوئی تو ایسا شخص ہے، جو آئین، قانون اور عدالت سے زیادہ طاقتور ہے اور شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کو انصاف نہیں ملنے دے رہا۔ اس لئے ہم نظام بدلنے کی بات کرتے ہیں، تاکہ کوئی طاقتور فرد اداروں کو ڈرا نہ سکے، خرید نہ سکے اور اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کا ذریعہ نہ بنا سکے۔ ماڈل ٹاؤن کیس میں نواز شریف، شہباز شریف سمیت سانحہ کے کسی ماسٹر مائنڈ کو طلب نہیں کیا گیا اور جن 124 پولیس والوں کو طلب کیا گیا۔ ان میں سے کسی ایک کو گرفتار نہیں کیا گیا، انہیں ضمانت کروانے کی زحمت سے بھی بچایا گیا، کچھ راز دان افسروں کو بیرون ملک پرکشش عہدوں پر تعینات کر دیا گیا۔ پولیس نے جس عامر سلیم شیخ نامی انسپکٹر کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کی قتل و غارت گری کا ذمہ دار ٹھہرا کر گرفتار کیا تھا، اسے بھی پھولوں کے ہار پہنا کر واپس SHO کی سیٹ پر بٹھا دیا، یہ قاتل SHO کھلے عام کہتا پھر رہا ہے 14 بندے مارے تھے، میرا کیا کر لیا اور وہ ہمارے کارکنوں کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ قاتل نظام برقرار رہا اور چہرے بدلتے رہے تو پھر مظلوموں کا خون بہتا رہے گا اور قاتل دندناتے رہیں گے۔ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، سلطنت شریفیہ نہیں، انکی گردنوں پر لاتعداد مظلوموں کا خون ہے، ان گردنوں کا مقدر صرف پھانسی کے پھندے ہیں۔

اسلام ٹائمز: احتسابی عمل اگر آئندہ بھی انتخابی عمل کو تبدیل نہ کر پائے تو نظام کی بہتری اور بنیادی تبدیلی کیلئے کیا کیا جانا چاہیے۔؟
مظہر محمود علوی:
تحریک منہاج القرآن اور عوامی تحریک کی یوتھ نے جان ہتھیلی پر رکھ کر موجودہ لوٹ مار کے نظام کو چیلنج اور ایکسپوز کیا، آج دنیا بھر سے اس لٹیرے نظام کے سرپرستوں کے خلاف گواہیاں آرہی ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسا غریب ملک جس کا ہر شہری آج ایک لاکھ روپے سے زائد کا مقروض ہے، اس ملک کے ہر ترقیاتی اور توانائی کے منصوبے میں اربوں کی کرپشن پکڑی جا رہی ہے، مگر کسی کا کچھ نہیں بگڑتا، کیونکہ اداروں میں خاندانی غلامی کا حلف اٹھانے والے بٹھائے گئے ہیں۔ چند روز قبل پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اقرار کیا کہ اسلام آباد نیو ایئرپورٹ منصوبہ 35 ارب کا تھا، جو بڑھ کر 108 ارب کا ہوگیا، اسی طرح نندی پور منصوبہ 35 ارب کا تھا 58 ارب میں مکمل ہوا، نیلم جہلم پراجیکٹ 167 ملین ڈالر کا تھا، بڑھ کر 5 ارب ڈالر کا ہوگیا، سڑکوں کی تعمیر کے درجنوں ایسے منصوبے ہر سال پکڑے جاتے ہیں، جن کی ادائیگیاں ہو جاتی ہیں، مگر ان منصوبوں کا زمین پر وجود نہیں ہوتا، کیا اس طرح ملک چلتے اور قومیں ترقی کرتی ہیں؟ کرپشن اور حادثے کی پیداوار نام نہاد جمہوری خاندان کرپشن کیسے ختم کرینگے؟ نیب، پولیس، ایف بی آر، سٹیٹ بنک، سکیورٹی ایکسچینج کمیشن بطور ادارہ پاناما کیس میں پوری طرح ایکسپوز ہوچکے، اب وقت آگیا ہے کہ اداروں کی تشکیل نو کی جائے اور میرٹ پر اہل افراد کو تعینات کیا جائے، وزیراعظم کے شاہانہ صوابدیدی اختیارات ختم کئے جائیں، اداروں کو ایگزیکٹیو کی گرفت سے مکمل طور پر آزاد کیا جائے، تقرر و تبادلہ، ترقی اور تنزلی کا محکمانہ خودکار نظام وضع کیا جائے، تاکہ سیاسی بدقماش اپنی مذموم خواہشات کیلئے اداروں کا غلط استعمال نہ کر سکیں اور سانحہ ماڈل ٹاؤن جیسی قیامتیں برپا نہ کرسکیں۔ قومی ادارے آزاد ہوتے تو کسی کو ملکی دولت لوٹ کر آف شور کمپنیوں میں چھپانے کی جرات نہ ہوتی۔
خبر کا کوڈ : 656573
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش