0
Thursday 27 Jul 2017 23:58
پاکستان میں دہشتگردی کیطرح فرقہ واریت پھیلانے کی سازش بھی پاکستان و اسلام دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے

بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کے مقابلے، کشمیر و فلسطین کی آزادی سمیت تمام مسائل کے حل کیلئے عالم اسلام کو متحد ہونا ہوگا، حافظ احمد علی

پاکستان عالم اسلام کو شیعہ سنی بنیاد پر تقسیم کرنیکی عالم کفر کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے قائدانہ کردار ادا کرے
بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کے مقابلے، کشمیر و فلسطین کی آزادی سمیت تمام مسائل کے حل کیلئے عالم اسلام کو متحد ہونا ہوگا، حافظ احمد علی
حافظ احمد علی جمعیت علماء اسلام (سمیع الحق گروپ) سندھ کے جنرل سیکرٹری ہیں، وہ جے یو آئی (س) کی مرکزی مجلس شوریٰ اور مرکزی مجلس عمومی کے بھی رکن ہیں، انہوں نے دینی فعالیت کا آغاز جے یو آئی کے ذیلی ادارے جمعیت طلبائے اسلام سے کیا، وہ جے ٹی آئی میرپور خاص کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ 1985ء میں میرپور خاص سے کراچی منتقل ہوئے اور جے یو آئی میں متحرک ہوگئے، وہ ضلع سینٹرل اور کراچی کے بھی جنرل سیکرٹری رہ چکے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے حافظ احمد علی کی رہائشگاہ پر انکے ساتھ ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر ان سے کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: پاکستان کو تاحال عالمی سطح پر دہشتگردی کے فروغ کے الزامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
حافظ احمد علی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔
پاکستان پر دہشتگردی کے فروغ یا یہاں سے دہشتگردوں کے بیرون ملک جانے کے الزامات جو عائد کئے جاتے ہیں، حقائق اس کے برعکس ہیں، حقائق تو یہ ہیں کہ بیرون ملک سے دہشتگرد پاکستان آکر کارروئیاں کرتے ہیں، پاکستان دہشتگردی کے فروغ کے بجائے دہشتگردی کا شکار ملک ہے، جس نے ہزاروں قیمتی جانیں لے لی ہیں، دہشتگردی کی وجہ سے پاکستان سینکڑوں ارب ڈالرز کا نقصان اٹھا چکا ہے، عالمی میڈیا بھی حقائق سامنے لانے پر مجبور ہے کہ بھارت اور اسکی خفیہ ایجنسی را پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہیں، جنہوں نے پڑوسی ملک افغانستان میں دہشتگردی کے ٹریننگ سینٹر بنائے ہوئے ہیں، بھارتی ایماء پر افغانستان سے دہشتگرد پاکستان میں داخل ہو کر دہشتگردی پھیلا رہے ہیں، جو را کے تنخواہ دار ہیں، افغانستان سے پاکستان میں داخل ہو کر دہشتگردوں نے پاکستانی سکیورٹی فورسز سے لیکر عوام سب کو نشانہ بنایا ہے، صوبہ خیبر پختونخوا میں ہماری دیوبندی مساجد تک میں بم دھماکے ہوئے ہیں، کراچی سمیت ملک بھر میں ہمارے سینکڑوں علماء کرام شہید کر دیئے گئے، اس میں کوئی پاکستانی شہری یا مذہبی گروہ نہیں بلکہ اس میں را کے ایجنٹ ملوث ہیں۔ بھارت دہشتگردی کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتا ہے، بھارت پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی تکمیل نہیں چاہتا، بھارت نہیں چاہتا کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری ہو، بہرحال پاکستان پر دہشتگردی کے فروغ کا الزام سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہے۔

اسلام ٹائمز: پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانے کی سازش کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
حافظ احمد علی:
پاکستان میں دہشتگردی کی طرح فرقہ واریت پھیلانے کی سازش بھی پاکستان و اسلام دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے، اسلام دشمن قوتیں پوری دنیا میں شیعہ سنی لڑائی کی سازشوں میں مصروف ہیں، شام، عراق کی حالیہ مثالیں ہمارے سامنے ہیں، اسی کی زد میں پاکستان بھی آیا، دشمن قوتیں پاکستان کو کمزور و ناکام ریاست میں تبدیل کرنا چاہتی ہیں، جس وقت پاکستان میں مساجد و امام بارگاہوں میں بہت زیادہ شہادتیں ہو رہی تھیں، تو اس وقت بھی ہمارے اکابرین نے ملی یکجہتی کونسل تشکیل دی، جس کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی صاحب تھے اور جنرل سیکرٹری مولانا سمیع الحق صاحب تھے، اس وقت ایک سترہ نکاتی ایجنڈا بنایا گیا، جس پر سب سے اتفاق کرایا گیا، سپاہ صحابہ ہو یا سپاہ محمد یا جماعت اسلامی، تمام کے تمام مذہبی گروہوں نے اس پر دستخط کئے، اس کے بعد 2002ء میں تمام مسالک کی نمائندہ مذہبی سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد متحدہ مجلس عمل کا قیام عمل میں لایا گیا، لہٰذا پاکستان و اسلام دشمن عالمی طاقتوں کی ملک میں فرقہ واریت پھیلانے کی سازش کو تمام مسالک و مکاتب کے علمائے کرام اور جماعتوں نے متحد ہو کر ہمیشہ ناکام بنایا۔ پاکستان میں بھارتی ایماء پر جاری دہشتگردی کا مقابلہ ساری عوام اور علمائے کرام متحد ہو کر کریں گے۔

اسلام ٹائمز: فرقہ واریت کی سازش کو ناکام بنانے میں علماء کرام کے کردار پر کیا کہیں گے۔؟
حافظ احمد علی:
الحمد اللہ، پاکستان میں تمام مکاتب و مسالک کے علمائے کرام نے فرقہ واریت کی سازش کو ناکام بنانے میں اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ہے، علمائے کرام کردار ادا نہیں کرتے تو پاکستان کب کا شام اور عراق بن چکا ہوتا، اس سازش کو ناکام میں علمائے کرام کا کردار سب کے سامنے عیاں ہے، سب ہی اس کے معتقد ہیں۔ شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث ہونا کوئی جرم تھوڑا ہے کہ جس کی بنیاد پر کسی کی جان لے لی جائے، ہم ہمیشہ کی طرح آج بھی اور آئندہ بھی فرقہ واریت واریت پھیلانے کی سازش کی بھرپور مذمت کرتے رہیں گے اور اس سازش کو ناکام بنانے کیلئے علمائے کرام اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

اسلام ٹائمز: حساس ملکی و عالمی صورتحال میں پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانے کی سازش کے تدارک کیلئے کن اقدامات کو اٹھانے کی فوری ضرورت ہے۔؟
حافظ احمد علی:
ملی یکجہتی کونسل کے قیام کے بعد سترہ نکاتی ایجنڈا اور ضابطہ اخلاق بنایا گیا، اس کی شق نمبر تیرہ پر اگر عمل درآمد کرا دیں، اسے قانونی شکل دے دی جائے، تو اس سے دہشتگردی اور فرقہ واریت پھیلانے کی سازش کا کافی حد تک تدارک ہو جائے گا، یہ بات میں نے ڈی جی رینجرز سندھ کے ساتھ میٹنگ میں بھی کہی تھی، جس میں تمام مکاتب و مسالک کے علمائے کرام موجود تھے، شق نمبر تیرہ میں یہ لکھا ہوا ہے کہ تمام مسالک کے علمائے کرام ایک اسٹیج پر جمع ہوکر قوم کو ایسا مثبت پیغام دیں کہ ہم حصوں میں تقسیم نہیں ہیں۔ مثلاً یکم محرم کو حضرت عمر فاروقؓ کے یوم شہادت پر شیعہ سنی علمائے کرام ایک اسٹیج پر جمع ہو کر انہیں خراج تحسین پیش کریں کہ وہ مسلمانوں کے خلیفہ دوئم تھے، پھر اسی طرح جیسا کہ نواسہ رسولؐ حضرت امام حسنؑ و امام حسینؑ ہمارے بھی سر کے تاج ہیں، لیکن اہل تشیع مسلمان حضرات بہت عقیدت و احترام کے ساتھ ان کے ایام مناتے ہیں، ان ایام کے موقع پر سنی، بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث اور شیعہ علمائے کرام مل کر ایک اسٹیج پر جا کر متحد ہوکر نواسہ رسولؐ کو نو دس محرم کو خراج تحسین پیش کریں، اسی طرح حضرت علیؑ کے یوم ولادت پر ہم سب مل کر انہیں خراج عقیدت پیش کریں۔ ہم نے اس ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کروانے کی کوششیں سرکاری سطح پر بھی کیں، ڈی جی رینجرز سندھ کے اجلاس میں بھی تجویز پیش کی، ہم نے سندھ اسمبلی سے بھی قرارداد منظور کروانے کیلئے کوششیں کیں، کیونکہ تمام کے تمام مذہبی گروہ اس پر متفق ہیں۔ اب مذہبی جماعتیں تو اس پر متفق ہیں، اب حکومت کو بھی چاہیئے کہ اسے اسمبلیوں سے منظور کروا کر قانون کی شکل دے دے، ان شاء اللہ جب ایک اسٹیج پر تمام مسالک کے علمائے کرام جمع ہونگے تو پوری قوم کے سامنے ایک انتہائی مثبت پیغام جائے گا، جیسا کہ قیام پاکستان کی تحریک و جدوجہد، ختم نبوت کی تحریک میں تمام مسالک کے علمائے کرام شریک تھے، تحریک نفاذ نظام مصطفٰی کی تحریک میں ہم سب اکٹھے تھے، متحدہ مجلس عمل میں ہم اکٹھا تھے۔

اسلام ٹائمز: دہشتگرد گروہ داعش شام و عراق میں ناکامی کے بعد اب پاکستان کا رخ کر رہی ہے، اس خطرے کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
حافظ احمد علی:
داعش کے بارے میں ابھی تک یہ بات ثابت نہیں ہوسکی ہے کہ اس کا مسلک کیا ہے، اسے کون پروموٹ کر رہا ہے، اس کا اصل لیڈر کون ہے، بس داعش کے نام سے شام، عراق و دیگر جگہوں پر دہشتگردانہ کارروائیاں جاری ہیں، داعش کا ہیڈ کوارٹر کہاں ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ اسلام دشمن عالمی قوتیں داعش کے نام پر دہشتگردانہ کارروائیاں کرتی ہیں، جس کا نشانہ بھی مسلمان بنتے ہیں اور بدنامی بھی اسلام کی ہوتی ہے۔ جہاں تک پاکستان کی بات ہے تو الحمداللہ یہاں داعش کا کوئی وجود نہیں ہے، حکومتی و عسکری قیادتیں پاکستان میں داعش کے وجود کی تردید کرچکی ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان میں کوئی بھی گرہ داعش کی حمایت کرے یا اسے اپنائے یا اس کا ہمنوا ہو، البتہ داعش کے نام سے دنیا میں کہیں بھی کوئی کارروائی ہوتی ہے تو مسلمانوں کے تمام مکاتب و مسالک اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، پاکستان میں بھی تمام مکاتب و مسالک کے علمائے کرائم اور قائدین داعش کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد ہیں، خدانخواستہ پاکستان میں اگر داعش کے نام سے دہشتگردی کی سازش کی گئی، تو پوری قوم متحد ہو کر داعش کے عزائم کو ناکام بنائے گی۔

اسلام ٹائمز: تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام تو اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے فعال ہیں، اس مثبت سوچ کی جڑیں عوامی سطح پر مضبوط کرنے کیلئے کیا اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔؟
حافظ احمد علی:
اتحاد بین المسلمین اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے ملی یکجہتی کونسل نے اہم کردار ادا کیا، لیکن اگر ضلع، تحصیل، محلے و دیگر نچلی سطح پر فعال کرکے کمیٹیاں بنا دی جاتیں تو عوامی سطح پر بھی اتحاد و وحدت کے حوالے سے بہتر نتائج سامنے آسکتے تھے، لہٰذا اسے نچلی عوامی سطح پر فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام مکاتب فکر کی جماعتوں اور علمائے کرام کو عوامی سطح پر مشترکہ اجتماعات و پروگرامات کرنے کی ضرورت ہے، عوام جب تمام مکاتب فکر و مسالک کے علمائے کرام اور جماعتوں کے قائدین کو ایک اسٹیج پر اکٹھا دیکھیں گے تو اس سے عوام میں انتہائی مثبت پیغام جائے گا اور فرقہ واریت پھیلانے کی سازشوں کو مزید آسانی کے ساتھ ناکام بنایا جا سکے گا۔ اس موقع پر یہ بھی عرض کر دوں کہ اس وقت ملی یکجہتی کونسل کا شیرازہ بکھرا ہوا ہے، اسے متحد کرنے کی ضرورت ہے، اس وقت اس میں تمام مذہبی جماعتیں شامل نہیں ہیں، کونسل کو مولانا سمیع الحق صاحب کی سربراہی میں جمعیت علمائے اسلام نے بنایا تھا، جو اب اس کونسل میں شامل نہیں ہے، اہلسنت والجماعت (کالعدم سپاہ صحابہ) اس میں شامل نہیں ہے، کیونکہ جس وقت یہ بنائی گئی تھی، اس وقت اس میں تمام جماعتیں شامل تھیں، جب یہی لوگ ہی اس میں شامل نہیں ہونگے تو اس کے اثرات کس طرح عوام تک پہنچیں گے، لہٰذا اسے اس انداز سے منظم کیا جائے اور تمام جماعتوں کو اس میں شامل کیا جائے، جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ دینی مدارس کے ساتھ ساتھ کالجز اور یونیورسٹیز میں بھی اتحاد بین المسلمین اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے حوالے سے پروگرامات کے انعقاد کو بھی یقینی بنایا جائے۔

اسلام ٹائمز: عالم اسلام کو درپیش مسائل کا حل کیا پیش کرینگے۔؟
حافظ احمد علی:
پاکستان عالم اسلام کے تمام ممالک میں امتیازی حیثیت کا حامل ملک ہے، جسے اللہ تعالٰی نے تمام وسائل سے، ہر لحاظ سے مالا مال بنایا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہم عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت بھی ہیں، دوسری جانب ایران، سعودی عرب و دیگر عرب ممالک تیل کی دولت سے مالا مال ہیں، جو دنیا کی اہم ضرورت ہے، آج عالم کفر پورے عالم اسلام کو شیعہ سنی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتا ہے، دہشتگردی اور فرقہ واریت عالم کفر کی عالم اسلام کے خلاف سازشوں کی ہی کڑی ہیں۔ حساس عالمی صورتحال میں مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم او آئی سی بھی منظم نہیں ہے، ایسی صورتحال میں ایٹمی اسلامی ملک پاکستان کو مسلم دنیا کی رہبری کرنی چاہیئے، جو اس کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، لہٰذا پاکستان کو چاہیئے کہ عالم اسلام کو شیعہ سنی بنیاد پر تقسیم کرنے کی عالم کفر کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے قائدانہ کردار ادا کرے، پاکستان کو چاہیئے کہ او آئی سی کو منظم و فعال کرنے کیلئے کردار ادا کرے، کیونکہ اس وقت عالم اسلام کفریہ طاقتوں کی سازشوں کے نرغے میں ہے، عالم اسلام کو متحد کرنے کیلئے پاکستان جو قائدانہ کردار ادا کرسکتا ہے، اس سے عالم کفر بخوبی آگاہ ہے، اس لئے وہ پاکستان کو مضبوط ہوتا نہیں دیکھنا چاہتا، اسی لئے پاکستان میں دہشتگردی بھی اسلام دشمن قوتوں کے عالمی ایجنڈے کا حصہ ہے، اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ کے بعد پاکستان میں دہشتگردی میں تیزی آئی ہے، یہ گٹھ جوڑ پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف بھی کام کر رہا ہے، اسے پتہ ہے کہ سی پیک منصوبے کے باعث پاکستان ناقابل شکست اور انتہائی مضبوط ملک بن کر خطے میں ابھرے گا اور پھر عالم اسلام کو متحد کرنے کیلئے اپنا قائدانہ کردار انتہائی بہتر انداز میں ادا کرسکے گا، اس کے ساتھ پاکستان کشمیر کو بھی آزاد کروانے میں کامیاب ہو جائے گا، عالم اسلام کے اتحاد کے بعد فلسطین بھی آزاد اور اسرائیل نابود ہو جائے گا، اس لئے پاکستان کے خلاف عالم کفر کی سازشوں میں مزید تیزی آگئی ہے، لہٰذا پاکستان کو بھی اس وقت انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے قائدانہ کردار کو ادا کرنے کی انتہائی ضرورت ہے، جو ناصرف پاکستان بلکہ تمام عالم اسلام کیلئے اشد ضروری ہے، دنیا بھر کے مسلمانوں کی نظریں بھی پاکستان پر ہیں، پاکستان و اسلام دشمن ممالک بھارت اور اسرائیل متحد ہوسکتے ہیں تو عالم اسلام کو بھی متحد ہونے کی ضرورت ہے، بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کو ناکام بنانے اور مقبوضہ کشمیر و فلسطین کی آزادی سمیت تمام مسائل کے حل کیلئے عالم اسلام کو متحد ہونا ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 656710
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب