0
Monday 31 Jul 2017 18:26

نواز شریف کے بعد تمام اداروں میں موجود کرپٹ افراد کیخلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیئے، صاحبزادہ ابو لخیر زبیر

نواز شریف کے بعد تمام اداروں میں موجود کرپٹ افراد کیخلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیئے، صاحبزادہ ابو لخیر زبیر
ملی یکجہتی کونسل کے صدر اور جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی رہنما صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کا شمار ملک کے اہم مذہبی و سیاسی رہنمائوں میں ہوتا ہے، ملک میں نظام مصطفٰی (ص) کا نفاذ انکی جماعت کا مشن ہے، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے دوسری مرتبہ ملی یکجہتی کونسل پاکستان کی صدارت سنبھالی ہے۔ اسلام ٹائمز نے صدر ملی یکجہتی کونسل سے پانامہ کیس میں عدالتی فیصلے، اسکے اثرات اور دینی جماعتوں کے اتحاد سے متعلق ملکی حالات پر اہم انٹرویو کیا ہے، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: پانامہ فیصلے پر آپ کا اور آپ کی جماعت کیا ردعمل ہے۔؟
صاحبزادہ ابو الخیر زبیر:
سپریم کورٹ کا فیصلہ بہت ہی شاندار اور تاریخی فیصلہ ہے، پاکستان میں کرپشن ختم کرنے کا آغاز ہوا ہے، اللہ کرے انجام کو پہنچے، ہماری نظر میں نواز شریف نااہل قرار پائے ہیں اور مزید مقدمات درج ہوں گے، بنیادی وجہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کو مسلسل نظرانداز کیا ہے، اسلامی احکامات کو نظرانداز کرکے اللہ کو ناراض کیا، اللہ نے انہیں مہلت دی، لیکن افسوس کہ انہوں نے نافرمانی کا سلسلہ جاری رکھا، انہوں نے سود جاری رکھا، باوجود اس حوالے سے کورٹ کے فیصلے آئے، علماء نے فتاویٰ دیئے، متبادل فارمولہ بھی دیا گیا، لیکن افسوس انہوں نے سب کچھ نظرانداز کیا اور جھوٹ کو پروان چڑھایا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کو لبرل اسٹیٹ بنائیں گے، حالانکہ پاکستان کی بنیاد لا الہ اللہ ہے۔ پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، انہوں نے نہ صرف اسلامی اصولوں کیخلاف ورزی کی بلکہ آئین پاکستان کی بھی خلاف ورزی کی۔ اس کے بعد انہوں نے قانون پاس کیا، جس کا نام تحفظ نسواں رکھا گیا، جس میں زنا کی کھلی اجازت دی گئی۔ ہماری ماوں اور بہنوں کو کھلی اجازت دی گئی کہ وہ رات بھی باہر گزار سکتی ہیں اور انہیں کوئی پوچھ بھی نہیں سکتا۔ اس قسم کے قانون کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ بےحیاتی، فحاشی اور عریانی کو نواز حکومت نے عام کیا۔

اسلام ٹائمز: پنجاب میں تو کئی جگہوں پر لاوڈ اسپیکر اور درود و سلام کی محافل پر بھی بابندی لگائی گئی، جسکا ذکر نیشنل ایکشن پلان میں نہیں تھا، اسکی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔؟
صاحبزادہ ابو الخیر زبیر:
جی بالکل، انہوں نے لاوڈ اسپیکر پر بابندی لگائی، انہوں نے دینی محافل پر پابند لگا دی، انہوں نے رقص و سرور کی کھلی اجازت دی، لیکن دینی محافل نہیں کرسکتے۔ آپ رقص و سرور کی محافل میں تو لاوڈ اسپیکر استعمال کرسکتے ہیں، لیکن دینی محافل میں نہیں۔ حتٰی اذان میں کہتے ہیں کہ آپ فقط ایک اسپیکر کھول سکتے ہیں۔ نواز شریف کے احکامات پورے پاکستان میں نافذ ہوئے ہیں، علماء کو ناحق گرفتار کیا گیا، خطبہ کی تقاریر پر پابندی لگا دی گئی ہے، چکوال کے اندر میلاد النبی ﷺ کے جلوس پر قادیانیوں نے حملہ کیا، جو لوگ شہید ہوئے، ان کے ورثاء کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ جنہوں نے قتل کیا، ان کو حفاظت کے ساتھ ربوا بھیجا گیا۔ حتٰی دباو ڈالا گیا۔ ان لوگوں نے قائداعظم یونیورسٹی کے ایک شعبہ کا نام ایک قادیانی کے نام پر رکھا، یہ کیا تھا۔

اسلام ٹائمز: نواز شریف نے اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو وزیراعظم کیلئے نامزد کیا ہے، کیا 187 لیگی ارکان میں سے کوئی ایک بھی وزیراعظم کیلئے اہل نہیں تھا۔ یہ کونسی جمہوریت ہے۔؟
صاحبزادہ ابو الخیر زبیر:
یہ تو آمروں کا ٹولہ ہے، یہ آمروں کا ہی طریقہ ہے، جب کوئی مشکل پڑتی ہے تو یہ اپنے بھائیوں اور بیٹوں پر اعتماد کرتے ہیں۔ ان کا بھائی پر اعتماد کرنا بھی مجبوری ہے۔ چہ جائیکہ آپ یہ کہیں کہ یہ باہر سے کوئی بندہ لائیں گے۔ ان لوگوں نے ممتاز قادری کو شہید کروایا، اس لئے بھی اللہ کی پکڑ میں آئے ہیں۔ ماڈل ٹاون میں ناحق خون بہایا گیا، حافظ سعید احمد جو کشمیریوں کو سپورٹ کرتا تھا، ان کو جیل میں ڈالا دیا گیا ہے۔

اسلام ٹائمز: تو آپ سمجھتے ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاون میں ملوث افراد کیخلاف بھی کارروائی ہونی چاہیئے۔؟
صاحبزادہ ابو الخیر زبیر:
ان شاء اللہ سانحہ ماڈل ٹاون کے متاثرین کو ایک نہ ایک دن ضرور انصاف ملے گا، یہ سب جیلوں میں بند ہوں گے۔ خون ناحق بہانا کہاں کا انصاف تھا۔؟

اسلام ٹائمز: کرپشن فری پاکستان کا نعرہ فقط نواز خاندان تک محدود رہنا چاہیئے یا پھر بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیئے۔؟
صاحبزادہ ابو الخیر زبیر:
جی ہماری جماعت کا تو یہ نعرہ اور مطالبہ بھی ہے کہ کرپشن کے خلاف آپریشن ہونا چاہیئے، ایسا آپریشن ہونا چاہیئے کہ صرف سیاسی جماعتیں ہی نہیں، خود عدلیہ، میڈیا سمیت تمام اداروں میں موجود کرپٹ افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے۔ تب پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔

اسلام ٹائمز: مولانا فضل الرحمان ایم ایم اے کی بحالی کی کوشش کر رہے ہیں، کہاں تک کامیابی کے امکانات ہیں۔؟
صاحبزادہ ابو الخیر زبیر:
ظاہر سی بات ہے کہ مولانا فضل الرحمان یہ کوشش کر رہے ہیں، لیکن وہ ایک کرپٹ انسان (نواز شریف) کے دفاع اور حمایت میں بھی آگے آگے ہیں، جبکہ مجلس عمل کی دوسری جماعت (جماعت اسلامی) اس شخص کو اتارنے میں لگی ہوئی ہے اور اس نے اتروا بھی دیا ہے۔ وہ خوشیاں منا رہی ہے۔ ایک کا رخ شمال کی جانب ہے دوسری جماعت کا رخ جنوب کی طرف ہے، تو ایسے میں مجلس عمل کیسے بحال ہوسکتی ہے، یہ سوال اپنی جگہ پر موجود ہے۔

اسلام ٹائمز: جب ایک جماعت ’’اسٹیس کو" کی حامی ہے تو ایسے میں مذہبی اتحاد کا کیا مستقبل ہوگا۔؟
صاحبزادہ ابو الخیر زبیر:
مذہبی جماعتوں کا ایسا اتحاد سامنے آسکتا ہے، جو کرپشن کے خلاف ہو، جن کا اپنا دامن صاف ہو۔ اسی نعرے پر الیکشن لڑیں۔

اسلام ٹائمز: دہشتگردی کے حالیہ واقعات، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مودی اپنے دوست کو بچانا چاہتا ہے۔ کیا آپ بھی ایسا ہی سوچتے ہیں۔؟
صاحبزادہ ابو الخیر زبیر:
یہ بہت حد تک سچ بات ہے کہ نواز شریف نے دہشتگردوں کے خلاف ہونے والی کارروائی میں ساتھ نہیں دیا، جتنے بھی آپریشن ہوئے اور خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں کرسکے، اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ میاں صاحب نے اپنا مکمل تعاون نہیں دیا۔ خود پارلیمان میں ایسے افراد موجود تھے، جو اس کے خلاف تھے، حکومتی صفوں میں موجود افراد نہیں چاہتے کہ دہشتگردوں پر صحیح طرح سے ہاتھ ڈالا جائے۔ یہ بھی نواز شریف کا ایک ظلم ہے کہ انہوں نے ملک میں امن و امان قائم نہیں رکھا۔
خبر کا کوڈ : 657539
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے