0
Monday 31 Jul 2017 23:47
شہباز شریف وزیراعظم بنکر استثنٰی حاصل کرنا چاہتے ہیں

خاقان عباسی اور شہباز شریف دونوں وزارت عظمٰی کیلئے نااہل ہیں، فیصل کریم کنڈی

اقامے حاصل کرنیوالے پاکستانیوں کی تفصیل سعودی و اماراتی حکومتوں سے لینی چاہیئے
خاقان عباسی اور شہباز شریف دونوں وزارت عظمٰی کیلئے نااہل ہیں، فیصل کریم کنڈی
فیصل کریم خان کنڈی پاکستان پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا کے جنرل سیکرٹری ہیں، انکا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے، انہیں پاکستان کی قومی اسمبلی کے کم عمر ترین ڈپٹی سپیکر ہونیکا اعزاز حاصل ہے۔ ملکی سیاست میں انکا نام جانا پہچانا ہے۔ یکم جنوری 1975ء کو ڈیرہ اسماعیل خان میں پیدا ہوئے، اعلٰی تعلیم تھامس ویلی یونیورسٹی لندن سے حاصل کی۔ زراعت اور قانون میں ڈگری حاصل کرنیکے بعد سیاست میں قدم رکھا اور خاندانی روایات کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ 2008ء کے انتخابات میں مولانا فضل الرحمن کو ڈیرہ اسماعیل خان میں چالیس ہزار ووٹوں سے شکست دی۔ انکا شمار شہید بی بی کے قریبی ساتھیوں میں کیا جاتا ہے۔ انکے والد فضل کریم کنڈی نے بھی مولانا فضل الرحمن کو 1990ء کے انتخابات میں این اے 24 ڈی آئی خان سے شکست دی تھی۔ انکے نانا جسٹس فیض اللہ خان کنڈی قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں وفاقی وزیر رہے، جبکہ انکے پر دادا بیرسٹر عبدالرحیم کنڈی کو صوبہ سرحد کی پہلی صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر ہونیکا بھی اعزاز حاصل ہوا۔ فیصل کریم کنڈی نے قومی اسمبلی کے کم عمر ترین ڈپٹی اسپیکر ہونیکے باوجود ایوان کو انتہائی احسن طریقے سے چلایا، جسکا اقرار حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے کیا۔ اسلام ٹائمز نے میاں نواز شریف کی نااہلی اور اسکے بعد کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے فیصل خان کنڈی کیساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا۔ جس میں ہونیوالی گفتگو انٹرویو کیصورت میں پیش خدمت ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: منتخب عوامی جمہوری وزیراعظم نااہل قرار پایا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔؟
فیصل کریم کنڈی:
پاکستان پیپلز پارٹی نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ نواز شریف کی نااہلی سے جمہوریت پہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی نے آئین کی 62،63 کو ختم کرنے کی بات کی تھی۔ 62،63 ضیاء الحق کا دیا تحفہ تھا۔ جب ہم نے اس کو ختم کرنے کی بات کی تو یہی مسلم لیگ نواز تھی کہ جس نے اس کی مخالفت کی تھی اور آج خود اسی کا شکار ہوئی ہے۔ آج سعد رفیق نے بھی اقرار کر لیا ہے کہ اس کو ختم کرنے کیلئے پیپلز پارٹی کا ساتھ نہ دیکر ہم نے غلطی کی تھی۔

اسلام ٹائمز: نواز لیگ نے قلیل المدت کیلئے خاقان عباسی اور طویل مدت کیلئے شہباز شریف کو بطور وزیراعظم نامزد کیا ہے، کیا یہ دونوں وزارت عظمٰی کے اہل ہیں۔؟
فیصل کریم کنڈی:
نواز لیگ کے فیصلے سے ایک تو یہ ثابت ہوا کہ ان کے پاس قومی اسمبلی میں موجود ممبران اتنی اہلیت اور اعتماد ہی نہیں رکھتے کہ انہیں وزارت عظمٰی کیلئے منتخب کیا جاسکے۔ دوسری جانب میاں شہباز شریف تو خود سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملزم ہیں۔ چودہ افراد کے قتل میں ملزم ہیں۔ دوسری جانب شاہد خاقان عباسی کا ایل این جی سکینڈل میں نام ہے۔ دونوں ہی کلیئر نہیں ہیں۔ دراصل نواز لیگ شہباز شریف کو بالخصوص اور شاہد خاقان کو بالعموم سیف کرنے کیلئے وزیراعظم بنانے جا رہی ہے۔ چونکہ وزیراعظم کو استثنٰی حاصل ہے، لہذا ماڈل ٹاؤن واقعہ میں بطور ملزم انہیں استثنٰی مل جائیگا، یہی وجہ ہے کہ وہ اسے وزیراعظم بنانے جا رہی ہے۔ چنانچہ دونوں کی تقرری دیرپا نہیں ہوگی۔

اسلام ٹائمز: عمران خان نے شیخ رشید کو وزیراعظم نامزد کیا تھا، پیپلز پارٹی نے اتفاق کیوں نہیں کیا۔؟
فیصل کریم کنڈی:
دیکھیں جی، عمران خان کو اپنی پوری پارلیمانی جماعت میں سے کوئی ایک ایسا بندہ بھی نہیں ملا کہ جسے وہ وزیراعظم نامزد کرتے۔ انہوں نے وزیراعظم کیلئے نامزد کیا بھی تو ایسے شخص کو کہ جس کے متعلق عمران خان خود یہ کہہ چکے ہیں کہ میں اس شخص کو اپنا چپڑاسی بھی نہ رکھوں تو جس کو عمران خان چپڑاسی رکھنے پر تیار نہیں تھا، ہم اسے وزیراعظم کے طور پر کیسے قبول کریں۔ لہذا اس پر اتفاق ہونا ممکن ہی نہیں تھا۔ ویسے بھی جس جماعت کے رہنما نے تبدیلی کا نعرہ لگایا تھا، وہ تبدیلی تو نہیں لایا مگر خود تبدیل ہوگیا۔ عمران خان لندن سے کوئی ایسا پاوڈر لایا کہ جس میں کرپٹ لوگ دھلنے سے پاک صاف ہو جاتے ہیں۔ یہ لوگ جب کسی اور جماعت میں ہوں تو اس وقت وہ کرپٹ ہوتے ہیں، مگر جب ان کی جماعت میں ہوں تو پاک صاف ہو جاتے ہیں۔ بنی گالا کے چشموں میں ایسا پانی آتا ہے کہ جس میں سے گزرنے والے کے تمام جرائم اور گناہ دھل جاتے ہیں۔ جو اس میں سے نہیں گزرتا وہ داغدار رہتا ہے۔ عمران خان کم از کم دائیں بائیں ٹھہرنے والوں کی کرپشن پہ بھی نگاہ ڈالیں۔ سیاسی آب زم زم سے دھل جاتے ہیں۔ انہیں تھوڑی شرم تو آتی ہوگی۔

اسلام ٹائمز: میاں نواز شریف کی نااہلی کے کوئی خارجی محرکات بھی تھے۔؟ جیسا کہ یمن جنگ میں عدم شرکت، یو اے کی دھمکی وغیرہ وغیرہ۔؟
فیصل کریم کنڈی:
میں ایسی تھیوریز پہ یقین نہیں رکھتا ہوں کہ سعودی عرب ناراض ہوگیا تھا، یا سعودی منسٹر نے پاکستانیوں کو اپنا غلام قرار دیا تھا، یا عرب امارات نے پاکستانی حکومت کو سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔ ان چیزوں کا تعلق میں میاں نواز شریف کی نااہلی سے نہیں جوڑتا۔ میاں نواز شریف عدالت میں اپنی منی ٹریل ثابت نہیں کر پائے ہیں، جس کی بناء پر انہیں نااہل قرار دیا ہے۔ جہاں تک خارجی محرکات کی بات ہے تو ہر کوئی ذوالفقار علی بھٹو بننے کی خواہش تو کرسکتا ہے، بن نہیں سکتا۔ وہ بھٹو تھا کہ جس کے خلاف عالمی سطح پر منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

اسلام ٹائمز: میاں نواز شریف اور انکے وزراء کے پاس اقامے نکلے، کیا یہ اقامے ملکی خارجہ پالیسی پہ اثرانداز ہوتے ہیں۔؟
فیصل کریم کنڈی:
اصل میں اقاموں کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے، جب کسی ملک میں آپ کو بار بار جانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ تو بار بار ویزا کے حصول کی زحمت سے بچنے کیلئے اور قلیل وقت میں سفر کیلئے اقامہ معاون ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ سیاسی رہنما جو بار بار دبئی یا دیگر عرب ریاستوں کے دورے کرتے ہیں یا تاجر وغیرہ تو وہ اقامے حاصل کر لیتے ہیں۔ اقامے صرف سیاستدان حاصل نہیں کرتے، تاجر و دیگر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں۔ چنانچہ اسے ایک سہولت کے طور پر تو لیا جاسکتا ہے، خارجہ پالیسی پہ اثرات کی مد میں نہیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستان پیپلز پارٹی کے کتنے رہنماؤں کے پاس اقامے موجود ہیں۔؟
فیصل کریم کنڈی:
میں اس بارے میں وثوق سے تو کچھ نہیں کہہ سکتا۔ البتہ اس بارے میں سعودی و عرب ممالک سے بہتر تفصیلات مل سکتی ہیں۔ ان کی حکومتوں سے رابطہ کرکے ان افراد کی فہرستیں لینی چاہیئے کہ جنہوں نے اقامے حاصل کئے ہوئے ہیں۔ پھر ان کی چھان بین کرنی چاہیئے۔ اگر سعودی اور دبئی کے اقاموں کا حصول قابل سزا جرم ہے تو پھر اس جرم کی سزا بلاتفریق ان سب کو ملنی چاہیئے، تاہم ضروری ہے کہ سعودی اور اماراتی حکومتیں اس کی تفصیل دیں۔

اسلام ٹائمز: کہا جا رہا ہے کہ میاں نواز شریف اس دن نااہل ہوئے، جس دن ڈان لیکس پہ ٹوئٹ کا مسئلہ ہوا، آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے۔؟
فیصل کریم کنڈی:
یہ بات حقیقت ہے کہ میاں نواز شریف اسی دن ہی نااہل ہوگئے تھے، جب مریم صفدر نے سوشل میڈیا سیل ترتیب دیا تھا اور اس میں ایسے لوگوں کو ساتھ رکھا کہ جو خود بھی نااہل تھے۔ انہوں نے ایسے ایڈوائزروں سے مشاورت کی کہ جنہوں نے صرف اور صرف انہیں پھنسایا۔ یہ وہی لوگ تھے، جو مشرف کے بھی ساتھ رہ چکے تھے۔ نتیجے میں کبھی ڈان لیکس کا معاملہ سامنے آیا اور کبھی پانامہ لیکس کا۔ یہ خمیازہ کل ملا کے غلطیوں کا ہے نہ کہ صرف ایک لیکس۔

اسلام ٹائمز: سرائیکی نمائندہ جماعتیں الگ صوبے اور اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہی ہیں، پیپلز پارٹی کا اس بارے میں کیا موقف ہے۔؟
فیصل کریم کنڈی:
پہلے بھی سرائیکی کاز کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی سرائیکی جماعتوں کیساتھ تھی اور آج بھی ان جماعتوں کے ساتھ ملکر جدوجہد پہ یقین رکھتی ہے۔ میں بذات خود سرائیکی صوبے کیلئے، سرائیکی حقوق کیلئے کافی عرصے سے سرائیکی جماعتوں سے مسلسل رابطے میں ہوں، وہ لوگ انتہائی قابل تحسین ہیں، جنہوں نے سرائیکی جماعتوں اور پی پی پی کے مابین تعلق مضبوط کرنے میں کردار ادا کیا۔ پاکستان کی جتنی بھی سیاسی جماعتیں ہیں، ان پہ نگاہ ڈالیں تو واحد پی پی پی پی ہے کہ جو سرائیکی حقوق کیلئے واضح موقف بھی رکھتی ہے اور ہمیشہ ان کے حقوق کیلئے کھل کر میدان میں بھی آئی ہے۔ پچھلی حکومت میں پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں سرائیکیوں کے حوالے سے ایک قرارداد پیش ہوئی تھی، جو کہ آج غائب ہوگئی ہے اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو اتنا بھی نہیں پتہ کہ سرائیکی بیلٹ کہاں سے شروع ہوکر کہاں ختم ہوتی ہے۔ جہاں تک مقامی جماعتوں کی بات ہے تو جے یو آئی نے آج تک سرائیکیوں کیلئے کوئی بات تک نہیں کی۔ پی پی پی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے یوسف رضا گیلانی کی صورت میں ملک کو سرائیکی وزیراعظم دیا۔ دوسرا وزیراعظم مخدوم شہاب الدین کی صورت دیا، جو کہ نااہل ہوئے۔ لطیف کھوسہ کی صورت میں پنجاب میں گورنر دیا۔ پی پی نے پوری کوشش کی، مگر پنجاب میں ہمارے پاس اکثریت نہیں تھی۔ اس لئے ہم سرائیکی صوبے کو عملی جامہ نہیں پہنا سکے۔ صوبائی حکومت ہو، خیبر پختونخوا، پنجاب، یا کوئی اور جگہ۔ پی پی پی نے سرائیکی حقوق کیلئے ہر جگہ اپنا کردار ادا کیا۔ آج بھی یقین دلاتے ہیں کہ پی پی پی سرائیکی جماعتوں کے شانہ بشانہ نہیں بلکہ سرائیکی حقوق کیلے ان جماعتوں سے بھی ایک قدم آگے رہیگی۔ یوسف رضا گیلانی جو کہ خود سرائیکی ہیں، وہ پی پی پی کے وائس چیئرمین ہیں۔ ان کے پاس جب بھی کوئی سرائیکی کاز کیلئے گیا ہے، انہوں نے بھرپور طریقے سے ساتھ دیا ہے۔

اسلام ٹائمز: پی ٹی آئی والے کہتے ہیں کہ پی پی اور نواز لیگ ایک ہیں، آپ کیا کہتے ہیں۔؟
فیصل کریم کنڈی:
عمران خان ماضی میں پی پی پی پہ الزام لگاتے رہے کہ یہ حکومت کی بی ٹیم ہے، میں عمران خان سے سوال کرتا ہوں کہ خیبر پختونخوا کے اپوزیشن لیڈر کو آپ نے حکومت کے خلاف کبھی تقریر کرتے یا سی ایم کے خلاف تقریر کرتے سنا۔ جے یو آئی اور پی ٹی آئی آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ جب دھرنا ہوا تھا تو راشن کون لیکر آئے تھے، یہی جے یو آئی کے لوگ لیکر آئے تھے۔ یہاں پر بھی ملے ہوئے ہیں۔ اب تو ان کے وزرا کی آپس میں لڑائیاں بھی شروع ہو رہی ہیں۔

اسلام ٹائمز: ڈی آئی خان صوبائی اسمبلی کی نشست کیلئے کس امیدوار کے حق میں ہیں اور کیا یہ سچ ہے کہ آپ قومی اسمبلی کے بجائے اس بار سینیٹ کے امیدوار ہونگے۔؟
فیصل کریم کنڈی:
دیکھیں جی ڈی آئی خان صوبائی اسمبلی کی نشست ہمارے لئے انتہائی اہم ہے۔ اس حلقے سے عمومی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی جیتتی آئی ہے، چنانچہ اس ٹکٹ کے امیدوار بھی زیادہ ہیں اور اچھے امیدوار ہیں۔ تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ ہمارا پارلیمانی بورڈ کریگا جو کہ اہلیت کی بنیاد پر انتخابی ٹکٹ جاری کرے گا۔ بورڈ جس امیدوار کو بھی ٹکٹ جاری کرے گا، ہم اس کے ساتھ ہوں گے اور اس کو بھرپور سپورٹ کریں گے۔ جہاں تک بات قومی اسمبلی کے انتخاب میں میرے حصہ لینے یا نہ لینے کی ہے تو اس بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ہماری کوشش تو یہی ہے کہ اچھے سے اچھے امیدوار کو ٹکٹ دیں۔ اگر کوئی ایسا امیدوار ہوا جو کہ قومی اسمبلی کی نشست جیتنے کی قوت رکھتا ہوا تو یہ انتخابی ٹکٹ اسے جاری کرکے میں سینیٹ سے حصہ لوں گا۔

اسلام ٹائمز: آخری سوال، پاراچنار بم دھماکے کے بعد کیا آپ نے پارا چنار جانیکی کوشش کی تھی۔؟
فیصل کریم کنڈی:
جی ہم پاراچنار گئے تھے، مگر ہمیں لینڈ کرنے کی اجازت نہیں ملی اور واپس بھیجا گیا۔ ہوا یوں تھا کہ یہاں اسلام آباد سے ہم نے پرواز بھری تھی اور کوہاٹ میں لینڈ کیا۔ پھر کوہاٹ سے پرواز بھر کے پاراچنار کینٹ ایریا میں ہم نے لینڈ کرنا تھا، مگر ہمیں نہیں جانے دیا گیا۔ ہمیں بتایا گیا کہ سکیورٹی تھرٹس ہیں اور آپ اپنی پرواز اوپر کریں اور واپس جائیں تو ہم نے کہا کہ ہم نے کینٹ کے محفوظ علاقے میں لینڈ کرنا ہے تو انہوں نے اس کی بھی اجازت نہیں دی اور بتایا کہ ہم نے کال ٹریس کی ہے اور میزائل وغیرہ سے ہیلی کو ہٹ کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ ایریل فائرنگ کا خطرہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اگر فضا میں محفوظ نہیں۔ کینٹ ایریا محفوظ نہیں۔ تو وہاں کے شہری کیسے محفوظ ہیں۔ اگر ہم غیر اعلانیہ طور پر لوکل گاڑیوں میں چلے جاتے تو ہمیں کسی نے بھی نہیں روکنا تھا۔ جس وقت ہم گئے اسوقت تک گورنر، یا وفاقی حکومت کا کوئی ایک نمائندہ تک نہیں گیا تھا۔
خبر کا کوڈ : 657653
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب