0
Wednesday 23 Aug 2017 13:20

وہابیت کے خاتمے کا واحد راہ حل آل سعود رژیم کا خاتمہ ہے، امریکی تجزیہ کار

وہابیت کے خاتمے کا واحد راہ حل آل سعود رژیم کا خاتمہ ہے، امریکی تجزیہ کار
معروف امریکی تجزیہ کار کیتھ پریسٹن (Keith Preston) نے ڈیلی کیہان کو انٹرویو دیتے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیموں اور انسانی حقوق کی نام نہاد حامی حکومتوں کی سعودی حکومت کی جانب سے یمن اور سعودی عرب میں شیعہ نسل کشی اور جنگی جرائم کے ارتکاب پر پراسرار خاموشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات تمام مسلمانوں اور حریت پسند انسانوں کے جذبات مجروح ہونے اور ان کا دل دکھنے کا باعث بنے ہیں۔ دوسری طرف امریکی حکام نہ صرف آل سعود رژیم کے ان غیرانسانی اقدامات پر ردعمل کا اظہار نہیں کرتے بلکہ جدیدترین اور بعض اوقات ممنوعہ جنگی ہتھیار بیچ کر سعودی حکومت کو اس قتل عام میں مزید مدد فراہم کر رہے ہیں۔ ورجینیا یونیورسٹی سے مذہبی امور کے ماہر کیتھ پریسٹن 6 کتابوں کے مصنف بھی ہیں جن میں "انتشار کی شکست" اور "نظام پر حملہ" وغیرہ شامل ہیں۔

سوال: ایک طرف آل سعود رژیم یمن میں خواتین اور بچوں کا قتل عام کر رہی ہے جبکہ انسانی حقوق کے ادارے خاص طور پر مغربی ادارے اس پر کسی قسم کے ردعمل کا اظہار نہیں کر رہے اور چپ اختیار کر رکھی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
کیتھ پریسٹن:
آل سعود رژیم کے مجرمانہ اقدامات کا نشانہ بننے والے افراد مغرب کی توجہ سے بے بہرہ ہیں کیونکہ ان پر توجہ دینے سے امریکہ اور مغربی طاقتوں کے مفادات کو زک پہنچتی ہے۔ مغرب میں سرگرم انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی سیاسی تحفظات کا شکار ہیں۔ یہ تنظیمیں مغرب میں سرگرم باقی تنظیموں کی طرح شدت سے سیاسی رجحانات کی حامل ہیں۔ لہذا امریکہ اور مغربی حکومتوں کی پالیسی یہ ہے کہ زیادہ تر ان ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو زیادہ اجاگر کیا جائے جو ان کے دشمن تصور کئے جاتے ہیں۔ لہذا وہ اپنے سیاسی اتحادیوں کی جانب سے انجام پانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے چشم پوشی کرتے ہیں۔ یمن کا شمار بھی ایسے ہی ممالک میں ہوتا ہے جس کے خلاف انجام پانے والے جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں امریکہ اور مغربی ممالک کیلئے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے۔

سوال: آپ کی نظر میں آل سعود کی جانب سے العوامیہ اور دیگر شہروں میں اپنے ہی شیعہ عوام کے قتل عام کا اصل مقصد کیا ہے؟
کیتھ پریسٹن:
درحقیقت العوامیہ میں شیعہ شہریوں کا قتل عام اور یمن میں نسل کشی متعدد پہلووں سے آپس میں ملتے جلتے اقدامات ہیں۔ ان تمام اقدامات کا مقصد سعودی عرب اور یمن میں ایران کے اثرورسوخ کو کم کرنا ہے۔ آل سعود رژیم اپنی سرزمین اور یمن میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے شدید پریشان ہے اور اسے روکنے کیلئے ہر قسم کا اقدام انجام دینے کیلئے تیار ہے۔ سعودی عرب میں شیعہ شہریوں پر سعودی حکومت کے حملے دراصل ایران سے اس کی رقابت کا شاخصانہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں اسے مشرق وسطی میں سرگرم اسلامی مزاحمتی محاذ اور خلیجی ریاستوں کے سنی – مغربی اتحاد کے ٹکراو کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یمن اور العوامیہ کے شیعہ شہری بھی اسی ٹکراو کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔

سوال: بعض یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آل سعود رژیم کے وحشیانہ حملوں کی اصل وجہ خطے میں اس ملک کو ہونے والی متعدد ناکامیاں ہیں۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟
کیتھ پریسٹن:
سعودی عرب کی جانب سے شیعہ مسلمانوں کے خلاف شدت آمیز اقدامات میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ آل سعود رژیم ان حملوں کے ذریعے اپنی ماضی کی ناکامیوں کا ازالہ کرنا چاہتی ہے۔ جب سے سعودی عرب میں محمد بن سلمان ولیعہد بنے ہیں، سعودی جارحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ سب سے زیادہ اہم وجہ امریکی حکمرانوں خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھرپور آشیرباد ہے جس نے سعودی حکام کو مجرمانہ اقدامات انجام دینے پر جری کر دیا ہے۔ امریکہ نے حال ہی میں سعودی عرب سے اربوں ڈالر اسلحہ بیچنے کا معاہدہ کیا ہے جس کے نتیجے میں سعودی عرب کی فوجی طاقت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔

سوال: مغربی ایشیائی خطے میں سلفی اور تکفیری عناصر بہت حد تک وہابیت سے متاثر ہیں، وہابی طرز فکر میں کون سی ایسی چیز موجود ہے جو ان افراد کو اس حد تک وحشی اور شدت پسند بنا دیتی ہے؟
کیتھ پریسٹن:
مغربی مفکرین کے بقول وہابیت دراصل اسلام کی غلط اور انتہاپسندی پر مبنی تفسیر ہے۔ شیعہ اور سنی ذرائع ابلاغ میں بھی وہابیت کے بارے میں مثبت رائے نہیں پائی جاتی۔ البتہ گذشتہ پچاس برس کے دوران آل سعود رژیم کی بھرپور اور وسیع حمایت کے نتیجے میں وہابیت بہت تیزی سے پھیلی ہے۔ وہابیت کا بنیادی ترین کام استعماری طاقتوں اور حکومتوں نیز دنیا بھر خاص طور پر خطے میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کو اہداف مہیا کرنا ہے۔ موجودہ دور میں وہابیت کے طاقتور ہو جانے کی ایک اور وجہ آل سعود رژیم کی مالی مدد ہے۔ خطے میں وہابیت کے خاتمے کا واحد راستہ سعودی عرب میں آل سعود خاندان کی سرنگونی اور اس کی جگہ ایک اور ایسی حکومت کا برسراقتدار آنا ہے جو وہابیت کی حامی نہ ہو۔

سوال: جیسا کہ آپ نے کہا، سعودی عرب خطے میں وہابیت کا اصل حامی ہے۔ کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ دنیا وہابیت اور سعودی عرب کے خلاف اٹھ کھڑی ہو اور ان کا مقابلہ کرے؟
کیتھ پریسٹن:
جی ہاں بالکل ایسا ہی ہے۔ اس وقت وہابیت سے مقابلے کی اہمیت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف یہ ایک بڑا کام ہے جس میں ان تمام ممالک سے مقابلہ ضروری ہے جو کسی نہ کسی طرح وہابیت کی مالی، سیاسی اور فوجی مدد کر رہے ہیں۔ دوسری طرف وہابیت کا اصلی ترین حامی سعودی عرب ہے جو خطے میں امریکہ کا اتحادی ہے لہذا امریکہ اور مغربی طاقتیں ہر گز وہابیت کے خلاف کوئی موثر قدم نہیں اٹھائیں گی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے مغربی خاص طور پر امریکی مفادات کی تکمیل خطے میں وہابیت کی موجودگی کا تقاضہ کرتی ہے۔ لہذا میرا عقیدہ یہ ہے کہ ایران اور روس جیسے ممالک ہی وہابیت کا حقیقی مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ وہابیت کو ایک خطرہ تصور کرتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 663567
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے