0
Wednesday 13 Sep 2017 17:16
پاکستان، ایران، افغانستان اور چین کی قیادت سر جوڑ کر بیٹھے

امریکہ خطے میں بھارت کو چوہدری بنا کر جنگ کی آگ کے شعلے بھڑکانا چاہتا ہے، پروفیسر ہارون رشید تبسم

پاکستان عالمی طاقتوں کے مفادات کی بھینٹ بھی چڑھ رہا ہے
امریکہ خطے میں بھارت کو چوہدری بنا کر جنگ کی آگ کے شعلے بھڑکانا چاہتا ہے، پروفیسر ہارون رشید تبسم
معروف ماہر تعلیم، شاعر و ادیب، محقق، مفکر اور اقبال شناس ڈاکٹر ہارون رشید تبسم کا تعلق سرگودہا سے ہے، استاد ہونے کیساتھ ساتھ پاکستانیات اور نظریہ پاکستان پر متعدد کتب کے مصنف ہیں، ملک بھر میں اقبالیات کے حوالے سے اپنا مقام رکھتے ہیں، نوجوانوں میں بے حد مقبول ہیں۔ سابق صدر شعبہ اردو گورنمنٹ انبالہ مسلم کالج سرگودھا، 12 اکتوبر 1955ء کو پیدا ہوئے، 1993ء میں اقبالیات میں ایم فل اور 2002ء میں اردو میں ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 75 ادبی اور 27 نصابی کتب تحریر کرچکے ہیں۔ موجودہ صورتحال اور قومی اور بین الاقوامی حالات اور پاکستان کیلئے راہِ حل کے تناظر میں انکے ساتھ اسلام ٹائمز کا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: کیا وطن کا دفاع صرف اسلحے کے زور اور ایٹمی طاقت سے ممکن ہے؟
پروفیسر ہارون رشید تبسم:
نہ صرف موجودہ زامنے بلکہ ہر دور میں فوج، اسلحہ اور ٹیکنالوجی ضروری ہے، لیکن جب تک پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اپنی فوج کے شانہ بشانہ نہ کھڑی ہو صرف فوج دفاع وطن کا فریضہ سر انجام نہیں دے سکتی، چاہے وہ فوج کتنی ہی بہادر اور جدید اسلحے سے لیس کیوں نہ ہو۔ چونکہ ابھی تک ہم معاشی اور سیاسی انصاف قائم نہیں کر سکے، جس کی لا ٹھی اس کی بھینس کے قانون کی وجہ سے ذہانت کے اخراج کے ساتھ ساتھ دوسرا بڑا نقصان سرمائے کا اخراج ہے، ملکی حالات کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے، اُلٹا سرمایہ کار اپنا سرمایہ لے کر بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں اور دفاع وطن کے لئے یہ صورت حال انتہائی نقصان دہ ہے۔ کیونکہ سرمائے کے اخراج کا مطلب ہے، غربت اور بے روزگاری میں خوفناک اضافہ، اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہے، پاکستانی فوج ہر لحاظ سے دنیا کی بہترین فوج ہے، مگر دفاع وطن کے حقیقی تقاضے تب پورے ہوں گے، جب ہم مسائل پر قابو پائیں گے، ہمیں بحیثیت قوم بیدار ہونا ہو گا، کھرے اور کھوٹے کی تمیز کرنا ہو گی، شعور اور آگاہی کی منزل کی طرف اپنا سفر تیز کرنا ہو گا، کون رہبر ہے اور کون رہبر کے روپ میں رہزن، اس کا فیصلہ ہوش مندی سے کرنا ہو گا، شخصیت پرستی، جماعت پرستی اور مسلک پرستی چھوڑ کر اسلام پرست اور پاکستان پرست بننا ہو گا، صرف یہی ایک راستہ ہے، جس سے دفاع وطن کے حقیقی تقاضے پورے ہو سکتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: لیکن کیا ایک قوم کو صرف ترانوں، نعروں اور جذباتی تقاریر سے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنایا جا سکتا ہے؟
پروفیسر ہارون رشید تبسم:
اس سوال کا جواب بھی نفی میں ہے، کیونکہ کوئی بھی قوم اس وقت تک متحد نہیں ہو سکتی جب تک آزادی کے ثمرات اس قوم کے ہر فرد کو فیض یاب نہ کریں، وطن اللہ کی دی گئی نعمتوں میں سے ایک بہترین نعمت ہے اور دفاع وطن اہم ترین ذمہ داری، آزادی کے ثمرات کا مطلب ہے کہ ہر کسی کو جان، مال اور عزت کا تحفظ ہو، قانون کی نظر میں سب برابر ہوں، سستا اور فوری انصاف ملے، ملکی وسائل کی تقسیم ملک کی تمام اکائیوں اور افراد میں منصفانہ ہو، ہر کسی کو
مذہبی آزادی حاصل ہو، اقلیتوں کو مکمل حقوق حاصل ہوں، میرٹ کی حکمرانی ہو اور ہر کوئی اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ترقی کر سکے، جب آزادی کے یہ سارے ثمرات کسی قوم کو حاصل ہو جاتے ہیں، تو پھر یہ سب مل کر اس قوم کے ایک ایک فرد کے جذبہ حب الوطنی کو مستحکم، مضبوط اور نا قابل شکست بنا دیتے ہیں۔ ایسی قوم سے پھر اگر کوئی ٹکراتا ہے تو اس کی جرأت، بہادری اور اتحاد سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتا ہے، یقینا پاکستان کو اس سلسلے میں بہت سا کام کرنا ہے، ستر سال گزر جانے کے باوجود بھی یہ قوم آزادی کے ثمرات کو پوری طرح حاصل نہیں کر پائی۔ پاکستان کے ایک حصے کا بنگلہ دیش بن جانا، صرف اس وجہ سے ہوا کہ ہم نے ملک کے ایک حصے کو اس کے جائز معاشی، معاشرتی اور سیاسی حقوق سے محروم کیا۔ محرومیوں کا یہ کھیل اب بھی جاری ہے، اب بھی بے شمار پاکستانی تعلیم، صحت، روزگار، صاف پانی، خوراک جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ میں نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ لاتعداد قابل ترین اور ذہین ترین پاکستانی صرف اس وجہ سے پاکستان چھوڑ گئے کہ ان کی قابلیت کی قدر نہیں کی گئی، یعنی ہمارے چراغ دوسروں کے گھروں کو روشن کر رہے ہیں اور جب کسی ملک کے قابل ترین لوگ ملک چھوڑ جائیں تو اس ملک کی معیشت کمزور ہوتی ہے، جسکی وجہ سے دفاع کو ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے۔

اسلام ٹائمز: ایک قوم ہونے کے ناطے پاکستان کی نجات کا راستہ کیا ہے، جو اپنایا جانا چاہیے؟
ڈاکٹر ہارون رشید تبسم:
اسلام کی تعلیمات واحد راستہ ہیں، باعزت زندگی کا۔ علامہ اقبال کے تصورات مشعل راہ ہیں، ملکی قیادت اور بالخصوص نوجوانوں کیلئے بانی پاکستان، قائد اعظم  محمد علی جناح جو عمل پیہم، یقین محکم اور تنظیم کے عملی پیکر تھے، آئیڈئل ہیں، جس طرح قائد اعظم ؒنے مسلم امہ کی بنیادوں کو اپنے خون سے سینچا، وہ نسل نو کیلئے راہ ہدایت ہیں، جس طرح وہ ملک و قوم کے عظیم محسن ہیں، اسی طرح ہمیں ان کے احسان کا حق ادا کرنا چاہیے۔ قائد اعظمؒ اصول پسندی اور سچائی کا مجسمہ تھے، ان کی خوبیوں اور صلاحیتوں کے ان کے دشمن بھی معترف تھے، انگریز اور ہندو جانتے تھے کہ محمد علی جناح جو کہتا ہے وہ سچ اور حرف آخر ہوتا ہے، تمام طبقات اور میں کہوں گا، نوجوانوں کو قائد کی زندگی کا مطالعہ کرنا چاہیے اور، اپنی زندگیوں کو ان کے فرمودات کے مطابق ڈھالنا چاہئے۔ یہی ہماری بقاء، ترقی اور وقار کا راستہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے آج کا پاکستان قائد اعظمؒ کے تصورات سے متصادم محسوس ہوتا ہے، قائد اعظمؒ پاکستان کو عظیم اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے، ملکی مسائل کے خاتمے کے لئے ایک بار پھر تحریک پاکستان کا جذبہ بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والے اِس وطن عزیز کی تشکیل 27 رمضان المبارک کی مقدس رات کو مکمل ہوئی تھی، لہذا ہمارا یہ ملک تاقیامت پایندہ اور تابندہ رہے گا، مگر 16ء دسمبر 1971ء کی ایک منحوس شام کو اِس مملکت خداداد کو ہم سب نے ٹوٹتے اور بکھرتے دیکھا ہے۔

برصغیر کے عام مسلمانوں کی زبردست جدوجہد اور بے مثال قربانیوں کے نتیجے میں یہ ملک معرضِ وجود میں تو آگیا، لیکن قائد اعظم کی ناگہانی وفات کے فوراً بعد اِس پر حکمرانی کا تمام اختیار عوام کے منتخب نمایندوں کی بجائے، صرف اور صرف ایک ایسے طبقے کے کچھ مخصوص افراد کے حوالے کردیا گیا، جسے ہمارے آئین و دستور میں کسی بھی شق کے تحت ایسا کرنے کی اجازت نہ تھی۔ ہم پر دہشتگردوں کو پناہ دینے کا الزام لگتا رہا اور ہم خود دہشتگردوں کے حملوں کا نشانہ بھی بنتے رہے۔ ہمارے بچے، جوان اور بوڑھے مارے جاتے رہے اور دنیا ہمیں دہشتگردی کی سرپرستی کا الزام دیتی رہی۔ ہم معاشی و اقتصادی طور پر تباہ ہوتے رہے اور دشمن ہمیں بدلے میں امداد اور ڈالرز لینے کے طعنے دیتے رہے۔ ملک کی بقا، سالمیت اور ترقی و خوشحالی کا انحصار صرف نظامِ جمہوریت ہی سے وابستہ ہے، لیکن ہم میں سے اکثر لوگ آج بھی غیر جمہوری نظام کی نہ صرف خواہش رکھتے ہیں، بلکہ اُس کی تائید و حمایت میں دلائل کے انبار بھی لگا دیتے ہیں۔ ہم بحیثیت قوم اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف تو برملا کرتے رہتے ہیں، لیکن اُن غلطیوں کے تدارک اور اصلاح کی کبھی کوئی کوشش نہیں کرتے، بلکہ بار بار ایک ہی قسم اور نوع کی غلطی کو دہراتے ہوئے ملک و قوم کے لیے ہزیمت اور رسوائی کا باعث بنتے رہتے ہیں۔ ہمیں یہ صورتحال بدلنا ہو گی، غیروں پر انحصار ختم کرنا ہوگا، اپنے فیصلے خود کرنا ہوںگے۔

اسلام ٹائمز: اندرونی طور پر استحکام اور اتحاد دفاع کا لازمی جزو ہے، کیا بیرونی خطرات اور دشمن کی سازشوں کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟
پروفیسر ہارون رشید تبسم:
پہلے دن سے ہی پاکستان کو چیلنجز کا سامنا ہے، وجود کو خطرات لاحق رہے، یہ خطرات کم ہوئے لیکن ختم نہیں ہو سکے، شروع دن سے انڈیا نے ہمارے وجود کو تسلیم نہیں کیا، موجودہ حالات میں بھی بھارت کی کوشش ہے کہ وہ پاک چین دوستی میں رخنہ ڈالے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے بھارت پاکستان کے خلاف سازشوں پر عمل پیرا رہا ہے۔ بیجنگ میں منعقد ہونے والی پانچ ملکی برکس کانفرنس میں دہشت گردی کے معاملہ پر پاکستان اور چین کے مابین اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ بھارت کے وزیراعظم نریندرمودی بھی اس کانفرنس میں شریک تھے۔ لگتا ہے کہ بھارتی سازشیں یہاں بھی کام دکھا گئیں اور کانفرنس میں چین کے بیان سے یہ تاثر ملا کہ شاید دہشت گردی کے معاملہ پر چین کے بھی کچھ تحفظات ہیں، یہ ایک سازش تھی جو چین اور پاکستان کے مابین اختلافات پیدا کرنے کی ایک کوشش ہوسکتی ہے۔ لیکن چینی قیادت کی طرف سے ایسے بیانات آئے جس سے بھارتی سازشوں کا بچھایا ہوا جال بے اثر ہو گیا اور پاکستان کے بروقت اقدام سے پاک چین دوستی میں دڑاریں ڈالنے کی بھارتی کوششیں ایک بار پھر ناکامی سے دو چار ہوئیں۔ ہمیں ایسی پالیسی بنانی چاہیے، جس کے ذریعے پاکستان کے خلاف سازشیوں کی سازشوں کا بروقت جواب دیا جا سکے۔ لیکن اس کے باوجود یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ دشمن کا مقابلہ اتحاد، استحکام
اور داخلی طاقت کو مجتمع کیے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان عالمی طاقتوں کے مفادات کی بھینٹ چڑھ رہا ہے، امریکی صدر نے نئی افغان پالیسی کے تناظر میں اپنے خطاب کے دوران پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف طویل ترین جنگ اور قربانیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے، جن جارحانہ خیالات کا اظہار کیا ہے، اس کے بعد یہ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان سفارتی سطح پر خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ رابطہ کرے اور حقیقی صورتحال کو واضح کرے، تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جاسکے۔ سفارتی کوششوں میں نمایاں کامیابی مل رہی ہے، ایران کے جو گلے شکوے تھے پاکستان سے، ان میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے، ہم اپنے اختلافات کو باہمی گفت وشنید سے حل کرسکتے ہیں۔ دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ خطے کی سلامتی کی خاطر ہم منطق اور استدلال کے تحت ہر قدم اٹھانے کو تیار ہیں۔ خطے کی سلامتی امن وامان کی بحالی، پائیدار استحکام اور آنے والی نسلوں کی بقاء کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان، ایران، افغانستان اور چین کی قیادت سر جوڑ کر بیٹھے اور مدبرانہ فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے باہمی اختلاف کو مذاکرات کی میز پر حل کرے۔ انتہاء پسندوں اور پاکستان مخالف قوتوں کا یہی ماننا ہے کہ سی پیک کے مثبت اثرات آنا شروع ہونے کا مطلب ان کی تزویراتی موت ہے اور یہ بریک تھرو بھی کم اہمیت کا حامل نہیں کہ گوادر پورٹ کی فعالیت کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں بڑھتی جارہی ہیں، سی پیک کی وجہ سے توانائی بحران اپنے انجام کو پہنچنے کے قریب ہے۔ چینی ماہرین اور مزدوروں کی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کرنے کے لیے بھی بعض عناصر دہشتگردانہ وارداتوں کے لیے موقع کی تلاش میں ہیں، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ بلوچستان میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔

اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر کے حالیہ بیانات کی روشنی میں آپ کیا سمجھتے ہیں کہ امریکہ دراصل کیا عزائم رکھتا ہے؟
پروفیسر ہارون رشید تبسم:
درحقیقت دہشتگردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور دہشت گرد دنیا بھر میں اپنا ٹارگٹ خود سیٹ کرتے ہیں اور پھر باآسانی اپنے اہداف بھی حاصل کرتے ہیں۔ فرانس، امریکا، برطانیہ سمیت دیگر یورپی ممالک میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات اس کی مثال ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہاں بھی دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں؟ پاکستان کے خلاف منفی اور جھوٹا پروپیگنڈہ امریکا اور بھارت ملکر کرتے رہتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان چار دہائیوں سے افغان بدامنی کے تکلیف دہ اثرات برداشت کررہا ہے، حالانکہ کیا دھرا سب امریکا کا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے چین کے ساتھ قریبی تعلقات امریکا اور بھارت کو ایک آنکھ نہیں بھائے، پاکستان بارہا کہہ چکا ہے کہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک ہماری نمایندگی نہیں کرتے اور نہ ہی ہم چاہیں گے کہ وہ ہماری سرزمین استعمال کریں، امریکا افغانستان کے مسائل کی دلدل میں پھنس چکا ہے اور اس کے پاس جھوٹی الزام تراشی کی جا رہی ہے۔ جب
پاکستان، ایران اور افغانستان خطے کو پرامن بنانا چاہتے ہیں اور اپنے باہمی مسائل کو مذاکرات کی میز پر حل کرنا چاہتے ہیں، تو پھر کون سی ایسی قوت ہے، جو ان کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے، جواب انتہائی آسان ہے کہ سپرپاور امریکا، جو خطے میں جنگ کو ختم کرنے کے بجائے اس کو مزید ہوا دینا چاہتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی جلتی پر تیل کا کام کرے گی اور جب خطے کے ممالک آپس میں لڑ کر مزید کمزور ہوجائیں گے تو خطے کی چوہدراہٹ بھارت کو دے دی جائے گی، افغانستان کے ہر مسئلے کا الزام پاکستان پر لگانا ٹھیک نہیں، اس کے بجائے واشنگٹن کو چاہیے کہ وہ افغان مہاجرین کی میزبانی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری قربانیوں کا اعتراف کرے۔ یہ زیادہ ضروری ہے کہ پاکستان ایسی تدبیر اختیار کرے کہ امریکا کو خواہ مخواہ چوہدری بننے نہ دے، ورنہ خطے میں کبھی بھی امن قائم نہیں ہوسکے گا، بلکہ مزید جنگ کے شعلے بھڑک جائیں گے جوکہ امریکا چاہتا ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا ہمیں اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کی ضرورت نہیں، وزیر خارجہ نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے؟
پروفیسر ہارون رشید تبسم:
دہشت گردی تو بھارت کر رہا ہے، چاہے وہ کشمیر ہو چاہے فاٹا اور بلوچستان، پاکستان کے حکمران معلوم نہیں کس حکمت و مصلحت کے تحت ایسے مواقع پر غیر ضروری بیانات جاری کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا فرض ادا ہوگیا ہے۔ حکمرانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوام کی جان، مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کریں۔ دہشت گرد کسی رو رعایت کے مستحق نہیں۔ اُن کو قانون کے مطابق سزا دینا بے گناہ لوگوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے، لیکن ان دہشت گردانہ کارروائیوں کے پیچھے شاطر بنیا جو کھیل کھیل رہا ہے، اسے پوری دنیا کے سامنے کون بے نقاب کرے گا، یہ حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔ بھارت کی بدمعاشی تمام حدود سے تجاوز کرچکی ہے، بھارتی حکمران دہشت گردی کرنے کے بعد مطمئن ہوتے ہیں کہ ان کا کوئی ایجنٹ طے شدہ پروگرام کے مطابق جھوٹ، سچ ذمہ داری قبول کرکے ان کو ہر الزام سے بری الذمہ قرار دیدیگا۔ پاکستان کے حکمرانوں ان واقعات کنٹرول کرنا پڑے گا اور اگر خدانخواستہ کسی جگہ ایسا واقعہ رونما ہوجائے، تو اس کے اصل کرداروں کو نہ صرف پکڑا جائے، بلکہ انہیں کیفرِ کردار تک پہنچانے کا بھی اہتمام ہو۔ بھارت میں اگر کسی موٹر سائیکل کی زد میں آکر کوئی کتا زخمی ہو جائے یا بلی ماری جائے تو بھارتی حکومت فوراً اس کا الزام پاکستان پر لگاتی اور پھر عالمی سطح پر اس قدر پروپیگنڈہ کرتی ہے کہ جھوٹ کو سچ منوا کر چھوڑتی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ یہاں کھلم کھلا بھارتی مداخلت اور پاکستان کے طول و عرض میں بھارتی ایجنٹ شب و روز خبیثانہ کھیل کھیلتے ہیں، مگر ہم دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکے کہ ہمارا ازلی دشمن ہماری سالمیت کو پارا پارا کرنے کے درپے ہے، چور چوری اور سینہ زوری کامسلسل ارتکاب کر رہا ہے۔ وزیر خارجہ کا بیان تو دشمن کے الزام کی تائید کے مترداف ہے۔
خبر کا کوڈ : 668725
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب