0
Saturday 30 Sep 2017 23:46
اگر امت مسلمہ ذکر حسینؑ کیساتھ فکر حسینؑ لیکر چلتی تو آج کسی بھی نام نہاد فتویٰ فروش مفتی کو یزید کی حمایت کی جرأت نہیں ہوتی

پاکستان سمیت عالم اسلام کی عزت و بقاء اور مسائل کا حل ذکر حسینؑ کیساتھ ساتھ فکر حسینؑ اپنانے میں مضمر ہے، مفتی بشیر القادری نورانی

ہم اہل بیتؑ محمدؐ کے مخالف مؤرخین کو نہیں مانتے، خواہ وہ صحابی کا درجہ ہی کیوں نہ رکھتا ہو
پاکستان سمیت عالم اسلام کی عزت و بقاء اور مسائل کا حل ذکر حسینؑ کیساتھ ساتھ فکر حسینؑ اپنانے میں مضمر ہے، مفتی بشیر القادری نورانی
مفتی محمد بشیر القادری نورانی کا تعلق بنیادی طور پر پاکستان میں اہلسنت مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی مذہبی جماعت جمعیت علمائے پاکستان سے ہے اور اسوقت جے یو پی (نورانی) کراچی کے سینیئر نائب صدر ہونے کیساتھ ساتھ علماء رابطہ کونسل کے رکن بھی ہیں۔ وہ جے یو پی کی مرکزی و صوبائی شوریٰ کے بھی رکن ہیں۔ وہ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی مرحوم کیساتھ بھی تنظیمی حوالے سے فعال رہے، وہ گذشتہ 30 سے زائد سالوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں، خطابت کے فرائض بھی سرانجام دے رہے ہیں، وہ کراچی میں قائم دارالعلوم منہاج الفرقان کے بانی بھی ہیں، اس کیساتھ ساتھ وہ مختلف اہلسنت اداروں کیساتھ بھی وابستہ ہیں۔ وہ 55 سے زائد کتابوں کے مصنف بھی ہیں، عربی، فارسی، سندھی، اردو فاضل ہیں، اسلامیات میں ماسٹرز کرچکے ہیں، آجکل وہ جامع مسجد عائشہ نورانی گلستان جوہر میں خطیب و پیش امام کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے مفتی محمد بشیر القادری نورانی کیساتھ واقعہ کربلا، سیدالشہداء حضرت امام حسینؑ اور انکی آلؑ و اصحابؑ کی عظیم قربانیوں و دیگر موضوعات کے حوالے سے جامع مسجد عائشہ نورانی میں ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر انکے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: واقعہ کربلا اور اہلبیتؑ رسول(ص) کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
مفتی محمد بشیر القادری نورانی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔
حسینؑ ابن علیؑ کی آج بھی ہمیں ضرورت ہے، گھرا ہوا ہے اسلام خونخواروں کی جھرمٹ میں، آج اگر ہمارا اسلام تمام تر عقائد اور نظریات کے ساتھ زندہ ہے، سرور کائنات حضرت محمد مصطفٰی (ص) سے لیکر آج تک، یہ سب شہدائے بدر و احد، شہدائے حنین و خندق و تنوک اور سب سے بڑھ کر شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کی بدولت ہے۔ امام حسینؑ اور ان کے آل و رفقاء کا اسلام کے اوپر بہت عظیم احسان ہے، انہوں نے شہید ہوکر اسلام کو حیات بخشی، شہدائے کربلا کی قربانیوں کی وجہ سے آج آپ اور ہم سب مسلمان کہلاتے ہیں، اسلام اور اہل اسلام کبھی ان شہادتوں کو فراموش نہیں کرسکتے، ان شہادتوں کا ذکر تو ہر لحاظ سے خود قرآن پاک کرتا ہے، شہدائے بدر کا ذکر بھی قرآن کے اندر ہے اور شہدائے کربلا کا ذکر بھی قرآن کے اندر ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالٰی نے اپنے محبوب حضرت محمدؐ سے فرمایا کہ محبوب آپ فرما دیجئے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، سوائے یہ کہ میرے اہل بیتؑ سے محبت رکھنا۔ یعنی اللہ نے اپنے محبوب کے ذریعے اہل بیتؑ کے ساتھ، نبیؐ کے گھرانے کے ساتھ قیامت تک محبت و عقیدت کا سلوک کرنے کا حکم فرمایا ہے، سورہ احزاب میں اللہ تعالٰی نے فرمایا ”کہ جو اللہ اور اس کے رسولؐ کو ایزا پہنچاتا ہے اس پر اللہ اور اسکے رسولؐ کی لعنت ہے۔“ اب اسے سے بڑھ کر اللہ اور اسکے رسولؐ کو ایزا کیا ہوگی کہ اہل بیت اطہارؑ جن سے محبت و قربت کا حکم خود قرآن میں ہے، رسول خدا کا فرمان انتہائی واضح ہے کہ جو اہل بیتؑ کی عقیدت و محبت میں مرتا ہے، وہ مغفور مرتا ہے، وہ مومن کی موت مرتا ہے، اہل بیتؑ کی محبت میں مرنے والے کو ملک الموت اس کی روح قبض کرنے سے پہلے ہی جنت کی خوشخبری دے دیتے ہیں۔

اللہ کے محبوب نبی اکرم فرما چکے ہیں کہ حسنؑ و حسینؑ جوانان جنت کے سردار ہیں، ان کے مرتبے پر کوئی صحابی نہیں پہنچ سکتا، رسول اللہ اہل بیتؑ کو سفینہ نوح کی مانند کشتی نجات قرار دے چکے ہیں کہ جو اس پر سوار ہوگیا، وہ نجات پا گیا، ورنہ ہلاک ہو جائے گا، قرآن و اہل بیتؑ کو ہم پلہ قرار دے چکے ہیں، اللہ اور اس کے محبوب نبی اہل بیتؑ کی اہمیت و مرتبہ رہتی دنیا پر واضح کرچکے ہیں، لیکن اہل بیتؑ محمدؐ کو میدان کربلا میں انتہائی ظلم و بربریت کے ساتھ شہید کر دیا گیا، کربلا میں امام حسینؑ اور ان کے آلؑ و اصحابؑ کو شہید کرنے والوں پر تو خود اللہ اور اسکے رسولؐ کی لعنت ہے، امام حسینؑ نے تو خود یزید تک کو لعنتی بننے سے بچانے کی کوشش کی، لیکن یزید اتنا ہی بڑا لعنتی بن گیا، اللہ اور اس کے رسولؐ کے غضب کا مستحق ہوا، امام عالی مقام حضرت امام حسینؑ، شہدائے کربلا، اہلبیتؑ محمدؐ کا نام زندہ تھا، زندہ ہے اور تاقیامت زندہ رہے گا، اسلام کی رگوں میں آپ اہل بیتؑ کا پاکیزہ ترین خون ہے، اس لئے اسلام کبھی مٹ نہیں سکتا، یزید کے حامی اور فتویٰ فروش حضرت امام حسینؑ سے پہلے بھی تھے، ان کے دور میں بھی تھے، آج بھی ہیں، لیکن یہ ہمیشہ بدنام زمانہ ہی رہیں گے، ان کے فتوؤں کی نہ تو پہلے کوئی اہمیت تھی اور نہ آج ہے اور نہ ہی ہوگی۔

اسلام ٹائمز: اس میں کتنی حقیقت ہے کہ مسلم امہ نے امام حسینؑ و شہدائے کربلا کو صرف ماہ محرم کے چند ایام تک ہی محدود کر دیا ہے۔؟
مفتی محمد بشیر القادری نورانی:
بالکل ایسا ہی ہے کہ محرم الحرام کا مہینہ آتا ہے تو امت مسلمہ کو امام عالی مقام کی یاد آتی ہے، جبکہ پورا سال ہم انہیں فراموش کر دیتے ہیں، یہ ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے، آج اسلام اگر زندہ ہے، تو ان کی قربانیوں کی وجہ سے زندہ ہے، آج ہم مسلمان کہلاتے ہیں تو ان کی قربانیوں کی وجہ سے کہلاتے ہیں، لہٰذا اگر ہمیں سرفرازی و سربلندی چاہیئے، تو ہمیں امام حسینؑ اور اہلبیتؑ محمدؐ کو صرف چند دنوں کے اندر محدود کرکے رکھنے کے بجائے پورا سال ہر لمحہ ان کی عملی پیروی کرنی ہوگی، جب کہیں جا کر ہم کلمہ توحید کو دنیا بھر میں نافذ کرنے میں کامیاب ہونگے۔ اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہی ہمیں قربانی کا درس دیتا ہے، یکم محرم کو سیدنا عمر فاروقؓ کی شہادت ہوتی ہے، پھر دس محرم کو امام حسینؑ اور انکی آلؑ و اصحابؑ کی عظیم ترین قربانیاں ہوتی ہیں، یعنی ہمیں واضح پیغام دے دیا گیا ہے کہ اسلامی سال کا آغاز قربانیوں سے ہوتا ہے، لہٰذا ہمیں پورا سال درس قربانی کو عملی طور پر یاد رکھنا ہوگا اور اہل بیتؑ محمدؐ کی محبت و عقیدت سے سرشار ہوکر میدان عمل میں بھی حاضر رہنا ہوگا۔

اسلام ٹائمز: یزید کی حمایت کرتے نظر آنیوالے عناصر کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
مفتی محمد بشیر القادری نورانی:
شجر اسلام کی اپنے پاک و پاکیزہ لہو سے آبیاری کرکے نئی حیات بخشنے والے امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کا احسان ماننے کے بجائے آج بھی کچھ یزیدی فکر رکھنے والے یزید جیسے ظالم، جابر، شرابی، زانی، بدکردار کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں، جن کا حشر بھی دنیا و آخرت میں یزید جیسا ہی ہوگا، چاہے وہ سعودی مفتی اعظم ہو، چاہیے وہ کتنا بڑا پاکستان کا مفتی کیوں نہ ہو، چاہے وہ زمانے کا سب سے بڑا مفتی ہو، یزید کی حمایت کرنے والا روز قیامت یزید کے ساتھ ہی اٹھایا جائے گا، یزید کی حمایت میں بیان یا فتویٰ دینے والے دنیا و آخرت میں ہلاک ہیں، بظاہر زندہ نظر آتے ہیں لیکن درحقیقت ہلاک ہوچکے ہیں، خود یزید کی حمایت میں فتویٰ دینے والے بھی اہل بیتؑ محمدؐ کی حقانیت کو جانتے ہیں، اسی لئے وہ بھی سر جھکا کر یزید کی حمایت میں فتویٰ سازی کرتے ہیں، ان کا ضمیر بھی ان پر ملامت کرتا ہے، رہتی دنیا پر واضح ہے کہ امام حسینؑ سمیت شہدائے کربلا کی شہادت اور انکی آلؑ و اصحابؑ پر ہونے والے ظلم و ستم کا ذمہ دار یزید ہے، آج جو یزید کی حمایت میں فتوے دیتے ہیں، بیان دیتے ہیں، امام حسینؑ کو نعوذ بااللہ باغی کہتے ہیں، ہم ان یزید کی حمایت میں فتوے دینے والے یزید سے مبنی تعلق، واسطے، ایمان، فکر کی ترجمانی کرنے والوں کو نہیں مانتے، ہم اہل بیتؑ محمدؐ کے مخالف مؤرخین کو نہیں مانتے، خواہ وہ صحابی کا درجہ ہی کیوں نہ رکھتا ہو، یزید کا حمایتی مفتی ہو یا کوئی اور، یہ سب مردار دنیا کے پیچھے بھاگنے والے کتے ہیں، یہ کوڑے کھانے کے مستحق ہیں، تاکہ ان کی ناپاک زبانیں اور قلم بند ہوں۔ ہم حسینؑ کے غلام انہیں کہتے ہیں کہ اپنی گردنیں جھکا کر فتوے بازی نہیں کرو، اپنے بچوں کے نام یزید کے نام پر رکھو، اور پھر سامنے آکر ہمارا سامنا کرو۔ اگر امت مسلمہ ذکر حسینؑ کے ساتھ فکر حسینؑ لیکر چلتی، تو آج کسی بھی نام نہاد فتویٰ فروش مفتی کو یزید کی حمایت کی جرأت نہیں ہوتی۔

اسلام ٹائمز: کیا وجہ ہے کہ حضرت امام حسینؑ کا نام لینے کے باوجود امت مسلمہ سربلندی کے بجائے زبوں حالی کا شکار ہے۔؟
مفتی محمد بشیر القادری نورانی:
آج اہل اسلام کشمیر، فلسطین، برما، شام، یمن سمیت دنیا بھر میں جو مار کھا رہے ہیں، اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ امام حسینؑ کے قربانیوں کو فراموش کرتے جا رہے ہیں یا صرف یہ ان کی زبانوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، کوئی بھی امام حسینؑ کی پیروی کرنے والا نظر نہیں آتا، ہم نے اہل بیتؑ محمدؐ کے نقش قدم کو چھوڑ دیا ہے، صرف نام لینا کافی نہیں ہوگا، امام حسینؑ کی قربانیوں کا تذکرہ کرنے والوں کو انہیں اپنی زندگی میں عملی طور پر آئیڈیل بنانا ہوگا، تب ہی مسلمان دنیا بھر میں سربلند ہوسکیں گے۔ میں بہت واضح الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ امت مسلمہ کا زندہ رہنا اہل بیتؑ محمدؐ کے ساتھ مودت و عقیدت رکھنے اور ان کی پیروی میں ہی مضمر ہے، یہ بھی واضح کر دوں کہ اہل بیتؑ محمدؐ کے ساتھ مودت و عقیدت نام ہی ان کی پیروی کا ہے۔ آج امت مسلمہ کی پستی کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ لبیک یاحسینؑ کا نعرہ صرف اور صرف نعرے کی حد تک رہ گیا ہے، عملی نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: قیام و پیغام امام حسینؑ کے تناظر میں حکمرانوں اور عوام کو کیا روش اختیار کرنیکی ضرورت ہے۔؟
مفتی محمد بشیر القادری نورانی:
امام عالمی مقام امام حسینؑ نے عزت اور ذلت کے دوراہے پر عزت کا راستہ اپنایا، آج امت مسلمہ کو ذلت کے ساتھ زندگی گزارنے کے بجائے عزت کا راستہ اختیار کرنا چاہیئے، جو امام عالمی مقام امام حسینؑ کا راستہ ہے، امام حسینؑ کی عظیم قربانی کی یاد میں جلوس، ریلیاں نکالنے والوں کیلئے سڑکیں صاف کر دینا، سہولتیں فراہم کر دینا، روشنی کا انتظام کر دینا، سکیورٹی دے دینا، یہی کافی نہیں ہے، اگر سرخرو ہونا ہے تو پھر یہ جو امام حسینؑ کی یاد میں جلوس نکالنے والے ہیں، یہ جو پیغام حسینی دینے کیلئے اپنے گھروں سے باہر نکلے ہوئے ہیں، ان کے پیغام پر عمل کرنا ہوگا، جلوس نکالنے والے امام حسینؑ کا جو پیغام دیتے ہیں، وہ دراصل حکمرانوں اور عوام پر اتمام حجت کر رہے ہیں کہ اگر پاکستان کی فلاح، کامیابی، بقاء، سالمیت، امن و امان، عزت و آبرو چاہتے ہو تو، ان نفوس قدسیہ کے نقش قدم اور ان کے پیغام کو اپنا لو، یہی وہ مودت و عقیدت ہے، جو تمام عالم انسانیت پر اللہ نے واجب قرار دی ہے۔

اسلام ٹائمز: یوم عاشور کی مناسبت سے کیا پیغام دینا چاہیں گے۔؟
مفتی محمد بشیر القادری نورانی:
پیغام میں دے چکا ہوں، عمومی طور پر بھی اور خصوصی طور پر بھی کہ مسلمانان عالم اور بالخصوص مسلمانان پاکستان اگر عزت کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں، پاکستان سمیت عالم اسلام کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں، تو آپ کو ذکر حسینؑ کے ساتھ فکر حسینؑ کو بھی عملی طور پر اپنانا ہوگا، مسلمانان عالم یقیناً اہل بیتؑ محمدؐ کے نام لیوا ہیں، ان سے محبت کرنے والے ہیں، کسی نہ کسی طریقے سے ذکر حسینؑ سننے سنانے والے ہیں، ذکر حسینؑ میں آنسو بہانے والے ہیں، ذکر حسینؑ کا پہلا درس یہی ہے کہ سب کو عملی طور پر فکر حسینؑ اپنانی چاہیئے، پاکستان سمیت تمام عالم اسلام کی عزت و بقاء اسی میں مضمر ہے، تمام مسائل کا حل بھی اسی میں پوشیدہ ہے۔
خبر کا کوڈ : 673248
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب