0
Monday 30 Oct 2017 04:54
دہشتگردی کا عنصر ہمارے جدید تعلیمی اداروں اور اعلٰی تعلیم یافتہ نوجوانوں کے اندر بھی سرایت کرتا جا رہا ہے

قوم کے اندر جب تک پاکستانیت و وطنیت کا جذبہ بیدار نہیں ہوگا، دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ممکن نہیں، علامہ عقیل انجم قادری

پاکستان میں دہشتگردی اور عدم استحکام پیدا کرنے، فرقہ واریت کی فضاء کو ہوا دینے میں ہمارے بہت سارے دوستوں کا بھی ہاتھ ہے
قوم کے اندر جب تک پاکستانیت و وطنیت کا جذبہ بیدار نہیں ہوگا، دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ممکن نہیں، علامہ عقیل انجم قادری
معروف اہلسنت رہنماء علامہ سید عقیل انجم جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) سندھ کے صدر ہیں، وہ انجمن طلباء اسلام پاکستان کے مرکزی صدر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ جے یو پی سندھ کے سیکرٹری جنرل بھی رہ چکے ہیں، وہ جے یو پی (نورانی) کی فعال ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ وہ ملی یکجہتی کونسل سندھ کے مصالحتی کمیشن کے اہم رکن ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے علامہ سید عقیل انجم قادری کیساتھ پاکستان میں جاری دہشتگردی سمیت مختلف موضوعات کے حوالے سے انکی رہائشگاہ پر ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر انکے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: ملک میں جاری فوجی آپریشن کے باوجود دہشتگردانہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، اسے کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
علامہ سید عقیل انجم قادری:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔
آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد سے ملک بھر میں دہشتگردی اور افراتفری کی فضاء میں خاطر خواہ کمی آئی ہے، ملک میں دہشتگرد عناصر کی جڑیں بہت گہری ہیں، اوپر سے ان کی چھٹائی کٹائی کے باوجود ان کے اثرات کہیں نہ کہیں ظاہر ہوتے رہتے ہیں، پہلے مدارس دہشتگردی کے حوالے سے بدنام تھے، اب ہماری بدقسمتی ہے کہ دہشتگردی کا عنصر ہمارے جدید تعلیمی اداروں اور اعلٰی تعلیم یافتہ نوجوانوں کے اندر بھی سرایت کرتا جا رہا ہے، جس کی حالیہ مثال انصار الشریعہ نامی دہشتگرد تنظیم ہے، پھر پاکستان میں دہشتگردی اور عدم استحکام پیدا کرنے میں، فرقہ واریت کی فضا کو ہوا دینے میں ہمارے بہت سارے دوستوں کا بھی ہاتھ ہے، جو اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے اپنی ڈوریاں ہلاتے ہیں، جس کے اثرات پاکستان میں دہشتگردی کی صورت میں نکلتے ہیں، بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی اسی کی ایک کڑی ہے۔ بہرحال ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ پاکستان سے دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا گیا ہے، لیکن تقریباً 80 فیصد دہشتگردی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

اسلام ٹائمز: پاکستان میں دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا کیسے ممکن ہے۔؟
علامہ سید عقیل انجم قادری:
جب تک پوری پاکستانی قوم کے اندر پاکستانیت کا، وطنیت کا جذبہ بیدار نہیں ہوگا، جب تک پوری قوم فرقہ واریت، لسانیت، عصبیت کی سوچ سے باہر نہیں نکلے گی، تب تک دہشتگردی کے فتنے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ممکن نہیں ہوگا۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم عنصر کی جانب ہمیں توجہ دینی ہوگی، جس کا پاکستانی نوجوانوں کو انتہاء پسند بنانے میں بہت بڑا ہاتھ ہے، وہ یہ کہ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کلمہ توحید کی بنیاد پر وجود میں آیا ہے، اس نظریہ کے مقابلے میں پاکستانی حکمران، پاکستان کے طبقہ اشرافیہ اور ان کے اشاروں پر پاکستان کی تہذیب، تمدن و معاشرت کو لائن آف ایکشن دینے والے ادارے بالخصوص الیکٹرونک میڈیا، یہ جو ہماری تہذیب کو بگاڑ رہے ہیں، فحاشی، عریانی، بے غیرتی، بے راہ روی کو بھرپور طریقے سے رواج دے رہے ہیں، اس سے ملک میں ایک بہت بڑا تہذیبی ٹکراؤ سامنے آتا ہے اور جب اسلام سے محبت کرنے والا نوجوان اپنے آپ کو ان کے سامنے بے بس سمجھتا ہے تو پھر وہ دہشتگردی کی راہ کو اختیار کرتا ہے، اس جانب بھی ہمیں توجہ دینی ہوگی۔

اسلام ٹائمز: کہا جاتا ہے کہ جنرل ضیاء کے دور میں ملک بھر میں خصوصاً اداروں میں ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کو پروان چڑھایا گیا تھا، جسکی باقیات اب بھی ملکی اداروں میں موجود ہے، جو دہشتگرد عناصر کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں، جو دہشتگرد عناصر کے سہولتکار بنے ہوئے ہیں، اس حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
علامہ سید عقیل انجم قادری:
ایک مخصوص مائنڈ سیٹ، ایک مخصوص لائن آف ایکشن، جو قوم کے اندر، دینی اداروں کے اندر، دینی طبقات کے اندر پروان چڑھائی گئی اور انہیں بتایا گیا کہ جہاد میں ہی زندگی ہے، فلاح ہے، جب تک یہ جہاد روس، امریکہ کے خلاف تھا، پاکستانی سرحدوں کے باہر تھا، تب تک تو بہت اچھا تھا، لیکن جب وہ ابواب کافی حد تک بند ہوئے، تو وہی جہاد ملک کے اندر بھی شروع ہوگیا، مائنڈ سیٹ تو بن چکا تھا، لوگوں کی بہت بڑی تعداد اس کی عادی بن چکی تھی، اب یہ معاملہ مثبت ہو یا منفی، پاکستان کے خلاف جا رہا ہو یا اسلام کے خلاف جا رہا ہو، وہ اس معاملے میں آلہ کار بھی بنتے ہیں، معاون و سہولت کار کا کردار بھی ادا کرتے ہیں، اب ریاستی کی حالیہ کیا پالیسی ہے، ان کا طریقہ کار یا سوچ اب کیا ہے، اس کے بارے میں تو میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا، کیونکہ میں ان ساری باتوں سے لاعلم ہوں، لیکن میں یہ ایک بات ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اسلام بنیادی طور پر ایک جہادی دین ہے، اسلام سے جہاد کے تصور کو تو ختم نہیں کیا جاسکتا، لیکن جہاد کی حقیقی تعریف و محاذ کا تعین کرنا مقتدرہ قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ اگر ہمارے اندر ایسی ایک توانائی پائی جاتی ہے، تو اس کا مثبت اور صحیح سمت میں استعمال کیا جائے، کیونکہ منفی طور پر استعمال کرنا، انتہاپسندی کو فروغ دینا، فرقہ واریت کے معاملات میں اس قوت کا استعمال ہونا، یہ ایک انتہائی خطرناک سوچ و فکر ہے، لہٰذا جہاد و قتال کس کے خلاف کرنا ہے، اس کی حقیقی و صحیح معنوں میں تشریح ہونا ضروری ہے، جہاد عالم کفر کے خلاف ہونا چاہیئے، نہ کہ اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف۔

اسلام ٹائمز: حکمرانوں کے کردار کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
علامہ سید عقیل انجم قادری:
پاکستان بن تو گیا لیکن ملک کو آج تک جو بھی قیادتیں نصیب ہوئی ہیں، وہ ملک و قوم کو تعمیر کرنے والے لوگ نہیں ہیں، ملک و قوم سے مخلص نہیں ہیں، انہیں صرف اور صرف اپنے اقتدار سے دلچسپی ہوتی ہے، ضیاء دور سے آج تک جتنے حکمران اور سیاستدان آئے، انہیں صرف مال بناؤ تحریک سے غرض رہی، انہیں پاکستان کے مستقبل سے کوئی دلچسپی نہیں رہی، یہ وہ لوگ ہیں، جو ووٹ تو پاکستان سے لیتے ہیں، لیکن جائیدادیں، کاروبار، مستقبل، اولادوں کو پاکستان سے باہر رکھتے ہیں، امریکہ، مغرب میں رکھتے ہیں۔ اسی لئے ان کا ملک و قوم کے مستقبل اور تعمیر کے حوالے سے کوئی کردار نظر نہیں آتا، نہ ہی ان سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے کوئی کردار ہوتا نظر آتا ہے۔

اسلام ٹائمز: دہشتگردی، انتہاء پسندی سمیت ملک کو درپیش بحرانوں کے خاتمے کے حوالے سے علمائے کرام کے کردار کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
علامہ سید عقیل انجم قادری:
علمائے کرام کسی ایک سانچے میں ڈھلے ہوئے لوگ نہیں ہیں، ایک ہی ڈائی، ایک ہی ٹائپ، ایک ہی جیسے نہیں بنتے ہیں، علمائے کرام اسی معاشرے کا حصہ ہیں، ان کی ذہن و سوچ میں، ان کے کلچر کا، ان کی تہذیب کا، ان کے نظام تربیت کا، ان کے سماجی و معاشی مسائل کا گہرا تعلق ہے، نہ تو ہر شخص مثبت سوچ رکھتا ہے اور نہ ہی ہر شخص منفی سوچ رکھتا ہے، البتہ علمائے کرام کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ ان کو حضرت محمد کے نائب و وارث ہونے کی حیثیت سے مصلح قوم کا کردار ادا کرنا چاہیئے، امت کی اصلاح کی ذمہ داری علمائے کرام پر ہے، ہمیں یہ بھی حقیقت ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ علمائے کرام آج تک پاکستان میں قوت نافذہ حاصل نہیں کرسکے، لیکن پاکستان میں دیندار طبقے کی، علمائے کرام کی قوت اس مقام پر ضرور ہے کہ وہ پاور پالیٹکس کرسکتے ہیں یا کسی بھی منفی عمل کے مقابلے میں ایک سد سکندری کا کردار ضرور ادا کرسکتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ محض دہشتگردی اور انتہاء پسندی کے خلاف ہی نہیں، بلکہ اس قوم کا مستقبل سنوارنے کیلئے، پاکستان کے استحکام، اسکی ترقی و کامرانی کیلئے علمائے کرام بہترین، اعلٰی ترین کردار ادا کرسکتے ہیں، انہیں یہ کردار ادا کرنا چاہیے، وہ منبر و محراب کے مالک ہیں، جہاں سے وہ فرقہ واریت، انتہاء پسندی کے بجائے اگر وہ محبت و اخوت کا پیغام دیں، پاکستان کی ترقی و تعمیر کا پیغام دیں، ان سب حوالوں سے علمائے کرام اہم اور کلیدی کردار کے حامل ہیں اور انہیں اپنی یہ ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔

اسلام ٹائمز: تمام مسالک و مکاتب فکر کی نمائندہ جماعتوں پر مشتمل ملی یکجہتی کونسل کے کردار کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
علامہ سید عقیل انجم قادری:
ملی یکجہتی کونسل کے تین ادوار رہے ہیں، پہلا دور وہ تھا کہ جب 1994ء کے آگے پیچھے پاکستان میں فرقہ واریت عروج پر تھی، کوئی امام بارگاہ، کوئی مسجد، کوئی جلسہ، کوئی مجلس، کوئی جلوس دہشتگردی سے محفوظ نہیں تھا، اس دور میں ملی یکجہتی کونسل کا قیام عمل میں آیا، اس وقت کونسل میں شامل جماعتوں کا کردار بہت موثر تھا، جب خلوص کے ساتھ کوششیں کی گئیں تو دہشتگردی تقریباً ختم ہوگئی، ایک ایسا وقت بھی آیا کہ ضیاءالرحمان فاروقی، اعظم طارق، مرید عباس یزدانی، علامہ ساجد نقوی ایک دوسرے سے ہاتھ ملا رہے تھے، گلے مل رہے تھے۔ ملی یکجہتی کونسل کا دوسرا دور قاضی حسین احمد کا دور تھا، انہوں نے کونسل کے حوالے سے ایک مثبت کردار تو ادا کیا، لیکن کونسل کے اندر وہ توازن قائم نہیں رکھ سکے، بھانت بھانت کی جماعتوں کو کونسل کی رکنیت دیکر اسے غیر مؤثر کر دیا گیا، اسی دور کا تسلسل ابھی بھی چل رہا ہے، اب کیفیت یہ ہے کہ ایک شخص پر مشتمل جماعت بھی کونسل کی رکن ہے اور ملک گیر جماعتیں بھی اس کی رکن ہیں، لیکن دونوں کے ووٹ برابر ہیں، دونوں کے ووٹ کی طاقت برابر ہے۔

ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر ہوں یا علامہ ساجد نقوی صاحب ہوں، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری صاحب ہوں یا پروفیسر ساجد میر ہوں یا حافظ سعید ہوں، ان کا ووٹ جو ملک گیر جماعتوں کے سربراہ ہیں، یک رکنی اور دو رکنی افراد کی جو جماعتیں ہیں، وہ بھی کونسل کی رکنیت لیکر ان کے ملک گیر جماعتوں کے برابر میں بیٹھنے کی اہل ہوگئی ہیں، اس طرز عمل سے ملی یکجہتی کونسل کی فعالیت کم ہوگئی ہے، اب کونسل کے اراکین کے اندر وہ احساس ذمہ داری ہی نہیں پایا جاتا کہ جس کام کیلئے یہ کونسل تشکیل دی گئی ہے، اسے ترجیح دیں، ابھی بس اجلاس ہوتے ہیں، اس سے بڑھ کر شاید کوئی کارکردگی اب ملی یکجہتی کونسل کی فی الحال نظر نہیں آتی، لیکن میں سمجھا ہوں کہ یہ بھی بہت قدر غنیمت ہے کہ جب قوم کو یہ پیغام جاتا ہے کہ تمام مکاتب و مسالک کے علمائے کرام بلاتفریق مذہب و مسلک ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے ہیں، ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے کھڑے ہوتے ہیں، ایک ساتھ کھانا کھا رہے ہیں، اس سے بھی عوام میں بہت مثبت پیغام جاتا ہے، پہلے جو یہ تصور ختم ہوگیا تھا، اب دوبارہ پاکستان میں ایک بار پھر ملت واحدہ کا تصور بیدار ہوچکا ہے۔

اسلام ٹائمز: موجودہ حالات کے پیش نظر عوام و خواص طبقے کو کیا پیغام دینگے۔؟
علامہ سید عقیل انجم قادری:
معاشرے کے تمام طبقات انتقامی سوچ کو ترک کریں، سامنے والے کو دائرہ اسلام سے خارج نہ کریں، ایک دوسرے کے مذہب و مسلک کی بزرگ و مقدس شخصیات کی اہانت نہ کریں، ان کی تکریم کا رویہ اپنائیں، ایک دوسرے کو قبول کریں، ایک دوسرے سے متعلق حقائق کو قبول کریں۔ عدم برداشت کے بجائے برداشت کے رویئے کو اپنائیں۔
خبر کا کوڈ : 680137
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش