0
Sunday 31 Dec 2017 22:48
داعش امریکی ہتھیار اور معاونت کیساتھ افغانستان میں آچکی ہے، جو بہت جلد پاکستان کیخلاف بڑی دہشتگرد کارروائیاں شروع کر دیگی

امریکہ، اسرائیل اور ہندوستان کے کیمپ کے مقابلے میں پاکستان، روس، چین اور ایران کا کیمپ بنتا نظر آ رہا ہے، سابق سفیر ظفر ہلالی

پاکستان کو چاہیئے کہ افغان طالبان کو اپنا دوست بنائے اور مقبوضہ کشمیر کا محاذ دوبارہ کھولا جائے
امریکہ، اسرائیل اور ہندوستان کے کیمپ کے مقابلے میں پاکستان، روس، چین اور ایران کا کیمپ بنتا نظر آ رہا ہے، سابق سفیر ظفر ہلالی
ظفر ہلالی معروف پاکستانی سیاسی تجزیہ نگار اور سفارت کار ہیں، آپ یمن، اٹلی سمیت مختلف ممالک میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں۔ آپ کے آباؤ اجداد کا تعلق ایران سے ہے، جو بعد ازاں بھارت آکر آباد ہوگئے تھے۔ آپ کے والد آغا ہلالی اور چچا آغا شاہی بھی مشہور سفارتکار تھے۔ آپ کالم نگار بھی ہیں، آپ کے کالم مشہور پاکستانی و بین الاقوامی اخبارات و جرائد میں چھپتے رہتے ہیں، جبکہ بطور تجزیہ کار مختلف نیوز چینلز پر ماہرانہ رائے پیش کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ”اسلام ٹائمز“ نے ظفر ہلالی کے ساتھ پاک امریکا تعلقات، خارجہ پالیسی، افغانستان میں داعش کی موجودگی و دیگر موضوعات کے حوالے سے انکی رہائش گاہ پر ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر آپ کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: امریکی کیمپ تبدیل کرنے کے حوالے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں واقعی کوئی شفٹ آرہا ہے یا ابھی تک صرف اسٹیڈیز ہی چل رہی ہیں۔؟
ظفر ہلالی:
خارجہ پالیسی میں شفٹ آ رہا ہے، آنا بھی چاہیئے، ہماری خارجہ پالیسی کچھ حد تک ہو بھی گئی ہے، کیونکہ اگر اب بھی ہماری خارجہ پالیسی تبدیل نہیں ہوتی تو ہم تباہ و برباد ہو جائیں گے، مر جائیں گے، ختم ہو جائیں گے، امریکا اور پاکستان کی اب کوئی چیز بھی مشترک نہیں ہے، امریکا کے دوست پاکستان کے دشمن، پاکستان کے دشمن امریکا کے دوست ہیں، پاکستان کو جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، ماضی میں ان چیزوں کے حصول کیلئے امریکا ہی ایک ذریعہ ہوتا تھا، مثال کے طور پر اسلحہ ، ہتھیاروں کی بات کریں، تو اب چین ہے، روس ہو سکتا ہے، پاکستان امریکا کے درمیان اگر شادی ہوئی تھی تو اب دونوں ممالک طلاق تک آ گئے ہیں، اور امریکا اور پاکستان کے درمیان یہ طلاق جتنی جلدی ہوگی، پاکستان کیلئے اتنا بہتر ہوگا۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں پاکستان روس کے قریب اور امریکا سے دور ہو رہا ہے۔؟
ظفر ہلالی:
بالکل پاکستان امریکا سے دور ہو رہا ہے، پاکستان امریکا سے بہت دور جائے گا، امریکا ہمارا دشمن ہے، جو ہمارے دوسرے دشمن بھارت کا اسٹراٹیجک اتحادی ہے، داعش پاکستان پر حملہ آور ہے، پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتی ہے، وہ امریکی ہتھیار اور معاونت کے ساتھ افغانستان میں آ چکی ہے، پاکستان کے ساتھ افغان سرحدی علاقوں میں داعش کے چھ ساتھ کیمپس لگ گئے ہیں، بہت جلد داعش پاکستان کے خلاف بڑی دہشتگرد کارروائیاں شروع کر دیگی، بھارت پاکستان میں تحریک طالبان، بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو فنڈنگ کر رہا ہے، لہٰذا پاکستان مکمل طور پر امریکا بھارت کے مخالف طرف کھڑا ہے، ہاں اب تک ہم ایک ایک کو دشمن کہہ کر نہیں بلاتے اور اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ ہماری فوج کے امریکا کے ساتھ تعلقات ہیں، جو سویلین کے مقابلے بہت زیادہ مضبوط ہے، یہ سمجھ میں آنے والے ہیں، کافی حد تک امریکا کے ہتھیار، پیسے ہمیں مل رہے تھے، تو ہماری فوج ہروقت امریکا کی طرف مائل تھی، لیکن میرے خیال میں امریکا کی طرف مائل ہونے کا سلسلہ کم ہو گیا ہے، کیونکہ جب ہم امریکا سے گلے ملے تو اس نے ہمیں اتنے زور سے گلا لگا لیا کہ ہمارا سانس لینا محال ہو گیا ہے۔

اسلام ٹائمز: امریکا کی موجودہ نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹیجی میں پاکستان پر دوبارہ الزام لگایا ہے کہ پاکستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ ہے، اس کے تناظر میں پاک امریکا تعلقات کا مستقبل کیا نظر آتا ہے۔؟
ظفر ہلالی:
امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان عدم استحکام کا شکار ہو جائے، وائٹ ہاؤس میں اس وقت ٹرمپ کی صورت میں ایک پاگل شخص بیٹھا ہے، جو سمجھتا ہے کہ اس کے سب سے بڑے دشمن چین، ایران، پاکستان، شمالی کوریا ہیں اور اس کے بعد روس ہے۔ ممکن ہے کہ امریکا پاکستان میں کوئی حملہ بھی کرے، پاکستان کی مرضی کے بغیر ڈرون حملہ بھی کر سکتا ہے، تاکہ پاکستان کا ردعمل چیک کر سکے، بہرحال پاک امریکا تعلقات بہت خراب ہو چکے ہیں، جو مزید خراب ہونگے۔

اسلام ٹائمز: امریکا کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی دھمکیوں کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
ظفر ہلالی:
امریکا پاکستان کو کیا دھمکی دے سکتا ہے، پاکستان کو امریکا کیلئے اپنی سرزمین پر زمینی راستے بند کر دینے چاہیئے، اگر امریکا کو کہنا چاہیئے کہ اگر تمہیں پاکستان کے زمینی راستے سے افغانستان جانا ہے تو پیسے نکالو، تم ہمیں جو امداد کے نام پر پیسے دیتے ہو، ہم پر کوئی احسان نہیں کر رہے، تم اس کے بدلے ہمارا انفرااسٹرکچر استعمال کر رہے ہو، پاکستانی بندرگاہ سے تمہارا سامان آتا ہے، پاکستانی زمینی راستوں کو استعمال کرتا ہوا افغانستان جاتا ہے، تم ہمیں سات سو ملین ڈالرز روکنے کی دھمکی دینے کے بجائے پیسے نکالو، پتہ نہیں روس امریکا کو اجازت دے گا یا نہیں کہ امریکا سینٹرل ایشیائی ممالک سے، نادرن روٹس سے آنے کی، شاید روس اجازت نہیں دے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ امریکی رضامندی کے بغیر ہو رہا ہے، دو ہفتے میں ہمیں جو تین وارننگ مل چکی ہیں، پہلی امریکی صدر ٹرمپ نے، پھر وزیر دفاع میٹس اور اب نائب صدر مائیک پینس نے، یہ اچانک نہیں ہے، جتنی پاکستان میں اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کمزور ہوگی، اتنا نواز شریف کا پلڑا بھاری ہوگا، جو کہ پاکستان کا وفادار نہیں ہے، جو بھارت کے خلاف ایک لفظ نہیں کہتا۔

اسلام ٹائمز: اگر نہیں تو کیا پاکستان کی روس چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربتوں سے ایک نیا بلاک جنم لے گا، جس کا ایران بھی حصہ ہوگا۔؟
ظفر ہلالی:
بلاک ایک قسم کا بن گیا ہے، قدرتی طور پر بلاک ہے، ہونا بھی چاہیئے، بنے گا بھی، روس اور چین ایک ہیں، ایران کے ان دونوں ممالک سے بہت زیادہ قریبی تعلقات ہیں، ہم ہی ہیں جو پیچھے نظر آتے ہیں۔ اب پاکستان کو یہ سمجھ میں آجانا چاہیئے کہ امریکا ہمارے مخالف کیمپ میں ہے، ہمارے دشمن کے کیمپ میں ہے، امریکا، اسرائیل اور ہندوستان ایک کیمپ میں ہیں، اس کے مقابلے میں پاکستان، روس، چین، ایران کا کیمپ ہونا چاہیئے، جو مجھے مستقبل میں بنتا نظر آ رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: آپ ایک ڈپلومیٹ ہیں، یہ بتائیں کہ امریکی دھمکیوں کے خلاف، اسے کاؤنٹر کرنے، اس دباؤ سے نکلنے کیلئے پاکستان کے پاس ڈپلومیٹک آپشنز کیا کیا ہیں۔؟
ظفر ہلالی:
ہمیں دھمکیاں نہیں ملتیں اگر امریکا افغانستان میں نہیں رہنا چاہتا، امریکا افغانستان میں رہنا چاہتا ہے، کیونکہ اس کی ایران کے ساتھ دشمنی ہے، کیونکہ روس کے ساتھ اس کی روایتی دشمنی (traditional rivalry) ہے، چین کو تو وہ اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے، لیکن افغانستان جانے کیلئے امریکا کے پاس پاکستانی راستے کے علاوہ کونسا راستہ ہے، سینٹرل ایشائی ممالک سے بہت مشکل ہے، پاکستان اگر اپنے زمینی راستے امریکا کیلئے بند دے تو وہ کچھ نہیں کر سکتا، اسلئے امریکا بھی سوچ رہا ہے، اقوام متحدہ میں امریکی بھرم ختم ہوگیا ہے، اب پاکستان کے خلاف پابندیاں لگوانا امریکا کیلئے ناممکن ہے، کیونکہ وہ چین اور روس کی جانب سے ویٹو ہو جائیں گی، لیکن پاکستان یہ جب کر سکتا ہے کہ جب اس کی چین اور روس کے ساتھ دوستی میں جلدی مزید اضافہ ہو، باقاعدہ رسمی طور پر ہو، دفاعی معاہدے ہوں، جو حیثیت امریکی کی نظر میں اسرائیل کی ہے، وہی چین کی نظر میں ہماری ہونی چاہیئے، کیونکہ ہم چین کے دوست ہیں، ہمیں امریکی دھمکیوں سے بالکل نہیں ڈرنا چاہیئے، بلکہ چین اور روس کے ساتھ ہر سطح پر تعلقات میں جلدی اضافہ کرنا چاہیئے، صرف سمندر سے گہری، ہمالیہ سے بلند کہنے سے کچھ نہیں ہوگا، دفاعی و اسٹریٹیجک معاہدے کرنے چاہیئے۔ صرف دعا کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، پاکستان کو کام کرنا ہوگا، ہمیں اس امید پر نہیں رہنا چاہیئے کہ چین پاکستان کیلئے جنگ لڑے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ایران کے ساتھ بھی تعلقات کو مزید بہتر بنانے چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: افغانستان میں داعش کی موجودگی کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
ظفر ہلالی:
داعش کے حوالے سے میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ وہ امریکی معاونت اور ہتھیاروں کے ساتھ افغانستان میں آ چکی ہے، پاکستانی سرحد کے ساتھ تربیتی کیمپس لگا دیئے ہیں، جہاں سے وہ جلد پاکستان کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر سکتی ہے، داعش امریکن پراکسی ہے، پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے تحریک طالبان کی طرح داعش پرفیکٹ ہے، مگر اب پاکستان کو چاہیئے کہ افغان طالبان کو اپنا دوست بنائے، کیونکہ امریکی دھمکیوں کے باعث ان کی مدد نہیں کر رہے ہیں، جو ہم کر سکتے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں ہم رک گئے تھے، وہاں کا محاذ دوبارہ کھولا جائے۔ پاکستان کو چاہیئے کہ اپنے نیوکلیئر ہتھیاروں کو چلانے کیلئے بالکل تیار رکھے، اسکے ساتھ ساتھ پاکستان جتنی جلدی نیوکلیئر ہتھیاروں کی رینج بڑھانے اور امریکا، اسرائیل اور بھارت سمیت کہیں بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت میں اضافہ کرسکتا ہے، اتنا پاکستان کیلئے اچھا ہوگا، شمالی کوریا بھی یہی کر رہا ہے، وہ بالکل تیار ہے، اگر آپ بکری بن جائیں گے تو ملک آپ کے ہاتھ سے چلا جائے گا، کب سے میں کہہ رہا ہے کہ سرحدوں کو سیل کرو، باڑھ لگاؤ، اب مر رہے ہیں یہ کرنے کیلئے۔
خبر کا کوڈ : 693843
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب