0
Tuesday 30 Jan 2018 23:12
افغانستان میں امریکہ کی ناکامی دراصل امریکہ ہی کی ناکامی ہے، لیکن وہ ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہ رہا ہے

امریکی دھمکیوں کیوجہ سے پاک امریکہ تعلقات بدتر سے بدترین ہوتے چلے جائینگے، پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم

امریکی دھمکیاں معمول کی بات نہیں بلکہ خطرناک ہیں، پاکستان کو اس حوالے سے نہایت سنجیدگی کیساتھ سوچ بچار کرنا ہوگی
امریکی دھمکیوں کیوجہ سے پاک امریکہ تعلقات بدتر سے بدترین ہوتے چلے جائینگے، پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم
پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئرپرسن ہیں، وہ پچھلے ستائیس سالوں سے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے سے وابستہ ہیں، وہ 1989ء تا 1998ء بحیثیت لیکچرار، 1999ء تا 2005ء بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر اور 2005ء سے تاحال جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں، وہ اس سے قبل بھی شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئرپرسن رہ چکی ہیں، جامعہ کراچی کے علاوہ بھی دیگر نجی جامعات میں تعلیمی خدمات سرانجام دے چکی ہیں۔ وہ بین الاقوامی تعلقات سے متعلق موضوعات پر کئی کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں اور مشرق وسطٰی سمیت عالمی ایشوز پر وہ گہری نگاہ رکھتی ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم کیساتھ پاک امریکہ تعلقات، پاکستان کو امریکی دھمکیاں، افغانستان میں امریکی ناکامی، امریکی ڈرون حملے سمیت دیگر موضوعات کے حوالے سے جامعہ کراچی میں انکے دفتر میں ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر انکے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتی ہیں کہ امریکی کیمپ تبدیل کرنیکے حوالے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی واقع ہو رہی ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم:
پاکستان کی طرف سے تو اتنی کوئی تبدیلی ہوتی نظر نہیں آرہی ہے، جتنی خود امریکہ کی طرف سے آرہی ہے، امریکہ نے مجبور کر دیا ہے کہ پاکستان اب کسی اور آپشن کی طرف دیکھے، لیکن میرا خیال یہ ہے کہ پاکستان اب بھی یہ چاہ رہا ہے کہ کسی طرح سے امریکہ کیساتھ معاملات کو بہتری کی طرف لے جائے، اس کی ایک بڑی وجہ افغانستان بھی ہے، کیونکہ پاکستان بھی یہ احساس کرتا ہے کہ افغانستان میں پاکستان کی پالیسی کامیاب نہیں ہوگی، جب تک یہ دونوں ممالک مل کر بہتر طریقے سے معاملات حل نہ کریں، تو یہ وقت اور حالات کی ضرورت ہے۔

اسلام ٹائمز: امریکہ کے دوست پاکستان کے دشمن، پاکستان کے دشمن امریکہ کے دوست ہیں، کیا ضروری نہیں ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ہندوستان کے کیمپ کے مقابلے میں پاکستان، روس، چین اور ایران کا کیمپ بنتا نظر آرہا ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم:
مشرق وسطٰی کی صورتحال بھی بہت تیزی کیساتھ تبدیل ہو رہی ہے، اس میں اسرائیل، مصر، سعودی عرب کا ممکنہ اتحاد بن رہا ہے، یہ اتحاد ایران کو تنہا کرنے کیلئے بنایا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات میں بھی ابھی کچھ پیشرفت ہوئی ہے، پھر حالات نے پاکستان کو دھکیل دیا ہے کہ وہ چین، روس اور ایران کی طرف آپشن کے طور پر دیکھے، پھر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ٹارگٹ ایران یا اسرائیل نہیں ہے بلکہ بھارت ہے، پاکستان اپنی بہت ساری پالیسیاں بھارت کی بنیاد پر بناتا ہے، اگر بھارت اور امریکہ قریب آ رہے ہیں تو اس کے مقابلے میں پاکستان اور امریکہ دور ہٹیں گے اور پاکستان اور چین مزید قریب آتے چلے جائیں گے، یہ تو قدرتی طور پر ہو رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتی ہیں کہ امریکہ سے خراب ہوتے ہوئے تعلقات کے نتیجے میں پاکستان روس کے قریب ہو رہا ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم:
پاکستان کے دشمن ممالک کے ساتھ اگر امریکہ کے تعلقات بہتر ہونگے اور پھر پاکستان کی خارجی پالیسی میں مسئلہ کشمیر بہت حساس معاملہ ہے، اس حوالے سے امریکہ کی طرف سے پاکستان کیلئے کوئی مدد نہ آئے، بلکہ ایک طرح سے امریکہ کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی کی نفی کی گئی، تو پھر پاکستان بھی بیلنس کیلئے روس کی طرف دیکھے گا، یہ تو نہیں ہوسکتا نہ کہ پاکستان پھر امریکہ کے ہی دروازے پر جا کر کھڑا رہے، تو پاکستان نے بھی تو اپنی خود مختاری اور آزادی کا اظہار کرنا ہی ہے، تو میرا خیال ہے کہ اسی وجہ سے پاکستان روس کے قریب ہو رہا ہے، لیکن اس میں بہت تیزی نظر نہیں آتی، لیکن پاکستان روس کے آپشن کو بھی کھولا رکھنا چاہتا ہے، روس کے آپشن کو بند نہیں کرنا چاہتا۔

اسلام ٹائمز: امریکہ اپنے اس مؤقف پر بدستور قائم ہے کہ پاکستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ ہے، اسکے تناظر میں پاک امریکہ تعلقات کا مستقبل کیا نظر آتا ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم:
پاکستان کے خلاف امریکی مؤقف اور دھمکیوں کی وجہ سے پاک امریکہ تعلقات بدتر سے بدترین ہوتے چلے جائیں گے، بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کے امریکی اعلان کا معاملہ ہے، اسے صرف عالمی تناظر میں ہی نہیں دیکھا جائے گا، میں تو یہ سمجھتی ہوں کہ شاید کچھ عرصے بعد امریکہ کشمیر کے مسئلے پر بھی اسی قسم کی کوئی پالیسی بنا لے، جو خارج از امکان نہیں ہے، اگر امریکہ اس طرح کا یوٹرن لیتا ہے، اتنی سخت پالیسی رکھتا ہے، تو یقیناً پاک امریکہ تعلقات ایک بند گلی کی طرف جا رہے ہیں، کل ہی کی خبر ہے کہ امریکی کانگریس میں وہ بل پیش ہونے جا رہا ہے، جس میں پاکستان کی امداد مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔

اسلام ٹائمز: امریکہ کیجانب سے پاکستان کو دی جانیوالی دھمکیوں کو کس نگاہ سے دیکھتی ہیں، کیا یہ اچانک ہیں اور خطرے کی بات ہے یا نہیں اس میں کوئی نئی بات نہیں، ماضی میں بھی کئی بار دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں، کوئی خطرہ نہیں۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم:
میرا خیال ہے کہ پاکستان کیلئے امریکی دھمکیوں میں خطرہ تو ہے، کیونکہ پاکستان کو اس سطح پر کبھی بھی امریکہ نے دھمکیاں نہیں دی ہیں، اگر آپ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کو نظر انداز کر دیں، لیکن امریکی بیوروکریسی اور اعلٰی حکام کی جانب سے بھی مسلسل دیئے جانے والے دھمکی آمیز بیانات کو تو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا یہ خطرناک ہے، پاکستان کو اس حوالے سے نہایت سنجیدگی کے ساتھ سوچ بچار کرنا ہوگی، یہ دھمکیاں کوئی معمولی بات نہیں ہیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستان کے پاس امریکہ کیلئے اپنی سرزمین پر زمینی راستے بند کر دینے کا مضبوط آپشن ہے، آپ اس آپشن کو کتنا مؤثر سمجھتی ہیں۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم:
اس آپشن کیلئے پاکستان میں مضبوط حکومت کی ضرورت ہے، صرف اور صرف ملٹری اسٹیبلشمنٹ یہ کام نہیں کرسکتی، اس کے پیچھے ایک مضبوط جمہوری حکومت کی ضرورت ہے، جو یہ اسٹینڈ لے سکے، پاکستان کے پاس ہمیشہ سے یہ آپشن موجود تھا، لیکن اسے کبھی استعمال نہیں کیا گیا اور اس وقت جو استعمال کیا گیا جب آپ کو حقیقی خلاف ورزی نظر آئی، آپ اس کو مختلف سطح کے اوپر بند کرسکتے ہیں نا، کنٹینرز کی تعداد، ٹائمنگ سمیت مختلف قسم کے طریقے ہیں، جنہیں استعمال کیا جا سکتا ہے، ضروری نہیں کہ کوئی اچانک سے کوئی واقعہ رونما ہو یا کارروائی ہو تو ہی اس آپشن کا استعمال کیا جائے، ضروری نہیں ہے کہ کسی ردعمل کے طور پر ہی سپلائی لائن بند کریں، بلکہ اسے کسی بھی وقت استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کیلئے ایک مضبوط جمہوری پارلیمنٹ کی ضرورت ہے، جو قرارداد پاس کرے، تاکہ دنیا کو یہ پتہ چلے کہ فوج کا مطالبہ نہیں بلکہ عوامی مطالبہ ہے۔

اسلام ٹائمز: امریکی دھمکیوں، دباؤ کو کاؤنٹر کرنے کیلئے پاکستان کے پاس کون کون سے آپشن ہیں کہ جنہیں اختیار کیا جا سکتا ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم:
ایک تو یہی ہے کہ سپلائی لائن بند کر دے، لیکن یہ ڈائریکٹ پریشر ہے، اس کے علاوہ پاکستان کو عالمی برادری میں امریکی دھمکیوں اور دباؤ پر بات کرنے اور مسئلہ اٹھانے کی ضرورت ہے، وہاں اس بات کو بھیجنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے، پاکستان ہرحال میں ایک پرامن پڑوسی چاہتا ہے، چاہے وہ افغانستان ہو یا بھارت۔ پھر عالمی فورمز، اہم مواقعوں پر خصوصی نمائندہ وفود بھیجے، خاص طور پر یورپ اور مڈل ایسٹ میں۔ پھر ملکی و عالمی سطح پر اپنے موقف کے حق میں رائے عامہ ہموار کی جائے۔

اسلام ٹائمز: امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامی کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے، آپ اس حوالے سے کیا کہیں گی۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم:
پھر افغانستان میں جو امریکہ کی ناکامی ہے، وہ دراصل امریکا ہی کی ناکامی ہے، لیکن امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامی کا پورا ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہ رہا ہے، جیسا کہ پہلے بھی امریکہ پاکستان پر ڈالتا رہا تھا اور پاکستانی حکومتیں خاموش تھیں، لیکن اب چونکہ کوئی امریکی امداد نہیں مل رہی، کوئی حمایت نہیں مل رہی، تو پاکستان کیوں اس گناہ بے لذت میں پڑ جائے۔ پھر آج کل افغانستان میں جو پے در پے دہشتگردی کے واقعات ہو رہے ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پہلے پاکستان آپ کی مدد کر رہا تھا، اب انٹیلی جنس شیئرنگ نہیں ہو رہی، اب دیکھ لیں آئے، دن وہاں بم دھماکے ہو رہے ہیں، یہ بھی تو ممکن ہے نا کہ آپ پاکستان کی انٹیلی جنس شیئرنگ پر انحصار کر رہے تھے، پاکستان نے جیسے ہی اپنا ہاتھ کھینچا، آپ وہاں روز روز ہونے والے دہشتگردی کے واقعات پر قابو پانے میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: گذشتہ دنوں پاکستان میں امریکہ نے ڈرون حملہ کیا، کیا مستقبل میں امریکی ڈرون حملوں میں اضافہ ہوتا نظر آتا ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم:
امریکہ پاکستان کے خلاف عسکری کارروائی بھی کرسکتا ہے، یہ ہم دیکھ بھی رہے ہیں کہ آہستہ آہستہ امریکی ڈرون حملوں کا جو سلسلہ شروع ہوگیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ امریکہ دوبارہ اپنی اسی پالیسی پر پلٹ رہا ہے، جو سلالہ حملے سے پہلے تھی، جس میں تسلسل کے ساتھ امریکی ڈرون حملے کئے گئے تھے، پھر افغانستان کے تیزی کے ساتھ خراب ہوتے حالات امریکہ کے کنٹرول میں نہیں آئیں گے، وہ تو پاکستان کی انٹیلی جنس شیئرنگ اور مدد کی وجہ سے یہ افغانستان میں حالات کنٹرول کر رہے تھے، پھر ظاہر ہے کہ سارا الزام پاکستان پر عائد کیا جائے گا اور ویسے ہی امریکی ڈرون حملے کے امکانات بھی بڑھتے چلے جائیں گے۔

اسلام ٹائمز: کہا جا رہا ہے کہ شام و عراق میں شکست کے بعد امریکی ہتھیار اور معاونت کیساتھ داعش افغانستان میں آچکی ہے، جو بہت جلد پاکستان کیخلاف بڑی دہشتگرد کارروائیاں شروع کر دیگی، لہٰذا پاکستان کو چاہیئے کہ افغان طالبان کو اپنا دوست بنائے، مقبوضہ کشمیر کا محاذ دوبارہ کھولا جائے۔ کیا کہیں گی اس حوالے سے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم:
میں سمجھتی ہوں کہ پاکستان نے بڑی مشکل سے اپنے آپ کو ان چیزوں سے الگ کیا ہے، پھر انٹرنیشنل مانیٹرنگ اتنی زیادہ ہے کہ اگر پاکستان ریاستی سطح پر ان چیزوں کی سپورٹ کریگا، تو ہمارے خلاف الزامات کو تقویت ملے گی۔ ایک رائے یہ ہے کہ جب دنیا ہمیں مان ہی نہیں رہی ہے تو ہمیں چاہیئے کہ ہم ہر وہ کام کریں، جس کے اوپر ہم پر الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ یہ رائے اس لئے درست نہیں کہ دنیا صرف امریکہ اور بھارت ہی نہیں ہے، امریکہ اور بھارت کو چھوڑ کر باقی دنیا ہماری اتنی مخالف نہیں ہے، لہٰذا ہمیں ایسے اقدام سے باقی دنیا کو اپنا مخالف بنانے کے بجائے امریکہ اور بھارت کو قائل کریں۔ میں نہیں سمجھتی کہ پاکستان کو دوبارہ طالبان کے ساتھ معاملات کرنے چاہیئے، داعش سمیت دیگر دہشتگرد عناصر کا مقابلہ کرنے کیلئے کسی دوسرے دہشتگرد سے دوستی کرنا عقلمندانہ فیصلہ نہیں ہوسکتا، ہم پہلے ہی اپنے پرانے داغ نہیں دھو پائے ہیں کہ مزید نئے داغ لگا لیں۔
خبر کا کوڈ : 700962
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب