0
Wednesday 14 Mar 2018 23:22
خواجہ آصف کی قومی اسمبلی میں امریکا کو بھڑکیں پاکستانی عوام کو بے وقوف بنانیوالی ریاستی پالیسی کا حصہ ہیں

بھارت، ایران و افغانستان سے دوستی کی پالیسی نواز شریف کا قصور ہے، جو پاکستان کی ڈیپ اسٹیٹ کو قبول نہیں، پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان

سول حکومت کی بالادستی ہونی چاہیئے، نان اسٹیٹ ایکٹرز کی سرپرستی کی پالیسی ختم کی جائے، پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات کیلئے کوششیں کرنی چاہیئے
بھارت، ایران و افغانستان سے دوستی کی پالیسی نواز شریف کا قصور ہے، جو پاکستان کی ڈیپ اسٹیٹ کو قبول نہیں، پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان
پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان پاکستانی صحافت کی انتہائی معروف شخصیت اور سینئر بے باک کالم نگار و تجزیہ کار ہیں، آپ وفاقی جامعہ اردو کے شعبہ ابلاغ عامہ کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں اور آجکل بحیثیت Adjoint پروفیسر جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ سے وابستہ ہیں۔ آپ گذشتہ تیس سال سے زائد عرصے سے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کے فرائض بھی سرانجام دے رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ آپ چالیس سال سے زائد عرصے سے صحافت سے بھی وابستہ ہیں، آپ کے کالم و تجزیئے روزانہ مختلف قومی اخبارات و جرائد کی زینت بنتے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان کے ساتھ موجودہ و آئندہ ملکی سیاسی صورتحال، وزیر خارجہ خواجہ آصف کی قومی اسمبلی میں حالیہ تقریر کے حوالے سے جامعہ کراچی میں ان کے دفتر میں ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر آپ کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: چیئرمین سینیٹ الیکشن کے تناظر میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی ہم آہنگی کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان:
پاکستان میں ایک تو ریاست ہے،جس کا آئین ہے 1973ء کا، اس ریاست کے تین ستون ہیں، مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ایک اور ریاست بھی ہے، جو ان سب سے بالادست ہے، جس کا ذکر مولانا فضل الرحمان نے کیا کہ جو زرداری پر بھاری، وہ سب پر بھاری، تو یہ جو ڈیپ اسٹیٹ ہے، یہ اسی کا کارنامہ ہے، ہمارے ہاں یہ ڈیپ اسٹیٹ 1947ء سے موجود ہے، بلوچستان میں اچانک زہری حکومت کا تبدیل ہونا، پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کے باوجود مسلم لیگ (ن) کے اراکین کا اچانک آزاد ہو، پھر ان کا سینیٹرز منتخب کرنا اور پھر سینیٹ الیکشن میں حصہ لینا، پھر دو مخالف سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کا اچانک حمایت کرنا، یہ سب ڈیپ اسٹیٹ کی حکمت عملی کا نتیجہ ہے، جس نے اس بار یہ طے کر رکھا ہے کہ پنجاب سے مسلم لیگ (ن) کو صاف کر دینگے۔

اسلام ٹائمز: آئندہ سیاسی منظر نامہ کیا نظر آرہا ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان:
ابھی سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ عبوری حکومت پر اتفاق نہیں ہوگا، یہ سپریم کورٹ بنائے گی، نواز شریف اور مریم نواز جیل میں ہونگے، مجھے ان کی یہ بات خاصی حد تک حقیقت پر مبنی نظر آتی ہے، اس بات کا امکان ہے کہ اگلی حکومت جو بنے گی، وہ ایک مخلوط حکومت ہوگی، بہت کمزور حکومت ہوگی، زرداری صاحب بھی اس کیک کے حصہ دار بنیں گے، عمران خان بھی حصہ دار بنیں گے اور صورتحال ایک کمزور حکومت بننے کی طرف جائے گی۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کی جو خواہش ہے ڈیپ اسٹیٹ کی، اس پر عملدرآمد کا جو پلان ہے وہ شروع ہو چکا ہے، اٹھارویں ترمیم میں دو بہت بنیادی باتیں ہیں، ایک تو یہ کہ 58 (b)2 ختم کر دی گئی تھی، جو کہ صدر مملکت کا اختیار تھا اسمبلیوں کو توڑنے کا، دوسرا صوبائی خودمختاری کی گئی، جس کا نقشہ 1940ء کی قرارداد لاہور میں پیش کیا گیا تھا، اور بہت سارے ماہرین یہ کہتے ہیں کہ 50ء کی دہائی میں اگر یہ اٹھارویں ترمیم آجاتی, تو آج بنگال بھی پاکستان کے ساتھ ہوتا۔

اسلام ٹائمز: مسلم لیگ (ن) کو سائیڈ لائن کرنے کی آپ کیا وجوہات سمجھتے ہیں۔؟
پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان:
نواز شریف کا ایک ہی قصور ہے کہ انہوں نے بھارت، ایران اور افغانستان سے دوستی کی پالیسی اختیار کی، جو پاکستان کی ڈیپ اسٹیٹ کو قبول نہیں یعنی پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات ڈیپ اسٹیٹ کو قبول نہیں، اسی کی سزا نواز شریف کو دی گئی، نواز شریف اس حد تک بڑھ گئے تھے کہ انہوں نت بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو ڈیپ اسٹیٹ کی کلیئرنس کے بغیر بلا لیا اور نواز شریف نے اپنی انتخابی مہم میں دونوں ممالک کے درمیان دوستی کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کیلئے جو بین الاقوامی ضوابط ہیں، اس کے تحت بھارت کو تجارتی طور پر پسندیدہ ملک قرار دینے پر عملدرآمد کا بھی اعلان کیا تھا۔ نواز شریف کے خلاف سارے معاملات اسی سلسلے میں ہو رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف جو کارروائی ہو رہی ہے، اس کی بنیادی وجہ کرپشن نہیں۔؟
پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان:
کرپشن کا الزام تو تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین پر ہے، کرپشن کا الزام تو ڈیپ اسٹیٹ کے بارے میں بھی ہے، اس کے ساتھ ساتھ نواز شریف کے خلاف قانون کی عملداری کا معاملہ بھی نہیں ہے، ورنہ پرویز مشرف جیل میں ہوتے، بجائے اس کے کہ انہیں بیرون ملک بھیج دیا جاتا، مسئلہ خارجہ و داخلہ پالیسی پر کنٹرول کا ہے۔

اسلام ٹائمز: آئندہ عام انتخابات ہوتے نظر آ رہے ہیں یا نہیں۔؟
پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان:
اگر نواز شریف جیل نہیں گئے اور انہیں موبلائزیشن کا موقع ملتا رہا، پھر تو آئندہ عام انتخابات ہونے کے امکانات کم ہو جائیں گے اور اگر نواز شریف جیل چلے گئے، ان کی تقریریوں پر بابندی ہوگئی، مسلم لیگ (ن) کے لوگ ٹوٹنے لگے، تو پھر الیکشن ہو جائیں گے۔

اسلام ٹائمز: 9 مارچ کو وزیر خارجہ خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے روس کیخلاف میڈ ان امریکا جہاد لڑا، اب کسی کی پراکسی نہیں بنیں گے، خواجہ آصف نے امریکا کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا، اسے کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان:
خواجہ آصف نے جو یہ بات کہی ہے کہ ہم نے روس کیخلاف امریکی میڈ جہاد کیا تھا، یہ فوج کی ڈکٹرائن کے خلاف بات ہے، کیونکہ جنرل ضیا الحق نے اسی جہاد کے ذریعے ہی تو اپنے خاندان کو، فوجی جرنیلوں کو اور ملاؤں کو ارب پتی کیا، اور پاکستان کو ایک بڑے بحران میں مبتلا کیا، ان کی یہ بات تو سمجھ میں آ رہی ہے، لیکن باقی امریکا کو بھڑکیں مارنے کی باتیں کیں، ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ صرف عوام کو دکھانے کیلئے ہے، یہ بیان بازی پاکستانی عوام کو بے وقوف بنانے والی ریاست کی پالیسی کا حصہ سمجھتا ہوں، یہ عوام کے سامنے کچھ کرتے ہیں اور باہر جا کر کچھ کرتے ہیں، یہاں محض یہ بتانے کیلئے کہ جی ہم غیر ضروری طور پر ایک ایسی مصنوعی فضا بناتے ہیں۔ یہ مصنوعی فضا فوج بھی بناتی ہے اور منتخب سیاسی عناصر بھی بناتے ہیں، کیونکہ سیاسی عناصر اگر دوسری طرف جائیں گے تو پھر ظاہر ہے کہ ان کیلئے مشکل ہو جاتی ہے اور اس حوالے سے مجھے یوسف رضا گیلانی کا وہ بیان یاد آ جاتا ہے، جو انہوں نے 2 مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی فوجی آپریشن کے واقعہ کے بعد کہا تھا کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم نے ویزے دیئے امریکیوں کو، تو یہ ایبٹ آباد میں امریکی کہاں سے آگئے بغیر ویزے کے۔ اس بیان کی سزا یوسف رضا گیلانی کو ملی۔

اسلام ٹائمز: عالمی سطح پر پاکستان کہاں کھڑا نظر آتا ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان:
پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے، پاکستان کی جو گزشتہ پالیسی رہی ہے، سابق سپہ سالار جنرل راحیل شریف کی، اس کے نتیجے میں پاکستان کی سرحدیں غیر محفوظ ہوگئیں، پاکستان کے ایران سے تعلقات خراب ہوگئے، بھارت اور افغانستان سے خراب ہوگئے، خود چین کا مؤقف بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے تبدیل ہوا ہے، اس لئے پاکستان تنہائی کا شکار ہے، پاکستان مشکلات کا شکار ہے اور اس سب کی ذمہ داری ڈیپ اسٹیٹ پر عائد ہوتی ہے۔ دہشتگردی سے روس کو بھی خطرہ ہے، مسلم ٹیررازم سے، وہ بھی آپ کے ساتھ ایک حد سے زیادہ آگے نہیں جا سکتے، چیچنیا میں بھی تو آپ نے لوگ بھیجے نا، سینٹرل ایشیائی ممالک بھی تو اس کا شکار ہوتے ہیں نا، تو وہ بھی بہت زیادہ آپ کی حمایت نہیں کر سکیں گے۔ چین کے صوبے سنکیانگ میں جو صورتحال ہے، وہ نہیں چاہتا کہ یہاں سے لوگ وہاں جہاد کیلئے جائیں، اس لئے آپ کو اس صورتحال کو کنٹرول تو کرنا ہوگا۔

اسلام ٹائمز: پاکستان کو درپیش ان مسائل کا حل کیا سمجھتے ہیں۔؟
پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان:
حل یہ ہے کہ سول حکومت کی بالادستی ہونی چاہیئے، نان اسٹیٹ ایکٹرز کی سرپرستی کی پالیسی ختم ہو جانی چاہیئے، پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات کیلئے کوششیں کرنی چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 711550
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب