0
Sunday 25 Mar 2018 08:30
دشمن آنیوالے محرم الحرام کے دوران دوبارہ ہمارے عقائد پر حملہ آور ہونیکا منصوبہ بنا چکا ہے

بشارت عظمٰی کانفرنسز تشیع کے عقائد بگاڑنے کی سازشوں کیخلاف بند ہے، قاضی نیاز نقوی

ملی یکجہتی کونسل مذہبی جبکہ متحدہ مجلس عمل سیاسی اتحاد ہے
بشارت عظمٰی کانفرنسز تشیع کے عقائد بگاڑنے کی سازشوں کیخلاف بند ہے، قاضی نیاز نقوی
علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی جامعۃ المنتظر لاہور کے سینیئر استاد اور ملی یکجہتی کونسل پاکستان اور وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر ہیں۔ سیاسی و مذہبی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں، مختلف معاملات میں وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کی ترجمانی بھی کرتے ہیں، سیاست میں بھی دلچسپی ہے، سیاسی بصیرت کی بدولت مختلف سیاسی جماعتوں کے اجتماعات میں جامعہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم پر بھی ملت جعفریہ کی موثر آواز ہیں۔ گذشتہ دنوں جامعۃ المنتظر میں ہونیوالی بشارت عظمٰی کانفرنس کے موقع پر ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے ان کیساتھ ایک مختصر نشست کی، جسکا احوال قارئین کیلئے پیش کر رہے ہیں۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: بشارت عظمٰی کانفرنس کے مقاصد کیا ہیں اور ان کانفرنسز کے انعقاد کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔؟
علامہ قاضی نیاز حسین نقوی:
بشارت عظمٰی کانفرنس کا مقصد علماء کا اتحاد قائم کرنا ہے، اس کے انعقاد کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ ملک پاکستان میں ملتِ جعفریہ کے عقائد پر حملے کئے جا رہے تھے، یہ حملے منظم سازش کے تحت ہو رہے تھے اور ابھی بھی ہو رہے ہیں، مخصوص لوگوں کو استعمال کرتے ہوئے دشمن نے ملت کا چہرہ مسخ کرنے کی کوشش کی، جس کے سامنے بند باندھنا ضروری تھا۔ اس لئے ہم نے اس حوالے سے علماء کو متحد کیا اور ان کانفرنسز کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔ اس میں شریک علماء کی خصوصی تربیت کی جاتی ہے اور انہیں سکھایا جاتا ہے کہ دشمن کی سازش کا ادراک کس طرح کرنا ہے اور ادراک کے بعد اس سازش کا توڑ کیسے کرنا ہے۔ دشمن نے چند مقررین کو خریدا اور ان کو ڈالر اور پاؤنڈز دیئے گئے اور اس کے بعد پاکستان میں سٹیج حسینی کو ہدف بناتے ہوئے ہمارے عقائد پر حملے کئے گئے اور ان حملوں کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے، سنا ہے مستقبل میں وہ مزید تیاری کیساتھ حملہ آور ہونے کا منصوبہ بنا چکے ہیں، اس لئے ہم نے ان کانفرنسز کا انعقاد ضروری سمجھا۔ اس حوالے سے علامہ قبلہ حافظ ریاض حسین نجفی اور علامہ محمد افضل حیدری کی خصوصی کاوشیں ہیں، جنہوں نے کامیاب کانفرنس کروائیں اور ہم اپنے مقاصد کے حصول میں کافی حد تک کامیاب رہے، علماء کیساتھ ساتھ عوام بھی باشعور ہیں، عوام نے بھی ان سازشوں کا ادراک کیا اور تسلیم کیا کہ سٹیج حسینی کا غلط استعمال ہو رہا تھا، جسے روکا جائے گا۔

اسلام ٹائمز: اب تک آپ کتنی ’’بشارت عظمٰی کانفرنسز‘‘ کروا چکے ہیں۔؟؟
علامہ قاضی نیاز حسین نقوی:
ہم پاکستان کے مختلف شہروں میں اب تک دس سے زائد کانفرنسز کروا چکے ہیں، جن میں علماء نے بھرپور شرکت کی۔ ان کانفرنسز میں ہم نے علماء کو لائحہ عمل دیا اور بتایا کہ اپنے عقائد کی حفاظت کیلئے وہ کس طرح کردار ادا کرسکتے ہیں۔ الحمدللہ اس حوالے سے علماء نے بھرپور تعاون کیا۔ اب علماء عوامی رابطے میں ہیں اور عوام کو اس حوالے سے آگاہی دے رہے ہیں۔ ہمیں یقین کامل ہے کہ ہم دشمن کی سازشوں کو ناکام بنا دیں گے۔ دشمن آنیوالے محرم الحرام کے دوران دوبارہ ہمارے عقائد پر حملہ آور ہونے کا منصوبہ بنا چکا ہے۔ اس لئے علماء نے بھی کمر کس لی ہے کہ ان سازشوں کو مقابلہ کریں گے۔

اسلام ٹائمز: علماء کیساتھ روابط کیساتھ ساتھ آپ نے اور کیا اہتمام کیا ہے کہ یہ سازش دم توڑ سکے اور آپکو کامیابی ملے۔؟؟
علامہ قاضی نیاز حسین نقوی:
جی، ہم نے جہاں علماء کو ذہنی طور پر تیار کیا ہے کہ وہ اپنا اپنا کردار ادا کریں، وہاں ہم نے بانیان مجالس سے بھی ملاقاتیں کی ہیں اور انہیں قائل کیا ہے کہ وہ ایسے خطباء اور ذاکرین کو دعوت نہ دیں، جو عقائد بگاڑنے کا باعث بنتے ہیں، ایسے خطباء اور ذاکرین کا ایک مخصوص گروہ ہے، جس سے سب واقف ہے، سب جانتے ہیں کہ یہ مخصوص گروہ ہی ہے، جو عقائد بگاڑنے میں مصروف ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ عوام بھی جانتے ہیں، آج کل میڈیا کا دور ہے اور سوشل میڈیا تو ہر پل کی ہر ہر خبر عوام تک پہنچا رہا ہے، اس لئے اس گروہ کی حقیقت بھی عوام کے سامنے آچکی ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ اس گروہ کے لوگ کس ملک جاتے ہیں اور وہاں سے کیا پلان لے کر واپس آتے ہیں اور پھر پاکستان میں کیا کرتے ہیں، ان حقائق سے سب آگاہ ہیں، اب ہم نے ان کے راستے میں بند باندھنا ہے اور ان شاء اللہ ہم کامیاب ہوں گے۔

اسلام ٹائمز: بشارت عظمٰی کانفرنسز کا دائر کار مزید بھی بڑھا رہے ہیں، ابھی تک تو یہ بڑے بڑے شہروں میں ہی منعقد کی گئی ہیں، کیا انہیں مزید بھی بڑھائیں گے۔؟؟
علامہ قاضی نیاز حسین نقوی:
جی بالکل، ہم ان کانفرنسز کا دائرہ ضلع کی سطح پر بھی بڑھائیں گے، اس کیلئے دیہاتوں میں بھی کانفرنسز کروائیں گے، کیونکہ یہ عقائد بگاڑنے والا گروہ ہر جگہ پہنچتا ہے، دیہی علاقوں میں چونکہ لٹریسی ریٹ شہروں کی نسبت کم ہوتا ہے، اس لئے یہ لوگ دیہی لوگوں کو آسانی سے شکار بنا لیتے ہیں۔ اس لئے ہم ان کانفرنسنز کو ضلع، پھر تحصیل اور آخر میں ٹاؤن کی سطح پر لے جائیں گے۔ ہمارا مقصد عوام کی بھلائی اور اصلاح ہے، علماء کا کام معاشرے کی اصلاح ہے اور الحمدللہ اس معاملے میں علماء ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔ علماء نے خود کہا ہے کہ ہم اس گروہ کا مقابلہ کریں گے، ہم کسی کو اپنے عقائد بگاڑنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

اسلام ٹائمز: زیادہ تر کون سی باتوں کو متنازع بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ عوام ان نقاط سے بھی آگاہ رہیں۔؟؟
علامہ قاضی نیاز حسین نقوی:
تشیع کے بنیادی عقائد پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ عقیدہ توحید کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ کچھ دینی شخصیات کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے کہ نعوذ باللہ انہیں خدا سے ملایا جا رہا ہے۔ شیعوں کے عقائد یہ نہیں ہیں، اسی طرح شہادت ثالثہ کا ایشو اب کھڑا کر دیا گیا ہے، جبکہ آج سے دس پندرہ سال پہلے یہ معاملہ نہیں تھا، تو اس کیساتھ قرآن کی حقانیت پر بھی دروغ گوئی کی جاتی ہے، اسی طرح کے اور بہت سے نقاط ہیں، جن کو بگاڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اگر ہم اس پر خاموش رہتے ہیں تو دنیا کے سامنے تشیع کا ایسا چہرہ آئے گا کہ لوگ شیعوں کو فوراً کافر ڈکلیئر کر دیں گے۔ علماء نے پہلے بھی قربانیاں دیں، تکفیری گروہ کو بے نقاب کیا۔ اس حوالے سے علامہ ساجد علی نقوی کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ انہوں نے تکفیریوں کو بے نقاب کیا اور کافر کافر کا نعرہ بند کروایا۔ جب دشمن کو اس میں ناکامی ہوئی تو پھر انہوں نے ہمارے اندر سے بندے خریدے اور سٹیج کو استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ پہلے جھنگ کی ایک جماعت بنائی گئی، اس نے پورے ملک میں کافر کافر کا نعرہ لگوایا، وہ ہم نے ناکام بنائی تو اب ہمارے اندر سے ذاکرین کو چنا گیا اور ان سے ہمارے عقائد پر حملے کروائے گئے، جنہیں ہم نے ناکام بنانا ہے اور بشارت عظمٰی کانفرنسز اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ ہم خلوص دل کیساتھ لگے ہوئے ہیں، ان شاء اللہ اس میں ہمیں ضرور کامیابی حاصل ہوگی۔

اسلام ٹائمز: اس معاملے میں ہم نے بزرگوں کو سخت گیر جبکہ نوجوانوں کو معتدل پایا ہے، کیا ایسا  نہیں کہ علماء نوجوانوں سے رابطہ رکھیں، نئی نسل کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے، جب علماء اور نوجوانوں میں روابط مضبوط رہیں گے تو ایسی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہوسکے گی، جبکہ علماء نوجوانوں سے دور ہوچکے ہیں۔؟؟
علامہ قاضی نیاز حسین نقوی:
نہیں ایسی بات نہیں کہ علماء نے نوجوانوں کو چھوڑ دیا ہے یا ان سے دور ہوچکے ہیں، ماشاء اللہ ہمارے نوجوان با شعور ہیں، نوجوانوں میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی ہے اور ان میں برداشت کا مادہ بھی موجود ہے، ماضی میں کچھ سازشیں ہوئی اور نوجوانوں کو علماء سے متنفر کرنے کی کوشش کی گئی، مگر علماء نے ہی اس سازش کو بھی ناکام بنایا اور نوجوانوں کی رہنمائی اور رہبری میں علماء اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، آپ کی یہ بات درست ہے کہ بزرگوں کی نسبت نوجوانوں کو قائل کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، اس لئے ہم نوجوانوں کیساتھ بھی رابطے میں ہیں اور ان کی تربیت کیلئے بھی علماء کا کردار لائق تحسین ہیں، جب بھی نوجوان ہمیں اپنے پروگرامز میں بلاتے ہیں تو ہم حاضر ہوتے ہیں، اس کی علاوہ بشارت عظمٰی کانفرنسز کے بعد ہم نوجوانوں کیلئے بھی خصوصی تربیتی  نشستوں کے اہتمام کا پروگرام رکھتے ہیں اور ان شاء اللہ اسے بھی کامیابی سے چلایا جائے گا۔

اسلام ٹائمز: آغا صاحب! آپ ملی یکجہتی کونسل کے نائب صدر ہیں، اب متحدہ مجلس عمل بحال ہوچکی ہے، آپ سمجھتے ہیں کہ ملی یکجہتی کونسل کی موجودگی میں ایم ایم اے کی ضرورت تھی اور کیا ایم ایم اے ملت جعفریہ کے مسائل بھی حل کر پائیگی۔؟؟
علامہ قاضی سید نیاز حسین:
دیکھیں جی، ملی یکجہتی کونسل مذہبی جماعتوں کا مذہبی اتحاد ہے، جس کا مقصد مذہبی ہم آہنگی اور باہمی رواداری کو فروغ دینا ہے، اس حوالے سے ملی یکجہتی کونسل کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، ملی یکجہتی کونسل نے ہی علماء اور دینی عمائدین کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا، اس سے تکفیریت کو بے نقاب کرنے میں مدد ملی اور ملت جعفریہ کی آواز بھی اعلٰی ایوانوں میں پہنچی اور بہت سے معاملات حل کرنے میں مدد ملی، آپ دیکھیں کہ تکفیری تنہا ہوچکے ہیں، ان کو کوئی لفٹ نہیں کراتا، جبکہ کوئی بھی پلیٹ فارم بنے ملت جعفریہ کی نمائندگی لازم ہوتی ہے، جہاں تک متحدہ مجلس عمل کی بات ہے تو یہ مذہبی جماعتوں کا سیاسی اتحاد ہے۔ مذہبی قوتیں اس پلیٹ فارم سے سیاسی عمل میں حصہ لیں گی، اس میں بھی علامہ ساجد علی نقوی صاحب ملت تشیع کی نمائندگی کر رہے ہیں اور اب کراچی میں ہونیوالے اجلاس میں صدر اور سیکرٹری کا چناؤ ہوچکا ہے، جبکہ اس کے آئندہ اجلاس میں دیگر عہدیداروں کو انتخاب بھی عمل آجائے گا۔ ایم ایم اے سیاسی پلیٹ فارم ہونے کی وجہ سے عام انتخابات میں حصہ لے گی اور اپنے امیدوار کھڑے کرے گی۔ اس سے یہ ہوگا کہ پارلیمنٹ میں مذہبی جماعتوں کو نمائندگی ملے گی۔ جب دینی رہنما پارلیمنٹ میں جائیں گے تو کرپشن، بدعنوانی اور جھوٹ کی سیاست کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ اس حوالے سے آئندہ الیکشن کیلئے لائحہ عمل اور ایم ایم اے کا منشور تیار کیا جا رہا ہے، جس میں تمام تفصیلات جلد منظر عام پر آجائیں گی۔
خبر کا کوڈ : 713636
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب