0
Thursday 19 Apr 2018 12:58
تمام غیر مسلم قومیں مسلمانوں کیخلاف ایک صفحے پر ہیں، پہلے انہوں نے شیعہ سنی کا معاملہ اٹھایا اور اب سنی سنی کے گلے پڑینگے

اسوقت دنیا واضح طور پر حزب اللہ اور حزب الشیطان کے بلاک میں تقسیم ہوگئی ہے، محمد عبداللہ گل

امریکہ اور مغرب ہمیں مسلکوں اور رنگ و نسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ مسلمان ہونے کی نگاہ سے دیکھتا ہے
اسوقت دنیا واضح طور پر حزب اللہ اور حزب الشیطان کے بلاک میں تقسیم ہوگئی ہے، محمد عبداللہ گل
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ حمید گل مرحوم کے فرزند عبد اللہ گل نے ابتدائی تعلیم ایف جی سکول سے حاصل کی، نیو یارک یونیورسٹی سے بزنس میں ماسٹر کیا ہے، عبداللہ گل اسوقت الجزیرہ کیلئے آرٹیکل لکھتے ہیں، اسکے علاوہ امریکہ سمیت جنوبی افریقی ممالک کے صحافتی اداروں کیلئے بھی آرٹیکلز لکھتے ہیں۔ عبداللہ گل میثاق ریسرچ کے نام سے ایک سینٹر بھی چلا رہے ہیں، جسکا فوکس ہاٹ ریجن ہے۔ اس میں ایران، پاکستان، کشمیر، انڈیا اور افغانستان شامل ہیں۔ عبداللہ گل کیمطابق وہ 2007ء سے تمام یوتھ تنظیموں کے منتخب صدر بھی ہیں، اسکے علاوہ وہ محسنانانِ پاکستان فاونڈیشن ادارہ بھی چلا رہے ہیں، جسکا مقصد غیر سیاسی لوگوں کو اپنے ساتھ ملانا ہے۔ عبداللہ گل اسوقت تحریک جوانان کے صدر بھی ہیں۔ پاکستان سمیت بین الاقوامی حالات حاضرہ پر ایک خاص نقطہ نگاہ رکھتے ہیں، اسی لئے مختلف ٹی وی چینلز پر انکے بےلاگ تبصروں کو بیحد سراہا جاتا ہے۔ اسلام ٹائمز نے عبداللہ گل سے شام پر امریکی جارحیت اور مسلمان ملکوں کے کردار کے حوالے سے ایک تفصیلی انٹرویو کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: شام پر امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی جارحیت پر کیا کہتے ہیں۔؟
عبداللہ گل:
یہ
سراسر غلط ہے، دشمن کی سازش ہے، عالم اسلام کو کمزور کرنے کی بات ہے، عرب ممالک کا کردار صفر اور انتہائی منفی ہے، اگر ایک برادر اسلامی پر نصاریٰ کو حملے کی اجازت دیں گے اور اس پر راضی ہوں گے تو اس کا مطالب ہے کہ مسلمانوں کیلئے تکالیف دینے کی اجازت دے رہے ہیں، ایک طرف افغانستان میں کھلی چھٹی دی ہوئی ہے، دوسری طرف عراق میں اور اب شام میں بھی کھلی چھٹی دیدی ہے، یمن کے اندر بھی مسلمان ہی پس رہے ہیں۔ یہ ظلم کی انتہاء ہے، خدارا اب بھی جاگ جائیں، اُس وقت سے ڈریں جب ہمیں گھروں میں گھس کر مارا جائیگا، رنگ نسل فقط پہنچان کیلئے ہے، قرآنی تعلیمات سے منحرف ہوئے ہیں، اسی وجہ سے ہمارا زوال شروع ہوا ہے، روس اور چین اس خطے میں اپنا کردار ادا کرچکا ہے، پاکستان سمیت دیگر ممالک نے اس معاملے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، اس کا دنیا اور آخرت میں حساب دینا ہوگا، شام میں مسلمان مشکلات کا شکار ہیں، عورتوں کی بےحرمتی کی جا رہی ہے، ہم خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں، عرب ممالک جن کو ساتھ دینا چاہیئے تھا، لیکن انہوں نے نصرانی فوج کو دعوت دی، ماضی میں اس کی مثالیں موجود ہیں، افغانستان، عراق اور لیبیا کا حال ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ چین اور روس کا اس پر ردعمل آئیگا اور میں اس کے انتظار میں ہوں۔ اصل بات یہ ہے کہ جب امریکہ عراق اور افغانستان میں کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہا تھا، تب یہ مہذب دنیا کہاں تھی۔؟

اسلام ٹائمز: امریکہ نے کیمیائی ہتھیاروں کے استمال کا الزام لگا کر یہ اسٹرائیک کی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی ٹیم ابھی پہنچی ہی نہیں تھی کہ انہوں نے جارحیت کر دی، خود ہی مدعی اور خود ہی منصف ٹھہرے۔؟
عبداللہ گل:
دیکھیں کیمیائی ہتھیاروں کو پہلے ہی تلف کر دیا گیا تھا، پھر اسد کے پاس کہاں سے ہتھیار آگئے تھے۔؟ اس کی رپورٹ بھی آگئی تھی، 14 اپریل کو اقوام متحدہ کی ٹیم نے آنا تھا تو آپ نے اس کا انتظار کیوں نہیں کیا۔؟ کیونکہ آپ تمام ثبوت مٹانا چاہتے تھے، فقط پاگل پن، جارحیت کی انتہاء کی گئی۔ آپ کے جارج بش کہہ چکے ہیں کہ یہ صلیبی جنگ ہے، وہ اس کو کروسیڈ جنگ کا نام دے چکے ہیں۔ وہ آج تک ختم نہیں ہوئیں، میں کہتا ہوں کہ مسلمانو اللہ کا نام لو اور جاگ جاو، یا پھر اپنی اپنی باری کا انتظار کرو، یہ ایک دن تم پر بھی حملہ کرے گا۔ اسرائیل جو ہتھیار استعمال کر رہا ہے اور جو فلسطین میں بستیوں کی بستیاں اجاڑ رہا ہے، اس پر ساری دنیا خاموش ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ دہشتگردوں کا ٹولہ ہے، ٹونی بلئیر صاحب تسلیم کرچکے ہیں کہ صدام حسین کے پاس کوئی تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہیں تھے، تو آپ نے ٹونی بلئیر کو کیوں نشان عبرت نہیں بنایا؟، کیوں اسے سزا نہیں دی، لاکھوں عراقیوں کو موت کے منہ میں دھکیل دے دیا گیا۔ کسی گوانتا ناموبے، ابو غریب جیل، رنڈیشن کمیپ میں سزا دی گئی۔ یہ بات واضح ہے کہ اس دنیا میں دو ہی قومیں آباد ہیں، ایک غیر مسلم اور دوسری مسلم، افسوس کہ تمام غیر مسلم قومیں مسلمانوں کے خلاف ایک صفحے پر موجود ہیں۔ پہلے انہوں نے شیعہ سنی کا معاملہ اٹھایا تھا اور اب سنی سنی کے گلے پڑیں گے۔

اسلام ٹائمز: اقوام متحدہ کا کردار دیکھیں اور دوسری جانب سعودی عرب نے اس جارحیت کو خوش آمدید کہا ہے۔؟
عبداللہ گل:
جی باکل، میں کہتا ہوں کہ اقوام متحدہ جسے ہم یونائیٹڈ نیشن کہتے ہیں، وہ بالکل ناکام ہوچکی ہے۔ تمام فیکٹس فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق تمام جرائم میں مغرب ملوث ہے۔ دوسرا کسی اسلامی ملک پر جنگ کو خوش آمدید کہنا کسی طور پر جائز نہیں سمجھتا، سعودی عرب کا احترام اپنی جگہ لیکن اس کا یہ عمل دینی، اخلاقی اور انسانی لحاظ سے کسی صورت جائز نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا واضح نہیں ہوگیا کہ ایک بلاک وہ ہے جو مزاحمت کا ہے اور دوسرا امریکہ کیساتھ کھڑا ہے، کردار کھل کر سامنے آگئے ہیں۔؟
عبداللہ گل:
میں سمجھتا ہوں کہ آپ اس کو اس طرح دیکھیں کہ ایک گروہ حزب الشیطان کیساتھ کھڑا ہے اور دوسرا حزب اللہ کے ساتھ کھڑا ہے، میں یہی کہوں گا۔ اب آپ صرف انہیں حزب اللہ اور حزب الشیطان میں ہی دیکھیں گے۔

اسلام ٹائمز: اس جنگ کا دائرہ کہاں تک دیکھ رہے ہیں۔؟
عبداللہ گل:
میں سمجھتا ہوں کہ اس جنگ کا دائرہ کار پھیلے گا، اس میں دہشتگردوں کو مزید پنپنے کا موقع ملے گا، وہ ملت اسلامیہ کے بخیے ادھیڑ دیں گے۔ یہ آگ باہر سے نہیں بلکہ اندر سے جلائی جا رہی ہے، مسلمان خود اس آگ کو ہوا دے رہے ہیں۔ مسلمان دوسرے مسلمان کا دشمن بن گیا ہے، یہ چیزیں اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں، مسلمان جسم کی مانند ہیں۔ ہم کبھی برطانیہ کے ساتھ تو کھبی امریکہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کبھی تو آپ مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہوں، کبھی تو آپ فلسطینیوں اور کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔؟ کبھی تو قرآن کے ساتھ کھڑے ہوں۔ کاش آپ روہنگیا کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ ہر بار آپ امریکہ، برطانیہ اور یہود و نصاریٰ کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ کیا ہے۔؟ افغانستان میں حالیہ حملے میں قندوز میں سینکڑوں حفاظ قرآن کو شہید کر دیا گیا، کسی نے نام تک نہیں لیا۔
ملالہ کیوں خاموش ہے، کیوںکہ وہ ایک خاص ایجنڈے پر کاربند ہے۔ ایک طرف سے تعلیم اور امن کی سفیر بنی ہوئی ہے اور دوسری جانب وہ طلباء کی شہادت پر خاموش ہے، یہ سب مغرب کا کیا دھرا ہے، ہمارے اندر لوگوں کو تقسیم کرا کر مسلکوں، نسل اور فقہ کی بنیاد پر توڑا جا رہا ہے۔ امریکہ اور مغرب صرف ہمیں بطور مسلمان دیکھتا ہے، وہ مسلکوں اور رنگ و نسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ مسلمان ہونے کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس کی مسلمانوں سے دشمنی ڈھکی چھپی نہیں۔ اس پر ہم خوشی کی شادیانے بجا رہے ہیں۔ مغرب کی جانب سے ہمیں کوئی انصاف پسندی نظر نہیں آرہی، ورنہ وہ جنگی جرائم میں ملوث افراد کو سزائیں دیتے، ایسا آج تک ہم نے نہیں دیکھا ہے۔ ان کا صرف ایک ہی نکتہ نطر ہے کہ مسلمان کو مسلمان سے لڑا دو، انہیں کے پیسوں اور انہی کے اسلحے سے لڑاو۔ میرا دل خون کے آنسو رہا ہے، دل بیحد رنجیدہ ہے۔

اسلام ٹائمز: کہا جا رہا ہے کہ امریکہ شام کے بعد پاکستان کا نمبر لگانا چاہتا ہے۔ اسطرح وہ مشرق وسطٰی اور سنٹرل ایشیائی ممالک میں اپنی بالا دستی بڑھا دیگا۔؟
عبداللہ گل:
جی باکل، یہ تو ہونا ہے، لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ اس سے عرب دنیا بھی نہیں بچے گی، اگر کوئی سوچ رہا ہے کہ عرب دنیا بچ جائے گی تو وہ بھی نہیں بچے گی، آپ دیکھ لیں سعودی عرب اور قطر کے درمیان تنازعہ پیدا کیا گیا۔ یہ لوگ داعش کو افغانستان میں لا رہے ہیں، منظور پشتون جسیے لوگوں پر ہاتھ رکھ رہے ہیں اور اس طرح کی تنظیموں کو تعاون کر رہے ہیں، جو پاک فوج اور پاکستان مخالف ایجنڈا رکھتے ہیں۔ اس میں بھارت بھی ملوث ہے۔ یہ نہیں چاہتے کہ سی پیک منصوبہ مکمل ہو اور یہاں خوشحالی آئے۔ انتہائی تدبر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔
خبر کا کوڈ : 719013
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب