1
Saturday 5 May 2018 17:41

منتخب ہوکر علاقے میں میڈیکل کالج، کیڈٹ کالج اور صحت کے اعلٰی اداروں کا قیام عمل میں لاونگی، محترمہ علی بیگم

منتخب ہوکر علاقے میں میڈیکل کالج، کیڈٹ کالج اور صحت کے اعلٰی اداروں کا قیام عمل میں لاونگی، محترمہ علی بیگم
محترمہ علی بیگم یکم جنوری 1949ء کو پاراچنار کے نواحی علاقے کڑمان یوسف خیل میں پیدا ہوئیں۔ محترمہ علی بیگم کے والد محترم نور علی خان ایجوکیشن ڈائریکٹر تھے۔ چنانچہ تعلیمی ماحول فراہم ہونے کے ناطے انہوں نے ابتدائی تعلیم مردان میں حاصل کی۔ 1967ء میں میٹرک جبکہ 71 میں بی اے کیا۔ بی اے کے بعد ان کی شادی ایک انجینئر سے کرائی گئی، شادی کیوجہ سے کچھ عرصہ کیلئے انکا تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا۔ تاہم شوہر نے مزید تعلیم حاصل کرنے کا کہا تو اپنے شوہر کے ہمراہ 1982ء میں سی ایس ایس کا امتخان دیا، جس میں وہ کامیاب ہوئی جبکہ انکے شوہر یہ امتحان پاس نہ کرسکے۔ امتحان پاس کرنیکے وہ بعد فاٹا سیکرٹریٹ میں اسسٹنٹ چیف آف پلاننگ کے عہدے پر فائز ہوئیں۔ اسی فیلڈ میں گریڈ 18 میں چیف آف سیکشن ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد گریڈ 19 میں ایڈیشنل سیکریٹری کے عہدے پر آگئیں۔ پھر 20 گریڈ میں مینیجنگ ڈائریکٹر آف فرنٹئیر ایجوکیشن کا عہدہ سنبھال لیا۔ اسی طرح دیگر متعدد محکموں میں کام کرنے کے بعد یکم جنوری 2009ء میں ریٹائرڈ ہوئی۔ 2018ء کے جنرل الیکشن میں کرم ایجنسی کے ایک حلقے سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ اسلام ٹائمز نے انکے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو کا بندوبست کیا ہے، جسے اپنے قارئین کی نذر کرتے ہیں۔ادارہ

اسلام ٹائمز: محترمہ جیسے آپکو علم ہے کہ قبائل میں خواتین گھر کے اندر زندگی گزارتی ہیں، ایک قبائلی خاتون ہوتے ہوئے آپ سیاست کے میدان میں کیسے آئیں۔؟ 
محترمہ علی بیگم صاحبہ: 
پہلے تو میں آپکی سائٹ اسلام ٹائمز کا شکریہ ادا کرتی ہوں، جس نے مجھے اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کا موقع فراہم کیا۔ باقی جہاں تک سیاست کا تعلق ہے تو میں پیدائشی ڈریمر ہوں، جو خواب دیکھتے ہیں اور اس خواب کے پیچھے بھاگتے ہیں، مجھ میں شروع ہی سے نئی منزلیں ڈھونڈنے کا شوق رہا ہے۔ چونکہ سیاست خواتین کیلئے ایک نیا میدان ہے، اسلئے میں نے جرآت کی کہ میں اپنے لوگوں میں ایک بہتر سیاست کی ثقافت کو فروغ دوں۔ اسلئے میں نے اس میدان میں قدم رکھا۔

اسلام ٹائمز: انتخابی امیدوار کی حیثیت سے آپکا نصب العین کیا ہے۔؟
محترمہ علی بیگم صاحبہ:
میرے پیش نظر متعدد سوچ، افکار اور مقاصد ہیں، انفرادی حدود سے بڑھ کر قومی اور عالمی حدود تک میری سوچ جاتی ہے۔ میں دیکھتی ہوں کہ مسلمان بہت پسماندہ ہیں، پاکستان بہت ہی پسماندہ ملک ہے اور پاکستان میں ہمارا علاقہ کرم ایجنسی بلکہ مکمل قبائلی علاقے سب سے زیادہ پسماندگی کا شکار ہیں۔ میں جب دنیا کی دیگر قوموں کی ترقی دیکھتی ہوں، تو میں بھی چاہتی ہوں کہ ہماری قوم بھی ترقی کے میدان میں آگے آئے۔ چنانچہ کرم ایجنسی کی ترقی کا یہ گول لے کر میدان عمل میں اتری ہوں۔

اسلام ٹائمز: علاقے کی ترقی کے حوالے سے آپکے کیا منصوبے ہیں۔؟ 
محترمہ علی بیگم صاحبہ:
میری جو بنیادی خواہش ہے وہ تعلیم اور صحت ہے۔ اس کیلئے ایک سازگار ماحول کی ضرورت ہے۔کہ اپنے عوام کیلئے تمام تر بنیادی سہولیات مہیا کی جائیں۔ جسمیں صاف پانی، زراعت اور آبپاشی کیلئے پانی، بجلی اور بچوں کیلئے بہترین مواقع فراہم کرنا میری اولین ترجیحات میں سے ہیں۔ دوسری چیز جو بہت اہم ہے کہ کرم ایجنسی کے ماحولیات کو بہتر بنانا اور صاف رکھنے کے علاوہ اس سے فوائد حاصل کرنا بھی میرے مقاصد میں سے ہے۔ جن کیلئے فیڈرل سطح پر یا فاٹا سیکرٹریٹ کیطرف سے خاص اقدامات کئے جائیں۔

اسلام ٹائمز: تعلیم اور صحت کے مسائل سے نمٹنے کیلئے کیا کیا جاسکتا ہے۔؟
محترمہ علی بیگم صاحبہ:
دیکھیں، کرم ایجنسی میں تعلیم کا کوئی بنیادی ادارہ نہیں۔ اسی طرح صحت کے لحاظ سے بھی بنیادی سہولیات میسر نہیں۔ میری خواہیش ہے کہ کیڈٹ کالج اور میڈیکل کالج کے علاوہ ایک جامع یونیورسٹی مقامی سطح پر موجود ہو۔ میڈیکل کالج سے تو ہمارے بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ جس میں سرفہرست صحت کا مسئلہ ہے۔ یعنی میڈیکل کالج ہونے کی صورت میں بڑے بڑے پروفیسرز، اسسٹنٹ پروفیسرز سپیشلسٹ ڈاکٹر اور دیگر ٹیچنگ سٹاف اور ٹیچنگ ہسپتال موجود ہوگا۔ چنانچہ ہر قسم کے مریضوں کا علاج یہیں پر ممکن ہوگا۔ اسکے علاوہ کیڈٹ کالج سے ہمارا معیار تعلیم بہتر ہوگا۔ اسی طرح یونیورسٹی کی موجودگی سے ہمیں اعلٰی تعلیم کے مواقع مقامی سطح پر دستیاب ہونگے۔ اسکے علاوہ میری خواہش ہے کہ گاؤں گاؤں کی سطح پر بی ایچ یو کا قیام عمل میں لاکر انہیں ممکنہ طور پر سہولیات سے آراستہ کیا جائے۔ بڑے بڑے دیہات، خصوصاً شہر سے دور واقع دیہات کی سطح پر جدید کچھ ویل فیسسیلٹیڈ بی ایچ یو کا قیام ہمارے پیش نظر ہے۔

اسلام ٹائمز: عملی طور پر سیاست میں آنے پر آپکی فیملی کا ردعمل کیا تھا۔؟
محترمہ علی بیگم صاحبہ:
میری فیملی نے ابتداء میں مجھ سے کہا کہ سیاست کے میدان میں آپ کی جان کو خطرے کے علاوہ آپ کی شخصیت کی تذلیل ممکن ہوسکتی ہے۔ لیکن میں نے یہ کہہ کر انہیں قائل کیا کہ الحمد اللہ کرم ایجنسی کے غیور عوام اور نوجوان جو کہ اکیسویں صدی میں ترقی کے میدان میں آگے قدم رکھنے شوقین ہیں اور میرا ان پر پختہ یقین ہیں۔ اسی طرح کرم کی خواتین بھی یہی خواہش رکھتی ہیں، جن کیلئے میں ایک جلوہ ثابت ہوسکتی ہوں اور اب مجھے فیملی کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

اسلام ٹائمز: آپ نے سیاست میں قدم رکھنے کا ارادہ کیا، کیا یہ میدان آپکو مشکل نہیں لگ رہا۔؟
محترمہ علی بیگم صاحبہ:
عوام کی خدمت کرنے کیلئے سیاست ایک اچھا میدان ہے۔ عوام سے ملنے جلنے کا اتفاق ہوا، اگرچہ یہ میرے لئے ایک نیا میدان ہے، تاہم چونکہ میری ساری زندگی دفتروں اور فائلوں میں گزری ہے۔ لہذا مجھے کسی قسم کی ٹینشن نہیں، بلکہ مجھے خوشی محسوس ہو رہی ہے اور خود کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ مجھے کرم ایجنسی کے خوبصورت علاقے میں رہنے اور اس کے باادب لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔

اسلام ٹائمز: انتخابات میں اخراجات زیادہ کرنے پڑتے ہیں، کیا آپ ذہنی طور پر اس کیلئے تیار ہیں۔؟
محترمہ علی بیگم صاحبہ:
میری الیکشن کمپین ایک الگ طرز کی ہوگی اور میرا جن لوگوں سے تعلق ہے، وہ جوان، خواتین اور معززین ہیں، وہ باشعور ہیں، چنانچہ میں جہاں بھی گئی ہوں، مجھے بہت عزت دی گئی ہے۔ میرا پختہ یقین ہے کہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ میرا اس میدان میں آنا قوم کی ترقی کا باعث ہوگا۔

اسلام ٹائمز: عموماً سیاستدان انتخابات کے دوران خرچ ہونیوالی رقم سے دوگنی اور چوگنی رقم کمانے کے امیدوار ہوتے ہیں، آپکی فکر اور سوچ یہی تو نہیں۔؟
محترمہ علی بیگم صاحبہ:
مجھے دولت کمانے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ میرے پاس اللہ کا دیا ہوا بہت کچھ ہے۔ میں آرام اور سہولت کی زندگی گزار رہی ہوں، باقی زندگی میں نے قوم کیلئے وقف کی ہے۔ باقی یہ کہ میرا اسٹیمیٹ دیگر سیاستدانوں کے اخراجات کی نسبت ایک چوتھائی ہے۔ نیز ہر سیاستدان اپنی اہلیت اور قابلیت کی بنیاد پر خرچ کرتا ہے۔ الحمد اللہ عوام سمجھدار ہیں، میرے لئے یہ میدان بالکل ہموار ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ایک اہل امیدوار کی حیثیت سے اگر کرم ایجنسی کے باشعور عوام پر کچھ رقم خرچ ہو بھی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔

اسلام ٹائمز: اگر آپ جیت گئیں، یا خدانخواستہ ہار گئیں تو اسکے بعد عوام کیساتھ آپکا رویہ کیسا ہوگا۔؟
محترمہ علی بیگم صاحبہ:
الیکشن میرے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ نہیں ہے، میں جیت گئی یا ہار گئی، دونوں صورتوں میں اپنے عوام کے ساتھ ہوں اور انکی ترقی کیلئے خدمت کرنے کو تیار ہوں۔ میری نظر میں سب کرمیوال ہیں۔ کوئی ووٹ دے یا نہ دے۔ سب کو کرمیوال کی نظر سے دیکھتی ہوں اور دیکھتی رہونگی۔

اسلام ٹائمز: حلقوں کی بحالی میں آپکا کیا کردار رہا ہے۔؟
محترمہ علی بیگم صاحبہ: ہمارے لئے بہت ضروری تھا کہ ہمارے دونوں حلقے بحال ہوں۔ اس کی بحالی کیلئے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہی، جب اس پر بحث کا دن آیا تو میں عدالت میں موجود تھی اور جب فیصلے کا وقت آیا تو عدالت میں ہماری قوم کے دیگر افراد کے علاوہ مجھے بھی اپنا موقف پیش کرنے کا موقع ملا تو میں نے عدالت میں کھڑے ہوکر آرٹیکل 220 کا حوالہ دیا اور میں نے ان کو وہاں عرض کیا کہ الیکشن کمیشن کو بعض اداروں نے درست اطلاعات نہیں دیں، صحیح اعداد و شمار نہیں دیئے گئے۔ میری تمام عرائض کو عدالت نے بہت غور سے سنا اور میں نے یہ دیکھا کہ جج صاحبان میری تمام عرائض لکھ رہے تھے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ میری باتوں کو انہوں نے اہمیت دی۔ تاہم میں یہ کہوں گی کہ یہ ایک مشترکہ کوشش کا نتیجہ تھا۔ 
خبر کا کوڈ : 722019
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب