0
Thursday 17 May 2018 22:56
ایران کیخلاف امریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں

ہمارے سفارتکاروں پر پابندیاں ٹرمپ انتظامیہ کیجانب سے پاکستان کیخلاف دباؤ کی حکمت عملی کا حصہ ہیں، خرم دستگیر

سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنیکا امریکی فیصلہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے
ہمارے سفارتکاروں پر پابندیاں ٹرمپ انتظامیہ کیجانب سے پاکستان کیخلاف دباؤ کی حکمت عملی کا حصہ ہیں، خرم دستگیر
سابق کامرس منسٹر اور موجودہ حکومت میں ایک ہی وقت میں وزارت دفاع اور امور خارجہ کا قلمدان پہ ذمہ داریاں نبھانے والے خرم دستگیر خان 1970ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے گوجرانوالا، کیڈٹ کالج حسن ابدال میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد، بیرون ملک اکنامکس میں گریجوایشن مکمل کی اور کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے الیکٹریکل انجیئرنگ کی۔  2002ء میں قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا لیکن ناکام رہے، 2008ء اور 2013ء میں دونوں بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ پاکستان مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنماء کیساتھ اسلام ٹائمز کا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: مسلم لیگ پاکستان کی خالق جماعت ہے، نواز شریف نون لیگ کے تاحیات قائد ہیں، وہ ایسے بیانات کیوں دے رہے ہیں، جن سے بھارتی موقف کی تائید ہو رہی ہے۔؟
خرم دستگیر:
نواز شریف نے کوئی نئی بات نہیں کی بلکہ ایسا پہلے بھی کہا جاچکا ہے اور ہم سے پہلے بھی امریکا ڈو مور کا مطالبہ بار بار کر چکا ہے، جبکہ ہمارے قریبی دوست چین بھی کہہ چکا ہے کہ آپ اپنے ملک کے اندرونی معاملات ٹھیک کریں۔ آپ اس بات سے ضرور اختلاف کر سکتے ہیں کہ نواز شریف کے بیانیے کا وقت ٹھیک نہیں ہے مگر انہوں نے کوئی نئی بات نہیں کی۔ جنرل کیانی نے جب یہ کہا کہ بھارت سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں تو انہیں کسی نے کچھ نہیں کہا، سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف جس دن مارشل لاء لگاتا ہے اسی دن تمام فوج کو فارورڈ پوزیشن سے واپس بلالیا جاتا ہے، لیکن کوئی ان سے بھی نہیں پوچھتا کیونکہ یہ لوگ فوجی ہیں اور نواز شریف ایک عام شہری ہیں۔ اگر ایک سیاستدان ملک کے حالات اور دنیا کیساتھ تعلقات بہتر بنانے کی بات کرے تو اسے بھی یہ حق ملنا چاہیے، اور اس پہ اعتماد کیا جانا چاہیے۔

اسلام ٹائمز: تبدیل ہونیوالے بیانیہ سے نون لیگ کو چھوڑنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، نواز شریف اگر اپنی بات پہ قائم رہتے ہیں تو جماعت کا مستقبل کیا ہوگا۔؟
خرم دستگیر:
30 سال سے نوازشریف اور عوام کا رشتہ ہر روز گہرا اور بڑھتا جارہا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ رشتہ ختم کرنےکی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ ملک میں ڈرامہ چل رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کی حالت پر رحم آتا ہے کیوں کہ انہوں نے پہلے کرپشن کا الزام لگا کر دیکھ لیا، تاحیات نا اہل کرکے بھی دیکھ لیا، مذہبی کارڈ بھی آزما کر دیکھ لیا لیکن وہ سب ڈرامے نہیں چلے تو اب اپنے ڈبے سے غداری کا کارڈ نکالا ہے۔ جس نے ساری دنیا کی مخالفت مول لے کر بھارت کے جواب میں ایٹمی دھماکے کیے اور اربوں کی پیش کشیں ٹھکرا کر ملک کو ناقابل تسخیر بنایا، کیا غدار ایسے ہوتے ہیں؟۔ نواز شریف اس مٹی کا بیٹا ہے، بار بار عوام کا ووٹ ملنا حب الوطنی کا سب سے بڑا ثبوت ہے، اسے حب الوطنی کے لیے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ نواز شریف کو غدار کہنے والے پہلے نواز شریف جیسا محب وطن ڈھونڈ کر دکھائیں۔ دنیا کی سپر پاور کے سامنے ڈٹ جانے والا غدار ہوسکتا ہے؟صوبوں کو قریب لانے والا غدار ہوسکتا ہے؟ اور تو اور کیا یو این میں پاکستان، کشمیر، بلوچستان کا مقدمہ پیش کرنیوالا غدار ہوسکتا ہے؟۔ انتخابات میں شیر عوام کے ووٹوں پر سوار ہوکر اقتدار میں آئیگا، نوازشریف کو سیاست سے آؤٹ کرنیکی ہر کوشش ناکام ہوگی، پاکستان کے غیور عوام کسی کھلاڑی، مداری کے جھانسے میں نہیں آئینگے، دھرنوں اور لاک ڈاؤن کی سیاست کرنیوالوں نے ملکی ترقی کو نقصان پہنچایا ذاتی مفادات اور الزامات کی سیاست کرنیوالے عوام کے خیر خواہ نہیں، یوٹرن خان نے 5سال میں نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کے سوا کوئی کام نہیں کیا، میاں نوازشریف کا بیانیہ کامیاب ہوا، ووٹ کو عزت دو مہم کی کامیابی کیلئے کارکن دن رات محنت کررہے ہیں۔ انتخابات میں ترقی کرنیوالوں اور ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنیوالوں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔
 
ملکی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت نے مسلم لیگ (ن) سے زیادہ کارکردگی نہیں دکھائی، ووٹرز مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہیں، (ن) لیگ کے ارکان بھرپور اعتماد کے ساتھ الیکشن میں جائیں گے، مسلم لیگ (ن) نے بجلی سمیت ہرشعبے میں بے مثال کام کیا، 70برس کے کام 5سالوں میں کیے، پنجاب کے بارے میں تاثر تھا کہ سب وسائل پنجاب کے پاس ہیں، ہم نے ثابت کیا کہ پنجاب نہیں پاکستان کی ترقی کی بات کرتے ہیں، 30ارب روپے کی میٹرو پرتنقید کرنے والوں نے خود 60ارب روپے لگا دیے۔ ہماری سیاست میاں نواز شریف کے ساتھ ہے اور (ن) لیگ کا مستقبل بھی میاں نواز شریف کے ساتھ جڑا ہے، میاں نواز شریف نے ہمیشہ ہی قومی مفادات کا تحٖفظ کیا ہے، ماضی میں کیا جانے والا ایٹمی دھماکا بھی قومی مفاد کے تحفظ کی بہترین مثال ہے۔ کیا کہ پورے ملک میں صرف نواز شریف پر ہی قومی مفادات کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، پاکستان میں دیگر اداروں کو بھی قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کسی ایک شخص کو دیوار سے لگانے سے گریز کرنا چاہیے اور ایک شخص کو دیوار سے لگانے کے لیے بڑے بڑے مجرموں کے گناہ معاف کیے جارہے ہیں، اس طرح کی ناانصافی سے کون سا قومی مفاد حاصل کیا جارہا ہے؟۔

اسلام ٹائمز: اپوزیشن جماعتوں اور رہنماؤں کے علاوہ بھی ہر طرف سے نواز شریف کے موجودہ بیانات پر تنقید کی جا رہی ہے، احتجاج ہو رہا ہے، پھر عوامی حمایت اور ملکی ترقی کے دعووں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔؟
خرم دستگیر:
نواز شریف کی قیادت کی دنیا میں بہت کم مثال موجود ہے، جیسے مہاتیر محمد ہیں، نواز شریف کو مستقل طور پر دھرنوں اور مظاہروں کے ذریعے الجھایا گیا۔ جس سے ملک کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ آپ دیکھیں مہاتیر محمد نے اپنی ترقی کے ماڈل کے بارے میں ایک بات یہ کہی کہ انہوں نے وزیراعظم بننے کے بعد، ملک سے ہڑتال اور احتجاج کا کلچرختم کیا۔ مثال کے طور پر انہوں نے کوالالمپور کے ٹیکسی ڈرائیورز کی یونین کے ذمہ داران کو بلایا اور ان سے وعدہ لیا کہ کچھ ہو جائے، وہ ہڑتال نہیں کریں گے۔ گویا انفرا سٹرکچر کی تعمیر، سیاسی استحکام اور پالیسی کا تسلسل ان کے حکومتی ماڈل کے اجزائے ترکیبی تھے۔ کرپشن، اقرباء پروری اور غیر جمہوری رویے جیسے الزامات کے باوجود یہ ماڈل کامیاب رہا۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ طیب اردوان پر بھی یہی الزامات ہیں اور ترکی میں بھی یہ ماڈل کامیاب ہے۔ پاکستان میں اس ماڈل کو اگر کسی نے اپنایا ہے وہ نوازشریف ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں ساٹھ کی دہائی کے بعد، وہی تھے جنہوں نے سنجیدگی کے ساتھ انفراسٹرکچر کی تعمیر کو اہمیت دی ہے۔

پاکستان کی سرزمین پر آج بھی ترقی کے جو مظاہر بچشمِ سر دیکھے جاسکتے ہیں، ان کا انتساب نوازشریف کے نام ہے۔ ان پر بھی مہاتیر محمد کی طرح کرپشن، اقرباپروری اور آمرانہ مزاج کے الزامات ہیں، لیکن وہ سیاسی استحکام کے باب میں مہاتیر محمد کی طرح خوش قسمت نہیں رہے۔ وہ کبھی اطمینان کے ساتھ حکومت نہیں کر سکے۔ ان کا زیادہ وقت اور توانائیاں اپنے اقتدار کے استحکام پر خرچ ہوگئیں۔ پاکستان میں جمہوری عمل کا تسلسل ہوتا تو میرا احساس ہے کہ ملائشیا اور ترکی کے ساتھ پاکستان بھی ترقی کی مثال بن جاتا۔ جو بات ہمیں ملائشیا سے سیکھنی ہے، وہ یہ ہے کہ مہاتیر محمد کی کامیابی کے لیے ایک سازگار ماحول ناگزیر ہے۔ کوئی مہاتیر محمد کامیاب نہیں ہو سکتا، اگر ملک میں آئے دن دھرنے اور ہڑتالیں ہوں اور ریاستی ادارے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی ترکیبیں سوچتے رہتے ہوں۔ آج پاکستان کے حالات دیکھتے ہوئے میں سوچتا ہوں کہ ہم دوسروں کے تجربات سے سیکھیں گے یا خود تجربات کریں گے؟۔ ہم اپنے مہاتیر محمد کو ابھی آواز دیں گے یا پندرہ سال کا انتظار کریں گے؟   

اسلام ٹائمز: غیر ریاستی اداروں کو کافی حد تک کمزور کر دیا گیا ہے، نہ ہی انکی اعلانیہ سرپرستی کی جا رہی ہے، اب تو بھارت اور امریکہ کیطرف سے خطرات منڈلا رہے ہیں، سارا زور بیرونی دشمن کیخلاف کیوں نہیں لگایا جا رہا۔؟
خرم دستگیر:
شاید ہی کوئی ایسا دور گذرا ہو، جب پاکستان کو سازشوں کا سامنا نہ رہا ہو، عالمی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں اور اداروں کو متحد ہو کر چلنا پڑے گا۔ لیکن ہم نے دنیا کیساتھ چلنا ہے، جو اصولی موقف ہے، اس پہ قائم رہنا ہے۔ حالیہ صورتحال میں امریکہ کی جانب سے پاکستانی سفارتکاروں پر پابندیوں اور امداد کی معطلی کے باوجود پاکستان نے افغانستان میں امریکہ کی سپلائی لائن کاٹی نہیں۔ ا ب بھی پاکستان کی زمینی اور فضائی حدود کھلی ہیں۔ پاکستان اور امر یکہ کے درمیان اس وقت ورکنگ سطح پر بات چیت نہیں ہو رہی ہے، جس سے یہ تناو پیدا ہوا ہے۔ امریکی اقدامات بڑھیں گے تو ہماری تشویش میں اضافہ ہوگا۔ مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنا ہی ہماری پالیسی ہے۔ بدقسمتی سے ٹرمپ کی انتظامیہ نے گزشتہ ڈیڑھ سال میں پاکستان سے متعلق صرف دباو کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ ہمارے سفارتکاروں پر پابندیاں اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اس وقت ہمارے دفاع ¾ خارجہ اور تجارتی معاملات پر کوئی مذاکرات نہیں ہورہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان خلیج بڑھی رہی ہے۔ آج کا تناو بھی گفتگو نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ پاکستان پر امریکہ نے بہت سی پابندیاں لگائیں، لیکن ہماری حکومت نے جوابی پابندیاں امریکہ پر نہیں لگائیں۔ ٹرمپ انتظامیہ اس وقت پاکستان کے ساتھ صرف سفارتخانوں کے ذریعے رابطے میں ہے۔ اعلیٰ سطح پر مذاکرات اور رابطوں کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ حکومت کے باقی ہفتوں میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بہتری کےلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ 

اسلام ٹائمز: عالم اسلام بالخصوص فلسطین ایک نازک دور سے گزر رہا ہے، پاکستان کو اسلامی دنیا میں ایک ممتاز مقام حاصل ہے، ہمارا کردار قائدانہ ہونا چاہیے، پاکستان یہ کردار کیسے ادا کرسکتا ہے۔؟
خرم دستگیر:
پاکستان ہمیشہ سے انڈیا اور اسرائیل کی قابض افواج کی جانب سے فلسطینیوں اور کشمیریوں پر مظالم اور تشدد کی شدید مذمت کرتا ہے۔ پاکستان امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کے امریکی فیصلے کی مذمت کرتا ہے اور امریکہ کا یہ فیصلہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔ بھارت، کشمیر میں اور اسرائیل، فلسطین میں انسانی حقوق کی پامالی کر رہا ہے اور اسرائیل اور بھارت، کشمیر اور فلسطین میں ڈیموگرافکس تبدیل کر رہے ہیں۔ پاکستان کو اس بات پر گہری تشویش ہے کہ امریکہ، دو ریاستی حل سے متعلق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی و سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے لئے عالمی برادری کے زور کے باوجود امریکہ اپنا سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کر رہا ہے۔ پاکستان کی حکومت اور عوام فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، پاکستان فلسطین کی آزاد خود مختار ریاست کے قیام کے لئے اپنے عزم کی تجدید کرتا ہے، جو متفقہ عالمی معاہدوں اور 1967ء سے قبل کی سرحدی حالت کے مطابق ہو اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔ یہ اقدام اسرائیلی حکومت کو انعام سے نوازنے کے مترادف ہے، جو دہائیوں سے چلے آنے والے تنازع کے حل کی کوششوں کو سبوتاژ اور فلسطینیوں کو سزا دے رہا ہے۔ امریکہ کا سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ غیر دانشمندانہ ہے جس سے ممکنہ طور پر کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح ہم اب بھی، پہلے کی طرح ایران کیخلاف امریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، پاکستان ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونیوالے معاہدے کی حمایت کرتا رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 725462
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب