0
Tuesday 29 May 2018 20:16
یہی مولانا ہونگے جو اپنے مفادات کی خاطر فاٹا انضمام کو تسلیم کرینگے

پاکستان مخالف قوتوں کو سب سے زیادہ تکلیف فاٹا انضمام پر ہوئی ہے، قیصر جمال

مولانا فضل الرحمٰن اور محمود اچکزئی کو فاٹا کے مسئلے پر ذلیل و رسوا کیا گیا
پاکستان مخالف قوتوں کو سب سے زیادہ تکلیف فاٹا انضمام پر ہوئی ہے، قیصر جمال
قیصر جمال آفریدی کا تعلق فاٹا کے علاقے درہ آدم خیل سے ہے، وہ قومی اسمبلی کے ممبر ہیں، انکی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف ہے، وہ 16 جنوری 1982ء کو پیدا ہوئے، انکا تعلق سیاسی گھرانے سے ہے، انکے والد مون خان آفریدی فاٹا کے ایم این اے رہ چکے ہیں۔ انہوں نے پشاور سے سوشل اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔ انہوں نے پہلی بار 2013ء میں این اے 47 سے الیکشن لڑا اور شاندار جیت اپنے نام کی۔ قیصر جمال آفریدی ایک انتہائی سادہ انسان ہیں، فاٹا کے حالات پہ گہری نگاہ رکھتے ہیں اور اپنے حلقے کی عوام میں خاصے مقبول ہیں، اسلام ٹائمز کے نمائندے نے ان سے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے متعلق خصوصی گفتگو کی، جو قارئین کے پیشِ خدمت ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کیلئے تمام جماعتوں نے ووٹ کیا، آپ اس اقدام کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔؟
قیصر جمال آفریدی:
پارلیمنٹ نے بہت ہی خوبصورت اقدام کیا، یہ ایسا اقدام تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں اسے یاد رکھا جائے گا۔ جس طرح سے حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے مل کر اس بل کو منظور کیا، میں یہ سمجھتا ہوں کہ واقعی یہ اقدام قابل تحسین ہے، لیکن یہاں پر موجودہ حکومت نے سستی کا مظاہرہ کیا، اگر سستی نہ کرتی تو اب تک فاٹا کا عملی انضمام نافذ ہوچکا ہوتا، اب وہاں صوبائی الیکشن میں انتخابات کی تیاریاں چل رہی ہوتی، لیکن اب بھی دیر آید درست آید۔

اسلام ٹائمز: فاٹا کے لوگوں نے دہشتگردی کیخلاف بہت سی قربانیاں دیں، اپنے مکان تباہ ہوتے دیکھے، گھر بار، کاروبار چھوڑے، کیا صوبے میں ضم ہونیکے بعد انکے ساتھ جو کچھ ماضی میں ہوا کیا وہ بھول پائیں گے اور اس کا ازالہ کیا جائیگا۔؟
قیصر جمال آفریدی:
اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں قبائلی عوام نے بہت سی مشکلات جھیلیں، اپنے گھر تباہ ہوتے دیکھے، اپنے اہل خانہ کے ہمراہ وہ لوگ متاثرین کیمپوں میں رہے، ایک وقت تھا کہ قبائلی علاقہ جات میں ظلم و بربریت کا بازار گرم تھا، یہاں پر ایسے ایسے مظالم ان لوگوں نے برداشت کئے کہ جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ یہ بھی قابل تحسین بات ہے کہ یہاں کے لوگوں نے دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دی ہیں، وہاں کی عوام نے پاک فوج کے شانہ بشانہ دشمن کے خلاف جنگ لڑی ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آج اگر فاٹا میں امن ہے تو اس کا کریڈٹ پاک فوج کے ساتھ ساتھ قبائلی عوام کو بھی جاتا ہے۔ یہ سب بھلانا اتنا آسان نہیں لیکن قبائلی عوام کو انکی پہچان مل گئی، ان کو پاکستانی ہونے کا پروانہ مل گیا ہے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو کچھ انہوں نے ماضی میں سہا، یہ اس سب کو بھلانے کیلئے کافی ہے، قبائلی عوام کو انکی وفاداری اور ان کے صبر کا پھل صوبے میں انضمام کی صورت میں ملا ہے، پی ٹی آئی کی حکومت آئندہ بھی کوشش کریگی کہ ان کی قربانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی ترویج و ترقی کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھائے۔

اسلام ٹائمز: فاٹا انضمام پر ہر جماعت کا موقف ہے کہ یہ ہماری کامیابی ہے، (ن) لیگ کہتی ہے کہ ہماری کامیابی ہے، اسی طرح باقی جاعتیں بھی یہی دعوٰی کر رہی ہیں، آپ اسکا کریڈٹ کسے دینا چاہینگے؟
قیصر جمال آفریدی:
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر جماعت نے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کیلئے کوشش کی ہے۔ سب جماعتوں کی کوشش کی وجہ سے ہی یہ ممکن ہو پایا ہے، مگر یہ کہہ دینا کہ صرف اور صرف ہماری جماعت کی وجہ سے یہ ممکن ہوا تو ان کی خام خیالی ہے، کیونکہ اس میں سب جماعتوں کی محنت شامل تھی، لیکن حقائق کی بات کریں تو یہ جیت پاکستان کی ہے، پاکستانی عوام کی ہے اور سب سے بڑھ کر خود قبائلی عوام کی ہے، یہ ان کی محبت ہے کہ جو انکو قومی دھارے میں لے آئی ہے۔ وہاں کے عوام کی تڑپ تھی، ان کی دن رات کی کوششیں تھی، انہوں نے اسلام آباد تک مارچ کئے، دھرنے دیئے، پشاور میں گورنر ہاؤس کے باہر کئی کئی دن بیٹھے رہے، پارٹیوں نے تو صرف ان کے حق میں ووٹ دیا، اصل جو جدوجہد تھی وہ فاٹا کے عوام نے کی۔

اسلام ٹائمز: بعض بیرونی قوتیں فاٹا کو اپنے گھناؤنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہی تھیں، کیا فاٹا کے ضم ہونے سے انکا قلع قمع ہوسکے گا۔؟
قیصر جمال آفریدی:
قبائلی ایک سادہ لوح عوام تھی، لیکن اب الحمدللہ وہ سمجھدار ہیں، کچھ عرصے تک وہاں کی عوام کو بیرونی قوتوں نے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا، قبائلی علاقوں کے اندر دہشت گرد موجود تھے، وہاں انکے ٹھکانے تھے، وہاں کے لوگوں کو لالچ دیکر انہوں نے اپنے پاؤں مضبوط کئے ہوئے تھے۔ وہاں وہ دہشت گرد اپنی پناہ گاہیں بنا کر پاکستان مخالف کارروائیاں کرتے تھے، لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ ہماری آرمی اور عوام نے اب ان پر پاکستانی سرزمین تنگ کر دی ہے۔ ابھی اگر آپ دیکھیں تو پاکستان مخالف قوتوں کو سب سے زیادہ تکلیف فاٹا انضمام پر ہوئی ہے۔ انکی پوری کوشش تھی کہ فاٹا کو پاکستانی قوانین کے دائرہ کار میں شامل نہ ہونے دیا جائے، کیونکہ یہاں ان کے ہیڈ کوارٹرز موجود تھے، جہاں سے وہ پاکستان مخالف کارروائیاں انجام دیتے تھے، اب وقت آگیا ہے کہ اس ناسور کو ہمیشہ کیلئے جڑ سے اکھاڑ دیا جائے گا اور پاکستان امن کی راہ پر تیزی سے بڑھے گا۔ان شاء اللہ

اسلام ٹائمز: فاٹا انضمام پر کچھ جماعتیں اداس ہیں اور کچھ کی دکانیں بند ہو رہی ہیں، انکو آپ کیا پیغام دینا چاہیں گے۔؟
قیصر جمال آفریدی:
(ہنستے ہوئے) آپ کا اشارہ کہیں مولانا فضل الرحمٰن اور محمود اچکزئی کی طرف تو نہیں، ان دونوں جماعتوں کو فاٹا کے معاملے پر منہ کی کھانی پڑ گئی ہے اور وہ بری طرح سے ہارے ہیں۔ انکو میں نے کیا پیغام دینا ہے، قبائلی عوام اور پاکستان کی عوام نے انکو نظر انداز کرکے بہت اچھا جواب دے دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن ایک ایسی شخصیت ہیں کہ جنہوں نے اپنے مفادات کے علاوہ کبھی بھی عوام کیلئے نہیں سوچا، جہاں انہوں نے دیکھا کہ ہمارا فائدہ ہے، وہاں انہوں نے اپنے ڈیرے ڈال دیئے، ان کی سیاست کا ایک ہی ایجنڈہ ہے کہ صرف اور صرف اپنی جیبیں بھرو اور بس، محمود اچکزئی کا تو بچے بچے کو پتہ ہے کہ وہ پاکستان کا خیر خواہ نہیں ہے، وہ تو واضح طور پر پاکستانی اداروں کے خلاف بولتا ہے کہ پاکستان کے خلاف بولتا ہے اور کس کے کہنے پر یہ سب کرتا ہو، وہ آپ بھی جانتے ہیں، سب عوام جانتے ہیں۔ بہرحال ان کیلئے یہی کافی ہے کہ انکو فاٹا کے مسئلے پر ذلیل و رسوا کیا گیا اور بتا دیا گیا کہ تم لوگوں کی دکانیں اب یہاں نہیں چلنے دیں گے۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا فاٹا کی عوام کو اپنے بنیادی حقوق دے سکے گا، جس سے وہ 117 سال تک محروم رہے۔؟؟
قیصر جمال آفریدی:
ان شاء اللہ مجھے پورا یقین ہے، صوبے میں انضمام کے بعد ان کو اپنے حقوق ملیں گے، ابھی تو صرف تحریری انضمام ہوا ہے، عملی انضمام بھی ان شاء اللہ جلد ہو جائے گا، عملی طور پر یقیناً مشکلات درپیش ہوں گی، کچھ وقت درکار ہوگا، مگر یہاں کی عوام کو اپنے بنیادی حقوق ضرور ملیں گے۔ خیبر پختونخوا حکومت بہت خوش ہے کہ فاٹا کو یہاں جوڑ دیا گیا، قبائلی عوام کو جو حقوق نہیں مل سکے، ان شاء اللہ خیبر پختوبخوا حکومت ان کو دے گی اور انکی محرومیوں کا ازالہ ہوگا۔

اسلام ٹائمز: فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے سے پولیٹکس پر کیا اثر پڑیگا، پاکستانی سیاست میں کون سی تبدیلیاں رونماء ہوسکتی ہیں۔؟؟
اسلام ٹائمز آفریدی:
آپ کو معلوم ہوگا کہ فاٹا کے صوبے میں ضم ہونے کے بعد یہاں سیٹوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، رقبے میں بھی اضافہ ہوا اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں بھی تو اس سب سے بڑا اثر سیاست پر پڑے گا۔ 2018ء میں صوبائی رکن فاٹا سے منتخب ہوں گے، اگر یہ رکن اسمبلی میں آگئے تو یہ عمل نہ صرف کے پی کے کی سیاست پر اثرانداز ہوگا، بلکہ قبائلی عوام کیلئے بھی ان شاء اللہ نیک شگون ثابت ہوگا۔

اسلام ٹائمز: جب پاکستان بنا تھا تو مولانا فضل الرحمٰن کے بڑوں نے مخالفت کی تھی، لیکن بعد میں وہ پاکستان میں شامل ہوگئے اور اسکو تسلیم کرلیا، کیا اب فاٹا کے معاملے پر مولانا انہی کے نقش قدم پر چلیں گے۔؟؟
قیصر جمال آفریدی:
دیکھیں مولانا سے کچھ بھی بعید نہیں، مولانا کب اور کیسے بازی پلٹ جائیں کچھ سمجھ نہیں آتی۔ ان کے بڑوں نے پاکستان بننے کی مخالفت کی اور آج خود مولانا پاکستان کے ٹھیکے دار بنے ہوئے ہیں۔ ابھی یہ لوگ فاٹا کی صوبے میں انضمام پر مخالفت کیلئے کھلم کھلا اتر آئے ہیں، آپ دیکھئے گا کل کو یہی مولانا ہوں گے، جو اپنے مفادات کی خاطر فاٹا انضمام کو تسلیم کریں گے، ابھی چونکہ انکو بہت درد ہے کیونکہ انکی دکانیں بند ہونے جا رہی ہیں تو یہ چیخ رہے ہیں، جب دیکھیں کہ اب ہمارا ہر حربہ ناکام ہوچکا ہے تو یہی کہیں گے، چلو آؤ انضمام کو تسلیم کرتے ہیں اور اس پر اپنی بیکار سیاست شروع کر دیں گے۔
خبر کا کوڈ : 728168
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے