0
Wednesday 30 May 2018 22:56
عالمی یوم القدس کا اعلان کرکے فلسطین کاز کو آگے بڑھانا امام خمینیؒ کا عظیم کارنامہ ہے

امام خمینیؒ نے عالمی یوم القدس کا اعلان کرکے ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلایا کہ مسئلہ فلسطین عالم اسلام کا اہم ترین و ناقابل فراموش مسئلہ ہے، مظفر احمد ہاشمی

پاکستان میں عالمی یوم القدس کو سرکاری سطح پر منایا جانا چاہیئے، ملکی میڈیا عالمی یوم القدس کو خصوصی کوریج دے
امام خمینیؒ نے عالمی یوم القدس کا اعلان کرکے ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلایا کہ مسئلہ فلسطین عالم اسلام کا اہم ترین و ناقابل فراموش مسئلہ ہے، مظفر احمد ہاشمی
مظفر احمد ہاشمی اسوقت جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر کی حیثیت سے ذمہ داری سرانجام دے رہے ہیں، زمانہ طالب علمی میں وہ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے اور دینی و تحریکی تربیت حاصل کی، وہ فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی سرپرست رہنماء بھی ہیں۔ وہ کراچی سے رکن قومی اسمبلی بھی رہ چکے ہیں۔ کراچی سمیت سندھ بھر کے تمام سیاسی و مذہبی حلقوں میں انکی شخصیت کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ”اسلام ٹائمز“ نے مظفر احمد ہاشمی کیساتھ فلسطین، شام سمیت مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور عالمی یوم القدس و دیگر موضوعات کے حوالے سے انکی رہائش گاہ پر ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر انکے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: امریکی سفارتخانے کی تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقلی اور اسکے خلاف سراپا احتجاج ساٹھ سے زائد فلسطینیوں کی شہادتوں، ہزاروں کے زخمی ہونیکے بعد مسئلہ فلسطین ایک بار بھی عالمی منظر نامہ میں ابھر چکا ہے، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
مظفر احمد ہاشمی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔
مسئلہ فلسطین ناصرف عالم اسلام بلکہ دنیا پر لگا ہوا ایسا زخم ہے، جس کا علاج کرنے کے بجائے دن بدن اس کے اندر خنجر گھونپا جا رہا ہے، زخم کو مزید گہرا کیا جا رہا ہے، گذشتہ دنوں مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کی منتقلی اور افتتاح اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، لیکن اس امریکی اقدام کی دنیا بھر نے مذمت کی ہے، جو بذات خود امریکہ اور اسرائیل کی کھلی ناکامی ہے، ماضی کے امریکی صدور چاہتے ہوئے بھی یہ قدم نہیں اٹھا سکے، ان کی ہمت نہیں ہوسکی، لیکن دشمن اسلام موجودہ امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی سفارتخانے کا افتتاح کرکے جلتی پر مزید تیل چھڑکنے کا کام کیا ہے، اس کا مقصد پوری امت مسلمہ کو تہس نہس کرنا ہے، ٹرمپ کی صدارت میں شام پر امریکی بمباری، ایران کے ساتھ عالمی ایٹمی معاہدہ توڑنا، اب تو ٹرمپ کا ارادہ ایران پر حملہ کرنے کا ہے، یعنی ٹرمپ دنیا کو عالمی جنگ میں دھکیلنا چاہتا ہے، اس وجہ سے اسکی اپنی کانگریس نے اس پر پابندی لگائی ہے کہ کانگریس کی اجازت کے بغیر یہ کوئی بھی جنگی اقدام نہیں اٹھا سکتا۔

ٹرمپ نے تل ابیت سے فلسطین کے تسلیم شدہ دارالحکومت بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کو منتقل کرکے بدترین سفارتی دہشتگردی کا مظاہرہ کیا ہے، اسی دوران مظلوم فلسطینیوں کی حق واپسی کی تحریک نے زور پکڑا، تو اسرائیل نے انہیں بدترین دہشتگردی کا نشانہ بناتے ہوئے خاک و خون میں غلطاں کر دیا، امریکہ اور اسرائیل سمجھ رہے تھے کہ وہ اپنے ان اقدام سے مظلوم فلسطینیوں کو جھکانے میں کامیاب ہو جائیں گے، ان اقدام کے ذریعے مظلوم فلسطینیوں کے حوصلے پست کر دینگے، لیکن ان کا خواب خواب ہی رہا، بدترین امریکی سفارتی دہشتگردی اور بدترین اسرائیلی عسکری دہشتگردی کے باوجود تحریک آزادی فلسطین کی شدت میں اضافہ ہوچکا ہے، آج یہ تحریک آزادی نئے جوش و جذبے کیساتھ تیزی سے اپنے مراحل طے کر رہی ہے، آگے بڑھ رہی ہے، یہی وجہ ہے امریکہ اور اسرائیل پریشان ہیں، انہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے، یقیناً وہ عنقریب مزید بے وقوفانہ اقدامات اٹھائیں گے، جس سے تحریک آزادی فلسطین مزید آگے بڑھے گی اور اسرائیل اپنی نابودی سے مزید قریب ہوگا۔

اسلام ٹائمز: فلسطین کی حالیہ صورتحال پر او آئی سی کے ہنگامی اجلاس کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں، جس میں سوائے مذمتی قرارداد پاس کرنیکے سوا کچھ نہیں ہوا۔؟
مظفر احمد ہاشمی:
او آئی سی کے تو بس میں ہی نہیں ہے کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے کوئی عملی اقدامات اٹھائے، عرب ممالک اور سوائے چند ایک کو چھوڑ کر تمام مسلم ممالک امریکہ کے پٹھو ہیں، ان میں اتنی جرأت ہی نہیں ہے کہ امریکہ کی مرضی کے خلاف کوئی عملی اقدام اٹھا سکیں، ترکی اگر او آئی سی کا اجلاس نہ بلاتا تو ان عرب و مسلم ممالک کو اجلاس بلانے کی بھی توفیق نہیں تھی، جبکہ کئی عرب و مسلم ممالک کی تو سرحدیں بھی فلسطین کے ساتھ ملی ہوئی ہیں، وہ عرب ممالک جو عالم اسلام کے پیشوا سمجھے جاتے ہیں، جنہیں یہ کردار ادا کرنا چاہیئے تھا، جنہیں عالم اسلام کا پیش امام ہونا چاہیے تھا، ان میں ہمت نہیں وہ امریکہ کے اطاعت گزار ہوگئے ہیں، بڑھ چڑھ کر امریکہ کی حمایت کر رہے ہیں، بہرحال او آئی سی کا اجلاس بلانے، اس میں مذمتی قرارداد پیش کرنا ہی بڑی بات ہے، اس حوالے سے ترکی، ایران کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیئے، ساتھ ساتھ پاکستان کا کردار بھی اس بار بہت اچھا رہا، وزیراعظم پاکستان نے اچھے الفاظ میں تقریر کی، انہوں نے واشگاف الفاظ میں یہ بتا دیا کہ ہم سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس میں منتقلی کے امریکی اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کرینگے، ہم فلسطینیوں کے واپسی کے حق کو کبھی پامال نہیں ہونے دینگے، ہم ہمیشہ فلسطینیوں کی واپسی کی حمایت کرتے رہینگے، تیس چالیس لاکھ فلسطینیوں کو اپنی اپنی ہی زمین سے جبری طور پر بے دخل کر دیا گیا ہے، جو شام، لبنان، اردن و دیگر ممالک میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، پاکستان ہمیشہ ان مظلوم فلسطینیوں کی واپسی کی حمایت کرتا رہیگا، ان شاء اللہ یہ تمام بے دخل کئے گئے مظلوم فلسطینی ایک دن جلد اپنے وطن کو واپس لوٹیں گے۔

اسلام ٹائمز: اہم موقع پر او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات جیسے اہم ممالک کی غیر حاضری کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
مظفر احمد ہاشمی:
یہ ممالک جنہوں نے ایران کے خلاف ایک عسکری اتحاد بھی بنایا ہے، خود قطر کے خلاف بھی انہوں نے اتحاد بنایا، یہ ممالک تو سو فیصد امریکہ کی گود میں بیٹھے ہوئے ہیں، یہ ممالک امریکہ کی چشم آبرو پر کام کر رہے ہیں، ان ممالک کو تو ہمیں اسلامی ممالک کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے، ان ممالک کے حکمران اسرائیل سے پینگیں بڑھا رہے ہیں اور اس کوشش میں ہیں کہ مسئلہ فلسطین اور اسرائیل کے ناجائز وجود کے حوالے سے جو امریکی مؤقف ہے اسے من و عن تسلیم کر لیا جائے، لیکن یہ کام میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو پائیں گے، چاہے وہ او آئی سی میں شریک ہوں یا نہ ہوں، ابھی سارے مسلم ممالک ان کی طرح اتنے بے غیرت نہیں ہوئے ہیں، جو صرف اور صرف اپنا تاج و تخت، اپنی دولت بچانے کیلئے سب کچھ بیچنے کیلئے تیار ہیں۔

اسلام ٹائمز: سعودی عرب جیسا ملک جسے عالم اسلام کے مسائل کے حل کیلئے قیادت کرنی چاہیئے تھی، اگر اسکا کردار ہی افسوسناک ہوگا تو مسائل کیسے حل ہونگے۔؟
مظفر احمد ہاشمی:
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سعودی عرب جس ملک کو عالم اسلام کا پیشوا ہونا چاہیئے تھا، لیڈر ہونا چاہیئے تھا، جسے عالم اسلام کو لیکر چلنا چاہیئے تھا، تمام مسلم ممالک کی امامت کرنی چاہیئے تھی، وہ جا کر اگر امریکہ کی گود میں بیٹھ گیا ہے اور متحدہ عرب امارات سمیت اس کے دیگر اتحادی ممالک بھی امریکہ کی گود میں بیٹھ گئے ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ مسلمانان عالم کبھی بھی ان کے اس قدم کو تسلیم نہیں کرینگے، بے شک یہ کتنی ہی مقدس مقامات کا انتظام سنبھالے ہوئے ہوں یا وہاں کی بادشاہ ہوں یا وہاں کی حکمرانی ان کے ہاتھ میں ہو، لیکن اس کا کبھی یہ مطلب نہیں ہوگا کہ ان کے غلط اقدامات کو دنیا کے مسلمان تسلیم کرینگے، ان کے غلط اقدامات کو ضرور غلط کہیں گے، یہ حکمران اور بادشاہتیں ایک دن ضرور اپنے انجام کو پہنچیں گے۔

اسلام ٹائمز: اس صورتحال میں کن مسلم ممالک کو آگے بڑھ کر مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے کردار ادا کرنا چاہییے۔؟
مظفر احمد ہاشمی:
ہونا تو یہ چاہیئے کہ سعودی عرب کو فلسطین کی آزادی کیلئے کردار ادا کرے، عرب ممالک کردار ادا کریں، مصر کو کردار ادا کرنا چاہیئے، جس کی سرحد فلسطین کے ساتھ ملتی ہیں، لیکن سب سے پہلا اور سب سے زیادہ فرض تو سعودی عرب کا بنتا ہے، لیکن اس کا کردار سب سے زیادہ شرمناک ہے، لہٰذا اب لازمی بات ہے کہ اس وقت آزادی فلسطین کے حوالے سے امامت ایران کے پاس ہے، ایران ہمیشہ سے آج تک مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہوا ہے، مسئلہ فلسطین کے حل اور اسرائیل کی نابودی کیلئے فعال کردار ادا کر رہا ہے، فلسطینی کی اسلامی مزاحمتی تحریکوں کی سرپرستی کے حوالے سے ایران کا کردار سب سے بڑھ کر اور بہترین رہا ہے، مسئلہ فلسطین کو پس پشت ڈالنے سے بچانے کیلئے، اسے عالمی منظر نامہ میں زندہ رکھنے کیلئے، عالمی سطح پر اجاگر رکھنے کیلئے حضرت امام خمینیؒ نے ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی جمعة الوداع کو عالمی یوم قدس منانے کا اعلان کیا تھا، جو فلسطین کاز کو عالمی سطح پر زندہ رکھنے اور پوری دنیا کی عوام کو مسئلہ فلسطین کے حوالے سے شعور دینے کے حوالے کلیدی اہمیت کا حامل ہے، یہ حضرت امام خمینیؒ کا انتہائی عظیم کارنامہ ہے۔ ترکی کا کردار بے شک اہم اور قابل قدر ہے، اس نے فلسطینیوںکی ہر طریقے سے مدد کرنے کی کوشش کی، لیکن ترکی تو اس معاملے میں بعد میں آیا ہے، لیکن ایران شروع سے ہی فلسطین کاز کیلئے سب سے بڑھ کر کردار ادا کرتا چلا آرہا ہے، لہٰذا اس وقت تو ایران، ترکی سمیت یہی تین چار ممالک پیش پیش ہیں اور جنہیں امامت کرنی چاہیئے تھی وہ تو گھروں میں آرام سے بیٹھیں ہیں۔

اسلام ٹائمز: مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے پاکستان کا کردار کیا ہونا چاہیئے۔؟
مظفر احمد ہاشمی:
پاکستان شروع سے ہی اسرائیل مخالف ہے، اس نے اسرائیل کو نہ کبھی تسلیم کیا ہے اور نہ ہی کبھی کریگا، بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ فلسطین پر قابض اسرائیل کے وجود کو عالم اسلام کے قلب میں خنجر کی مانند قرار دیتے ہیں، پاکستان کی شروع سے واضح پالیسی ہے کہ اگر عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم بھی کر لیں گے تب بھی پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کریگا، پاکستان کے پاسپورٹ پر واضح لکھا ہوا ہے کہ یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے دنیا کے تمام ممالک کیلئے کارآمد ہے، مشرف دور میں کوشش کی گئی کہ اسرائیل کو تسلیم کر لیا جائے، آمر مشرف اس معاملے میں بہت آگے بڑھ گیا تھا، لیکن وہ ناپاک کوشش کامیاب نہیں ہوسکی۔ بہرحال اب جو حکومتی پالیسی نظر آئی، جس کا وزیراعظم نے او آئی سی کے حالیہ ہنگامی اجلاس میں تقریر کے دوران کھل کر اظہار بھی کیا ہے، جبکہ امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی، اسرائیل کی جانب سے مظلوم نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کے خلاف ہماری سینیٹ، ہماری قومی و چاروں صوبائی اسمبلیوں نے مذمتی قراردادیں منظور کیں، امریکی اقدام اور اسرائیلی دہشتگردی کی شدید مذمت کی۔

اسلام ٹائمز: حضرت امام خمینیؒ کے اعلان کردہ عالمی یوم القدس کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
مظفر احمد ہاشمی:
کچھ عرصہ قبل بیچ میں مسئلہ فلسطین کو پس پشت ڈالا جا رہا تھا، لیکن رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو حضرت امام خمینیؒ کے عالمی یوم القدس منانے کے اعلان سے بہت فرق پڑا ہے، عالمی یوم القدس منانا ہر سال تجدید عہد کرنا ہے، ہر سال اپنے اس عزم کا اعادہ کرنا ہے، جو ہم نے مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کیا ہے، وہ عہد جو ہم پر کلمہ گو ہونے کی حیثیت سے واجب ہے، ہم پر عائد ہے، امام خمینیؒ نے عالمی یوم القدس کا اعلان کرکے ہمیں ہمارا بھولا ہوا سبق یاد دلایا ہے کہ مسئلہ فلسطین عالم اسلام کا سب سے بڑا اور اہم مسئلہ ہے، جسے کسی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا، جس سے غفلت نہیں برتی جا سکتی، اور جب تک یہ مسئلہ فلسطین حل نہیں ہو جاتا، دنیا میں امن قائم ہو ہی نہیں سکتا۔ بہرحال امام خمینیؒ کی جو عالمی یوم القدس کی پالیسی تھی، ان کے بعد بھی تمام ایرانی حکومتوں نے اسے من و عن جاری و ساری رکھا ہوا ہے، عالمی یوم القدس کا اعلان کرکے فلسطین کاز کو آگے بڑھانا امام خمینیؒ کا عظیم کارنامہ ہے، جو آج بھی ان کے چاہنے والے آگے لے کر بڑھ رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستان میں عالمی یوم القدس منانے کے حوالے سے کیا تجویز دینگے۔؟
مظفر احمد ہاشمی:
ہم تو خود بھی پاکستان میں عالمی یوم القدس منانے کے حوالے سے حصہ لیتے ہیں، تمام عوام کو بھی عالمی یوم القدس منانے کی تلقین بھی کرتے ہیں، پاکستان میں بھی ہر خاص و عام کو عالمی یوم القدس منانے کے حوالے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیئے، ماہ رمضان المبارک کے جمعة الوداع کو عالمی یوم القدس منانے کیلئے اپنے گھروں سے باہر نکلیں، مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کریں، امریکا اور اسکی ناجائز اولاد اسرائیل کے خلاف احتجاج کریں، حکومت کو بھی چاہیئے کہ پاکستان میں عالمی یوم القدس کو سرکاری سطح پر منایا جانا چاہیئے، حکومت اس کا اعلان کرے، سرکاری سطح پر مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرنے کیلئے سرکاری تقریبات کا انعقاد کیا جائے، میڈیا کو چاہیئے کہ عالمی یوم القدس کو خصوصی کوریج دے، مظلوم فلسطینیوں پر غاضب صیہونی اسرائیلی حکومت کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کو اجاگر کرے، اسرائیل اور اس کے سرپرست امریکا کا مکروہ چہرہ دنیا بھر کے سامنے بے نقاب کرے۔ عالمی یوم القدس کے موقع پر کراچی میں نمائش چورنگی تا تبت سینٹر مرکزی آزادی القدس ریلی کے دوران ایم اے جناح روڈ پر گذشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام بہت بڑی تصویری نمائش کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جس میں اسرائیل کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم و بربریت کو بے نقاب کیا جائے گا اور تحریک آزادی فلسطین کے حوالے سے آگاہی دی جائے گی۔
خبر کا کوڈ : 728490
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب