0
Tuesday 5 Jun 2018 23:18
ایران، پاکستان اور ترکی کو ملکر مسئلہ فلسطین کے حل کے حوالے سے قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیئے

امام خمینیؒ کے اعلان کردہ عالمی یوم القدس کا مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ہے، اسد اللہ بھٹو

پاکستان سمیت تمام مسلمانان عالم امسال بھی اپنے اپنے ممالک میں عالمی یوم القدس کو بھرپور طریقے سے منائیں
امام خمینیؒ کے اعلان کردہ عالمی یوم القدس کا مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ہے، اسد اللہ بھٹو
جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر اسد اللہ بھٹو کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ وہ متحدہ مجلس عمل کی مرکزی قانونی کمیٹی کے صدر اور ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر بھی ہیں، پاکستان خصوصاََ کراچی و سندھ بھر میں انکی اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے کوششوں کو ہر حلقے میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ کراچی سے قومی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ وہ جماعت اسلامی سندھ کے امیر کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے اسداللہ بھٹو کیساتھ عالمی یوم القدس اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے مسجد قباء کراچی میں قائم جماعت اسلامی سندھ کے آفس میں ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر ان سے کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: امریکی سفارتخانے کی تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقلی اور اسکے خلاف سراپا احتجاج ساٹھ سے زائد فلسطینیوں کی شہادتوں، ہزاروں کے زخمی ہونیکے بعد مسئلہ فلسطین ایک بار بھی عالمی منظر نامہ میں ابھر چکا ہے، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
اسد اللہ بھٹو:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے اندرونی مسائل، معاشی و دیگر بحران سے امریکی عوام کی توجہ ہٹانے اور اپنے آپ کو مقبول بنانے کیلئے امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا قدم اٹھایا ہے، وگرنہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہاں نہ تو امریکی سفارتخانے کی منتقلی کا کوئی مطالبہ تھا، نہ کوئی تحریک تھی، نہ تو اس کا کوئی فائدہ ہے، بلکہ اس کے نتیجے میں بیت المقدس جو مسلمانوں، عیسائیوں، یہودیوں کیلئے ایک مذہبی شہر ہے، اسے متنازعہ بنانا امریکی صدر ٹرمپ کی انتہائی سنگین سیاسی غلطی ہے، جس پر خود امریکہ کے اندر بھی احتجاج ہوا ہے، امید ہے کہ آنے والی امریکی حکومت اپنا سفاتخانہ واپس تل ابیب منتقل کر دے گی۔ جہاں تک فلسطینیوں کی تحریک حق واپسی کی بات ہے تو فلسطین فلسطینیوں کی سرزمین ہے، یہ بین الاقوامی طور پر ایک مسلمہ اصول ہے کہ جو لوگ جس علاقے کے رہنے والے ہیں، ان کو واپس اپنے علاقے میں جانے اور رہنے کا حق حاصل ہے، لہٰذا جبری بے دخل کئے گئے لاکھوں فلسطینیوں کو حق واپسی حاصل ہے، حال ہی میں یوم نکبہ کے موقع پر جب مظلوم فلسطینیوں نے تحریک حق واپسی کے تحت واپسی کا سفر کیا، تو غاضب صہیونی اسرائیلی حکومت نے ریاستی دہشتگردی کے ذریعے ہزاروں احتجاجی فلسطینیوں کو زخمی اور سینکڑوں کو شہید کر دیا ہے، صہیونی مظالم انسانی تاریخ پر سیاہ دھبے کی مانند ہے، افسوس ناک امر یہ ہے کہ نہتے مظلوم فلسطینیوں پر بدترین صہیونی اسرائیلی مظالم پر اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، انسانی حقوق کے ادارے صرف اور صرف ایک تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں، لیکن دنیا کا انصاف پسند انسان، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب و ملک سے ہو، وہ جبری بے دخل کئے گئے مظلوم فلسطینیوں کے حق واپسی کی حمایت بھی کرتا ہے، مطالبہ بھی کرتا ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اب یہ تحریک حق واپسی رکے گی نہیں بلکہ اپنے منطقی انجام تک جاری رہیگی۔؟
اسد اللہ بھٹو:
مظلوم فلسطینیوں نے جس جوش و جذبے کے ساتھ تحریک حق واپسی کو شروع کیا ہے، جس طرح سے انہوں نے جان و مال و اولاد کی قربانیاں دی ہیں، ان کی یہ قربانیاں ہرگز ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی، ان کے عزم کے مضبوط ہونے کی یہ دلیل ہے کہ وہ ہر قسم کی قربانیاں دینے کے باوجود ثابت قدم ہیں، ڈٹے ہوئے ہیں، ان شاء اللہ ہمیں امید ہے کہ جبری بے دخل کئے گئے لاکھوں مظلوم فلسطینی جلد اپنے وطن کو واپس لوٹیں گے، اپنی سرزمین پر آباد ہونگے اور وہاں اپنی حکومت قائم کرینگے اور ان شاء اللہ جلد قدس سمیت تمام مقبوضہ فلسطینی علاقے آزاد ہونگے۔

اسلام ٹائمز: مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے امام خمینیؒ کے فرمان پر جمعة الوداع کو عالمی یوم القدس منایا جاتا ہے، امام خمینی کے اس فرمان اور اسکے عالمی سطح پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
اسد اللہ بھٹو:
امام خمینیؒ نے ایران میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی جمعة الوداع کو عالمی یوم القدس منانے کا تاریخ ساز اعلان کیا تھا، اسے دنیا بھر میں پذیرائی حاصل ہوئی ہے، کیونکہ یہ مسلمانوں کے دل کی آواز ہے اور مسلمانوں کے حقیقی جذبات کی صحیح ترجمانی ہے، تمام عالم اسلام پر واضح ہے کہ سرزمین مقدس فلسطین میں کوئی شیعہ آباد نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود امام خمینیؒ نے بحیثیت ایک مسلمان اتحاد امت مسلمہ کی دعوت کے تحت، تمام کلمہ گو کو مسلمان سمجھتے ہوئے انہوں نے مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی جمعة الوداع کو عالمی یوم القدس منانے کا اعلان کیا، امام خمینیؒ کے اعلان کردہ عالمی یوم القدس نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور اسے پس پشت ڈالنے کی سازش کو ناکام بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، کیونکہ عالمی یوم القدس کے موقع پر دنیا بھر میں ناصرف عالم اسلام بلکہ تمام مظلومین جہان اور ہر خطے میں موجود انسانیت کا درد رکھنے والے یک آواز ہو کر مظلوم فلسطینیوں کے حق میں اور اسرائیل کی نابودی کیلئے آواز بلند کرتے ہیں، جس سے ہر سال مسئلہ فلسطین کو پس پشت ڈالنے کی سازش ناکام ہو جاتی ہے اور مسئلہ فلسطین عالمی منظر نامہ میں ابھر کر سامنے آجاتا ہے۔

عالم اسلام نے امام خمینیؒ کے اعلان کردہ عالمی یوم القدس کے اعلان پر ہمیشہ لبیک کہا، یہی وجہ ہے کہ ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو تمام مسلمانان عالم، چاہے وہ شیعہ ہوں، سنی ہوں، بریلوی ہوں یا دیوبندی یا اہلحدیث یا کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں، مسالک و مکاتب و فرقوں سے بالاتر ہوکر پاکستان سمیت دنیا بھر میں مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور غاضب صہیونی اسرائیلی حکومت سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے عالمی یوم القدس مناتے ہیں، میں تمام پاکستان سمیت تمام مسلمانان عالم سے اپیل کروں گا کہ وہ اس سال بھی اپنے اپنے ممالک میں عالمی یوم القدس کو بھرپور طریقے سے منائیں، علمائے کرام خطبات جمعہ میں اس موضوع پر روشنی ڈالیں، تمام مسالک کی دینی سیاسی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل بھی عالمی یوم القدس بھرپور طریقے سے منائے گی، بیت المقدس مسلمانوں کا قبل اول ہے، جس کی آزادی ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

اسلام ٹائمز: ابھی بھی یہ سازش جاری ہے کہ مسئلہ فلسطین کو پہلے مسلمانوں کا مسئلہ قرار دیا گیا، پھر عربوں اور آہستہ آہستہ اسے فلسطینیوں تک ہی محدود کرکے رکھ دیا گیا، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
اسد اللہ بھٹو:
بنیادی طور پر یہ مسئلہ فلسطین کا مسئلہ ہے، جس میں فلسطین پر قابض غاضب صہیونی اسرائیلی حکومت نے لاکھوں فلسطینیوں کو جبری طور پر انکی اپنی ہی سرزمین سے بے دخل کر دیا ہے، باقی فلسطینیوں کو غزہ و دیگر علاقوں میں ایک جیل کی مانند محصور کر دیا ہے، طاغوتی استکباری طاقتوں کی ہمیشہ سازش رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح مسئلہ فلسطین کو مسلم، علاقائی مسئلہ بنا کر محدود کر دیا جائے، آج بھی کوشش جاری ہے کہ مسئلہ فلسطین کو پس پشت ڈال دیا جائے، لیکن فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ عالم اسلام اور پوری انسانیت کا مسئلہ ہے، سرزمین مقدس فلسطین ناصرف مسلمانوں بلکہ عیسائیوں اور یہودیوں کیلئے بھی مقدس سرزمین ہے، مسئلہ فلسطین جتنا مسلمانوں کیلئے اہم ہے، اتنا وہاں کے عیسائیوں اور یہودیوں کیلئے بھی اہم ہے، قبلہ اول اور انبیاء کی سرزمین سے عالم اسلام کسی طور پر بھی لاتعلق نہیں رہ سکتا۔

معراج پر تشریف لے جاتے وقت نبی اکرمﷺ نے بیت المقدس میں انبیاؑ کی امامت کی تھی، پھر مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اقوام متحدہ میں متعدد قراردادیں موجود ہیں، مظلوم فلسطینیوں نے تحریک آزادی فلسطین کے ذریعے ہمیشہ اپنی جدوجہد جاری رکھی، فلسطین سمیت تمام عالم اسلام کی تحریکوں اور تنظیموں نے بھی اس مسئلہ کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے اہم کردار ادا کیا، سوائے چند ایک کے تمام مسلم حکمرانوں نے تو مسئلہ فلسطین کو پس پشت ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، لیکن مسلمانان عالم نے مسئلہ فلسطین کو ہمیشہ عالمی سطح پر زندہ رکھا، اسے پس پشت ڈالنے نہیں دیا، ایران میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد امام خمینی نے ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی جمعة الوداع کو عالمی یوم القدس منانے کا اعلان کیا تو اس مسئلہ فلسطین کو پس پشت ڈالنے کی ساش کو ہمیشہ کیلئے ناکام بنا دیا، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ عالمی یوم القدس نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

اسلام ٹائمز: مسئلہ فلسطین کے حوالے سے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی بے حسی تو ایکطرف مگر عرب ممالک اور او آئی سی کا کردار بھی انتہائی مایوس کن ہے، اس حوالے سے آپکی نگاہ کیا کہتی ہے۔؟
اسد اللہ بھٹو:
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عرب ممالک اور او آئی سی نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے جو کردار ادا کرنا تھا، انہوں نے وہ کردار ادا نہیں کیا، عرب ممالک ہوں یا او آئی سی، انہوں نے مسئلہ فلسطین کو پس پشت ڈالا ہوا ہے، اس حوالے سے مجرمانہ غفلت برتی ہے، مسلم و عرب حکمرانوں کے جذبات میں تو فرق ہوسکتا ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس کے باوجود امت مسلمہ کے جذبات میں کوئی فرق نہیں آیا ہے، عرب کے مسلمان ہوں یا عجم کے، مشرق وسطیٰ یا ایشیا یا مغرب یا امریکہ کے مسلمان ہوں، یا دنیا کے کسی بھی خطے کے مسلمان ہوں، ان سب کی یکساں عقیدت ہے، موقف ہے، یکساں مطالبہ ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کو آزاد ہونا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: کن مسلم ممالک کو آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا چاہیئے۔؟
اسد اللہ بھٹو:
میرا خیال ہے کہ ایران، پاکستان اور ترکی کو ملکر مسئلہ فلسطین کے حل کے حوالے سے قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیئے، او آئی سی کے اندر کے تحریک پیدا کرکے مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: مسئلہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان سمیت تمام مسلمانان عالم پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔؟
اسد اللہ بھٹو:
مسلم عوام کے اندر پہلے بھی جذبہ تھا اور اب بھی ہے، عوام پہلے بھی بیت المقدس سمیت تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی آزادی کیلئے تڑپ رہے تھے اور ابھی بھی تڑپ رہے ہیں، ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی جمعة الوداع کو جو عالمی یوم القدس کے عنوان سے منایا جاتا ہے، اس سے بھی مسئلہ فلسطین میں ایک تازگی پیدا ہوتی ہے، تحریک آزادی فلسطین میں جان پیدا ہوتی ہے، لہٰذا عالمی یوم القدس کے موقع پر تمام مسلمانان عالم اپنے اپنے ممالک میں مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کریں، احتجاج کریں، جلسے، جلوس و ریلیاں نکالیں، تاکہ مسئلہ فلسطین پہلے سے زیادہ اجاگر کیا جاسکے، اس کے ساتھ ساتھ مسلم عوام کو چاہیئے کہ آزادی فلسطین کے حوالے سے کردار ادا کرنے کیلئے اپنے اپنے حکمرانوں پر دباؤ ڈالیں۔ پاکستانی عوام کو چاہیئے کہ وہ مسالک و مکاتب و فرقوں، سیاسی و نظریاتی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر جمعة الوداع کو عالمی یوم القدس کے موقع پر اس سال بھی فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی و حمایت اور صہیونی اسرائیل سے اظہار نفرت و بیزاری کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئیں، عالمی یوم القدس کی ریلیوں، جلسے، جلوسوں، مظاہروں میں بھرپور انداز میں شرکت کریں اور دنیا پر واضح کر دیں کہ پاکستان اور اسکی عوام مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ ہیں، غاضب صہیونی اسرائیلی حکومت سے نفرت کرتے ہیں اور کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرینگے۔

اسلام ٹائمز: عالمی یوم القدس کے حوالے سے قومی میڈیا سے کیا اپیل کرینگے۔؟
اسد اللہ بھٹو:
تحریک آزادی فلسطین کے حوالے سے ہمارے میڈیا پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ہمارے میڈیا کو بھی فلسطین کی آزادی کے حوالے سے کردار ادا کرنا چاہیئے، میڈیا کو چاہیئے کہ مظلوم فلسطینیوں پر ہونے والی صہیونی اسرائیلی ظلم و بربریت کو دکھائے، مسئلہ فلسطین کو حقیقی معنوں میں اجاگر کرے، عوام میں مزید شعور و آگہی دے، مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں، خصوصاً اب جو مظلوم فلسطینیوں کی تحریک حق واپسی چل رہی ہے، اس کی حمایت کے حوالے سے بھی ہمارے میڈیا کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیئے، جمعة الوداع کو عالمی یوم القدس کی مناسبت سے پاکستان بھر کے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کو چاہیئے کہ وہ خصوصی نشریات اور اشاعت کا اہتمام کرے، ڈاکیومینٹریز دکھائی جائیں، خصوصی ایڈیشنز شائع کئے جائیں، عالمی یوم القدس کے موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں القدس ریلیوں، احتجاجی مظاہروں، سیمینارز، جلسے جلوس و دیگر اجتماعات و پروگراموں کی خصوصی طور پر کوریج کرے، مسئلہ فلسطین کے حوالے سے پاکستانی عوام کے حقیقی جذبات کی عکاسی کرے اور اسے دنیا بھر کے سامنے پیش کریں، اسے نمایاں کرکے پیش کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ میں تمام سوشل میڈیا کے دوستوں سے بھی درخواست کروں گا کہ وہ بھی سوشل میڈیا پر مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
خبر کا کوڈ : 729804
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب