0
Thursday 7 Jun 2018 23:52
پاکستام، ایران اور ترکی باغیرت مسلم و عرب حکمرانوں کو جمع کرکے آزادی فلسطین کے حوالے سے اتحاد تشکیل دیں

امام خمینیؒ کا اعلان کردہ عالمی یوم القدس عالم اسلام و مظلومینِ جہان کی آواز ہے، پاکستان میں سرکاری سطح پر منانا چاہیئے، صاحبزادہ ابوالخیر

عالمی یوم القدس مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھنے، عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور اسے پس پشت ڈالنے سے بچانے کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے
امام خمینیؒ کا اعلان کردہ عالمی یوم القدس عالم اسلام و مظلومینِ جہان کی آواز ہے، پاکستان میں سرکاری سطح پر منانا چاہیئے، صاحبزادہ ابوالخیر
ملی یکجہتی کونسل اور جمعیت علمائے پاکستان (نوارنی) کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کا شمار ملک کے اہم مذہبی و سیاسی رہنماﺅں میں ہوتا ہے، ملک میں نظام مصطفٰی (ص) کا نفاذ انکی جماعت کا مشن ہے، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے دوسری مرتبہ ملی یکجہتی کونسل پاکستان کی صدارت سنبھالی ہے۔ ”اسلام ٹائمز“ کا صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کیساتھ عالمی یوم القدس اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: امریکی سفارتخانے کی تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقلی اور اس کے خلاف سراپا احتجاج ساٹھ سے زائد فلسطینیوں کی شہادتوں، ہزاروں کے زخمی ہونے کے بعد مسئلہ فلسطین ایک بار بھی عالمی منظر نامہ میں ابھر چکا ہے، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ جہاں تک امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کا اقدام ہے، اس کی تو خود امریکا کے اندر سے بھی مذمت کی گئی، جبکہ اس اقدام کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی، یہ امریکا کی بدترین سفارتی دہشتگردی ہے، جس کا خمیازہ جلد ہی آنے والے دنوں میں خود صہیونی اسرائیل کو بھگتنا پڑے گا، اس پر ناصرف مظلوم فلسطینی عوام، بلکہ دنیا بھر کے مسلمان اور باضمیر عوام سراپا احتجاج ہیں، مقبوضہ فلسطین میں مظلوم فلسطینی عوام امریکی سفارتخانے کی بیت المقدس منتقلی اور تحریک حق واپسی کے تحت سراپا احتجاج ہیں، اپنی جان و مال کا نذرانہ پیش کرر ہے ہیں، پُرامن طور پر اپنا احتجاج دنیا بھر کے سامنے ریکارڈ کراکر عالمی برادری کا ضمیر جھنجھوڑ رہے ہیں، افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ ہمارے مسلم و عرب حکمران بے حسی کا شکار ہیں، پتا نہیں ان کی غیرت کب جاگے گی، پورے مسلم امہ کا مطالبہ ہے کہ تمام مسلم و عرب حکمران مظلوم فلسطینیوں کی عملی طور پر حمایت و مدد کریں، محض مذمتی قراردادیں پاس کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ مسلمانان عالم اکھٹے ہوکر اتحاد اور وحدت کے ساتھ امریکا کو وارننگ دیں، جو کھل کر ااسرائیل کی حمایت اور اسرائیلی دہشتگردی کی پشت پناہی کرتا چلا آ رہا ہے، جس نے مسلمانان عالم کے امن کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے، ضروری ہے کہ مسلمانان علام اسرائیل اور امریکا کیخلاف انتہائی سخت مؤقف اختیار کریں، تب ہی یہ ظلم و ستم و بربریت کا سلسلہ رکے گا۔

اسلام ٹائمز: گذشتہ دنوں ترکی میں فلسطین کے معاملے پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، لیکن اہم موقع پر سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات جیسے اہم ممالک غیر حاضر رہے، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر:
یہ تمام ممالک تو امریکا کے پٹھو ہیں، امریکی اشاروں پر ناچتے ہیں، مظلوم فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے صہیونی اسرائیل سے دوستیاں بڑھا رہے ہیں، نہاد اسلامی و عرب ممالک تو اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے کوشش کر رہے ہیں، اسرائیل کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں کر رہے ہیں، یہ تو امریکی مفادات کے محافظ ہیں، انہیں عالم اسلام کے مفادات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے امام خمینیؒ کے فرمان پر جمعة الوداع کو عالمی یوم القدس منایا جاتا ہے، امام خمینی کے اس فرمان اور اسکے عالمی سطح پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے کیا کہیں گے؟
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر:
امام خمینیؒ نے ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی جمعة الوداع کو عالمی یوم القدس منانے کا جو اعلان کیا تھا، وہ ناصرف عالم اسلام بلکہ عالمی سطح پر انتہائی اہمیت کا حامل ہے، تمام مسلمانان عالم ہر سال پوری دنیا میں برپور انداز میں عالمی یوم القدس منانے ہیں، مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں، غاضب صہیونی اسرائیلی حکومت سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں، اسرائیلی مظالم کو دنیا بھر کے سامنے بے نقاب کرتے ہیں، ہر سال منائے جانے والے عالمی یوم القدس سے اسرائیل کے خلاف برسرپیکار مظلوم فلسطینیوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، ان کے عزم و حوصلے میں اضافہ ہوتا ہے، انہیں ہر سال ایک نیا جوش و جذبہ ملتا ہے، ان کی تحریک آزادی فلسطین میں ہر سال ایک نئی جان پڑتی ہے، ان کی جدوجہد میں اضافہ ہوتا ہے، انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہیں، بلکہ مسلمانان عالم کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں موجود باضمیر انسانیت دوست عوام بھی ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے، جو خصوصی طور پر عالمی یوم القدس کے موقع پر پوری دنیا میں ان کی حمایت میں اور اسرائیل کے خلاف آواز بلند کرتی ہے، لہٰذا امام خمینیؒ کا اعلان کردہ عالمی یوم القدس مسئلہ فلسطین کے حوالے سے، اسے زندہ رکھنے، اسے عالمی سطح پر اجاگر کرنے، اسے پس پشت ڈالنے سے بچانے کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، الحمداللہ تسلسل کے ساتھ ہر سال عالمی یوم القدس پوری دنیا میں ہر جگہ منایا جاتا ہے۔

اسلام ٹائمز: حضرت امام خمینیؒ کے اعلان کردہ عالم یوم القدس کی مسلمانان عالم و عالمی سطح پر پزیرائی کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر:
امام خمینیؒ کے عالمی یوم القدس منانے کے اعلان کو تمام مسالک و مکاتب میں پزیرائی حاصل ہے، اسے پوری دنیا میں پزیرائی حاصل ہے، عالمی یوم القدس کا اعلان دراصل عالم اسلام کی آواز ہے، مسلمانان عالم کے دل کی آواز ہے، ان کے جذبات کی حقیقی عکاسی کرتا ہے، ان کی صحیح ترجمانی کرتا ہے، حتیٰ عالمی القدس کا اعلان پوری دنیا کے مظلومین کی آواز بن چکا ہے، چاہے ان مظلومین کا تعلق کسی بھی مکتب، مسلک یا مذہب یا ملک سے ہو۔ خود پاکستان میں بھی تمام مسلمان، چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی، بریلوی ہوں یا دیوبندی، اہلحدیث یا ان کا تعلق کسی بھی مسلک و مکتب سے ہو، وہ باہم ملکر کر مشترکہ طور پر عالمی یوم القدس مناتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ ہم نے تمام مسالک و مکاتب کی تنظیموں کے اتحاد ملی یکجہتی کونسل کی طرف سے بھی پاکستان بھر میں عالمی یوم القدس منانے کا اعلان کیا ہے، کیونکہ عالمی یوم القدس کا اعلان کسی ایک فرقہ یا مسلک و مکتب کیلئے نہیں ہے، بلکہ یہ تمام مسلمانان عالم اور مظلومین جہان کیلئے ہے۔

اسلام ٹائمز: عالمی یوم القدس کو تجدید عہد کے طور پر مناتے ہوئے مسلمانان عالم پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر:
امام خمینیؒ تو جمعة الوداع کو عالمی یوم القدس کا اعلان کرکے ایک دن مخصوص کیا تھا ، جس کا مقصد یہ تھا کہ تمام مسلمانان عالم و مظلومین جہان ملکر مظلوم فلسطینیوں کے حق میں اسرائیل کے خلاف احتجاج کریں، عالمی سطح پر مسئلہ فلسطین جو اجاگر کریں،عالمی سطح پر دباؤ ڈالیں، اس دن کو ایک تجدید عہد کے طور پر منائیں کہ سارا سال مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے کیلئے فعالیت دکھائی جائے گی، سارا سال عالم اسلام کے اہم ترین مسئلے یعنی مسئلہ فلسطین کے حوالے دنیا بھر میں آگہی و بیداری کیلئے کام کیا جائے گا، مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائے گی، خاص طور پر آزادی فلسطین کیلئے دنیا بھر کی عوام اپنے اپنے ممالک میں حکمرانوں پر دباو¿ ڈالیں، خصوصاً وہ حکمران جو امریکا کی کاسہ لیسی کر رہے ہیں، ان کو جھنجوڑیں، مجبور کریں، ان کو ہوش دلائیں، ان کی غیرت کو جگائیں، تاکہ وہ بھی آزادی فلسطین کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اس کو ادا کریں، خدا کرے کہ امریکی کاسہ لیسی میں مصروف حکمران خواب غفلت سے بیدار ہو جائیں۔

اسلام ٹائمز: مسئلہ فلسطین کے حوالے سے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی بے حسی تو ایک طرف مگر عرب ممالک اور او آئی سی کا کردار بھی انتہائی مایوس کن ہے، اس حوالے سے آپ کی نگاہ کیا کہتی ہے۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر:
جیسا کہ میں پہلے عرض کیا کہ بعض اسلامی و عرب ممالک کے جو حکمران ہیں، وہ امریکی کاسہ لیسی میں حد سے زیادہ آگے بڑھ گئے ہیں، وہ سمجھے ہیں کہ ہماری حکومتوں کی بقا امریکی رضامندی سے وابستہ ہے، ورنہ عوام تو ہمیں اٹھا کر پھینک دینگے، اسی لئے یہ مسلم و عرب حکمران امریکی رضامندی کی خاطر ہر جائز و ناجائز امریکی خواہش پوری کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہو رہے ہیں، حتیٰ یہ کہ یہ نام نہاد مسلم و عرب ممالک آزادی فلسطین کیلئے کیا قدم اٹھائیں گے، بلکہ اس کے برعکس ان نام نہاد مسلم و عرب ممالک کے بہت سارے اقدامات تو تحریک آزادی فلسطین کے خلاف ہیں۔

اسلام ٹائمز: ایسی صورتحال میں آزادی فلسطین کے حوالے سے کن مسلم ممالک کو آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا چاہیئے۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر:
اس حوالے سے سب اہم ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے، جو عالم اسلام کا واحد ایٹمی ملک ہے، اس حیثیت سے اسے سب سے اہم کردار ادا کرنا چاہیئے، پھر پاکستان کے پڑوسی برادر اسلامی ملک ایران ہے، جو مسئلہ فلسطین کے حوالے سے سب سے آگے آگے ہوتا ہے اور آزادی فلسطین کے حوالے سے اہم اور حقیقی کردار ادا کر رہا ہے، اس کے ساتھ ترکی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے، ان تین چار ممالک کو آگے بڑھ کر جوانمرد اور باغیرت مسلم و عرب حکمرانوں جمع کرکے آزادی فلسطین کے حوالے سے ایک اتحاد تشکیل دینا چاہیئے اور نام نہاد بزدل اور امریکی کاسہ لیس مسلم و عرب حکمرانوں کو نکال دینا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: عالمی یوم القدس کو پاکستان میںسرکاری سطح پر منانے کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر:
جی بالکل، پاکستان میں عالمی یوم القدس کو سرکاری سطح پر منانا چاہیئے، ہمارے حکمرانوں کو تو خود مسئلہ فلسطین کے حوالے سے پیش قدمی کرنی چاہیئے، ہم خود اور مختلف تنظیمیں بھی یہ مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں، لیکن ہمارے حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، لیکن حکمرانوں کو اگر اپنی کرپشن کی دولت بچانے اور ذاتی مفادات کے حصول پر سے توجہ ہٹے تو یہ عالم اسلام اور خصوصاً مسئلہ فلسطین کی طرف دیکھیں۔

اسلام ٹائمز: عالمی یوم القدس منانے کے حوالے سے پاکستانی عوام سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر:
الحمداللہ، مسئلہ فلسطین اور مظلوم فلسطینی بھائیوں کی حمایت کے حوالے سے پاکستانی مسلمان اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں، پاکستانی عوام کے دل فلسطینیں عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں، پاکستانی عوام نے ہمیشہ اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کیلئے صدائے حق بلند کی ہے، کچھ عرصہ قبل غزہ کا محاصرہ توڑنے کیلئے جب عالمی مارچ کیا گیا تھا، جو اردن تک گیا تھا، اس میں بھرپور پاکستانی نمائندگی بھی شامل تھی، مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ہونے والے تمام احتجاجی مظاہروں، جلسے جلوسوں، ریلیوں، کانفرنسز، سیمینارز و دیگر ہر قسم کے پروگرامات میں پاکستانی عوام کی بھرپور شرکت کرتی ہے، جس میں تمام مسالک، مکاتب، مذاہب، طبقات، شعبہ ہائے زندگی کے لوگ شامل ہیں، مجھے پوری امید ہے کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی پاکستان میں عوام جمعة الوداع کو عالمی یوم القدس بھرپور انداز میں منائے گی، عالمی سطح پر مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کریگی، مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور غاضب صہیونی اسرائیلی حکومت سے نفرت کا اظہار کرے گی۔

اسلام ٹائمز: عالمی یوم القدس کے حوالے سے قومی میڈیا سے کیا اپیل کرینگے۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر:
قومی میڈیا کو چاہیئے کہ وہ عالمی یوم القدس اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کرے، الیکٹرنک و پرنٹ میڈیا خصوصی نشر و اشاعت کا اہتمام کریں، عالمی یوم القدس کے موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں نکلنے والی ریلیوں، احتجاج، مارچ و دیگر پروگرامات کی خصوصی طور پر کوریج کرے، ہمارا پرنٹ میڈیا عالمی یوم القدس کی مناسبت سے خصوصی ایڈیشن شائع کرے، ہمارے الیکٹرانک میڈیا خصوصی نشریات کا اہتمام کرے، ڈرامے بنائیں، مکالمے، مباحثے کرائیں۔
خبر کا کوڈ : 730246
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب