0
Friday 20 Jul 2018 08:44
پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کی ہے، آپشنز بنائے ہیں، ان آپشنز میں ایران ایک اہم ملک ہے

ایران ایک بہت اہم ملک ہے، جس سے امریکہ اور صیہونی لابی پریشان ہیں، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی

چار ممالک کے انٹیلی جنس حکام کی میٹنگ پاک ایران اور پاک روس تعلقات کے حوالے سے ایک نئی شروعات ہے
ایران ایک بہت اہم ملک ہے، جس سے امریکہ اور صیہونی لابی پریشان ہیں، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی
ڈاکٹر ہما بقائی معروف درسگاہ انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) میں ایسوسی ایٹ ڈین فیکلٹی آف بزنس ایڈمنسٹریشن اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں، اس سے قبل وہ جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں بھی دس سال سے زائد عرصہ تدریسی خدمات سرانجام دے چکی ہیں، اس کیساتھ ساتھ وہ ملکی و عالمی امور کی ماہر اور معروف سیاسی و خارجہ پالیسی تجزیہ کار ہیں، کئی سال وہ بحیثیت تجزیہ کار اور اینکر پرسن پاکستان ٹیلی ویژن اور کئی نجی ٹی وی چینلز کے ساتھ وابستہ رہ چکی ہیں اور حالات حاضرہ کے حوالے سے کئی پروگرامات کی میزبانی کرچکی ہیں، اسکے ساتھ ساتھ وہ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں اکثر و بیشتر فورمز اور ٹاک شوز پر بحیثیت تجزیہ کار اپنی ماہرانہ رائے پیش کرتی نظر آتی ہیں۔ وہ کئی کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔”اسلام ٹائمز“ نے ڈاکٹر ہما بقائی کیساتھ چین، روس، ایران اور پاکستان کے انٹیلیجنس حکام کی مشترکہ میٹنگ اور ایرانی مسلح افواج کے سربراہ جنرل باقری کے دورہ پاکستان کے حوالے سے انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) میں انکے آفس میں ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر انکے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: گذشتہ دنوں اسلام آباد میں چین، روس، ایران اور پاکستان کے انٹیلیجنس حکام کی افغانستان میں داعش کے خطرے کے تناظر میں میٹنگ ہوئی، کیا کہیں گی اس حوالے سے۔؟
ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی:
مجھے اس میٹنگ سے کوئی حیرانی نہیں ہوئی، یہ ایک گلوبل شفٹ ہے، ریجنل شفٹ ہے، جو ہم نے پچھلے تین سال سے دیکھا ہے، اس میں امریکہ بھارت کے ساتھ جڑا نظر آتا ہے اور پاکستان چین کے ساتھ جڑا نظر آتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی جو Look East policy ہے، اس میں پاکستان صرف چین کی طرف نہیں دیکھ رہا، وہ ایران کی طرف بھی دیکھ رہا ہے، روس کی طرف بھی دیکھ رہا ہے، پھر افغانستان کے حوالے سے چین، روس، ایران اور پاکستان کی دلچسپی میں تبدیلی نظر آتی ہے اور ظاہر ہے کہ افغانستان میں داعش کی وجہ سے صورتحال پیچیدہ ہوگئی ہے، جہاں روس یہ کہتا ہے کہ ہمارے پاس واضح ثبوت ہے کہ شام و عراق کے بعد داعش کو افغانستان منتقل کیا جا رہا ہے، میں خود کابل میں دو بار تھی، وہاں پر سابق اراکین پارلیمنٹ نے مجھ سے کہا کہ ہمارے پاس ایسی اطلاعات ہیں، جس کے بارے میں ہم بات نہیں کرسکتے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہاں داعش منتقل ہو رہی ہے۔ بہت سارے عالمی مقالے ہیں، خود امریکہ کی اپنی رپورٹ ہے، جس میں وہ کہتے ہیں افغانستان میں داعش منتقل ہوئی ہے، کیونکہ جب داعش کو شام سے نکالا گیا تو انہیں غیر مسلح نہیں کیا گیا، داعش کی نیچرل جگہ تو ہوسکتا ہے مشرق وسطیٰ ہو، لیکن داعش کیلئے قدم جمانے کی محفوظ جگہ افغانستان بن رہی ہے، اس کے شواہد اب تیزی سے سامنے آ رہے ہیں، لہٰذا داعش کے پس منظر کی وجہ سے جہاں چین، روس، ایران اور پاکستان اس کو اپنے لئے خطرہ محسوس کر رہے ہیں، وہیں یہ خود افغانستان کیلئے بھی بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

افغانستان کسی طور بھی اس خطرے کو تحمل نہیں کرسکتا، جبکہ روس کا کہنا ہے کہ امریکہ طالبان کو شکست دینے کیلئے داعش کو استعمال کرکے انتہائی خطرناک کھیل کھیل رہا ہے، ایک غلط چیز کو دوسری غلط چیز سے ختم کرنے کی کوشش کرنے کی صورت میں اس سے زیادہ بڑا مسئلہ آپ کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے، یہ وہ پس منظر ہے، جس کی وجہ سے میں سمجھتی ہوں کہ آپ نے چین، روس، ایران اور پاکستان کے انٹیلی جنس حکام کی میٹنگ دیکھی۔ پچھلے سال پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ خود ایران گئے تھے، پھر میجر جنرل نوید ایران گئے تھے، یہ بہت ہی غیر معمولی دورہ جات تھے، اس کے بعد آپ نے ایرانی آرمی چیف کا دورہ پاکستان دیکھا ہے، یہ شروعات ہے انٹیلی جنس شیئرنگ کی، جس میں اس کے علاوہ بھی بہت ساری باتیں ہیں، مثال کے طور پر سمندری راستے ہیں، جن کے ذریعے رسائی ہوتی ہے، بارڈر مینجمنٹ میکانزم ہے، زیادہ تر اس کا مقصد یہ ہے کہ خطے کی سکیورٹی کو مجموعی طور پر مضبوط کیا جائے، تاکہ افغانستان میں داعش کی صورت میں جو نیا نان اسٹیٹ ایکٹر قدم جما رہا ہے، اس کو روکا جائے، تو یہ میٹنگ، یہ عسکری دورہ نیچرل تبدیلی ہے، پھر ان چار ممالک چین، روس، ایران اور پاکستان سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں امریکہ کی پالیسی ناکامی کا شکار ہے اور افغان گروہوں کے مابین بات چیت کی ضرورت ہے، لہٰذا افغانستان میں رونما ہونے والی تبدیلیاں باعث بنیں ہیں ان چار ممالک کی انٹیلی جنس میٹنگ کی اور یہ اب اس کا ایک سیاسی حل چاہتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: روس کا کہنا ہے کہ داعش کی افغانستان منتقلی کے پیچھے امریکہ ہے، اس حوالے سے آپکی نگاہ کیا ہے۔؟
ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی:
یہ صرف الزام نہیں ہے اور بھی کئی جگہوں سے ہمیں اس حوالے سے معلومات ملی ہیں، ایسے لوگ ہیں جن کے انٹرویوز کئے گئے ہیں، فرانس سمیت بہت سارے مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے جنگجو ہیں، جو داعش کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور ان کی موجودگی کے حوالے سے افغانستان میں شواہد موجود ہیں، میرا خیال ہے کہ ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ انہوں نے داعش کو افغانستان منتقل کیا ہے، امریکا ظاہر ہے کہ اس کا انکار بھی کرتا ہے، لیکن واقعاتی ثبوت یا قرائنی شہادت (circumstantial evidence) بہت زیادہ ہیں۔

اسلام ٹائمز: شام و عراق میں شکست کے بعد داعش کی منتقلی کیلئے افغانستان ہی کیوں مناسب ملک نظر آتا ہے۔؟
ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی:
شام میں شکست کے بعد افغانستان سب سے مناسب جگہ ہے داعش کیلئے، جہاں وہ اپنے قدم جما سکے، افغانستان میں کنٹرولز کمزور ہیں، وہاں کی سیاسی اور حکومتی خراب صورتحال داعش کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ یہاں اپنے قدم جما کر اپنے آپ کو مضبوط بنا سکے۔

اسلام ٹائمز: افغانستان میں داعش جیسے خطرے کے خطے کے ممالک پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں۔؟
ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی:
افغانستان میں داعش کی منتقلی کے پورے خطے پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہونگے، اگر ساؤتھ ایشیا میں اسے کنٹرول نہیں کیا گیا، اسے بڑھاوا ملتا گیا، تو سرد جنگ کے dynamics ساؤتھ ایشیا میں آشکار ہوتے دیکھیں گے، یہ جو چار ممالک چین، روس، ایران اور پاکستان کے انٹیلی جنس حکام کی میٹنگ ہوئی، جس سے آپ نے بات شروع کی، وہ بھی اسی خطرے کے پیش نظر منعقد ہوئی ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ملنا ہوگا ایک حکمت عملی بنانے کیلئے، ناصرف افغانستان میں قیام امن کیلئے بلکہ داعش کی منتقلی کے باعث افغانستان میں ابھرتے ہوئے خطرے سے مقابلہ کرنے کیلئے بھی۔ اس میٹنگ سے ہی آپ باآسانی یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی خطے کیلئے کتنے بڑے خطرے کا باعث ہے۔

اسلام ٹائمز: پاکستان کو ہمیشہ امریکی کیمپ کے ملک کے طور پر دیکھا گیا ہے، لیکن پاکستان اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدہ تعلقات کے بعد کیا پاکستان اب روس، ایران اور چین کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا نظر آتا ہے، خصوصاً اسی حساس میٹنگ کے تناظر میں کیا کہنا چاہیں گی۔؟
ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی:
دیکھیں سو فیصد اعتماد تو چین بھی پاکستان پر نہیں کرتا، پاکستان اتنے عرصے امریکہ کا اتحادی رہا، کیا پاکستان اور امریکہ کے درمیان سو فیصد اعتماد تھا، تو ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا، بین الاقوامی تعلقات میں میں ہمیشہ کہتی ہوں کہ نہ تو کوئی مستقل دشمن ہوتے ہیں اور نہ مستقل دوست ہوتے ہیں، مستقل صرف مفادات ہوتے ہیں، اس وقت مفادات کی تبدیلی نظر آرہی ہے، ایک نئی صف بندی ہو رہی ہے، جہاں بہت عرصے تک پاکستان اس خطے میں امریکی اتحادی تھا بلکہ پولیس فورس تھا، اب پاکستان کی جگہ بھارت بنتا جا رہا ہے، بھارت کی Look East ہے آسٹریلیا، جاپان جبکہ پاکستان کی Look East ہے روس، ایران، چین۔

اسلام ٹائمز: پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر اعلیٰ عسکری حکام کے ایران کے دورہ جات کے بعد ایرانی مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد حسین باقری نے بھی پاکستان کا دورہ کیا، کیا کہیں گی اس حوالے سے۔؟
ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی:
جب گراؤنڈ تیار کرنے کے بعد دورے ہوتے ہیں تو وہ زیادہ مثبت ہوتے ہیں، پاکستان کی جانب سے روس کا بھی دورہ ہوا، چین کا بھی دورہ ہوا، ایران کا بھی دورہ ہوا، اس کے بعد چار ممالک کے انٹیلی جنس حکام پاکستان میں ملے، اس کا مطلب ہے کہ ایک ڈیڑھ سال سے گراؤنڈ تیار کیا جا رہا تھا، اسکے بعد آپ نے یہ میٹنگ دیکھی، یہ پاک ایران تعلقات کے حوالے سے بھی اور پاک روس تعلقات کے حوالے سے بھی ایک نئی شروعات ہے، اس کے پیچھے ایک بڑا پس منظر پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ہے، اب پاک روس اقتصادی راہداری کی بھی بات ہو رہی ہے، سی پیک کے حوالے سے تو چین چاہتا ہے کہ بھارت بھی اس کا حصہ بن جائے، لیکن نئی صف بندی میں انڈیا امریکہ کے ساتھ کھڑا ہوگیا ہے، جسے میں کہتی ہوں کہ بھارت نے ایران کے ساتھ بھی velvet divorce لی ہے اور روس کے ساتھ بھی velvet divorce لی ہے، کیونکہ اب اس کی صف بندی امریکہ کے ساتھ زیادہ ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا انٹیلیجنس میٹنگ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا نتیجہ ہے۔؟
ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی:
میں بہت عرصے سے کہہ رہی تھی کہ پاکستان کو اپنے لئے foreign policy options بنانے چاہیئے، ہمیں اپنا سارا وزن کسی ایک سائیڈ پر نہیں ڈال دینا چاہیئے، میں ابھی بھی یہی کہہ رہی ہوں کہ روس، چین اور ایران کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کا مقصد یہ ہرگز نہیں ہے کہ پاکستان امریکہ کیساتھ تعلقات خراب کر لے، پاکستان نے تمام تر مسائل کے باوجود اپنے لئے foreign policy options بنائے ہیں، جس کے نتائج پاک چین تعلقات میں مزید بہتری، بہتر ہوتے ہوئے پاک روس تعلقات اور اب پاک ایران تعلقات کی نئی شروعات کی صورت میں نظر آ رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: پاک ایران تعلقات کی بہتری کے حوالے سے کیا کہیں گی۔؟
ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی:
پاکستان کو محتاط پُرامید ہونا چاہیئے، پاکستان اور ایران کو ایک دوسرے پر اعتماد میں اضافے کیلئے مزید اقدامات کرنے چاہیئے، اس طرح کی عسکری میٹنگز ہونی چاہیں، آف ریکارڈ بھی اور بیک ڈور بھی، تاکہ پاک ایران تعلقات مضبوط ہو کر خطے میں امن کے ضامن بنیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ فعال نہیں ہوسکتا، جب تک پاکستان کے خطے کے اہم ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات نہ ہوں، گزرگاہیں اس وقت ہی فعال ہوتی ہیں کہ جب وہاں سے گزرا جا سکے، اسی لئے ہم تواتر کے ساتھ کہتے ہیں کہ بھارت سے بھی اچھے تعلقات ہونے چاہیئے۔ ایران ایک بہت اہم ملک ہے، ایران کی اہمیت آپ اس بات سے دیکھ لیں کہ ایران پورے امریکہ کو پریشان کرتا ہے، ایران پوری صہیونی لابی کو پریشان کرتا ہے، اگر ایران اسٹراٹیجیکل، جیوگرافیکل، سیاسی، اقتصادی طور پر اہم ملک نہ ہوتا تو آپ اس کے بارے میں عالمی سطح پر اتنی باتیں نہ سنتے، وجہ ہے جو ایران مسلسل انٹرنیشنل ڈیبیٹ میں آتا ہے۔ پھر ایران کی اہمیت ہمارے لئے اس لئے بھی اور بھی زیادہ ہے کہ وہ ہمارا پڑوسی ملک ہے۔ بیچ میں پاک ایران تعلقات میں کھنچاؤ آیا تھا، لیکن اب پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کی ہے، آپشنز بنائے ہیں، ان آپشنز میں ایران ایک اہم ملک ہے۔
خبر کا کوڈ : 738974
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب