0
Tuesday 7 Aug 2018 23:57
ہر قیمت پر ملکی ترقی کا عنصر پاکستانی خارجہ پالیسی میں غالب نظر آ رہا ہے

پاکستان، ایران، چین اور روس پر مشتمل اسٹراٹیجک الائنس بننے جا رہا ہے، لیکچرار امجد علی

پاکستان، ایران، چین اور روس پر مشتمل اسٹراٹیجک الائنس بننے جا رہا ہے، لیکچرار امجد علی
نوجوان لیکچرر امجد علی کا تعلق پاکستان کی معروف درسگاہ جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے ہے۔ آپ بین الاقوامی تعلقات میں ایم فل کر چکے ہیں، گذشتہ چار سالوں سے بحیثیت لیکچرر جامعہ کراچی میں تدریسی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں، اس سے قبل آپ معروف تعلیمی ادارے شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کراچی میں تین سال، شاہ لطیف یونیورسٹی خیرپور میں دو سال تدریسی فرائض انجام دے چکے ہیں، آپ سندھ یونیورسٹی سے گولڈ میڈل بھی حاصل کر چکے ہیں، آپ بین الاقوامی تعلقات سمیت ملکی و عالمی ایشوز پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے لیکچرار امجد علی کے ساتھ چین، روس، ایران اور پاکستان کے انٹیلی جنس حکام کی حالیہ میٹنگ، ایرانی مسلح افواج کے سربراہ کا دورہ پاکستان، پاکستانی خارجہ پالیسی، عمران خان کا وکٹری خطاب و دیگر موضوعات کے حوالے سے جامعہ کراچی میں انکے دفتر میں مختصر نشست کی، اس موقع پر آپ کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: حال ہی میں اسلام آباد میں ہونے والی چین، روس، ایران اور پاکستان کے انٹیلی جنس حکام کی میٹنگ ہوئی افغانستان میں داعش کے خطرے کے تناظر میں، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
لیکچرار امجد علی:
نائن الیون واقعہ کے بعد کے عالمی منظر نامے میں دنیا میں سب سے بڑا چیلنج دہشتگردی ہے، اس میں ریاستی اسپانسرڈ دہشتگردی بھی ہے، دوسری جانب نان اسٹیٹ ایکٹرز دہشتگردی کر رہے ہیں، جس سے آجکل بہت زیادہ نمٹنے کی ضرورت ہے، پاکستان، عراق، افغانستان وغیرہ میں بہت ساری دہشتگرد تنظیمیں فعال ہیں، خود انڈیا اور ایران کے اندر بھی ہیں، کہیں کم اور کہیں زیادہ موجود ہیں، طاقتور ممالک چاہتے ہیں کہ ان دہشتگرد عناصر سے نمٹنے کیلئے مل جل کر کوششیں کریں، تاکہ ان ممالک کے امن و امان، تجارت، خوشحالی سمیت دیگر مقاصد حاصل ہو سکیں، پاکستان کو سب سے زیادہ دہشتگردی کا سامنا ہے، افغانستان کے ساتھ جوائنٹ آپریشنز بھی کر رہے ہیں، نان نیٹو اتحادی کی صورت میں پاکستان دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ کا اہم حصہ ہے، پاکستان کے متوقع وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنی وکٹری اسپیچ میں کہا کہ ہم چاہتے ہیں دہشتگردی کا خاتمہ ہو، کیونکہ اقتصادی، معاشی، سیاسی، سماجی و دیگر تمام حوالوں سے سیکیورٹیز خطرے سے دوچار ہو چکی ہیں، لہٰذا پاکستان دہشتگردی کا خاتمہ چاہتا ہے، اس لئے وہ دشتگردی و انتہاپسندی کیخلاف تمام مخلص ممالک کے ساتھ مشترکہ جدوجہد کرنے کا خواہاں ہے، جس میٹنگ کا آپ نے ذکر کیا، یقیناً وہ بھی اسی مشترکہ جدوجہد کی ایک کڑی ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ وزارت داخلہ سے اس قسم کی میٹنگ سے اظہار لاعلمی کیا ہے، لیکن آگے جا کر یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ کیا ہونے جا رہا ہے، کس قسم کی انڈراسٹینڈنگ ہو رہی ہیں۔

پاک چین تعلقات تو شروع سے ہی بہت اچھے ہیں، ہر اچھے برے وقت کے دوست ہیں، روس پاکستان کے ساتھ اتنا قریب نہیں رہا، کیونکہ پاکستان کا جھکاؤ شروع سے مغرب کی جانب تھا، ہم روس کی طرف نہیں گئے، امریکا کے کیمپ کی طرف چلے گئے، اب دورباہ پاک روس تعلقات بہتری کی طرف جا رہے ہیں، پاکستان کو چاہئے کہ روس کے ساتھ تعلقات کو اپنے حق میں بہتر سے بہتر بنائے، 70ء کی دہائی میں ایک ایسا مرحلہ آیا، جس میں ہم نے دیکھا کہ روس کی طرف سے اسٹیل مل سمیت کئی منصوبے آئے، لیکن افغان جنگ کے سبب تعلقات پھر خراب ہوگئے، جہاں پاکستان کو تحفظات تھے، وہیں روس کو بھی تحفظا ت رہے، لیکن روس آہستہ آہستہ احساس کر رہا ہے کہ پاکستان کو امریکا اچھا رسپانس نہیں دیا کہ جتنی پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف جنگ شراکت رہی ہے، لہٰذا روس سمجھتا ہے کہ ایک خلا ہے، جس کے ذریعے وہ پاکستان کو اپنی طرف مائل کر سکتا ہے، روس اس پر کام بھی کر رہا ہے، کیونکہ روس کے ساتھ بھی پاکستان کی دشمنی نہیں رہی، ایران تو ہمارا برادر اسلامی پڑوسی ملک ہے۔ پاکستان اور ایران ترقی پزیر ممالک ہیں، چین کا اسٹیٹس ہم سے بہت اوپر ہے، روس بھی ترقی یافتہ ممالک میں آتا، لہٰذا اگر یہ ممالک آکر دہشتگردی کے خلاف ہمارے ساتھ مشترکہ طور پر کام کرتے ہیں تو یقینا یہ بہت مثبت امر ہے، ہمیں اس قسم کی میٹنگ کو اچھی نگاہ سے دیکھنا چاہیئے، پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی پر ضرور نظر ثانی کرنا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: روس کا کہنا ہے کہ داعش کی افغانستان منتقلی کے پیچھے امریکا ہے، اس حوالے سے آپ کی نگاہ کیا ہے۔؟
لیکچرار امجد علی:
امریکا یا کوئی بھی ریاست تو کبھی بھی داعش یا دیگر کسی بھی دہشتگرد تنظیم کو بنانے، پروان چڑھانے یا ان کی سرپرستی کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کریگی، لیکن امریکی اتحادی، امریکی سول سوسائٹی، عالمی تنظیموں کا امریکا پر بہت زیادہ دباؤ ہے کہ آپ لوگ کیا کر رہے ہیں، آپ جس چیز کو بڑھاوا دے رہے ہیں، وہ ہی دنیا کیلئے سب سے زیادہ خطرناک ہے، امریکی عوام، امریکی پارلیمنٹ، امریکی سوسائٹی میں شدید بحث جاری ہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔ امریکا اپنے آپ کو سپر پاور، ہائپر پاور کہتا ہے، سی آئی اے سمیت کئی طاقتور خفیہ ایجنسیاں رکھتا ہے، وہ امریکا اپنی عوام کو یہ کہتا ہے کہ ہم دہشتگرد گروہوں کے قیام کے حوالے سے نہیں جانتے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آپ کیسے نہیں جانتے، دنیا کے کسی بھی ملک، کسی بھی خطے میں مسئلہ ہوتا ہے، آپ وہاں کو وہاں جانا ہوتا ہے، داعش جیسی تنظیم بن جاتی ہے، کئی ممالک میں تباہی مچا دیتی ہے، آپ کو پتہ بھی نہیں چلتا، اگر ہم فرض بھی کر لیں کہ آپ اس کے پیچھے نہیں، لیکن آپ کو سب پتہ ہے، یہ تو کم از کم امریکا کو تسلیم کر لینا چاہیئے کہ آپ سب جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے، افغانستان میں امریکا کا کنٹرول ہے، اگر آپ وہاں داعش کو نہیں لا رہے تو کنٹرول کرنا تو آپ کی ذمہ داری ہے، افغانستان میں کسی بھی قسم کی دراندازی ہوتی ہے تو یہ سمجھ سے باہر ہوگا کہ امریکا اس سے کیسے غافل ہوگا۔ افغانستان میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ سب امریکا کے علم میں۔

اسلام ٹائمز: شام و عراق میں شکست کے بعد داعش کی منتقلی کیلئے افغانستان ہی کیوں مناسب ملک نظر آتا ہے۔؟
لیکچرار امجد علی:
دہشتگردی وہاں پھیلا سکتی ہے جہاں جہالت ہو، انتہائی افسوسناک امر ہے کہ افغانستان میں موجود امریکا اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے وہاں تعلیم، میڈیا کو بااختیار بنانے، افغان قانون نافذ کرنے والے اداروں، ایک مضبوط و مستحکم افغان حکومت کھڑی کرنے، اقتصادی، معاشی و سیاسی ترقی کیلئے اتنا پیسہ نہیں لگایا جتنا جنگ میں لگایا ہے۔ ایک مستحکم ملک میں دہشتگرد عناصر کیلئے پھلنے پھولنے کے مواقع نہیں ہوتے ہیں، لیکن افغانستان کی صورتحال شام و عراق سے معاشی بدحالی کا شکار ہے، عدم استحکام سے دوچار ہے، افغانستان میں چھپنے چھپانے کی جگہیں بہت ہیں، اس لئے داعش اسے اپنے لئے محفوظ جگہ سمجھتی ہے، جہاں وہ اپنا تحفظ کر سکے۔ پھر افغانستان کا جغرافیائی محل وقوع ایسا ہے کہ داعش وہاں قدم جما کر دنیا سے رابطے میں بھی رہیں گے۔

اسلام ٹائمز: افغانستان میں داعش جیسے خطرے کے خطے کے ممالک پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں۔؟
لیکچرار امجد علی:
وہی اثرات پڑ سکتے ہیں کہ جو جند اللہ کی دہشتگردانہ فعالیت کے ایران کے اندر، کالعدم تحریک طالبان کے پاکستان کے اندر آپ نے دیکھے ہیں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ اب چیزیں اس طرح سے نہیں ہونگی، مجھے یہ امید ہے، چیزیں بہتری کی طرف جا رہی ہیں، ہمارا سسٹم اتنا کمزور نہیں ہے کہ جتنا 2001ء میں تھا، اس وقت ہوتا تو ہمارے لئے بہت بڑا چیلنج ہوتا، لیکن ہم نے آہستہ آہستہ چیزوں کو قابو میں کیا ہے اور تجربہ حاصل کر لیا ہے کہ ایسے دہشتگرد عناصر سے ہم اپنے آپ کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ 2001ء میں ہماری فوج، سول سوسائٹی، سیاسی قیادت اتنے تیار نہیں تھے، لیکن اب دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے، اتنے زیادہ بحرانوں سے گزرنے کے بعد اب وہ بہت زیادہ تجربہ کار اور میچور ہو چکے ہیں، سول سوسائٹی بہت میچور اور مضبوط ہو چکی ہے، سیاسی حوالے سے دیکھیں تو دو جمہوری حکومتیں اپنی مدت پوری کر چکی ہیں، تیسری آ رہی ہے، سیاسی استحکام کی طرف میں بڑھ رہے ہیں، ماضی میں اس وقت فوج کرائسس میں تھی، سیاست میں بھی تھی، لیکن آج فوج کا کردار خالصاً سیکیورٹی کے حوالے سے ہے، آج وہ سیاست میں براہ راست نہیں ہے، جیسے اس وقت جنرل مشرف تھے، لہٰذا اب عالمی برادری کا بھی اس حوالے سے کو کوئی دباؤ نہیں ہوگا۔ داعش کو عراق چھوڑ کر جو بھاگنا پڑا وہ ایسے ہی نہیں ہے، اسے وہاں شکست ہوئی ہے، داعش جان بچا کر عراق سے بھاگی ہے، اب وہ افغانستان میں اپنے تحفظ کیلئے آ رہی ہے، داعش کا خطرہ تو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے، لیکن ہم اس خطرے سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ اہلیت رکھتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستان کو ہمیشہ امریکی کیمپ کے ملک کے طور پر دیکھا گیا ہے، لیکن پاکستان اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدہ تعلقات کے بعد کیا پاکستان اب روس، ایران اور چین کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب نظر آتا ہے، خصوصاً اسی حساس میٹنگ کے تناظر میں کیا کہنا چاہیں گے۔؟
لیکچرار امجد علی:
پاکستان نے ہمت دکھائی ہے، 70ء کی دہائی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے امریکی حمایت پر مبنی اپنے مؤقف کہ ہمیں امریکا کے ساتھ ہر حال میں جانا ہے، اس کو انہوں نے آہستہ سے کم کرنا شروع کر دیا ہے۔ پاکستانی کردار کی اہمیت سے روس اور چین انکار نہیں کر سکتے، باوجود یہ کہ ہم اتنے عرصہ روس کے ساتھ نہیں رہے، لیکن روس جانتا ہے کہ پاکستان ایک انتہائی اہم ملک ہے، جنوبی ایشیا میں اسے گرم پانی میں رسائی حاصل ہے، پھر چین کے ساتھ پاکستان کا انتہائی قریبی تعلق روس کیلئے گارنٹی کارڈ ہے کہ پاکستان دھوکہ نہیں دیگا، روسی، ایرانی سب جانتے ہیں کہ پاکستان پرو امریکی پالیسی سے پیچھے ہٹا ہے، یعنی میں یہ نہیں کہہ رہا کہ پاکستان امریکا کو بالکل چھوڑ دیگا، ایسا نہیں ہے، بلکہ امریکا کے ساتھ بیلنس پالیسی اپنائی جائے گی، امریکا کو لیکر چلیں گے، لیکن روس کی قیمت پر نہیں، تو اس وجہ سے مجھے جو سمجھ میں آ رہا ہے، آپ کی بات بالکل صحیح ہے کہ اعتماد بحال ہونا شروع ہو گیا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کو کمپرومائزڈ نہیں کیا جا سکتا، لیکن آپ کی بات اس تناظر میں صحیح ہے، کیونکہ روس کو ہم نے چھوڑ دیا تھا، لیکن روس سوچتا ہے کہ بہتری کی گنجائش ہے۔

ایران نے ہمیں پائپ لائن دی، ہم اس سے پیچھے ہٹے، ایران کو جھٹکا لگا، ایران کا بھارت کے ساتھ تجارت کرے، اس سے کوئی منع نہیں کرتا، لیکن چاہ بہار پورٹ بھارت کو دینا متنازعہ ہے، بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو بھارت سے ایران گیا، پھر ایران سے پاکستان آتا جاتا رہا، یہ غلط ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کا اعتماد بھی ایران پر بحال نہیں تھا، پھر پاکستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی، جس نے سعودی حمایت پر مبنی مؤقف رکھا، پیپلز پارٹی پرو ایران حکومت میں چلی گئی، انہوں نے اپنے دور حکومت کے آخر میں پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر دستخط کئے، یہ پاکستان کی ایران کے ساتھ بڑی کامیابی تھی، لیکن بدقسمتی سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اس منصوبے پر کام نہیں کیا اور قطر کی طرف گیس لینے چلے گئے، اس طرح سے ہم نے خود ایران کو بھارت کی طرف بڑھنے کا موقع دیا۔ بہرحال اب پاکستان نے پالیسی بدلی ہے، وہ پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات کا چاہتا ہے، چین اور ایران کے ساتھ ساتھ افغانستان اور بھارت کے ساتھ بھی، اب یہ افغانستان اور بھارت پر منحصر ہے کہ وہ پاکستان کے مثبت رویئے کا کیسے جواب دیتے ہیں۔ اس وقت روس، چین اور ایران، پاکستان کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ آگے آئے، ہم آپ کے ساتھ ہیں، دہشتگردی کا سب سے زیادہ اثر پاکستان پر پڑا ہے، ایران، روس اور چین پر نہیں، یہ تینوں ممالک جانتے ہیں کہ پاکستان دہشتگردی کا شکار ہے، لہٰذا ہمیں پاکستان کی سپورٹ کرنی چاہیئے، پھر روس، چین اور ایران چاہتے ہیں کہ پاکستان کو امریکی کیمپ سے باہر نکالیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر اعلیٰ عسکری حکام کے ایران کے دورہ جات کے بعد گزشتہ دنوں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد حسین باقری نے بھی وفد کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کیا، اسے کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
لیکچرار امجد علی:
مجھے لگ رہا ہے کہ پاک ایران اسٹراٹیجک الائنس بننے جا رہا ہے، اس اسٹراٹیجک الائنس میں روس اور چین بھی ہونگے، اس اسٹراٹیجک الائنس میں ان چاروں ممالک کی کوشش ہوگی کہ اس میں افغانستان بھی آ جائے، چیزیں بڑھ رہی ہیں، روس یوریشین یونین (eurasian union) پر کام کر رہا ہے، جو وہ بنا لے گا، انہیں جنوبی ایشیا تقسیم نظر آتا ہے، انہیں یہاں ایسی کوئی آرگنائزیشن نظر نہیں آتی، جنوبی ایشیا میں انہیں دو طاقتور ممالک نظر آتے ہیں، پاکستان اور بھارت، باقی ممالک اتنے مضبوط نظر نہیں آتے۔ چین اور خود ایران محسوس کر رہے ہیں کہ اس خطے میں حالات خراب ہیں، یہ جو دونوں ممالک کے ملٹری سربراہان کا ملنا ہے، مجھے لگتا ہے کہ پاکستان اور ایران اسٹراٹیجک پارٹنرشپ میں جائیں گے، جس کا بنیادی فوکس باہمی سیکیورٹی (mutual security) ہوگا، جس کیلئے دونوں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرینگے، یہ دونوں ممالک کیلئے اس وقت انتہائی اہم ضرورت ہے۔

اسلام ٹائمز: انٹیلی جنس میٹنگ، ایرانی مسلح افواج کے سربراہ کا دورہ پاکستان، کیا یہ پاک ایران تعلقات اور پاک روس تعلقات کے حوالے سے ایک نئی شروعات ہے۔؟
لیکچرار امجد علی:
یقیناً یہ نئی شروعات لگ رہی ہے، کیونکہ اس طرح کی ڈویلپمنٹ ہم نے گزشتہ کئی دہائیوں میں ہوتی ہوئی نہیں دیکھی، کیونکہ امریکی کیمپ میں ہونا، افغان جہاد اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مصروف رہے، پھر 1979ء میں ایران میںآنے والے انقلاب کے بعد پاکستان اور ایران کے درمیان ایک خلیج پیدا ہوئی تھی، اس وقت ایک رائے ہموار ہوئی تھی کہ ایرانی طرف کا انقلاب پاکستان، ترکی اور دیگر مسلم ممالک میں آ سکتا ہے، کوشش بھی کی گئی، اس وقت سے یہ جو مؤقف آیا کہ ایران سے دور رہو، قریب جاؤ گے تو آپ کے حالات بھی خراب ہو جائیں گے، ایران نے امریکا کے ساتھ براہ راست مخالفت کی، بہرحال اس وقت دونوں برادر اسلامی پڑوسی ممالک الگ الگ رہے، لیکن گزشتہ دو تین سالوں سے معاملات تبدیل ہرکر بہتر ہوتے نظر آئے، یہ اس دہائی کی سب سے بڑی ڈویلپمنٹ ہے، وہ بھی اس وجہ سے ہے کہ امریکا نے پاکستان سمیت ہر جگہ صرف اور صرف جنگ میں سرمایہ کاری کی، جبکہ ملک اور قوم کو ترقی و خوشحالی کی ضرورت ہوتی ہے، خود ماضی میں روس کا رجحان بھی جنگ کی طرف زیادہ تھا، لیکن سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد روس کو احساس ہوا کہ جنگیں صرف تباہی مچاتی ہیں، توڑ پھوڑ کرتی ہیں، اب امریکا کو بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہے، انہیں احساس ہو رہا ہے کہ ان کی معیشت ڈوب رہی ہے، چین کو جگہ انہوں نے خود دی، امریکا جنگ میں چلا گیا، جبکہ چین نے معاشی و اقتصادی ترقی کی طرف دیکھا۔

اسلام ٹائمز: کیا انٹیلی جنس میٹنگ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا نتیجہ ہے۔؟
لیکچرار امجد علی:
امریکا نے پاکستان کو کئی اہم مواقعوں پر تنہا چھوڑا، جس کے اثرات آ رہے ہیں، سلالہ ایئر بیس پر حملہ، اسامہ بن لادن کا واقعہ، پاکستان کی اندرونی معاملات و سیاست میں مداخلت، پاک چین اقتصادی راہداری کی مخالفت، لہٰذا پاکستان کی خارجہ پالیسی امریکا کے حوالے سے تبدیل ہوئی، امریکی کیمپ سے پاکستان کا نکلنا امریکی ناکامی ہے، وہ پاکستان کو بوجھ سمجھ رہے ہیں، امداد کم کرنا یا بند کرنا، مختلف شرائد عائد کرنا، وہ سمجھتے ہیں پاکستان ہم سے لے تو رہا ہے، کام نہیں کر رہا، بوجھ بن رہا ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی کے کئی اہم پہلو ہیں، روس جس نے پہلے ہمیں قریب ہونے کے موقع نہیں دیا تھا آج وہ بھی پاکستان میں دلچسپی رکھتا ہے، ان کی طرف سے گرین سگنل آیا اور ہم نے بھی احساس کیا کہ روس کے ساتھ تعلق رکھنے میں کچھ برا نہیں، امریکا نے تو خود ہمیں موقع دیا، سی پیک کی مخالفت میں امریکا اتنا آگے آگیا کہ ٹرمپ اور مودی نے دھمکی دینا شروع کر دی، پاکستان کو واضح پیغام مل گیا کہ امریکا ہمارے ہاں ترقی و خوشحالی نہیں چاہتا، اگر پاکستانی ترقی چاہتا تو اسے سی پیک پر اعتراض کیوں ہوتا، سی پیک کوئی جنگی محاذ نہیں ہے، بلکہ یہ تو ایک تجارتی روٹ ہے، جس پر تجارت ہوگی، بہرحال یہ اور اس جیسے کئی امریکی اقدامات کی وجہ سے پاکستان پیچھے ہٹا۔

امریکا کا اثرورسوخ بھی اب دنیا بھر میں تیزی سے نیچے آ رہا ہے، یہ نہیں کہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی تبدیل ہو رہی ہے، نہیں، بلکہ دنیا کے بہت سارے ممالک کی خارجہ پالیسی امریکا کے حوالے سے تبدیل ہو رہی ہے۔ ایران کے ساتھ عالمی معاہدہ سے باہر نکل گیا، ایران مان رہا ہے اور امریکا نہیں مان رہا، دنیا دیکھ رہی ہے کہ امریکا کر کچھ نہیں سکتا، شمالی کوریا کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ امریکا کے تمام تر دباؤ کے باوجود اس نے ایٹمی ہتھیار بنائے، بہرحال امریکا اگر ترقی کے مواقع نہیں دیگا، تو اس کے خلاف بغاوت کا سلسلہ جاری رہے گا، پاکستان کا اس وقت واضح مؤقف ہمیں دکھتا ہے کہ ہر قیمت پر ملکی ترقی کا عنصر پاکستانی خارجہ پالیسی میں غالب نظر آ رہا ہے۔ اگر اس تناظر میں امریکا کے ساتھ پاکستانی کی بیلنس خارجہ پالیسی نہیں چلتی اور وہ روٹھ رہا ہے تو روٹھ جائے۔ بین الاقوامی تعلقات میں نہ تومستقل دوست ہوتے ہیں اور نہ ہی مستقل دشمن۔

لیکچرار اسلام ٹائمز: عام انتخابات 2018ء میں کامیابی کے بعد پاکستان کے ممکنہ وزیراعظم عمران خان کی وکٹری خطاب کو خارجہ پالیسی کے حوالے سے کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
لیکچرار امجد علی:
عمران خان نے اپنی وکٹری اسپیچ میں خارجہ پالیسی اور انسانی ترقی کو فوکس کیا ہے، مجھے لگتا ہے کہ خارجہ پالیسی میں شفٹ تو آئے گا، خارجہ پالیسی کیلئے شفٹ لازم و ملزوم ہے، چینج کرتے رہنا چاہیئے، ایک سے زیادہ آپشنز اختیار کرنے چاہیئے، ملکی و قومی مفاد میں ایک آپشن کارگر ثابت نہیں ہوتا، تو دوسرا آپشن اختیار کیا جائے،دوسرا نہیں تو تیسرا آپشن اختیار کیا جائے، آنکھیں، کان اور زبان ریاست کی خارجہ پالیسی ہوتی ہیں، جو دیکھتی بھی ہیں، سنتی بھی ہیں اور بتاتی بھی ہیں، انہیں فعال رکھنے کی ضرورت ہے، بند کرکے اعتبار کرنا خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ ہمیں زمینی حقائق کو سمجھنے، پرکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ پاور شفٹ ہے۔ امریکا امریکا امریکا کھیلتے کھیلتے ہماری پوری معیشت بیٹھ گئی، اب اگر چین ہماری ملکی و قومی ترقی کیلئے کام کر رہا ہے تو ٹھیک ہے، روس کو دیکھتے ہیں کہ اس کے پاس ہمارے لئے کیا مثبت آئیڈیاز ہیں، وہ پاکستان کو عالمی فورمز اور عالمی تجارت میں کیسے سپورٹ کرتا ہے، بہرحال پاکستان کو خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، اب جبکہ حکومت کے لحاظ سے صرف چہرہ نہیں بلکہ پوری سیاسی جماعت تبدیل ہو رہی ہے، اس کا بہت بڑا اثر پڑیگا، اب یہ اثر مثبت ہوگا یا منفی، یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔
خبر کا کوڈ : 743147
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب