0
Tuesday 18 Sep 2018 23:26
ہماری اچھی تمنائیں و امیدیں موجودہ حکومت کیساتھ ہیں، عمران خان کو موقع دینا چاہیئے

روس، چین، ایران و پاکستان پر مشتمل بلاک بنتا نظر آرہا ہے، پروفیسر این ڈی خان

خطے میں پاکستان کو ناراض کرکے امریکی مفادات کو تقویت حاصل نہیں ہوسکتی
روس، چین، ایران و پاکستان پر مشتمل بلاک بنتا نظر آرہا ہے، پروفیسر این ڈی خان
پروفیسر این ڈی خان پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اراکین میں سے ہیں، انکی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ وہ وفاقی وزیر و سینیٹر بھی رہ چکے ہیں۔ آج کل وہ پیپلز پارٹی کے کارکنان و ذمہ داران کی نظریاتی تربیت کے ادارے مرکزی اسٹڈی سرکل کے مسؤل ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے پروفیسر این ڈی خان کیساتھ مختلف موضوعات کے حوالے سے ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر انکے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: پاکستان کو درپیش دہشتگردی کے بحران کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
پروفیسر این ڈی خان:
پاکستان کو اس وقت کئی مسائل و بحرانوں کا سامنا ہے، لیکن ان سب میں سرفہرست مسئلہ دہشتگردی ہے، ملک ایک طویل عرصے سے دہشتگردی کا شکار چلا آرہا ہے، بلکہ ناصرف پاکستان بلکہ ہمارے خطے سمیت پوری دنیا کو دہشتگردی کے بحران کا سامنا ہے، لیکن پاکستان کی مسلح افواج، پولیس و دیگر سکیورٹی اداروں، ایجنسیوں کی فعالیت اور عوامی حمایت کے نتیجے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جزوی طور پر دہشتگردی کے مسئلے پر قابو پا لیا گیا ہے، لیکن مکمل خاتمے کیلئے ابھی وقت درکار ہے۔ اندرونی سکیورٹی بھی ایک مسئلہ ہے، لیکن وہ دہشتگردی کے مسئلے کی ذیل میں آجاتا ہے۔

اسلام ٹائمز: ملک میں پانی کی قلت کے مسئلے کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
پروفیسر این ڈی خان:
پاکستان کو درپیش پانی کی قلت کا مسئلہ میری نگاہ میں دہشتگردی کے بعد دوسرا بڑا مسئلہ ہے، ماضی میں ہم ڈیمز کی تعمیر نہیں کرسکے، لیکن اب سب کو اس مسئلے کا ادراک ہوگیا ہے، چیف جسٹس پاکستان نے بھی اس کا نوٹس لے لیا ہے، موجودہ حکومت بھی آئندہ آنے والے پانی کے سنگین ترین بحران کی جانب متوجہ ہے، آئندہ بڑی جنگیں پانی کے مسئلے پر ہونگی، خصوصاً ہمارے اس خطے میں پانی کی شدید ترین قلت کا سامنا ہے، اگر پاکستان، بھارت، سری لنکا، نیپال، بنگلہ دیش سمیت خطے کے تمام ممالک نے فوری طور پر اس مسئلے کے حل کی طرف توجہ نہ کی، تو خطہ بہت مختصر عرصے میں خشک سالی کا شکار ہو جائیگا۔ 1993ء میں جب میں پاکستان کی اس وقت کی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے مختلف ممالک کے دورے پر تھا، اس دوران میں سنگاپور بھی گیا، وہاں میں نے وزیراعظم بے نظیر بھٹو صاحبہ کا خط دینے کے بعد سنگاپور کے وزیراعظم سے ون ٹو ون ملاقات کیلئے وقت چاہا، انہوں نے اپنے سیکرٹری کی طرف دیکھ کر کہا کہ میرا شیڈول دیکھ کر پاکستان کے نمائندے کو وقت دے دیں۔

اس کے بعد میرا جب سنگاپور کے وزیراعظم کے سیکرٹری یا کوآرڈینیٹر سے رابطہ ہوا، تو انہوں نے مجھے کہا کہ آپ کو تین دن رکنا پڑیگا، تو میں نے انہیں کہا کہ مجھے تو ابھی دنیا کے بہت سے ممالک میں جانا ہے، میں اتنا تو نہیں ٹھہر سکتا، تو سیکرٹری نے کہا کہ وزیراعظم بہت زیادہ مصروف ہیں، ہمیں بڑے سنگین مسئلے کا سامنا ہے۔ میں نے سیکرٹری سے پوچھا کہ ایسے کس مسئلے کا سامنا ہے کہ جس کیلئے وزیراعظم اتنے مصروف ہیں کہ وہ تین دن تک ملاقات کا وقت نہیں دے سکتے، تو سیکرٹری نے کہا کہ ہماری بات چیت چل رہی ہے انڈونیشیا کے ساتھ، کیونکہ ہمارے ملک کو آنے والے دنوں میں پانی کی قلت کا شدید خطرہ ہے، میں نے پوچھا کہ پانی کا مسئلہ آئندہ کتنے عرصے میں آپ کو درپیش ہوگا، تو سیکریٹری نے کہا کہ پچیس سال بعد۔

تو آپ اندازہ کریں کہ قومیں اپنے مسائل پر پچیس تیس سال پہلے ہی متوجہ ہو جاتی ہیں۔ تو وزیراعظم سنگاپور پانی کے ایشو پر انڈونیشیا کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھے، جس کا سامنا سنگاپور کو پچیس سال بعد کرنا تھا۔ بہرحال پاکستان میں ہم دیر آید درست آید، چیف جسٹس پاکستان کے نوٹس لینے کے بعد حکومت بھی اس جانب متوجہ ہوئی، عوام بھی اپنا حصہ ڈال رہی ہے، میڈیا پر بھی بھرپور مہم چل رہی ہے، چندہ بھی لیا جا رہا ہے، جو غلط نہیں، لیکن ڈیمز جیسے بڑے پروجیکٹ پر حکومتی وسائل استعمال ہوتے ہیں، جو ہمارے پاس بہت کم ہیں، ہمیں عالمی اداروں کے ساتھ اس حوالے سے رابطہ کرنا چاہیئے، جو بہت پہلے کرنا چاہیئے تھا، پچھلے دنوں بھارت کے ساتھ ہماری پانی کے مسئلے کو لیکر مذاکرات ہوئے، جو سودمند ثابت نہیں ہوئے، بہرحال دہشتگردی کے بعد پانی کی قلت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا پاکستان میں جمہوریت کا تسلسل قائم ہوتا نظر آرہا ہے۔؟
پروفیسر این ڈی خان:
پاکستان کی ستر سالہ تاریخ کے اندر پینتیس چالیس سال غیر آئینی حکومتیں قابض رہی ہیں، آتے ہیں اور دس دس سالوں تک بیٹھے رہتے ہیں، آمر ضیاء الیکشن کروانے نوے دن کیلئے آیا تھا، گیارہ سال تک قابض رہا، ابھی بھی مسلط ہوتا، اگر موت کا شکار نہ ہوا ہوتا تو آج بھی ملک پر قابض ہوتا، آمر ضیاء نے ملکی ادارے تباہ کر دیئے، ملک میں دہشتگردی لایا، ہیروئن و اسلحہ کلچر پروان چڑھایا، افغان جنگ میں پاکستان کو پھنسا دیا، محترمہ بے نظیر بھٹو کو عوام نے پانچ سال کیلئے منتخب کیا، انکی حکومت اٹھارہ مہینے میں ختم کر دی گئی، پھر دوبارہ آئیں، پانچ سال کیلئے حکومت ملی، تین سال میں ختم کر دی گئی، خود مشرف نے نواز شریف کے ساتھ کیا کیا، مشرف جن اسباب کے تحت آیا، دس برس بیٹھا رہا اور ابھی بھی اقتدار میں واپس آنے کا خواہشمند ہے، بڑی مشکل سے ہم نے اسے یہاں سے نکالا ہے۔

بہرحال ہمیں ملک میں جمہوریت کو استحکام بخشنا ہے، دنیا اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ بہترین طرز حکمرانی جمہوریت ہے، خدا خدا کرکے ہمارے ملک میں بھی گذشتہ دو تین انتخابات ہوئے ہیں، جنہوں نے اپنی مدت پوری کی ہے، ہم جمہوری پروسس میں داخل ہو رہے ہیں۔ یقین سے تو میں نہیں کہہ سکتا، لیکن خیال ہے کہ جمہوری تسلسل جاری و ساری رہے گا اور جمہوریت ہی ایک ایسا طرز حکومت ہے، جس کیلئے ذریعے ممالک استحکام حاصل کرسکتے ہیں، خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں۔ آخرکار دنیا میں کوئی بادشاہت نہیں رہے گی، صرف علامتی طور پر برطانیہ میں بادشاہت رہے جائیگی، مغربی ممالک میں جمہوریت ہے، چاہے وہ پارلیمانی نظام ہو یا صدارتی نظام۔

اسلام ٹائمز: خراب اقتصادی صورتحال اور کرپشن کے حوالے سے آپکی کیا رائے ہے۔؟
پروفیسر این ڈی خان:
پاکستان کو اس وقت اقتصادی مسائل کا سامنا ہے، اس مسئلے کے ساتھ جہاں اور مسائل وابستہ ہیں، ان میں کرپشن سب سے بڑا مسئلہ ہے، پاکستان کوئی بھی ادارہ کرپشن سے محفوظ نہیں ہے، ملک میں کرپشن ہی کرپشن ہے، کہیں شفافیت نہیں، ہماری جمہوریت کو اگر خطرہ ہوسکتا ہے، تو اس کی وجہ گڈ گورننس نہیں ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ بہترین مارشل لاء، بہترین بادشاہت اور بہترین فوجی حکومت سے بدترین جمہوریت بہتر ہوتی ہے، جس کا تسلسل ملک میں نظر آرہا ہے۔ ملک میں ان کے علاوہ بھی بے شمار مسائل ہیں، کیونکہ جمہوری تسلسل نہیں رہا۔

اسلام ٹائمز: کیا درپیش مسائل کے حل کے حوالے سے اچھی امیدیں ہیں یا مسائل حل ہوتے نظر نہیں آرہے۔؟
پروفیسر این ڈی خان:
پاکستان کو درپیش مسائل کے حل کے امکانات ہیں، اندھیرا نہیں ہے، مایوسی نہیں ہے، جیسا کہ میں شروع میں عرض کیا کہ دہشتگردی کے مسئلے پر ہم نے جزوی طور پر قابو پا لیا ہے، ختم نہیں ہوئی، لیکن اس جانب گامزن ہیں، پھر میں نے پانی کی قلت کے مسئلے پر عرض کیا کہ چیف جسٹس پاکستان نے نوٹس لیا ہے، جس کے بعد حکومت بھی پانی کے مسئلے کی جانب متوجہ ہوچکی ہے، ان شاء اللہ آئندہ پانچ دس سالوں میں ہم پانی کی قلت پر قابو پاتے ہوئے پانی کو ذخیرہ بھی کرینگے، سپلائی بھی کرینگے، استعمال بھی کرینگے، پھر پانی کے مسئلے پر قابو پانے کے نتیجے پر ہم بجلی بحران پر بھی قابو پا سکیں گے، کیونکہ اس کا گہرا تعلق بھی پانی کی قلت کے مسئلے سے ہے۔

اسلام ٹائمز: ملک میں نئی حکومت برسراقتدار آچکی ہے، عمران حکومت کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
پروفیسر این ڈی خان:
نئی حکومت کیلئے میں دعا کروں گا، کیونکہ انہوں نے جو وعدے کئے ہیں، وہ معمولی نہیں ہیں، سو دن میں پچاس لاکھ گھر، ایک کروڑ نوکریاں دینا بہت بڑا ٹاسک ہے، ہم اپوزیشن جماعت ہیں، سندھ میں ہماری حکومت ہے، ہم تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کو وقت دینا چاہتے ہیں، جمہوری تسلسل کیلئے، جمہوریت کو آگے بڑھانے کیلئے موجودہ وفاقی حکومت اپنے وعدوں کی پاسداری کریگی، جمہوریت ایک ایسی طرز حکومت ہونی چاہیئے کہ جس میں ہر شخص یہ محسوس کرے کہ وہ بھی حکمرانی کا ایک حصہ ہے، یعنی جمہوریت اس طرز حکومت کو کہتے ہیں کہ جس میں ہر شہری کا شیئر ہو، تحریک انصاف نے تبدیلی کی بات کی، کہاں تبدیلی آئی ہے، قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، گیس کی قیمت میں اضافے کی منظوری دے دی گئی ہے، لیکن ان سب کے باوجود میں اپوزیشن کے ایک کارکن کی حیثیت سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ موجودہ حکومت کیلئے ہماری نیک تمنائیں ہیں، کیونکہ ہم ملک میں جمہوریت کا تسلسل چاہتے ہیں۔

حالیہ عام انتخابات کے بعد بحران آیا تھا، پیپلز پارٹی نے دیگر اپوزیشن جماعتوں کو پارلیمنٹ میں جانے کیلئے، حلف اٹھانے کیلئے آمادہ کیا، ورنہ مسلم لیگ (ن) اور مولانا فضل الرحمان پارلیمنٹ میں جانے کیلئے تیار نہیں تھے، لیکن پیپلز پارٹی انہیں آمادہ کرکے پارلیمنٹ میں لے گئی، کیونکہ پارلیمنٹ سے باہر ہنگامہ کرنے کا ملک کو نقصان پہنچے گا، کوئی تعمیر نہیں ہوگی، لہٰذا ہماری اچھی تمنائیں، اچھی امیدیں موجودہ حکومت کے ساتھ ہیں، کیونکہ عمران خان کی تقاریر کا جب میں باریک بینی سے جائزہ لیتا ہوں، تجزیہ و تحلیل کرتا ہوں، تو میں یہ کہتا ہوں کہ عمران خان کو موقع دینا چاہیئے۔ عمران خان کو اپنے وعدے پورے کرنے کیلئے دیانتداری کے ساتھ منصوبہ بندی کرنی چاہیئے، لیکن ان کی ابتداء اچھی نہیں ہے۔ جو عمران خان کی حکومت کی توقعات ہیں، وہی ہماری بھی توقعات ہیں، لیکن ہم انہیں مانیٹر کرینگے، ہم اپوزیشن کا کردار ادا کرینگے۔

اسلام ٹائمز: حالیہ عام انتخابات کو لیکر کہا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اسٹیبلشمنٹ کے آگے سرنڈر کر دیا ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی کامیابی پیپلز پارٹی کی کامیابی ہے۔؟
پروفیسر این ڈی خان:
جمہوریت میں سب کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع ملتا ہے، پیپلز پارٹی واحد پارٹی ہے، جو ہمیشہ اسٹیبلمشنٹ مخالف رہی ہے، جس کے نتیجے میں اس کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کر دیا گیا، اس کی دوسری بڑی لیڈر محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی شہید کر دیا گیا اس جمہوریت کیلئے، میں ابھی اس بحث میں جانا نہیں چاہتا کہ کون اس کا ذمہ دار ہے، لیکن میں تو محترمہ کی شہادت کا ذمہ دار مشرف کو قرار دونگا، جو محترمہ کو سکیورٹی فراہم نہیں کرسکا، جو ایک سابق وزیراعظم کو درکار ہوتی ہے، جس کا وہ استحقاق بھی رکھتی ہیں، ہم تو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہمیشہ رہے ہیں، آج تک پیپلز پارٹی کے ہی لوگ ہی اسٹیبلشمنٹ کا زیادہ شکار رہے ہیں، آج بھی ہمارے خلاف کارروائیں جاری و ساری ہیں، ہمارے لئے مشکلات پیدا کرنے کا سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے، میں مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا، وہ تو پیداوار ہی اسٹیبلشمنٹ کی ہیں، آمر ضیا کون تھا، مسلم لیگ (ن) تو آمر ضیاء کی یادگار ہے، ہم ہی ہیں جنہوں نے نواز حکومت کو گرنے سے بچایا، ہم نے تو چارٹر آف ڈیموکریسی کرایا۔

نواز شریف تو مشرف کی وجہ سے پاکستان آبھی نہیں رہے تھے، محترمہ لائیں، جبکہ محترمہ تو شہادت سے آگاہ تھیں، لیکن ہو ملک و قوم و جمہوریت کی خاطر واپس آئیں، پیپلز پارٹی کی تاریخ میں تو آپ کو شہادتیں ملیں گی، پیپلز پارٹی کے ورکرز نے 80 ہزار کوڑے کھائے، درجنوں لوگ شہید ہوئے، خود میں نے ضیاءالحق کے دور میں ساڑھے چھ سال سزا بھگتی، میانوالی کی جیل دیکھی، کراچی کی لانڈھی بچہ جیل دیکھی، حیدرآباد جیل دیکھی، سکھر جیل دیکھی، ہماری خواتین نے جیلوں میں قید کاٹی، لہٰذا یہ تاثر دینا کہ پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ سے مل گئی ہے، ایسے نتیجے پر پہنچنا بالکل غلط ہے، ہم اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نہیں ہیں، اسٹیبلشمنٹ کیا ہے، وہ قوتیں ہیں جو جمہوریت کو نہیں چلنے دیں، کون ہیں وہ، یہ آپ خود وضاحت کریں۔ ہم شہادتیں بھی دے رہے ہیں، کوڑے بھی کھا رہے ہیں، طویل سزائیں بھی مل رہی ہیں، ہماری کئی حکومتوں کی مدت پوری نہیں ہونے دی گئیں، پھر بھی یہ تاثر دینا کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہیں، یہ بالکل بے بنیاد الزام ہے، جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ آج بھی پیپلز پارٹی مقدمات بھگت رہی ہے، انتقامی کارروائیاں بھگت رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: پاکستان کی خارجہ پالیسی کیسی ہونی چاہیئے۔؟
پروفیسر این ڈی خان:
پاکستان کی خارجہ پالیسی پرو پاکستان ہونی چاہیئے، اپنے ملک کے مفاد میں جو چیزیں ہیں، ان پر فوکس کرنا چاہیئے، ہمارا خطہ تاریخ کی حساس ترین صورتحال سے گزر رہا ہے، تاریخ کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی جغرافیائی صورتحال کو بھی اسٹڈی کرنا چاہیئے، چین، ایران، بھارت اور افغانستان ہمارے پڑوسی ممالک ہیں، ہمارے سر کے اوپر سینٹرل ایشیا ہے، وہاں سے روس ہمارے قریب ہے، ہم ان تمام اہم ممالک کے بالکل بیچ میں ہیں، ہمیں اپنے قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک بیلنس خارجہ پالیسی اختیار کرنا چاہیئے، پاکستان خطے کا ایک اہم ملک ہے، امریکہ کے ساتھ ہمیں اپنے تعلقات بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیئے، لیکن وہ برابری اور قومی مفاد کی بنیاد پر ہو، ہماری آزادی، خود مختاری و قومی سلامتی کو کوئی بھی نقصان نہیں پہنچنا چاہیئے، ہمیں ملکی و قومی مفاد کے تحت خارجہ پالیسی بنانی چاہیئے۔ بدقسمتی سے خارجہ پالیسی کے حوالے سے ہمارے پاس کوئی ماہر موجود نہیں ہے یا موجودہ حکومت کے پاس کوئی ایسا شخص نہیں ہے، جس کے بارے میں ہم یہ کہہ سکیں کہ وہ خارجہ پالیسی میں مہارت رکھتا ہے۔

بنیادی طور پر اہم یہ ہے کہ ہمیں تمام ممالک کے ساتھ توازن پیدا کرنا چاہیئے، ایران کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا چاہیئے، کیونکہ ایران ہمارا قریب ترین پڑوسی ملک ہے۔ ہم چین کے ساتھ بہت نزدیک ہیں، اسے مزید بہتر بنانا چاہیئے، لیکن امریکہ کو یہ احساس دلانا چاہیئے کہ جس افغان جنگ میں امریکہ پھنسا ہوا ہے، اس جنگ میں ہماری بہت زیادہ اہمیت ہے، امریکہ افغان جنگ ہار چکا ہے، اگر امریکہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے، تو اس کا راستہ پاکستان ہی بنا کر دیگا، یہ پاکستان ہی ہے جہاں سے اس کا سامان افغانستان جاتا ہے، اگر امریکہ چین کے ساتھ دشمنی میں پاکستان کے ساتھ دشمنی برتنا چاہتا ہے، تو اسے اپنی اس پالیسی پر نظرثانی کرنا چاہیئے۔ پاکستان کی نئی حکومت اپنی خارجہ پالیسی کو قومی مفادات کے تحت آگے بڑھائے، لیکن تمام معاملات کو، تمام ایشوز کو پارلیمنٹ میں لیکر آئیں، اکیلے خود سے تمام ایشوز کو ڈیل نہیں کرنا چاہیئے، خارجہ پالیسی کے ایشوز ہوں یا اقتصادی ایشوز، ان سب کو پارلیمنٹ میں لانا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: پاکستان کیساتھ امریکہ نے کافی جارحانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے، اس حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
پروفیسر این ڈی خان:
پاکستان کے ساتھ امریکی رویہ ہمارے ساتھ ساتھ خود امریکیوں کیلئے بھی ناپسندیدہ ہے، امریکہ میں عرصہ دراز کے بعد ایک ایسا غیر مقبول صدر آیا ہے، جس کے مواخذہ کا بھی امکان ہے، کانگریس کے انتخابات بھی ہونے والے ہیں، وہاں صورتحال کافی خطرناک صورتحال ہے، امریکی صدر ٹرمپ کو اپنے باؤلے پن کو ختم کرنا چاہیئے، امریکہ اگر سپر پاور ہے تو پاکستان بھی ایک آزاد، خود مختار ملک ہے، پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے کہ جہاں امریکہ کو خارجہ پالیسی کے حوالے سے بہت زیادہ صبر و تحمل سے کام لینا چاہیئے، دھمکیوں کے ذریعے سے نہیں، یہ مشرف دور نہیں ہے، ملک میں جمہوریت ہے، لہٰذا امریکہ کو اپنا رویہ درست کرنا چاہیئے، خود عمران خان نے بھی کہا ہے کہ ہم امریکہ سمیت تمام ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں، ہم ایک ایسے اہم خطے میں واقع ہیں، جہاں پاکستان کو ناراض کرکے امریکی مفادات کو تقویت حاصل نہیں ہوسکتی۔ آج کے دور میں ایک non-aligned ممالک کا بلاک ابھر رہا ہے، مجھے لگتا ہے کہ آئندہ پچاس سال کے اندر دنیا میں سرد جنگ والی صورتحال دوبارہ پیدا ہو جائے گی، امریکہ کے مدمقابل ایک مضبوط بلاک بنے گا، لہٰذا امریکہ کو اپنے جارحانہ رویئے پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے، میں تو امریکیوں سے کہتا ہوں کہ ٹرمپ جس طرح دنیا کے مفاد میں نہیں ہے، اسی طرح ٹرمپ خود امریکیوں کے مفاد میں نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا پاکستان، چین، روس، ایران پر مشتمل نیا بلاک بنتا نظر آرہا ہے۔؟
پروفیسر این ڈی خان:
میں کہہ چکا ہوں کہ اس صدی کے وسط تک یعنی 2050ء کے اندر اندر دنیا میں سنگل سپر پاور نہیں ہوگی، اب وہ بلاک تو ابھی سے بنتا نظر آرہا ہے، روس، چین، ایران، پاکستان کے ملنے کی صورت میں، سینٹرل ایشیائی ممالک، شام و دیگر ممالک بھی ادھر آئیں گے، لہٰذا آئندہ پچاس سال میں دنیا میں ایک سے زائد سپر پاورز ہونگی، سرد جنگ کی صورتحال دوبارہ پیدا ہوگی۔
خبر کا کوڈ : 750933
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب