0
Monday 26 Nov 2018 20:45
چین سے ملنے والا پیکج بتا دیا تو ہمارے خلاف سازشوں میں مزید اضافہ ہو جائیگا

ہمارے لئے بھارت اور امریکہ ایک ہی حیثیت رکھتے ہیں، شوکت یوسفزئی

زرداری کی باری آنیوالی ہے جو چیخ رہے ہیں، دراصل عمران خان نے انکی دم پر پاؤں رکھ دیا ہے
ہمارے لئے بھارت اور امریکہ ایک ہی حیثیت رکھتے ہیں، شوکت یوسفزئی
شوکت علی یوسفزئی پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما ہیں۔ انکا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ کے گاؤں بشام سے ہے۔ یکم فروری 1963ء کو خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ کے علاقے بشام مین پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم شانگلہ سے حاصل کی اور پھر سوات کے جہانزیب کالج سے انٹرمیڈیٹ کیا۔ انہوں نے ایگریلکچر یونیورسٹی پشاور سے ایم ایس سی مکمل کی۔ 1996ء میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور ڈسٹرکٹ شانگلہ سے الیکش میں حصہ بھی لیا۔ اسی وقت سے وہ سیاست میں سرگرم رہے اور خیبر پختونخوا کی سطح پر پارٹی کو اپنی خدمات پیش کرتے رہے۔ 2011ء میں انہیں عمران خان کا سیاسی مشیر بنایا گیا۔ اسکے بعد 2013ء میں وہ خیبر پختونخوا کے جنرل سیکرٹری رہے۔ 2013ء کے الیکشن میں انہوں نے پشاور کے صوبائی حلقے پی کے 2 سے حصہ لیا اور شاندار جیت اپنے نام کی۔ شوکت علی یوسفزئی صوبائی وزیر صحت اور وزیر اطلاعات بھی رہ چکے ہیں۔ انکا شمار صوبے کے انتہائی بااثر رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ 25 جولائی 2018ء کو انہوں نے شانگلہ پی کے 23 سے الیکشن میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی، لیکن خواتین کے پول کردہ ووٹ 10 فیصد سے کم ہونیکے باعث الیکش کمیشن نے نتائج کالعدم قرار دے دیئے، جسکے بعد 10 ستمبر کو دوبارہ الیکشن منعقد کئے گئے، جس میں انہوں نے واضح اکثریت سے دوبارہ الیکشن جیت لیا اور اسوقت صوبائی وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ کی ذمہ داری پر فائز ہیں۔ اسلام ٹائمز کے نمائندے نے ان سے خصوصی گفتگو کی، جو قارئین کے پیشِ خدمت ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: چینی قونصل خانے پر حملہ، اورکزئی میں دہشتگردی، مولانا سمیع الحق اور ایس پی طاہر داوڑ کا قتل، کیا پاکستان میں پھر کسی گریٹ گیم کا آغاز ہوگیا ہے۔؟
شوکت یوسفزئی:
یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ بھارت افغانستان میں قونصل خانوں کے نام پر کیا گل کھلا رہا ہے۔ بدقسمتی سے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ افغانستان ہمارے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، وہاں امن ہوگا تو نہ صرف پاکستان بلکہ تمام وسط ایشیائی ریاستوں میں صورتحال پُرامن ہوگی۔ دراصل بھارت جان بوجھ کر حالات خراب کرنا چاہتا ہے۔ انڈیا کی کوئی سرحد افغانستان سے نہیں ملتی، زمینی راستہ بھی نہیں ہے، اس کے باوجود بھارت جہازوں کے ذریعے اپنا مہنگا سامان افغانستان میں سستے داموں فروخت کرتا ہے، تاکہ وہ افغانستان میں اپنے قدم جما سکے۔ اگر طاقت کے زور پر امن قائم ہوسکتا تو پھر امریکہ افغانستان میں کب کا امن قائم کرچکا ہوتا۔ عمران خان پہلے بھی مذاکرات پر زور دیتے رہے ہیں اور اب بھی ہم کہتے ہیں کہ امریکہ میں بیٹھ کر مذاکرات کیوں کئے جائیں، افغانستان کو بھی سوچنا ہوگا کہ وہ ان ممالک کے بیچ میں سینڈویج کیوں بنا ہوا ہے، اب تو ہمارے لئے بھارت اور امریکہ ایک ہی حیثیت رکھتے ہیں۔ دوسرا اہم نقطہ چین کیساتھ ہمارے مختلف معاہدے ہیں، ہمیں اتنا بڑا پیکج ملا ہے کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، ہم خود اس کا اعلان نہیں کر رہے، کیونکہ اس کے بعد ہمارے خلاف سازشوں میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

اسلام ٹائمز: وفاق نے ہمیشہ سے خیبر پختونخوا کے حقوق دبائے رکھے، بجلی منافع اور این ایف سی سمیت دیگر معاملات میں صوبائی حکومت کو رقوم کی ادائیگی میں لیت و لعل سے کام لیا جاتا رہا، اب مرکز اور صوبے میں ایک ہی جماعت کی حکومت ہے، کیا اب صورتحال میں بہتری کی امید کی جاسکتی ہے۔؟
شوکت یوسفزئی:
وزیراعظم عمران خان خیبر پختونخوا سمیت چھوٹے صوبوں کو وسائل کی فراہمی کے خواہش مند ہیں۔ وزیراعلٰی محمود خان وزیراعظم سے ہر ملاقات میں بقایاجات کا معاملہ اُٹھاتے ہیں، وزیراعظم نے وزیر خزانہ اسد عمر کو بقایاجات کی ادائیگی کی ہدایت بھی کر دی ہے۔ بجلی بقایاجات کی اقساط بھی بروقت ملیں گی اور اے جی این قاضی فارمولے پر بھی من و عن عمل درآمد ہوگا۔ سی سی آئی نے ایک کمیٹی بنا دی ہے، ہم پُرامید ہیں، ابھی ہم نیپرا جا رہے ہیں کہ ٹیرف مقرر کیا جائے۔ ہم کورٹ بھی گئے تھے، ہم نے کیس واپس نہیں لیا، ضرورت پڑنے پر کیس کو دوبارہ کھلوائیں گے۔ خان صاحب وزیرستان آرہے ہیں، جہاں پر وہ بہت بڑے پیکج کا اعلان کریں گے۔

اسلام ٹائمز: کیا صوبے اور فاٹا میں آئندہ بلدیاتی انتخابات ایک ساتھ ہونگے؟ فاٹا میں حلقہ بندیوں کا کام کہاں تک پہنچا؟ اور کیا مقامی حکومتوں کے انتخابات میں تاخیر ہوسکتی ہے۔؟
شوکت یوسفزئی:
صوبائی کابینہ کو گذشتہ دنوں اے سی ایس قبائلی اضلاع نے بریفنگ دی ہے۔ ان کے مطابق قبائلی اضلاع کی حد بندی رہتی ہے، یہ الیکشن کمیشن کا کام ہے، باقی ہم تیار ہیں، اگر حد بندی ہو جائے تو پھر بلدیاتی انتخابات ایک ساتھ ہوں گے۔ دراصل قبائی اضلاع میں یونین کونسل تک نہیں ہے، وارڈ کا نظام تو سرے سے موجود ہی نہیں۔ اگر الیکشن کمیشن کی جانب سے تاخیر ہوتی ہے تو پھر ہم صوبے کے بلدیاتی انتخابات مقررہ وقت پر ہی کرائیں گے۔

اسلام ٹائمز: فاٹا انضمام کے بعد اداروں کی منتقلی کا کٹھن مرحلہ شروع ہوچکا ہے، فاٹا سیکرٹریٹ کو ضم کرنیکے معاملے پر حکومت اور بیوروکریسی کی سوچ اور وژن الگ الگ دکھائی دے رہا ہے۔ بیوروکریسی فاٹا سیکرٹریٹ اور سابق فاٹا کے بعض اداروں کو اصل حالت میں رکھنے کی خواہاں ہے، جبکہ حکومت تمام اداروں کو صوبائی محکموں میں ضم کرنا چاہتی ہے، کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔؟
شوکت یوسفرئی:
فاٹا کے انضمام کے معاملے پر بیورو کریسی اور حکومت ایک ہی پیج پر ہے۔ بیوروکریسی کا مؤقف غلط نہیں ہے، وہ ٹھیک کہتے ہیں کہ فیڈرل حکومت سے جو پیسے فاٹا کیلئے آرہے ہیں، وہ صوبائی حکومت استعمال میں نہیں لاسکتی۔ انہوں نے تجویز دی کہ فی الحال فاٹا سیکرٹریٹ قائم رہے، تاکہ فنڈز کا استعمال کیا جاسکے، لیکن ہمارا کہنا تھا کہ اس سے انضمام کا غلط تاثر قائم ہو جائے گا، اگر ہم فاٹا سیکرٹریٹ کا نام بدل دیں تو کیا فائدہ ہوگا، وزیر ایک ہوگا لیکن اسی محکمے کے سیکرٹری الگ الگ ہونگے اور بجٹ بھی الگ الگ ہوگا تو آدھا تیتر اور آدھا بٹیر والا معاملہ نہیں چل سکتا، ہم نے تجویز دی کہ پی اینڈ ڈی اور فنانس کے الگ الگ اسپیشل سیکرٹری تعینات کر دینگے، پھر کابینہ نے اتفاق رائے سے سینیئر وزیر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جس میں مجھ سمیت چار وزراء اور تین محکموں کے سیکرٹریز شامل ہیں۔ کمیٹی کا اجلاس آئندہ ہفتے بلایا گیا ہے، ہم دو ہفتوں میں اپنی سفارشات حکومت کو پیش کرینگے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے قبائلی اضلاع کے انضمام کا عمل فوری طور پر مکمل نہ کیا تو ایک گیپ آجائے گا، پھر اس گیپ کا فائدہ وہ لوگ اٹھائیں گے، جنہوں نے مالاکنڈ میں گیپ کا فائدہ اُٹھایا، ہم نہیں چاہتے کہ ہمیں ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے۔

اسلام ٹائمز: تحریک انصاف کے 100 روزه پلان کے دن مکمل ہوچکے ہیں، کیا صوبائی محکموں نے اپنا اپنا پلان تشکیل دیدیا ہے؟ 100 روزہ پلان پر عملدرآمد کب سے ہوگا۔؟
شوکت پوسفزئی:
3 یا 5 دسمبر سے ہر محمکہ وزیراعلٰی کو بریفنگ دے گا، 100 دنوں کے پلان کا پورا خاکہ پیش کیا جائے گا۔ دراصل لوگوں کے ذہن میں یہ تھا کہ شاید 100 دنوں میں ہم نے کچھ بڑے بڑے اقدامات کرنے ہیں، ایسا نہیں تھا، بلکہ ہم ایک منصوبہ بندی کے تحت آئندہ پانچ سال کا منصوبہ بنانا چاہتے ہیں، یہ پہلی حکومت ہے جو پلاننگ کے تحت کام کر رہی ہے۔ ہم ہمیشہ اس بات کے قائل رہے ہیں کہ اس ملک کا کچھ نہیں ہوسکتا، جیسے چل رہا ہے، ویسا ہی چلتا رہے گا، جب آپ جدوجہد کرتے ہیں، سچی نیت اور ارادے سے کام کرتے ہیں تو پھر آپ نواز شریف کو جیل بھی بھیج سکتے ہیں، اب تو زرداری کی بھی باری آنیوالی ہے، جو چیخ رہے ہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ ان کی اگلی منزل جیل ہے، دراصل عمران خان نے ان کی دم پر پاؤں رکھ دیا ہے، عوام کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ابھی تو ہم نے کیس بنائے ہی نہیں، یہ سب تو پرانے کیسز چل رہے ہیں، جب ہم ریفرنس بجھوانا شروع کر دیں گے تو موجودہ سیاستدانوں میں سے نصف جیلوں میں ہونگے۔

اسلام ٹائمز: صوبائی احتساب کمیشن ختم ہوچکا ہے، حکومت نے تمام کیسز اور اثاثہ جات اینٹی کرپشن کے حوالے کر دیئے ہیں، اینٹی کرپشن کا دائرہ کار محدود ہے، وہ کسطرح ان کیسوں کی پیروی کریگا اور زیرِ التوا کیس نیب کے حوالے کیوں نہیں کئے گئے۔؟
شوکت یوسفزئی:
احتساب کمیشن تحریک انصاف کا نہیں صوبائی حکومت کا ادارہ تھا، عمران خان چاہتے تھے کہ ایسا ادارہ ہونا چاہیئے، جو آزادانہ طور پر بلاتفریق احتساب کرے، بدقسمتی سے یہ ادارہ خود ہی متنازعہ بن گیا۔ اس ادارے میں 10 کمشنر اور ایک چیف تھا، حامد خان کمیشن کے چیف تھے، لیکن وہ کمشنروں سے بغیر مشاورت کے فیصلے لیتے تھے، وہ اپنے فیصلے ان 10 کمشزوں پر مسلط کرتے تھے۔ ان کمشنروں کا کہنا تھا کہ کیس ٹو کیس ہم سے بھی مشاورت کی جائے۔ جبکہ حامد خان کا کہنا تھا کہ میں ان کا پابند نہیں ہوں، قانون میں ایسا کچھ نہیں، پھر ہم نے ترامیم کیں کہ جو بھی فیصلہ ہوگا، اس میں ان دس کمشنروں کی مشاورت شامل ہوگی، اس ترمیم کے بعد حامد خان نے استعفٰی دیا تھا۔ پھر ہم نے ترمیم کے ذریعے چیف احتساب کمشنر کے تقرر کا اختیار ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی کو دیدیا، طویل عرصے بعد انہوں نے سمری واپس بھجوا دی اور کہا کہ وہ کام نہیں کرسکتے۔ اس کے بعد ہم نے سوچا کہ یہ ادارہ مزید متنازع بنتا جا رہا ہے، لہٰذا اسے ختم کر دیا جائے، ہم نے سارے زیرِ التواء کیس انٹی کرپشن کے حوالے کر دیئے ہیں، انٹی کرپشن کا دائرہ اختیار بڑھانے کیلئے قانون میں ترامیم کریں گے، انٹی کرپشن کو مزید فعال بنائیں گے۔

اسلام ٹائمز: بجلی و گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے، جسکے براہ راست اثرات غریب عوام پر پڑے ہیں، کیا آپ نہیں سمجھتے ہیں کہ ان اقدامات سے تحریک انصاف کی مقبولیت میں کمی واقع ہوگی۔؟
شوکت یوسفزئی:
ہمیں بہت سخت فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں، آپ خود ہی تصور کریں کہ جب ایک حکومت خزانے کو خالی چھوڑ کر جائے، اوپر سے گیس میں 154 ارب کا خسارہ، 1200 ارب روپے بجلی خسارہ، 375 ارب پی آئی اے کا خسارہ، ایسے میں ہم کس طرح گیس سستی کریں؟ کس طرح بجلی پر سبسڈی جاری رکھیں؟ ہم ان معاملات پر سابق حکمرانوں کی طرح آنکھیں بند نہیں کرسکتے، لہٰذا ہمیں سخت فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔ اب بیل آوٹ پیکجز آرہے ہیں، مشکل وقت گزر جائے گا، میں عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ 6 ماہ بعد صورتحال بہتر ہو جائے گی۔

اسلام ٹائمز: دوتہائی اکثریت کے باوجو تحریک انصاف کو حکومت سازی میں اندورنی مسائل کا سامنا رہا، وزیراعلٰی کے عہدے کیلئے پارٹی گروپ بندی کا شکار بھی رہی، کیا اب بھی حکومت اور پارٹی کی صوبائی قیادت باہمی اختلافات اور گروپ بندیوں کا شکار ہے۔؟
شوکت یوسفزئی:
جو بھی جمہوری پارٹی ہوتی ہے، اس میں اختلاف رائے ضرور ہوتا ہے، لیکن جب فیصلہ ہو جاتا ہے تو اسے ہر کوئی مانتا ہے، جب وزیراعلٰی کی نامزدگی ہو رہی تھی تو سب کا حق تھا کہ اس عہدے کیلئے لابنگ کرتے، لیکن جب عمران خان نے محمود خان کو وزیراعلٰی نامزد کیا تو اس کے بعد کسی نے کوئی اختلاف نہیں کیا اور عمران خان کے فیصلے کو قبول کیا۔

اسلام ٹائمز: تحریک انصاف لبرل جماعت ہے، لیکن خیبر پختونخوا کابینہ میں ایک بھی خاتون وزیر نہیں، کیا کابینہ میں مزید توسیع ہوگی اور کابینہ میں کسی خاتون کو قلمدان سونپنے کا ارادہ ہے۔؟
شوکت یوسفزئی:
صوبائی کابینہ میں جلد توسیع ہو رہی ہے، آئنده ہفتے دو خواتین، ایک منیارٹی اور چار دیگر اراکین اسمبلی کابینہ کا حصہ ہونگے، ہم کابینہ میں مرحلہ وار وسیع کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: تحریک انصاف نے پارٹی اور سرکاری عہدے الگ الگ کرنیکا فیصلہ کیا تھا، لیکن اب بھی سرکاری عہدے رکھنے والے پارٹی عہدوں پر براجمان ہیں، پارٹی اور سرکاری عہدے کب تک الگ الگ کر دیئے جائینگے؟ اور کیا تحریک انصاف ایک مرتبہ پھر انٹراپارٹی انتخابات کیجانب جائیگی۔؟
شوکت یوسفزئی:
پارٹی کے جنرل سیکرٹری نے اعلان کر دیا ہے، نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔ مختلف اضلاع میں عہدیدار چن رہے ہیں، بلدیاتی انتخابات قریب ہیں، لہٰذا اس مرحلے میں صرف نامزدگیاں کریں گے، جبکہ بلدیاتی انتخابات کے بعد انٹراپارٹی الیکشن ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 763341
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب