0
Saturday 15 Dec 2018 13:42
موجودہ حکومت 20 کروڑ عوام کیلئے قیامت ڈھا رہی ہے

این آر او کے نام پہ وزیر اطلاعات اپوزیشن کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں، ڈاکٹر غوث نیازی

این آر او کے نام پہ وزیر اطلاعات اپوزیشن کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں، ڈاکٹر غوث نیازی
پاکستان مسلم لیگ نون پنجاب کے رہنماء سینیٹر غوث محمد نیازی 2015ء میں سینیٹ کی جنرل سیٹ سے سینیٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔ 1986ء میں پنجاب سے ایم بی بی ایس مکمل کرنے بعد سے میڈیکل کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کیساتھ ساتھ سیاست میں بھی فعال ہیں۔ خارجہ امور، علاقائی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ سینیٹ آف پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ، قومی ورثہ، واٹر اینڈ پاور اور نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینشین کمیٹیز کے ممبر کا اسلام ٹائمز کیساتھ انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: پارلیمنٹ کا اگلا اجلاس اڈیالہ جیل میں ہونیکی باتیں ہو رہی ہیں، اپوزیشن کے سخت حالات آسانیوں میں بدلنے کی امیدیں کیوں دم توڑ رہی ہیں؟
ڈاکٹر غوث نیازی:
یہ پورے ملک اور پاکستانی عوام کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں، حکومت کے پہلے 100 دن کی بات ہو رہی ہے، جہاں سب سے پہلے مہنگائی کا خیال آتا ہے۔ یہ نوحہ خوانی آئندہ بھی ہوتی رہے گی۔ وزیراعظم مطمئن ہیں کہ وہ مستقبل بہتر بنائیں گے، جیسے معیشت کی بحالی، زر مبادلہ اور سرمایہ کاری، گیس کی نئی دریافت، صحت عامہ اور صحت کارڈ، نیا تعلیمی نظام، ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات اور بہت کچھ۔ یہ سب آنے والے مہینوں یا سالوں میں منظرِ عام پر آئیں گے مگر یہ جب ہوگا تو پتا چلے گا کہ کیا اچھا ہوا ہے یا اچھا نہیں ہوا، لیکن ایک قیامت جو 20 کروڑ سے زیادہ پاکستانیوں پر اس وقت گزر رہی ہے، وہ ہے مہنگائی اور اقتصادی بدحالی کے اثرات۔ عوام کے لئے اس مہنگائی سے بڑا دنیا میں اور کیا عذاب ہو سکتا ہے؟

کسی دوسرے ملک کی بجائے اپنی جنگ بہت اچھی پالیسی ہے، لیکن غربت کے خلاف جنگ ریاست پاکستان کی واحد اپنی جنگ ہے۔ بدقسمتی سے حکومت مہنگائی کے خلاف آمادۂ پیکار نظر نہیں آتی۔ عمران خان مستقبل کے بارے پُر اعتماد تو ہیں، لیکن جو عوام پر گزر رہی ہے اس کے بارے پریشان نظر نہیں آئے۔ غربت سے جنگ پاکستان کے لئے اس قدر اہم ہے کہ اس سے نبرد آزما ہونے کے لئے ایک علیحدہ وزارت ازحد ضروری ہے۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ کابینہ میں سب سے اہم وزیر اسی وزارت کا ہونا چاہیئے۔ نائب وزیراعظم یا سینئر وزیر نام کا کوئی عہدہ آئین میں نہیں، لیکن اگر ایسے عہدے ہوتے تو صرف اسی وزارت کے لئے ہونے چاہئیں تھے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس وزارت کو کئی دیگر وزارتوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔ غربت کی جنگ میں صحت، تعلیم، خزانہ، صنعت، خوراک جیسے کئی شعبوں کی بنیادی اہمیت ہے۔ اس لئے مجوزہ وزارت کی اہمیت سب کو باور کروانا بہت اہم ہے، کیوں نہ کابینہ کے ہر اجلاس میں پہلا موضوع غربت کے بارے اٹھائے گئے اقدامات پر بحث ہونا چاہیئے؟ ہماری بےچینی اور اضطراب کی وجہ عام پاکستانیوں پر ٹوٹنے والی قیامت ہے۔

اسلام ٹائمز: حکومت کا دعوٰی ہے کہ چین کی طرح کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالیں گے، یہ حقیقت کا روپ نہیں دھارے گا؟
ڈاکٹر غوث نیازی:
فی الحقیقت کوئی موضوع اگر اس دور میں بر محل ہے، تو وہ صرف اور صرف ایک ہے، مہنگائی، یا یوں کہہ لیں کہ غربت، کیونکہ یہ ایک ہی المیے کے دو پہلو ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے، جو غریب نہیں تھے، انہیں بھی غریب کر رکھا ہے۔ کیا یہ غلط ہے کہ پاکستان تحریک ِانصاف کی حکومت کے پہلے 100 ایام میں غریب مزید غریب ہوگیا ہے؟ کیا یہ غلط ہے کہ غریب بھکاری بننے کو ہیں اور جو خود کو غربت کی لکیر سے اُوپر سمجھتے تھے، وہ اب اس لکیر سے نیچے گر چکے ہیں۔ ان سوالوں کے جواب حکومتی عمائدین اور چند ہزار رؤسا کے علاوہ ہر پاکستانی جانتا ہے۔ غربت میں ہوشربا شدت آئی ہے اور غریبوں کی تعداد میں چند ہفتوں کے دوران بہت بڑا اضافہ ہوا ہے۔ غربت کی لکیر یومیہ آمدن کو سامنے رکھ کر مقرر کی جاتی ہے۔ کسی وجہ سے یہ آمدن ڈالر میں شمار کی جاتی ہے اور جب روپے کے مقابلے میں ڈالر مہنگا ہو جاتا ہے تو پاکستان میں رہنے والوں کو اس مہنگائی کا سامنا کرنے کے لئے یا دوسرے لفظوں میں غربت کی لکیر پر اپنا مقام برقرار رکھنے کے لئے ڈالر کے عوض زیادہ روپے چاہیئے ہوتے ہیں۔

لیکن یہ انہیں میسر نہیں ہوتے، کیونکہ ڈالر مہنگا ہونے کے ساتھ ان کی آمدنی میں اضافہ تو نہیں ہوتا۔ چنانچہ ایک غریب آدمی ڈالر مہنگا ہونے کے ساتھ زیادہ غریب ہو جاتا ہے۔ ڈالر کی قیمتوں میں اچانک اور حیران کن رد و بدل سے پہلے کئی خاندان غربت کی لکیر سے اُوپر شمار ہوتے تھے، لیکن وہ ایک دن کے اندر ہی ڈالر کی قدر بڑھنے سے غربت کے گڑھے میں جا گرتے ہیں۔ سیانوں کے پاس تو ہر سوال کا جواب ہوتا ہے، اس المیے پر روشنی ڈالنے کے لئے بھی بہت سے ماہرین ِاقتصادیات، اسلام آباد میں بیٹھے ہیں، لیکن ان کی باتیں، غریبوں کی سمجھ سے باہر ہیں اور نہ ہی اُن کے دلاسوں سے غربت میں کوئی کمی ہوتی ہے، اس لئے ایک عام آدمی کے لئے ان بنے سنورے، پڑھے لکھے لوگوں کی دلکش گفتگو بےمعنی ہے، کیونکہ عملی طور پر یہ غریبوں کے حق میں کہیں مؤثر ثابت ہوتی نظر نہیں آتی۔ وزیر خزانہ اور وزیراعظم ایک دوسرے سے مختلف اور متضاد موقف رکھتے ہیں کہ ڈالر کی قیمت کیسے بڑھی، یہ غربت سے بھی سنگین مسئلہ ہے، یہ اس امر کی نشاندہی ہے کہ ملک نااہلوں کے سپرد ہے۔

اسلام ٹائمز: اگر حکومت عام آدمی کو نظرانداز کر رہی ہے تو انکا ایجنڈا کیا ہے؟، عوامی بےچینی کا اظہار بھی نہیں ہو رہا، کہیں مظاہرے اور ہڑتالیں دکھائی نہیں دیتیں؟
ڈاکٹر غوث نیازی:
عوام دیکھ رہے ہیں، انکی آواز دبائی جا رہی ہے، جس طرح الیکشن میں ووٹوں پر ڈاکہ ڈالا گیا، عوامی قیادت کو جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت آمریت کی ہی ایک شکل ہے، جس نے ہر آواز دبا دی ہے۔ حکومت اپنے دور میں سٹیج اور اس پر رکھے سائونڈ سسٹم پر قابض ہے۔ یہ فیصلہ وہ کرتی ہے کہ آج کا موضوعِ سخن کیا ہوگا۔ انکا کوئی ایجنڈا نہیں، لیکن باتیں بڑی بڑی ہیں، درحقیقت عمران خان کی حکومت کی سوئی دو باتوں پر اٹکی ہوئی ہے، ایک اپنے سے پہلی حکومتوں کی چوریاں اور ان سے جڑے دو موضوعات، یعنی کڑا اور بے لاگ احتساب اور لوٹی ہوئی دولت، جس کا تخمینہ کھربوں میں ہے، کی واپسی پر۔ حکومتِ وقت کا دوسر اپسندیدہ موضوع موجودہ اقتصادی بحران کے لئے سابقہ حکومتوں کو ذمہ دار ثابت کرنا ہے، اگرچہ یہ بتانے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ ماضی میں کتنی دور تک جانا ہوگا، لیکن ذکر صرف نون لیگ اور پیپلز پارٹی کا ہی ہوتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ ہماری معیشت، معاشرت اور سیاست کے تانے بانے ایک اَن دیکھے تار کے ذریعے ماضی میں بہت دور تک تلاش کئے جا سکتے ہیں۔

اگر اس بحث میں پڑ گئے تو ذمہ داری کے تعین کے لئے انگریزوں، سکھوں، مغلوں، سلاطینِ دہلی اور اس سے بھی پہلے کے ادوار میں جا پہنچیں گے۔ چنانچہ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ اس بے مقصد اور بے معنی بحث میں نہ تو حکومت خود پڑے اور نہ ہی اس بحث میں پریشان حال قوم کو الجھا کر مزید پریشان کرے۔ کون نہیں جانتا کہ ہمارا حال ہمارے ماضی سے جنم لیتا ہے۔ بالکل اُسی طرح جیسے ہمارے حال سے ہمارا مستقبل جنم لے گا۔ پچھلے 100 ایام  کے دوران جو کچھ ہوا ہے، اس کی ذمہ دار پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ کوئی ذی ہوش شخص ان حالات کے لئے نون لیگ، پیپلز پارٹی یا مشرف کو ذمہ دار نہیں ٹھہرائے گا۔ عوام کی اوّلین پریشانی پر توجہ دیں۔ عوام کی اوّلین پریشانی پر بات کریں اور عوام کی اوّلین پریشانی کا علاج کریں۔ آپ کے تمام منصوبے، پروگرام، ارادے، دعوے، وعدے بہت اچھے ہیں، ان سب کا فائدہ اُن کو ہوگا، جو جیتے بچیں گے۔ اس وقت غریب کے لئے عالمِ نزع ہے۔ حکومت کے پہلے 100 دن میں اور کچھ ہوا یا نہ ہوا، مگر غربت میں بےحد اضافہ ضرور ہوا، جو غریب تھے، ان کی غربت مزید تکلیف دہ ہوگئی ہے، جو اقتصادیات کی معروف اصطلاح میں پہلے غریب نہ تھے وہ بھی اب خطِ افلاس سے نیچے لڑھک چکے ہیں۔

اسلام ٹائمز: وزیراطلاعات کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کو بیلک میل کر رہی ہیں جسکی وجہ سے قانون سازی بھی رکی ہوئی ہے اور ریاست و حکومت کا کاروبار بھی متاثر ہو رہا ہے؟
ڈاکٹر غوث نیازی:
اس سے بڑا مذاق کیا ہو گا، ہمارا موقف تو یہ ہے کہ احتساب کا نظام سب کے لئے ایک جیسا ہونا چاہیئے، ملک کو لوٹنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے۔ حکومت اپنے پہلے سو دن میں ناکام ہوئی ہے، تحریک انصاف حکومت میں آکر بھی گالم گلوچ کررہی ہے۔ حکومت بری طرح  ناکام ہو چکی ہے اور بدقسمتی سے عمران خان وزیراعظم ہیں، لوگوں کو بدنام کرکے انہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ موجودہ حکومت کو ذمہ دار اپوزیشن کا سامنا ہے، جبکہ مسلم لیگ نون کی حکومت کو پاکستان کی تاریخ کی بدترین اپوزیشن کا سامنا تھا، موجودہ حکومت نے یوٹرن کو حلال قرار دیدیا ہے۔ حکومت ہوش کے ناخن لے، اس طرح حکومتیں نہیں چلتیں، ہمیں چور چور کہہ کر حکومت کا کاروبار چل رہا ہے۔ نئی حکومت میں پرانے پاکستان والے کام ہی ہو رہے ہیں، دھمکانے سے حکومتی معاملات رک چکے ہیں۔ پی ٹی آئی میں مفاہمت اور رعونت کرنے والے الگ الگ گروپ ہیں، جیل میں ڈال دینے کی باتیں کر کے ڈرانے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ خیبر پختونخوا میں وزراء کے فنڈز میں اضافہ کر دیا گیا ہے، کے پی میں احتساب کمیشن باضابطہ بند کر دیا گیا ہے، جس کے بارے میں پی ٹی آئی عوام کو جواب دے۔ این آر او کے نام پہ وزیر اطلاعات اپوزیشن کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: حکومت کا موقف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کی نامزدگی کے حوالے سے ہے، کیا اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کی دھمکی نہیں دی؟
ڈاکٹر غوث نیازی:
نون لیگ سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین ہونے پر اعتراض کی وجہ میرٹ ہو سکتا ہے، لیکن اسی میرٹ کا خیال خیبر پختونخوا میں کیوں نہیں رکھا گیا؟ وہاں کیوں چیئرمین تحریکِ انصاف سے ہے؟ دوسرا اعظم سواتی کے معاملے میں وزیراعظم کا مؤقف، اُن خیالات سے مختلف تھا، جن کا اظہار وہ ماضی میں سیاسی مخالفین کے بارے ایسے معاملات میں کرتے رہے ہیں، اس معاملے میں اب تک جو کچھ سامنے آیا ہے وہ محترم وزیر کی تعریف میں بیان نہیں ہو سکتا۔ باقی رہا عدالت میں ثابت ہونے کا انتظار تو عدالت میں محترم وزیر کے جرم کا ثابت ہونے کا انتظار کریں۔ تیسری بات ان کے دوست کی بطور معاونِ خصوصی تقرری ہے۔ اگر یہ اقرباء پروری نہیں تو پھر اقرباء پروری کسے کہتے ہیں؟ چوتھی بات جناب وزیراعلٰی پنجاب کی غیر مشروط حمایت ہے، جو پہلے دن بھی بلاجواز نظر آئی تھی اور تین مہینے گزرنے کے بعد بھی تاحال کوئی جواز اس کا نظر نہ آیا ہے۔

اسلام ٹائمز: تجاوزات کا خاتمہ، سرکاری زمینوں کی واپسی اور شیلٹر ہوم جیسے اقدامات گذشتہ وزرائے اعلٰی کے ادوار میں نہیں کئے گئے، کیا وزیراعلٰی پنجاب تعریف کے مستحق نہیں، حالانکہ وہ حکمرانی کا تجربہ بھی نہیں رکھتے؟
ڈاکٹر غوث نیازی:
جو سب سے ناگزیر ہے، وہ پنجاب میں حکومت کی عملاً غیر موجودگی ہے۔ یہ صورتحال اتفاق سے پہلی مرتبہ ہی نظر آئی ہے۔ ملک کی نصف سے زیادہ آبادی اگر حکومت نام کی چیز تلاش کرنا چاہے، تو اسے مشکل میں ہو گی۔ ریاستی رٹ کیلئے جن لوازم کا موجود ہونا ضروری ہے، جیسے سیاسی ڈھانچہ، کابینہ، اراکین اسمبلی۔ انہی کا موجود ہونا نہ ہونا برابر محسوس ہوتا ہے۔ مارشل لاء ادوار میں ان کی جگہ فوجی افسران، نگران دور میں چند تھکے ماندے بزرگ۔ کسی نہ کسی شکل میں ایک سیاسی ڈھانچہ موجود ہوتا ہے۔ دوسرا اہم عنصر جو ہمہ وقت موجود ہوتا ہے، انتظامی ڈھانچہ ہے، جیسے سیکرٹریٹ، کمشنرز، ڈی سی اوز، پولیس کا ادارہ، تھانے، کچہریاں، متفرق سرکاری دفاتر۔ اسی طرح مقامی حکومت کے ادارے ہیں۔ صفائی کا اہتمام، پانی کی فراہمی، ترقیاتی ادارے، مقامی حکومتوں کے چہرے ہوتے ہیں۔ یہ تینوں اجزا ملتے ہیں تو ہم سب کو اپنے ہاں ریاست موجود نظر آتی ہے۔

آج کل اس کی موجودگی دھندلائی دھندلائی ہے۔ کبھی لگتا ہے کہ شاید ہے، کبھی یقین ہو جاتا ہے کہ ہرگز نہیں ہے۔ یہ وزیراعلٰی پنجاب کی شخصیت ہو جو خادمِ اعلٰی کے دس سالہ دور کے بعد ایوانِ پنجاب میں قیام پذیر ہوئے ہیں۔ ہر بات میں، ہر قدم پر دانستہ، غیر دانستہ طور پر ان کا موازنہ خادمِ اعلٰی سے ہو جاتا ہے۔ خادمِ اعلٰی میں اور کوئی وصف یا اہلیت تھی یا نہیں، پورے اسٹیج پر اکیلے ہی چھائے رہنے کی بے مثال صلاحیت اُن کی شخصیت کا نمایاں پہلو ضرور تھی۔ یہ سب کچھ اب قصہ پارینہ ہو چکا ہے۔ آج ان سب میں سے کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ نئے وزیراعلٰی میں اور جو بھی صلاحیتیں ہوں اور یقینا ہوں گی بھی، یہ صلاحیت شاید نہیں ہے کہ وہ اپنے ماحول پر غالب نظر آئیں۔ دونوں شخصیات میں سے بہتر کون سی ہے، اس پر بحث مطلوب نہیں۔ اس وقت کابینہ میں محض دو یا رعایتاً شامل کر لیں تو، چار وزراء ایسے ہیں، جن کے نام اور شناخت سے عام آدمی واقف ہے۔ یہ تعارف بھی اُن کی بات چیت سن کر اور دیکھ کر ہے، تاحال ان کے بلند ارادوں کا بھی انہیں کی زبانی سنا ہے۔ البتہ کسی کی بھی کارکردگی ابھی دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔ وزیراعلٰی اور کابینہ ہیں، بھی اور ایک لحاظ نہیں بھی، سیاست میں ایک خلاء ہونے کا احساس ہے۔ دھواں دھار تقریریں سننے میں آتی ہیں۔ الزام تراشیاں پہلے بھی تھیں اور اب بھی جاری ہیں۔

اسلام ٹائمز: حکومت کا کہنا ہے کہ بیوروکریسی نظام کو چلانے میں رکاوٹ ہے، کیونکہ وہ موجودہ حکومت کی نسبت سابقہ ادوار میں رہنے والے حکمرانوں کے وفا دار ہیں؟
ڈاکٹر غوث نیازی:
یہ سب بہانے ہیں، اپنی کمزوری کو اس طرح نہیں چھپا سکتے، سیاسی ڈھانچے کی صورتِحال کے بارے تحریکِ انصاف کے پہلے 100 دنوں میں اعتماد نے جنم نہیں لیا، بے یقینی کا غلبہ ہے۔ انتظامی ڈھانچہ، یعنی سول سروسز کا ادارہ، جسے یہ حقارت سے بیوروکریسی کہتے ہیں، مفلوج نظر آتا ہے۔ پرانی ٹیم، ماسوائے گنتی کے چند آل راؤنڈرز کے گراؤنڈ سے باہر بیٹھی ہے، چند ایک نے جیلوں میں پناہ لے رکھی ہے، چند ادھر اُدھر شاملِ تفتیش ہیں۔ ایک بڑی تعداد ان کے تجربوں پر غور کر رہی ہے اور سبق سیکھنے کی کوشش میں ہے۔ تاحال پنجاب کی سیاست میں کوئی ایسی شخصیت سامنے نہیں آئی، جس کے ہاتھ میں پرچم ہو اور اس کے سائے میں سول سرونٹس اپنی جگہ بنانے کی خاطر ایک دوسرے کو دھکے دے رہے ہوں۔ چنانچہ نئی ٹیم تاحال نظر نہیں آ رہی اور اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ نئی ٹیم میں شامل ہونے کیلئے رسہ کشی بھی نظر نہیں آ رہی۔ اکثر لوگ گراؤنڈ کے باہر کھڑے ہیں۔ اندر جانے کیلئے کسی اشارے کے منتظر نہیں۔ باہر اس لئے کھڑے ہیں کہ انہیں اندر جانے میں بہتری کا یقین نہیں۔

مقامی حکومت کے نظام کا پی ٹی آئی نے بڑا شور مچایا، لیکن ابھی تک صفائی کا شعبہ ایک میگا سکینڈل بنا ہوا ہے۔ شہری ٹرانسپورٹ بھی میگا کرپشن کی فہرست میں شامل ہے۔ پانی کو لے لیں، وہ بھی آئے دن شہ سرخیوں میں جگہ پاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن شعبوں کا ذکر سن کر نیب، جسمانی اور عدالتی ریمانڈ، ضمانتوں کی اقسام آنکھوں کے سامنے گھوم جائیں، ان کے قریب تو وہی جائیں گے، جنہوں نے کسی بھی وجہ سے سر پر کفن باندھ رکھے ہوں۔ میئر اور ان کے نائب تو خادمِ اعلٰی کے دور میں بھی اختیارات کی خاطر جلوس نکالا کرتے تھے۔ نئے دور میں ان کا پرسانِ حال کون ہو گا؟ انہیں تو قبل از وقت انجام تک پہنچانے کا ارادہ نظر آتا ہے، لیکن فیصلے کرنا، اس حکومت کی صلاحیتوں میں سے ایک صلاحیت نہیں۔ مقامی حکومتوں کے نئے قانون کیلئے وزیراعظم نے کئی مرتبہ آخری مہلت دی۔ کئی مرتبہ یہ بھی سنا کہ مسودہ تیار ہے۔ یہ بھی سنا کہ قانون سازی جلد ہو گی اور اس وقت موجود منتخب اداروں کو ختم کر دیا جائے گا۔ ترقیاتی رقوم اکثر و بیشتر منجمد ہیں۔ چنانچہ مقامی حکومتوں کی چھتری کے نیچے جو ریاست نظر آیا کرتی تھی، وہ فی الوقت عنقا ہے۔ بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ حکومت کے پہلے 100 دن تعطل اور خلا کے لئے وقف رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: صدر ٹرمپ نے وزیراعظم کو افغان مسئلے کے حل میں مدد کیلئے خط لکھا ہے، دنیا پاکستانی کردار کو تسلیم کر رہی ہے، ہماری پالیسی کی سمت درست ہے؟
ڈاکٹر غوث نیازی:
امریکہ کا موقف ہے کہ افغانستان کا امن پورے خطے کے لئے مفید ہے اور امریکہ یہ یقین دہانی چاہتا ہے کہ افغان سرزمین بین الاقوامی دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہو گی۔ یہ دونوں مطالبات معقول ہیں اور اِن کے حصول کے لئے امریکہ جو بھی کوشش کرے اس کی حمایت ہونی چاہیئے، لیکن ان کی خواہش کرنا ایک الگ بات ہے اور ان کے حصول کے لئے کوششیں کرنا کارِ دیگر ہے، جو بھی افغانستان میں امن چاہتا ہے اُسے چاہیئے کہ پہلے اُن امور کی نشاندہی کرے، جن پر عمل کر کے یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ افغانستان میں امریکہ نے بھارت کو جو کردار سونپا ہے وہ امن کے قیام میں ممد و معاون ثابت ہونے کی بجائے اُلٹا اس مقصد کو نقصان پہنچا رہا ہے، کیونکہ بھارت اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے افغانستان میں اپنی پوزیشن مستحکم کر رہا ہے اور وہاں بھارتی قونصل خانے پاکستان میں دہشت گرد بھیجنے کی منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان کو افغانستان میں بھارتی کردار پر اعتراض ہے۔ امریکہ نے تسلیم کیا کہ خطے اور افغانستان میں پاکستان مستقبل کے سیاسی تصفیے میں اپنے مفادات کے تحفظ کا خواہاں ہے۔ مناسب ہے کہ مسئلے کا پُرامن حل تلاش کیا جائے اور کسی بھی معاہدے میں پاکستان کے کردار اور مفادات کو تسلیم کیا جائے۔ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام امریکہ اور پاکستان دونوں کے باہمی مفاد میں ہے۔ اس کے لئے دونوں ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اور پاکستان کے ساتھ مل کر اس مسئلے پر بات چیت کر کے یہ طے کرنا ہے کہ اس مقصد کو کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کو افغانستان میں بھارت کے کردار پر بجا طور پر تشویش ہے۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ امریکی قیادت اِس سلسلے میں کیا اقدامات کرتی ہے، کیونکہ اگر امریکہ کو آبرو مندانہ طور پر افغانستان سے نکلنا ہے تو اُسے اپنے پندار کا صنم کدہ ویران کر کے طالبان کے ساتھ خوش دِلی سے مذاکرات کرنا ہوں گے، مارے باندھے کے مذاکرات محض تضیع اوقات ہوں گے۔ طالبان کی شکست اور اپنی فتح مندی کا تاثر اُبھارنے کے لئے اگر معاملے کو پیچیدہ سے پیچیدہ تر بنانے کی کوشش کی گئی تو امن کا گوہر مقصود ہاتھ نہیں آئے گا اور بعید نہیں کہ مذاکرات کے جو امکانات پیدا ہوئے ہیں وہ بھی کسی کی اناپسندی یا بے تدبیری سے تعطل کا شکار ہو جائیں۔ اگر ماضی میں کی جانے والی کوششوں کا سرسری سا بھی جائزہ لیں تو ماضی میں مذاکرات کے امکانات قریب آنے پر امریکہ کی طرف سے ایسے اقدامات کئے گئے کہ ردعمل کے طور پر طالبان بھی اپنی پوزیشن پر واپس چلے گئے اور مذاکرات کی جو امید پیدا ہوئی تھی وہ بھی نظروں سے اُوجھل ہو گئی۔ توقع کرنی چاہیئے کہ اب کی بار ماضی کی غلطیاں نہیں دُہرائی جائیں گی۔ امریکہ میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے، جو افغان صورتِحال کا کماحقہ ادراک رکھتے ہیں اور یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ افغان مسئلہ فوجی طریقے سے حل نہیں ہو سکتا، لیکن نہ جانے کیوں صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھال کر سابق حکومت کے برعکس اس سوچ کو آگے بڑھایا کہ اب طاقت کے استعمال سے نتائج حاصل کئے جائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 766768
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب