0
Monday 17 Dec 2018 17:16

آل سعود نے اپنی بادشاہت بچانے کیلئے کعبہ کے دفاع کا بہانہ بناکر یمن پر حملہ کیا، مولانا یوسف جعفری

آل سعود نے اپنی بادشاہت بچانے کیلئے کعبہ کے دفاع کا بہانہ بناکر یمن پر حملہ کیا، مولانا یوسف جعفری
مولانا یوسف حسین جعفری کا تعلق پاراچنار کے نواحی علاقے نستی کوٹ سے ہے۔ وہ دینی مدرسہ میں پڑھنے کے علاوہ ایم اے اسلامیات ہولڈر ہیں۔ محکمہ تعلیم میں جب وہ تھیالوجی ٹیچر تھے تو اس دوران تنظیم العلماء صوبہ سرحد کے صدر رہے۔ ایک سال تک مجلس علمائے اہلبیت (ع) پاراچنار کے صدر رہے، جبکہ 11 مئی 2016ء سے اب تک تحریک حسینی کے صدر ہیں۔ اپنی صدارت کے ابتدائی 6 مہینے انہوں نے ملی و قومی حقوق کی پاداش میں جیل میں گزارے۔ مولانا صاحب نڈر اور جوشیلے مزاج کی حامل ایک انقلابی شخصیت کے مالک ہیں۔ کسی بھی مصلحت کے تحت اپنے جائز موقف سے پیچھے ہٹنے پر یقین نہیں رکھتے۔ علامہ یوسف حسین تحریک حسینی کی صدارت نہایت احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے انکے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا ہے، جو محترم قارئین کے پیش خدمت ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: اسوقت ضلع کرم میں امن و امان کی صورتحال کیسی ہے۔؟
مولانا یوسف جعفری:
سب سے پہلے تو آپ کا شکریہ۔ خدا کا شکر ہے کہ اب حالات کافی عرصہ سے مجموعی طور پر بہتر ہیں، لیکن کرم کے حالات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں کے حالات آسمان کے رنگ کی طرح ہوتے ہیں، کبھی بھی بدل سکتے ہیں، فی الحال تو امن و امان ہے اور ہم دعاگو ہیں کہ خدا پاراچنار سمیت تمام پاکستان میں امن فراہم کرے۔

اسلام ٹائمز: بالش خیل سمیت طوری قبائل کی اراضی کا ابھی تک حل نہیں ہوا، اب تک کیا پیشرفت ہوسکی ہے۔؟
مولانا یوسف جعفری:
اس حوالے سے مسئلہ جوں کا توں ہے، ہماری تو بھرپور کوشش ہے کہ اراضی کا مسئلہ حل ہو، ہم تو چاہتے ہیں کہ جو جس کی زمین ہے، جو جس کا حق ہے اسے ملے۔ ہمارا دین کسی کے حق پر قبضہ کا درس نہیں دیتا، اسی لئے ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لوگوں کو ان کا حق ملے۔ ان شاء اللہ یہ حق ہم حاصل کرکے ہی رہیں گے، کیونکہ ہم نے نہ کبھی اس مسئلہ پر سمجھوتہ کیا ہے اور نہ ہی کریں گے۔

اسلام ٹائمز: انتظامیہ اراضی کے مسئلہ پر کیا موقف رکھتی ہے اور کیا تعاون کر رہی ہے۔؟
مولانا یوسف جعفری:
اس حوالے سے انتظامیہ خاموش ہے، کوئی تعاون نہیں کر رہی، ہماری کوشش ہے کہ اپنے درمیان مکمل اتفاق رائے پیدا کرکے اس مسئلہ کو اٹھایا جائے۔

اسلام ٹائمز: کیا پاراچنار کی سکیورٹی اسوقت بھی پاک فوج کے ہاتھ میں ہے اور کیا آپ اس سکیورٹی سے مطمئن ہیں۔؟
مولانا یوسف جعفری:
جی بالکل، سکیورٹی اس وقت پاک فوج کے ہاتھ میں ہی ہے، ہم کافی حد تک مطمئن بھی ہیں، ہماری بریگیڈئیر صاحب سے بھی اس عنوان سے بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ لیکن ماضی میں بعض اوقات سکیورٹی فول پروف ہونے کے باوجود بھی دھماکے ہوئے ہیں۔

اسلام ٹائمز: قبائلی علاقہ جات کو بتدریج سیٹل ایریا میں شامل کیا جا رہا ہے، حکومت کے اس اقدام کو آپ کیسے دیکھتے ہیں۔؟
مولانا یوسف جعفری:
ہم اس کی حمایت کرتے ہیں، ہم نے حکومت کے اس اقدام کو پہلے بھی ویلکم کیا تھا، اس اقدام سے قبائل میں احساس محرومی ختم ہوگا اور وہ اپنے آپ کو محفوظ بھی تصور کریں گے۔ قبائل میں ترقی ہونی چاہیئے، یہ ان کا حق ہے۔ اس اقدام کی وجہ سے ایف سی آر جیسے قوانین کا بھی خاتمہ ہوگا، جو کہ خوش آئند ہے۔

اسلام ٹائمز: سپریم کورٹ نے جنرل (ر) راحیل شریف کے این او سی کو مسترد کیا ہے، کیا اب اس نام نہاد اسلامی فوجی قیادت کی کوئی قانونی حیثیت رہ گئی ہے۔؟
مولانا یوسف جعفری:
اس کی نہ پہلے کوئی حیثیت تھی نہ اب ہے، راحیل شریف نے محض ریال کے چکروں میں یہ عہدہ قبول کیا، اس کی وجہ سے پاکستان کو بھی اس جنگ میں گھسیٹا گیا، سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے پر انہیں واپس بلا لینا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: چند سوالات آپ سے بین الاقوامی ایشوز پر، یمن میں جنگ بندی کی باتیں کی جا رہی ہیں، اس جنگ کا خاتمہ کس طرح دیکھتے ہیں۔؟
مولانا یوسف جعفری:
آل سعود اور ان کے اتحادیوں کو یمن میں لازمی شکست ہوگی، آل سعود نے کعبہ کے دفاع کا بہانہ بناکر نہتے یمنیوں پر حملہ کیا، اس جارحیت کی مثال نہیں ملتی، اقوام عالم کی یمن پر خاموشی افسوسناک ہے، ہمیں افسوس ہوتا ہے کہ جب یمن میں اپنا دفاع کرنے والوں کو باغیوں کے روپ میں میڈیا پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے دنیا ظالم کا ساتھ دے رہی ہے، مگر فتح ہمیشہ مظلوم کی ہوئی ہے۔ آل سعود نے اپنی بادشاہت بچانے کیلئے کعبہ کے دفاع کا بہانہ بنا کر یمن پر حملہ کیا۔

اسلام ٹائمز: آپکے خیال میں کیا اب سعودی عرب خود اس جنگ سے نکلنا چاہ رہا ہے۔؟
مولانا یوسف جعفری:
بالکل، محسوس یہی ہو رہا ہے کہ اب سعودی عرب کو بھی معلوم ہوگیا ہے کہ اس جنگ کا نتیجہ اس کی شکست کی صورت میں ہی نکلے گا، اس وجہ سے وہ مذاکرات کی باتیں کر رہا ہے، یمن کے حوثیوں کو شکست دینا آسان نہیں ہے، وہ بھی سخت جان ہیں، خدا حوثیوں کی مدد کر رہا ہے۔ ان شاء اللہ یمن میں آل سعود کو شکست اور حوثیوں کو فتح نصیب ہوگی۔

اسلام ٹائمز: کشمیر میں گذشتہ روز 12نہتے لوگوں کو شہید کیا گیا، راحیل شریف کی اسلامی فوج وہاں کوئی کردار ادا کیوں نہیں کرتی۔؟
مولانا یوسف جعفری:
یہ بہت افسوسناک ہے، بھارتی فوج ظلم کی تمام حدیں پار کر رہی ہے، راحیل شریف کی فوج ایسے کاموں کیلئے نہیں بنی تھی، وہ ایک مخصوص مقصد کے تحت بنی تھی، ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ مظلوم کا ساتھ دیا جائے، بلکہ وہ آل سعود کی نوکری کیلئے بنی تھی، اس لئے وہ وہی کام کرے گی، جس کام کیلئے بنی تھی۔ کشمیر میں بھارت کی اس ریاستی دہشتگردی پر اقوام عالم کو نوٹس لینا چاہیئے، ہمای تمام تر ہمدردیاں اپنے کشمیری بھائیوں کیساتھ ہیں۔
خبر کا کوڈ : 767258
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب