0
Sunday 30 Dec 2018 02:07
دھرنے سے مسئلہ حل نہ ہوا تو ممبران اسمبلی اجتماعی استعفوں پر غور کرینگے

جی بی کے آئینی حقوق کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ہر صورت دھرنا ہوگا، جاوید حسین

آئینی تحفظ کے بغیر کوئی بھی آرڈر جس شکل میں بھی ہو قبول نہیں، جی بی کو آرڈروں پہ نہیں چلایا جاسکتا
جی بی کے آئینی حقوق کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ہر صورت دھرنا ہوگا، جاوید حسین
جاوید حسین گلگت بلتستان اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے ممبر ہے، ان کا تعلق نگر سے ہے، اسلامی تحریک کے رکن اسمبلی مرحوم محمد علی شیخ کی وفات کے بعد منعقدہ ضمنی الیکشن میں کامیابی حاصل کی، اپنی کامیابی کے بعد جی بی اسمبلی میں اپوزیشن میں نئی جان ڈال دی۔ جاوید حسین نے مضبوط اپوزیشن کے ذریعے حکومت کو ٹف ٹائم دیا، اس وقت گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے معاملے پر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ممبران اسمبلی کے دھرنے کی قیادت اور تیاری کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے جاوید حسین سے ممبران اسمبلی کے متوقع دھرنے، تیاریوں اور گلگت بلتستان کے آئینی مسئلے پر ایک انٹرویو کا اہتمام کیا ہے، جو کہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: آئینی حقوق کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے کی کہانی میں کہاں تک سچائی ہے؟ دھرنے میں حکومت اور اپوزیشن کے کون کون سے ممبران شامل ہونگے۔؟
جاوید حسین:
دھرنا ہر صورت ہوگا اور پہلے سے زیادہ سخت، کیونکہ یہ فیصلہ کن موڑ ہے، اب نہیں اٹھیں گے تو پھر کبھی نہیں اٹھ سکیں گے، آپ کو معلوم ہے کہ متحدہ اپوزیشن کے بارے میں کوئی دو رائے نہیں، سب ایک ہی نکتے پر متفق ہے، ساتھ ساتھ حکومتی ممبران کی جانب سے حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں، صوبائی وزیر ڈاکٹر محمد اقبال، پارلیمانی سیکرٹری میجر (ر) امین، غلام حسین ایڈووکیٹ سے ہم رابطے میں ہیں، سپیکر اسمبلی سے بھی رابطے کرینگے، ساتھ اپوزیشن کے ممبران نواز خان ناجی، کاچو امتیاز، اپوزیشن لیڈر محمد شفیق بھی ساتھ ہونگے، ہماری کوشش ہے کہ ایم ڈبلیو ایم کے دونوں ممبران حاجی رضوان اور بی بی سلیمہ بھی ساتھ ہوں، ان سے بھی ہم رابطے میں ہیں۔ ڈاکٹر اقبال، شفیع، کاچو، ناجی صاحب ہیں۔

کوشش کرتا ہوں کہ ایم ڈبلیو ایم والے دونوں آجائیں، حاجی رضوان اور بی بی سلیمہ، باقی نون لیگ کے میجر امین سے رابطہ ہے، ہماری کوشش ہے کہ سب سے مشاورت ہو۔ سپریم کورٹ میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کیس کی سماعت ہے، اس سے پہلے سب ممران اسمبلی کی مشترکہ پریس کانفرنس ہوگی، جس میں اگلے لائحہ عمل کا اعلان ہوگا، دھرنے میں دو سے چار صوبائی وزراء، حکمران پارٹی کے کئی ممبران بھی ساتھ ہونگے تو صورتحال بہتر ہوگی، پھر ہم نوجوانوں کو بلائیں گے، گلگت بلتستان ایورنس فورم سمیت دیگر تمام جماعتوں کو بھی دھرنے میں دعوت دینگے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب بھی وقت ہے کہ ہمارے مطالبات کو سنا جائے، کیونکہ ہمارا مطالبہ سو فیصد جائز ہے، پارلیمنٹ کے سامنے جب عوام اور منتخب نمائندے مل کر احتجاج کرینگے تو ان شاء اللہ ہماری تحریک کامیاب ہوگی، بہت بڑا پریشر پیدا ہوگا۔

اسلام ٹائمز: وزیراعلیٰ سے بھی رابطہ کر رہے ہیں۔؟
جاوید حسین:
ابھی تک تو رابط نہیں کیا لیکن ضرورت محسوس ہوئی تو رابطہ کرینگے، کل ہی حفیظ الرحمن نے بھی کہا کہ گلگت بلتستان آرڈوں پہ نہیں چل سکتا، یہی بات جب ہم نے اس وقت کہی تھی جب نون لیگ کی حکومت ایک اور آرڈر جاری کر رہی تھی تو اس وقت حفیظ صاحب نے ہماری سپورٹ نہیں کی تھی بلکہ کہا تھا کہ چند شرپسند لوگ احتجاج کرتے ہیں، آج ان کو بھی احساس ہوگیا کہ گلگت بلتستان کو کسی آرڈر پر چلایا نہیں جاسکتا، کیونکہ یہ کوئی پبلک لمیٹڈ کمپنی نہیں کہ آرڈر پہ چلائی جائے۔ گلگت بلتستان کے بیس لاکھ عوام نے خود اس خطے کو آزاد کرکے الحاق کیا ہے، آج بہتر سال بعد ہمارے نوجوان ہم سے سوال کرتے ہیں تو ہمارے پاس جواب نہیں ہے، اسی لئے اس وقت بھی ہم نے کوشش کی تھی تو ہمارا ساتھ نہیں دیا گیا، یہ حکومت آتی جاتی رہتی ہے، آج ان کی وفاق میں گورنمنٹ نہیں ہے، وفاق میں کسی اور کی حکومت ہے، اس کے باؤجود بھی نون لیگ کے ممبران ہمارے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ ان کے سابقہ گناہ بھی معاف ہو جائیں گے اور قوم کا کوئی حل بھی نکل آئے گا۔ جو پارٹی آئینی حقوق کے معاملے پر خاموش ہوگی 2020ء کے عام انتخابات میں ان کا صفایا ہو جائے گا، وہ گلگت بلتستان میں سیاست نہیں کرسکے گی۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ہمیں اپنے لوگوں کے حقوق کا دفاع کرنا ہے، یہ اسمبلی کی ممبر شپ آنی جانی چیز ہے، جب ہم ممبران اسمبلی مل کر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینگے تو منزل ضرور مل جائے گی۔

اسلام ٹائمز: سننے میں آیا ہے کہ دھرنے کے بعد اگلے لائحہ عمل کے طور پر لانگ مارچ کی کال دینے کا بھی پلان ہے؟ اگر ایسا ہے تو احتجاج کا اگلا مرحلہ کیا ہوگا۔؟
جاوید حسین :
پہلے مرحلے میں ہم پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینگے اور ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا ہر صورت ہوگا، پچھلی دفعہ جب ہم نے دھرنا دیا تھا تو اس وقت لوگوں نے ساتھ نہیں دیا، نہ ہی کسی پارٹی نے ساتھ دیا، لیکن اس بار ایسا نہیں ہوگا، کئی ممبران اسمبلی موجود ہونگے اور ساتھ راولپنڈی اسلام آباد میں موجود گلگت بلتستان کے ہزاروں لوگ شریک ہونگے۔ دوسرے مرحلے میں لانگ مارچ ہوگا، تیسرے مرحلے میں گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور دھرنے ہونگے، پھر بھی مسئلہ حل نہ ہوا تو چوتھے مرحلے میں تمام اراکین اسمبلی اجتماعی استعفوں پر غور کرینگے اور اس پر عمل بھی کرینگے، جب ایسی کوشش ہوگی تو شاید وفاق پاکستان کے ذمہ داروں کو ہوش آجائے، کیونکہ ہمارا مطالبہ ناجائز نہیں ہے، سو فیصد جائز اور قانونی ہے۔

اسلام ٹائمز: آئینی حقوق کے بیانیے میں عدم اتفاق بڑا مسئلہ ہے، کیا گلگت بلتستان کے تمام سٹیک ہولڈرز ایک نکتے پر متفق ہیں۔؟
جاوید حسین:
پہلے ایک زمانہ ایسا تھا کہ ایک کمیونٹی صوبہ مانگتی تھی، دوسری کمیونٹی اس کی مخالفت کرتی تھی، وہ کوئی اور سیٹ اپ مانگی تھی۔ اب صورتحال تبدیل ہوئی ہے، عوامی حقوق کے بیانیے پر سب کا ایک ہی نکتے پر اتفاق ہے کہ ہمیں آزاد کشمیر کی طرح کا سٹیٹس دیں یا مقبوضہ کشمیر کی طرح کا نظام، اب اگر صوبہ ریاست کی ضرورت ہے تو دیدے لیکن ہمیں اب صوبے کی ضرورت نہیں رہی، ان شاء اللہ متحدہ اپوزیشن کی کوشش پہلے سے بھی جاری تھی اب بھی ہے، اب گلگت بلتستان کے عوام کو بھی چاہیئے کہ وہ بھی نکلیں، یہ فیصلے کا وقت ہے، اگر اب بھی یہ قوم اور یوتھ خاموش رہے گی تو میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کا موقع اور نہیں ملے گا، ابھی حل نہیں ہوگا تو یہ مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا، متحدہ اپوزیشن کا یہ موقف ہے کہ نون لیگ والے بھی کوئی غیر نہیں ہیں، یہ بھی ہمارے اپنے بھائی ہیں، اپنے علاقے کے ہیں، اب ان کو اگر احساس ہوا ہے کہ آرڈر والا نظام اب نہیں چل سکتا تو خوش آئند بات ہے، ہم تو اس آرڈر کو مانتے ہی نہیں، ہم کہتے ہیں کہ جو بھی دیں، آئین پاکستان کے تحفظ کے ساتھ دیں۔یہ کوئی ناجائز ڈیمانڈ نہیں ہے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ عمران خان کی حکومت گلگت بلتستان کے بارے میں سنجیدہ ہے، کیونکہ ان پر کشمیری قیادت کا دباؤ ہے، کشمیری قیادت کو بھی چاہیئے کہ ہمارے حقوق کے معاملے میں وہ اپنی سیاست نہ کریں، ہم نے ابھی تک کچھ نہیں کیا، اگر گلگت میں کوئی ملین مارچ ہوگا تو بہت سے مسائل پیدا ہونگے۔

اسلام ٹائمز: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے پچھلی سماعت میں کہا تھا کہ گلگت بلتستان کو سپریم کورٹ کا تحفظ ملے گا، اگر سپریم کورٹ اسطرح کا کوئی آرڈر جاری کرتی ہے اور اسکے تحفظ کی گارنٹی دیتی ہے تو کیا اس صورت میں عدالتی آرڈر قبول ہوگا۔؟
جاوید حسین:
دیکھیں ہمارا موقف واضح ہے کہ سپریم جو بھی دے، شرط یہ ہے کہ وہ آئینی تحفظ کے زمرے میں آتا ہو، کیونکہ آئین کی تشریح بھی تو سپریم کورٹ نے ہی کرنی ہے، ہم کہتے ہیں کہ آرڈر 2018ء میں سٹیزن شپ ایکٹ 1951ء جو شامل کیا گیا ہے، یہ ہرگز قبول ہی نہیں ہے، اس ایکٹ کے تحت تو آپ نے گلگت بلتستان کو رائے شماری سے الگ کر دیا، کیونکہ 1951ء ایکٹ سے تو رائے شماری کا تصور ختم ہو جاتا ہے، ہم آرڈر چاہے 2018ء ہو یا 2009ء ہرگز قبول نہیں کرتے، آرڈر چاہے جس شکل میں بھی ہو، ہم نہیں مانتے، جو بھی ہوگا آئینی تحفظ کے تحت ہوگا، اس کیلئے آئین میں ترمیم کی ضرورت ہو تو وہ بھی کی جائے، لیکن اگر سپریم کورٹ اگر آئینی تحفظ فراہم کرتی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس صورت میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز:سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کی کس حد تک حمایت کرتے ہیں۔؟
جاوید حسین:
سرتاج عزیز کمیٹی نے گلگت بلتستان کے بارے میں بہت اچھا ہوم ورک کیا ہے، اگر سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کو من و عن تسلیم کرتے ہوئے اس پر سو فیصد عمل کیا جاتا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ گلگت بلتستان کے عوام کو قبول کرنا ہوگا۔ یہ بھی مجبوری میں قبول کرینگے، ورنہ ہمارا مطالبہ کوئی اور تھا، لیکن سرتاج عزیز کمیٹی نے گلگت بلتستان کی تمام اکائیوں کو ملا کر جو سسٹم دیا ہے، وہ بہت بہتر ہے، اس میں بھی قومی اسمبلی کی طرف ہی راستہ جاتا ہے۔ میرے خیال میں عبوری صوبہ کی طرف جاتا ہے، میرا نہیں خیال کہ وفاق ان سفارشات پر عمل کرے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس صورتحال میں تمام سٹیک ہولڈرز چاہے وہ میڈیا ہو، سیاسی جماعت، وکلاء، مذہبی پارٹیاں، سول سوسائٹی ان سب کو اٹھنا پڑے گا، پچھلی مرتبہ جب ہم نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا تھا تو لوگ نہیں آئے تھے۔ اس دفعہ ہم دھرنا دینگے تو گلگت بلتستان کے تمام نوجوان خواہ وہ اسلام آباد میں ہوں، لاہور میں یا کراچی میں، سب کو آنا اور دھرنے میں شامل ہونا ہوگا، ہم سب کو کال بھی کرینگے، اس دن گلگت میں بھی لوگوں کو گھروں سے نکلنا ہوگا، پہلے ہم پارلیمنٹ کے سامنے جائیں گے، دوسرا آپشن گلگت سے لانگ مارچ، پھر گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں لوگ سڑکوں پر نکلیں گے، پھر اجتماعی استعفے ہونگے، جب پوری قوم اپنے حق کیلئے ایک ساتھ اٹھے گی تو ہمیں ہمارا حق ضرور ملے گا۔
خبر کا کوڈ : 769340
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب