0
Monday 31 Dec 2018 21:37

افغانستان مسئلہ کے پائیدار حل کیلئے چین اور ایران کو اعتماد میں لینا ضروری ہوگا، ابراہیم خان

افغانستان مسئلہ کے پائیدار حل کیلئے چین اور ایران کو اعتماد میں لینا ضروری ہوگا، ابراہیم خان
محمد ابراہیم خان کا تعلق پشاور سے ہے، انکا شمار صوبہ کے معروف اور سینیئر صحافیوں میں ہوتا ہے، انہوں نے صحافت اور پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں، وہ ملکی و بین الاقوامی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں، خاص طور پر افغانستان کے ایشو پر انکی بہت اچھی گرپ ہے۔ اسلام ٹائمز نے افغانستان مسئلہ کی موجودہ صورتحال بالخصوص امریکہ طالبان مذاکرات کے تناظر میں محترم ابراہیم خان کیساتھ خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔ادارہ
 
اسلام ٹائمز: امریکہ اور طالبان کے مابین جاری حالیہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہونگے یا پھر ماضی کیطرح سلسلہ صرف بات چیت تک ہی محدود رہیگا۔؟
محمد ابراہیم خان: میں سمجھتا ہوں کہ اس بار دونوں جانب سے لچک دکھائی جا رہی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکہ کو معلوم ہوگیا ہے کہ اس جنگ کا حل مذاکرات میں ہی ہے، امریکی انتظامیہ پاکستان کا رول مان گئی ہے، اسے معلوم ہوگیا ہے کہ مسئلہ افغانستان کا حل پاکستان سے ہوکر ہی گزرتا ہے۔ پاکستان یہی چاہتا تھا کہ امریکہ ہمارے رول کو تسلیم کرے، مگر ماضی میں امریکہ سب کچھ پاکستان کو بائے پاس کرکے کرنا چاہ رہا تھا۔
 
اسلام ٹائمز: اس مذاکراتی عمل میں پاکستان کہاں کھڑا ہے اور اسکے کیا مفادات ہیں۔؟
محمد ابراہیم خان: پاکستان ان مذاکرات میں شامل ہے، میرے خیال میں اس وقت پاکستان کا سب سے اہم رول ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھنا اور طالبان کیساتھ مذاکرات پر تعاون طلب کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ پاکستان کا ان مذاکرات میں کتنا اہم رول ہے۔ لہذا میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کا اس میں اہم ترین کردار ہے اور جہاں تک آپ کے دوسرے سوال کا تعلق ہے تو ہر ملک کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں اور پاکستان کا سب سے بڑا مفاد یہ ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن قائم ہو، کیونکہ جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوتا اس وقت تک پاکستان میں بھی استحکام نہیں آسکتا۔
 
اسلام ٹائمز: کیا افغان طالبان کے موقف میں آپکو کوئی لچک نظر آتی ہے۔؟
محمد ابراہیم خان: جی بالکل، ایک وقت وہ تھا کہ طالبان بات چیت کرنے کیلئے بھی آمادہ نہیں تھے، اس کے بعد ان کے موقف میں لچک آئی اور انہوں نے مطالبہ رکھا کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کا ٹائم دیا جائے تو بات چیت ہوسکتی ہے۔ اب طالبان بات چیت پر رضامند ہیں اور باقاعدہ مذاکرات میں شامل ہو رہے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ طالبان کے موقف میں کافی لچک آئی ہے اور وہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس 17 سالہ جنگ کا نتیجہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر ہی نکل سکتا ہے۔
 
اسلام ٹائمز: ان مذاکرات کی موجودہ پوزیشن کیا ہے اور فریقین کے کیا مطالبات ہیں۔؟
محمد ابراہیم خان: امریکہ اس وقت جنگ بندی چاہتا ہے، اس کی خواہش ہے کہ طالبان سیاسی دھارے میں آجائیں، وہ افغانستان سے عزت سے نکلنا چاہتا ہے، جبکہ طالبان کا مطالبہ ہے کہ ان کے لوگوں کو رہا کیا جائے، غیر ملکی افواج کو افغانستان سے نکالا جائے یا پھر ان کے نکلنے کی تاریخ دی جائے۔
 
اسلام ٹائمز: کیا موجودہ افغان حکومت یا افغانستان میں موجود سیاسی امریکی حامی دھڑے طالبان کو سیاسی نظام میں لانے کو قبول کرینگے۔؟
محمد ابراہیم خان: ان کیلئے یہ مشکل کام ہے، تاہم اگر امریکہ کا حکم ہوا تو وہ قبول کرنے پر مجبور ہوں گے۔
 
اسلام ٹائمز: کیا اس خطہ کے اہم ممالک چین اور ایران کو بائے پاس کرکے افغانستان کا پائیدار حل نکالا جاسکتا ہے۔؟
محمد ابراہیم خان: میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان مسئلہ کے پائیدار حل کیلئے چین اور ایران کو اعتماد میں لینا ضروری ہوگا، اس مسئلہ پر بھارت سے زیادہ چین اور ایران اہم ہیں، اگر امریکہ افغانستان کا واقعی مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے تو اسے تمام پڑوسی اور خطہ کے اہم ممالک کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا۔
 
اسلام ٹائمز: ایران اور چین تو امریکہ کے مخالفین میں شمار ہوتے ہیں، واشنگٹن ان دونوں ممالک کیساتھ کیسے رجوع کرسکتا ہے۔؟
محمد ابراہیم خان: میں نے کہا نہ کہ اگر امریکہ واقعی افغانستان کا مسئلہ حل کرنے میں صاف نیت رکھتا ہے تو اسے یہ کرنا ہوگا اور کبھی کبھار دشمنوں کو ساتھ ملاکر مسائل حل کرنا پڑتے ہیں۔
 
اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ نئے سال کے دوران مسئلہ افغانستان کا کوئی حل نکل سکتا ہے۔؟
محمد ابراہیم خان: اگر اسی طرح مذاکرات مثبت طریقہ سے جاری رہتے ہیں تو امید کی جاسکتی ہے کہ اس مسئلہ کا کوئی نہ کوئی حل جلد سامنے آجائے۔ یہ سب کچھ امریکہ کی نیت پر منحصر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ فریقین کو مزید لچک دکھانا ہوگی، پاکستان کا اس میں اہم رول ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 769574
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب