0
Monday 7 Jan 2019 23:58
امید ہے کہ سپریم کورٹ کے مزید جو بھی فیصلے آئینگے، پیپلز پارٹی انہیں بھی تسلیم کریگی

عمران حکومت میں آزاد ادارے تمام کرپٹ عناصر کا بھرپور احتساب ضرور کرینگے، ریاض حیدر

عمران حکومت میں آزاد ادارے تمام کرپٹ عناصر کا بھرپور احتساب ضرور کرینگے، ریاض حیدر
کراچی سے تعلق رکھنے والے محمد ریاض حیدر تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی ہیں، گزشتہ سال 2018ء میں ہونے والے عام انتخابات میں آپ کراچی سے صوبائی حلقہ PS130 سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے۔ آپ تحریک انصاف سندھ کی ڈسپلنری کمیٹی کے بھی رکن ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی حالیہ سیاسی چپقلش کے تناظر میں محمد ریاض حیدر کے ساتھ ان کی رہائش گاہ پر ایک مختصر نشست کی، اس حوالے سے آپ سے کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: سپریم کورٹ کے حکم پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکال دیا گیا ہے، جسے پیپلز پارٹی اپنی فتح قرار دے رہی ہے۔ کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
محمد ریاض حیدر:
سپریم کورٹ کے فیصلوں کو تسلیم کرنے کے پیپلز پارٹی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں، پیپلز پارٹی کے اس بیان کو ویلکم کرتے ہیں کہ جس میں انہوں نے احتساب کے عمل کو تسلیم کیا ہے، ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ کے مزید جو بھی فیصلے آئیں گے، پیپلز پارٹی انہیں بھی تسلیم کریگی۔

اسلام ٹائمز: کیا وجہ ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی حکومت گرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔؟
محمد ریاض حیدر:
پیپلز پارٹی مسلسل 11 سال سے سندھ میں حکومت کر رہی ہے، اسے اس کا حساب دینا ہوگا، سندھ حکومت کی گیارہ سالہ کارکردگی مایوس کن ثابت ہوئی ہے، کراچی سمیت پورے سندھ میں عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہی ہے، سندھ میں کتے کے کاٹنے کے انجیکشن تک عوام کو میسر نہیں ہیں، صحت، تعلیم سمیت پینے کا پانی بھی عوام کو نہیں مل رہا ہے، سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پانی کا اضافہ نہیں ہوا، سندھ سالڈ ویسٹ کا کہیں بھی کام نظر نہیں آتا ہے، پیپلز پارٹی کہتی ہے کہ ہم نے کراچی سمیت سندھ کو ترقی دی ہے، جبکہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ کراچی سمیت سندھ تنزلی کا شکار ہے۔

کراچی میں کوئی ادارہ بھی کام کرتا نظر نہیں آ رہا، جب بھی ان سے اس حوالے سے پوچھا جاتا ہے، تو وہ فوراً فنڈز کی عدم دستیابی کا کہتے ہیں کہ سندھ حکومت انہیں فنڈز نہیں دے رہی ہے، پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت پولیس اصلاجات کے نام پر پولیس کو اپنا غلام بنانا چاہتی ہے، سندھ کو پولیس اسٹیٹ بنانے کیلئے آئی جی سندھ کے اختیارات کو کم کیا جا رہا ہے، سندھ میں پولیس گردی کا کلچر لانے کی کوشش ہو رہی ہے، مختصر یہ کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکمرانی کا مسلسل گیارہ سالہ دورانیہ سیاہ دور کے طور پر لکھا جائے گا۔

اسلام ٹائمز: کیا سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی تحریک انصاف وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے استعفے کے مطالبے پر قائم ہے۔؟
محمد ریاض حیدر:
سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالا ہے، تاہم انکا نام جی آئی ٹی میں موجود ہے، سندھ میں کرپشن کا جواب وزیراعلیٰ کو دینا پڑے گا، احتساب ان کا بھی ہوگا، اب نہ کوئی ڈیل ہوگی اور نہ ڈھیل ہوگی، عوامی ایشوز پر مک مکا نہیں کرینگے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا نام جے آئی ٹی میں موجود ہے، اخلاقاً انہیں تو از خود ہی مستعفی ہو جانا چاہیئے تھا۔

اسلام ٹائمز: تحریک انصاف پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو ہٹانے کیلئے سندھ اسمبلی میں ہارس ٹریڈنگ کا الزام عائد کیا جا رہا ہے، کیا کہیں گے اس الزام کے حوالے سے۔؟
محمد ریاض حیدر:
تحریک انصاف نے نہ پہلے کبھی کوئی غیر آئینی اقدام اٹھائے اور نہ ہی اب یا آئندہ کوئی غیر آئینی اقدام اٹھائے گی، تحریک انصاف پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگانے والی پیپلز پارٹی خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مار رہی ہے، آپ سے آپ کی بے انتہا دولت، جائیدادوں، کرپشن کے حوالے سے سوال کیا جاتا ہے، آپ اگر صاف شفاف ہیں، تو ان کی وضاحت پیش کر دیں، justification دے دیں، لیکن ان سب چیزوں کے بجائے ادھر ادھر کی باتیں کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن عوام کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا، عوام باشعور ہے۔ جہاں تک بات ہے ہارس ٹریڈنگ کی، تو تحریک انصاف نے غیر آئینی طور پر کسی بھی رکن سندھ اسمبلی سے خود رابطہ نہیں کیا ہے۔

ایک کشتی اگر ڈوب رہی ہے تو اس پر سوار انسان اپنی جان بچانے کیلئے اس کشتی سے کود جاتا ہے، دوسری کشتی میں سوار ہونے کی کوشش کرتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی جو پارٹی کا دفاع کرنے پر مجبور ہیں، وہ یہی سوچتے ہیں کہ کب انہیں موقع ملے اور وہ پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر کسی دوسری سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر لیں، ضروری نہیں کہ تحریک انصاف میں، کسی بھی دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کرلیں، لہٰذا لوگ تو خود رابطہ کر رہے ہیں، اس صورتحال کی ذمہ دار تو خود پیپلز پارٹی ہے، جسے تسلیم کرنے کے بجائے وہ تحریک انصاف پر ہارس ٹریڈنگ کا بے بنیاد الزام لگا رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: تحریک انصاف کی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے خلاف اقدام کے خلاف کیا پیپلز پارٹی دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کیخلاف خطرہ نہیں بن سکتی۔؟
محمد ریاض حیدر:
عام انتخابات 2018ء میں اللہ تعالیٰ نے ملک بھر میں تحریک انصاف کو کامیابی عطا فرمائی، عوام نے تحریک انصاف پر اعتماد کیا، ہم سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی ہو یا مسلم لیگ (ن) یا مولانا فضل الرحمان سمیت ان کے اتحادی، یہ سارے چور ایک بار پھر اکھٹے ہو رہے ہیں، تاکہ اپنی کرپشن کی دولت کو بچایا جا سکے، لیکن یہ تحریک انصاف کی حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، ان کا احتساب جاری رہے گا، یہ تمام جماعتیں آج تک ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کیلئے کبھی اکھٹا نہیں ہوئے، عام آدمی کے فائدے کیلئے یہ کبھی اکھٹے نہیں ہوئے، لیکن اب جب آزاد اداروں نے ان کی کرپشن پر ہاتھ ڈالا ہے، تو ان سب کی چیخیں نکل رہی ہیں، اب یہ سارے کرپٹ عناصر اکھٹے بھی ہونگے، شور شرابہ بھی کرینگے، لیکن یہ تحریک انصاف کی حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ پائیں گے، بلکہ میں پُرامید ہوں کہ تحریک انصاف کی حکومت میں آزاد ادارے ان کرپٹ عناصر کو نہیں چھوڑینگے، ان کا بھرپور احتساب ضرور ہوگا۔

اسلام ٹائمز: چند روز قبل ہی پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ اگر صدر زرداری اشارہ کریں تو وہ ایک ہفتے میں وفاقی حکومت گرا سکتے ہیں، اس حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
محمد ریاض حیدر:
اگر یہ حکومت گرانے کی پوزیشن میں ہوتے، تو یہ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت بننے ہی نہیں دیتے، وزیراعظم عمران خان صاحب کا اگر ماضی دیکھیں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ یہ کبھی بھی تحریک انصاف کی حکومت بننے دیتے۔

اسلام ٹائمز: سندھ میں گورنر راج لگنے کی خبریں پھیل رہی ہیں، کیا کہنا چاہیں گے۔؟
محمد ریاض حیدر:
سندھ میں گورنر راج لگنے کی بات ابھی تک آپ نے تحریک انصاف کے کسی بھی رکن سندھ اسمبلی، کسی بھی رکن قومی اسمبلی یا کسی بھی رہنما کے منہ سے نہیں سنی ہوگی، یہ تمام خبریں پیپلز پارٹی کی خود ساختہ ہیں، پیپلز پارٹی کے لوگ ایسی بے بنیاد خبریں خود پھیلا رہے ہیں، کیونکہ انہیں بھی یقین ہے کہ یہ لوگ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ کمزور سے کمزور تر ہوتے جا رہے ہیں، انہیں اپنی بقا کیلئے کسی نہ کسی پر تو الزام تھوپنا ہے، یہ سیاسی شہید بننا چاہتے ہیں کہ اگر پیپلز پارٹی کو کچھ ہوا، تو اس کا الزام تحریک انصاف پر ڈال دیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 770812
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب