0
Tuesday 22 Jan 2019 23:59
امریکہ کو سوویت یونین کی طرح ٹوٹتا ہوا دیکھ رہے ہیں

پاکستان، ترکی اور ایران پوری امت مسلمہ کو متحد کرسکتے ہیں، کاشف سعید شیخ

پاکستان، ترکی اور ایران پوری امت مسلمہ کو متحد کرسکتے ہیں، کاشف سعید شیخ
کاشف سعید شیخ اس وقت جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے ذمہ داری سرانجام دے رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ آپ جماعت اسلامی سندھ کی مجلس شوریٰ اور مجلس عاملہ کے بھی رکن ہیں۔ آپ نے 1991ء میں اسلامی جمعیت طلبہ کے پلیٹ فارم سے تنظیمی فعالیت کا آغاز کیا، آپ جمعیت لاڑکانہ اور سندھ کے ناظم بھی رہ چکے ہیں، 2006ء میں آپ نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی، آپ لاڑکانہ کے امیر اور سندھ کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری کی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے مسجد قبا گلبرگ کراچی میں قائم جماعت اسلامی سندھ کے دفتر میں آپ کے ساتھ مختلف موضوعات کے حوالے سے ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر آپ کیساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: ساہیوال واقعے کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
کاشف سعید شیخ: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔
ساہیوال میں ہونے والی پولیس گردی کی جماعت اسلامی ہر سطح پر شدید مذمت کرتی ہے، پاکستان کو ریاست مدینہ کے طرز پر ڈھالنے کے دعویدار کیا اس طرح ملک کو ڈھالیں گے، کیا مدینہ کی ریاست ایسے بنے گی، کیا وہاں ایسا پولیس نظام ہوگا، بالفرض اگر جاں بحق افراد دہشتگرد تھے بھی، تو کیا پولیس انہیں ایسے ماورائے عدالت قتل کر سکتی ہے، یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے، پولیس کو یہ حق کس نے دیا ہے، جن بچوں کے سامنے انکے والدین اور معصوم بہن کوبے گناہ بے دردی کے ساتھ مار دیا گیا، ان بچوں کے سامنے پولیس کی کیا حیثیت رہ جائے گی، ان معصوم بچوں کے ذہنوں سے پولیس کیلئے نفرت کون نکالے گا، سانحہ ساہیوال تو خود ان کیلئے بھی انتہائی نقصان کا باعث ہے، جو پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار ہیں۔ سانحہ ساہیوال نے تبدیلی کے دعویداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان عائد کر دیا ہے۔

اسلام ٹائمز: ساہیوال واقعے کے حوالے سے کیا مطالبہ کرینگے۔؟
کاشف سعید شیخ:
فی الفور آئی جی پنجاب پولیس کو معطل کرنا چاہیئے، ذمہ دار افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے، ایسے واقعات کے تدارک کیلئے چاہیئے کہ پولیس کو پابند کیا جائے کہ اگر کوئی دہشتگرد بھی ہو تو اسے پکڑ کر عدالت میں پیش کیا جائے، نہ کہ ماورائے عدالت مار دیا جائے، قانون پر عملدرآمد کیا جائے، قانون کی ہر سطح پر پاسداری کروائی جائے، قانون کی پاسداری اور اس پر عملدرآمد سے ہی ایسے واقعات کا تدارک ممکن ہے، ایسے تمام واقعات قانون پر عملدرآمد نہ ہونے کے نتائج ہیں۔ پاکستان کا آئین و قانون قطعی طور پر ایسے واقعات کی اجازت نہیں دیتا۔

اسلام ٹائمز: تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کی ابتک کی کارکردگی کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
کاشف سعید شیخ:
تحریک انصاف نے الیکشن مہم کے دوران عوام کو جو خواب دکھائے تھے، سو روزہ پلان کا اعلان کیا تھا، جس میں بڑے بڑے دعوے وعدے کئے تھے، اسے پورا کرنے میں تحریک انصاف کی حکومت ناکام ہو چکی ہے، مہنگائی میں اضافہ، ڈالر کی قیمت میں اضافہ، پیٹرول، بجلی، گیس کی قیمتوں میں اضافہ، ٹیکسوں میں اضافہ ہوا ہے، ایک اور منی بجٹ کی صورت میں ظالمانہ قدم اٹھایا جانے والا ہے، ان سب کے تناظر میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ عوام سے کئے گئے تحریک انصاف کے وعدے اور دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں، عوام کو کسی قسم کا کوئی ریلیف نہیں ملا۔

اسلام ٹائمز: تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کے مستقبل کے حوالے سے کیا کہیں گے، مدت پوری کرتی نظر آ رہی ہے یا نہیں۔؟
کاشف سعید شیخ:
جماعت اسلامی کسی بھی ایسے اقدام کا حصہ نہیں بنے کہ جس میں تحریک انصاف حکومت کو چلنے نہیں دیا جائے، ہم چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت اپنی مدت پوری کرے اور عوام سے کئے گئے تمام وعدے اور دعوے پورے کرے، عوام کو ریلیف فراہم کرے، اگر پی ٹی آئی ایسا نہیں کرتی تو یہ خود اس کے مستقبل کیلئے نقصاندہ ہوگا، ہم چاہتے ہیں کہ عوام خود فیصلہ کرے، تحریک انصاف کے مستقبل کا تعین خود عوام کرے۔

اسلام ٹائمز: جماعت اسلامی اس وقت پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کی اتحادی کا کردار ادا کر رہی ہے یا اپوزیشن کا۔؟
کاشف سعید شیخ:
جماعت اسلامی نہ تو تحریک انصاف کے خلاف اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے اور نہ ہی اتحادی کا کردار۔

اسلام ٹائمز: متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) سے جماعت اسلامی کی علیحدگی کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
کاشف سعید شیخ:
اس بات کی تصحیح کر دوں کہ جماعت اسلامی نے ایم ایم اے سے علیحدگی کا فیصلہ نہیں کیا ہے، عام انتخابات میں ایم ایم اے کی صورت میں انتخابی اتحاد کیا گیا، پارلیمنٹ میں جماعت اسلامی کی جتنے بھی اراکین ہیں، وہ ایم ایم اے کی پالیسی اور چارٹر کو لیکر آگے بڑھیں گے۔

اسلام ٹائمز: امریکا کے حوالے سے تحریک انصاف حکومت کی پالیسی کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
کاشف سعید شیخ:
امریکا نے اپنے مفادات کے حصول کی خاطر ہمیشہ پاکستان کو استعمال کیا ہے، امریکا کی یہ پالیسی صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے، بلکہ وہ ہر ملک کو، ہر حکمران کو اپنے مفادات کے حصول کیلئے استعمال کرتا ہے، اور جیسے ہی امریکا کا مقصد پورا ہو جاتا ہے، وہ تو ان ممالک کا جو حشر کرتا ہے، وہ بھی دنیا کے سامنے ہے، امریکا کسی کا دوست نہیں، امریکا نے ہمیشہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کا ساتھ دیا ہے، مسئلہ کشمیر پر امریکا نے کبھی پاکستان کا ساتھ نہیں دیا، جس طرح امریکا ہمیشہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اسرائیل مخالف ہر قرارداد ویٹو کر دیتا ہے، مسلم امہ کے مفاد میں امریکا آج تک کسی بھی قسم کا کوئی مثبت اقدام نہیں اٹھایا، ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتا ہے، اسلام دشمنی میں امریکا، اسرائیل اور بھارت ساتھ ہیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امریکا کے حوالے سے گزشتہ حکومتوں کی جو پالیسیاں تھیں، وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت کی پالیسی بھی انہیں کا تسلسل ہے۔ اگر پاکستان کو بچانا ہے، اس کی نظریاتی اساس کا تحفظ کرنا ہے، پاکستان کو استحکام دلوانا ہے، ملک کو امریکی کالونی بننے سے بچانا ہے تو پاکستان کو امریکا سے دوری اختیار کرنا ہوگی، امریکا سے دوری پاکستان کے مفاد میں بہتر ہے۔

اسلام ٹائمز: مسلم امہ کو درپیش مسائل کا حل کیسے ممکن ہے۔؟
کاشف سعید شیخ:
معذرت کے ساتھ او آئی سی اور عرب لیگ نے مسلم امہ کے مسائل کے حل کیلئے آج تک کسی بھی قسم کا کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے، یورپی یونین کی طرز پر مسلم امہ اگر متحد ہو جائے، اپنی سمت درست کرلے، تو ناصرف مسلم دنیا کے مسائل بلکہ عالمی مسائل اور دنیا بھر میں مستضعف طبقے کو درپیش مسائل کے حل کیلئے بھی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے، دنیا بھر میں اپنا سکہ منوا سکتی ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امت مسلمہ کو جو کردار ادا کرنا چاہیے تھا، وہ ادا نہیں کر سکی۔

اسلام ٹائمز: امت مسلمہ کو مسائل سے نجات دلانے کیلئے کن مسلم ممالک کو آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا چاہیئے۔؟
کاشف سعید شیخ:
مسلم امہ کے مسائل کے حل کیلئے پاکستان، ترکی اور ایران کو آگے آنا چاہیئے، یہ ایسے ممالک ہیں، جو حکمت عملی ترتیب دے کر پوری امت مسلمہ کو متحد کر سکتے ہیں، جوڑ سکتے ہیں، اس میں سعودی عرب کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: شام اور افغانستان سے انخلا کے اچانک امریکی اعلان کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ امریکا نیا جنگی محاذ کھولے گا، ممکنہ طور پر اسکا اگلا نشانہ ایران ہو سکتا ہے، اس حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
کاشف سعید شیخ:
امریکا افغانستان میں جنگ ہار گیا ہے، خود امریکی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، ان کے وسائل اور مشنری بیٹھ چکی ہے، امریکا کے اندر اتنا دم خم اور جرأت نہیں ہے کہ وہ کوئی نیا جنگی محاذ کھول سکے، میری ذاتی رائے یہ کہ سوائے دھمکیاں دینے کے اب امریکا کوئی نیا جنگی محاذ نہیں کھول سکتا، مجھے نہیں لگتا کہ اب امریکا میں اتنی سکت ہو کہ وہ ایران کے خلاف جنگی محاذ کھول سکے، جس طرح سوویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا تھا، ہم امریکا کو اسی طرح ٹوٹتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 773640
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب