0
Friday 1 Feb 2019 01:55
موجودہ نظام بنا ہی قاتلوں اور لٹیروں کو تحفظ دینے کیلئے ہے

جو خود کو بیگناہ سمجھتے ہیں انہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی تفتیش سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیئے، خرم نواز گنڈہ پور

جو خود کو بیگناہ سمجھتے ہیں انہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی تفتیش سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیئے، خرم نواز گنڈہ پور
مرکزی سیکرٹری جنرل پاکستان عوامی تحریک خرم نواز گنڈاپور نے ابتدائی تعلیم ایبٹ آباد میں حاصل کی، پشاور یونیورسٹی سے گریجوایشن مکمل کی اور پاک فوج کمیشنڈ آفیست بھرتی ہوئے۔ 1976ء سے 1978ء تک پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں بطور استاد فرائض انجام دیئے۔ فوج سے مستعفی ہونیکے بعد انہوں نے گومل یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹر اور کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل ابی کی ڈگری حاصل کی۔ 1982ء سے 1993ء تک عمان کے سلطان قابوس کے مشیر برائے فوجی تربیت رہے۔ 1993ء سے 1997ء تک سینیٹ آف پاکستان میں مختلف قائمہ کمیٹیوں کے ڈپٹی سیکرٹری رہے۔ سانحہ ماڈل پر بننے والی نئی جے آئی ٹی، سانحہ ساہیوال اور موجودہ حکومت سے بندھی امیدوں اور درپیش مسائل کے متعلق اسلام ٹائمز کیساتھ انکا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: پاکستان مسلسل اندوہناک سانحات سرزد ہو رہے ہیں، سانحہ ساہیوال اور سانحہ ماڈل ٹاون میں آپ کو مماثلت نظر آتی ہے؟
خرم نواز گنڈاپور:
سانحہ ماڈل ٹائون کے ساتھ اس کا موازنہ سراسر نا انصافی اور سنگدلی ہے۔ سانحہ ماڈل ٹائون کا سانحہ ساہیوال سے موازنہ بھی سیاستدانوں کی اسی سنگدلانہ سوچ کا مظہر ہے۔ میاں شہباز شریف، رانا ثناء اللہ اور حمزہ شہباز شریف جب سانحہ ساہیوال پر حکومت کو کوستے اور عمران خان و عثمان بزدار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہیں تو عقل سر پیٹ لیتی ہے اور انسان دیوار سے سر ٹکرانے کی سوچتا ہے۔ سی ٹی ڈی اہلکاروں کی ذیشان، خلیل اور گاڑی میں سوار کسی مرد و زن سے مخاصمت نہ تھی وہ انہیں جانتے تک نہ تھے، جائے وقوعہ پر جانے اور کارروائی شروع کرنے سے قبل ان کی آپس میں میٹنگ نہیں ہوئی، جس میں انہیں سبق سکھانے کا فیصلہ کیا گیا ہو، اندوہناک کارروائی چند منٹ میں مکمل ہو گئی۔ اسے کوئی چینل لائیو دکھا رہا تھا نہ فیصلہ سازوں کو کوئی نظرثانی کے لیے کہہ رہا تھا جبکہ ماڈل ٹائون سانحہ سے قبل رانا ثناء اللہ کی زیر صدارت ضلعی انتظامیہ کا اجلاس ہوا، بعض افسران نے رانا صاحب اور وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری توقیر شاہ کو ممکنہ کارروائی کے نتائج عواقب سے آگاہ کیا۔

پولیس فورس کسی دہشت گرد کو ممکنہ خود کش حملے سے روکنے اور بمبار کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے نہیں بھیجی گئی تھی، بلکہ اسے راستے کی وہ رکاوٹیں ہٹانے کے لیے کہا گیا جو تحریک منہاج القرآن نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں حفاظتی نقطہ نظر سے قائم کی تھیں۔ سانحہ ماڈل ٹائون طے شدہ منصوبے کے تحت ڈاکٹر طاہر القادری کو ڈرانے دھمکانے اور تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد سے روکنے کے لیے کیا گیا۔ پولیس اور انتظامیہ نہتے سیاسی کارکنوں کے خلاف استعمال ہوئی اور اڑھائی بجے رات سے دن گیارہ بجے تک ظلم کا بازار گرم رہا۔ لاشیں گرتی رہیں، نہتے شہری زخمی ہوتے رہے، ٹی وی چینلز پر پولیس کارروائی چلتی رہی، مگر حکمران سوئے رہے یا اپنے حواریوں سے داد وصول کرنے میں مگن رہے، چودہ افراد شہید اور اس سے زائد زخمی ہوئے۔ لیکن ایک بات ضرور کہوں گا کہ ساہیوال واقعہ، قتل عام میں ملوث اہلکاروں کا ناموں کے بغیر ایف آئی آر کا اندراج بدنیتی اور اور انصاف کا قتل عام ہے، وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کے نوٹس لینے کے باوجود پولیس نے ملوث اہلکاروں کو بچانے کیلئے قانونی سہولت کاری شروع کر دی، یہی واردات شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کے ساتھ بھی کی گئی تھی۔

اسلام ٹائمز: سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی خصوصی دلچسپی سے سانحہ ماڈل ٹاون کیلئے دوبارہ جے آئی ٹی بنائی گئی، کیا آپ کیس میں ہونیوالی پیشرفت سے مطمئن ہیں؟
خرم نواز گنڈاپور:
چیف جسٹس میاں ثاقب نثارنے سیاسی اشرافیہ کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا کارنامہ انجام دے کر قانون کی بالادستی یقینی بنائی۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی اس کا ناقابل تردید ثبوت ہے، ماڈل ٹاؤن کی شہید تنزیلہ امجد کی بیٹی بسمہ کی آواز سنی اور ان کی طرف سے سادہ کاغذ پر لکھی درخواست پر نئی جے آئی ٹی کا فیصلہ کیا، یہ وہ فیصلہ تھا جس کیلئے ساڑھے چار سال سے طویل اور کٹھن جدوجہد کی گئی تھی۔ انہوں نے اپنے شاندار اور جاندار فیصلوں سے خود کو آئین اور انسانی حقوق کا محافظ  ثابت کیا، انہیں اپنی قانونی سمت کا بھی علم تھا اور ان میں فیصلے کرنے کا حوصلہ بھی تھا، انہوں نے اپنے جرات مندانہ فیصلوں سے عوام اور خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا، آبی ذخائر کی تعمیر، صاف پانی کی فراہمی، پاپولیشن پلاننگ اور کرپشن کا خاتمہ دکھتے ہوئے مسائل ہیں، اہم ایشوز کے حل میں چیف جسٹس سپریم کورٹ نے قاتل تقلید اقدامات کیے۔ ورنہ چار سال گزرنے کے باوجود کسی کو سزا ملی نہ بروقت ایف آئی آر کٹی اور نہ قابل اعتماد جے آئی ٹی بنی، جوڈیشل کمیشن نے جن مجرموں کی نشاندہی کی، ان سے بھی کسی نے باز پرس نہ کی۔ لیکن انعامات، پروموشن اور غیر ملکی تعیناتی کی صورت میں بہت سوں کو ملے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ظلم ہوا، آج بھی معصوم خواتین کی سسکیاں کانوں میں گونجتی اور بے چین کرتی ہیں، انصاف بہترین انتقام ہے۔

شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کی نظریں جے آئی ٹی پر ہیں، انصاف میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے، جو خود کو بے گناہ سمجھتے ہیں، انہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی تفتیش سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے، جب سے نئی جے آئی ٹی کا فیصلہ ہوا ہے، پنجاب کے قاتل اعلیٰ شہباز شریف اور اس کے معاون اعلیٰ رانا ثناء اللہ کی ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ سانحہ کی ازسرنو غیر جانبدار تفتیش نہ ہو سکے، کیونکہ وہ جانتے ہیں غیر جانبدارانہ تفتیش سے پس آئینہ چھپے ہوئے کردار بے نقاب ہو جائینگے، ہمارے کارکنوں کی پولیس والوں کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی، پولیس والوں کو پیچھے سے احکامات مل رہے تھے، نئی جے آئی ٹی کو پولیس افسران قدرت کی طرف سے مدد سمجھیں اور اس موقع سے فائدہ اٹھائیں جو پورا سچ ہے اسے اگل دیں، امید ہے پولیس افسران قربانی کا بکرا بننے کی بجائے جے آئی ٹی کے سامنے سچ بولیں گے اور انصاف کا ساتھ دیں گے۔ جے آئی ٹی تشکیل دینا پنجاب حکومت کا اختیار ہے اور پنجاب حکومت نے اس حوالے سے عدالت میں تحریری یقین دہانی کروائی، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ماسٹر مائنڈز جے آئی ٹی کے خلاف کوئی سازش نہیں کر سکیں گے، جے آئی ٹی کے قانونی اور ناگزیر ہونے پر سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کی مہر لگی ہے، قاتل ٹولہ جتنی مرضی میٹنگز کر لے، مگر وہ اپنے انجام سے کسی صورت نہیں بچ سکے گا۔

اسلام ٹائمز: بے در پے واقعات ہوئے ہیں لیکن انصاف کے نہ ہی تقاضے پورے پوتے ہیں، نہ مجرم کیفر کردار تک پہنچتے ہیں، مایوسی قدرتی امر ہے، کہیں کوئی امید کی کرن نظر آتی ہے؟
خرم نواز گنڈا پور:
حالات اچھے نہیں ہیں، سانحہ ساہیوال کی ناقص منصوبہ بندی اور اہلکاروں کے وحشیانہ طرز عمل پر اٹھنے والے بعض سوالات کا ابھی تک تسلی بخش جواب نہیں ملا، مگر یہ عمران خان، عثمان بزدار یا کسی دوسرے وزیر مشیر کے طے شدہ ایجنڈے کا حصہ تھا نہ ذیشان اور خلیل سے کسی حکمران کو کد تھی۔ پنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی کی ٹریننگ، طرزعمل اور انداز کار پر اٹھنے والے تمام سوالات کا جواب، جس قدر عمران خان اور عثمان بزدار پر واجب ہے، اس سے کہیں زیادہ میاں شہباز شریف، حمزہ شہباز اور رانا ثناء اللہ کی ذمہ داری ہے کہ انہیں دس سال تک متواتر بلاشرکت غیرے اصلاح احوال کا موقع ملا، مگر انہوں نے سدھارنے کی کوشش تو کیا کرنی تھی، اس کا مزاج مزید بگاڑ دیا۔ پولیس مقابلوں کی وباء اس دور میں پھیلی اور کئی بے گناہ سیاسی مخالفت، پولیس افسران کی طمع و لالچ اور ذاتی دشمنی کی بھینٹ چڑھے۔

عمران خان اور عثمان بزدار کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے پانچ ماہ میں چشم پوشی کی۔ یہ بھول گئے کہ سابقہ دور کی پولیس کسی وقت نیا گل کھلا سکتی ہے۔ ان کی نیک نیتی، محنت اور عزم پر پانی پھیر کر محرم کو مجرم بنا سکتی ہے۔ اب بھی یہ کام اگر نہ ہوا تو نئے حادثے کا امکان موجود ہے کہ برسوں بلکہ عشروں کی بگڑی عادتیں افسروں کے تبادلے، چند معطلیوں اور گرفتاریوں سے درست نہیں ہوتیں۔ اپوزیشن بالخصوص مسلم لیگ (ن) کی تنقید غلط اور سانحہ ساہیوال کا سانحہ ماڈل ٹائون سے موازنہ محض دھوکہ دہی ہے، لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ 18 جنوری سے اب تک جو ہوا سب ٹھیک ہوا۔ سانحہ کے بعد عمران خان نے مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے اور پولیس فورس کی اصلاح کرنے کا وعدہ کیا، جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ آنا باقی ہے۔ جوڈیشل کمیشن اگر بنا تو ذمہ داروں کا تعین وضاحت سے ہو گا کہ چین آف کمانڈ میں کہاں کہاں کس نوعیت کی کوتاہی ہوئی۔ لیکن اس سلسلے میں مستقل بنیادوں پہ قانون سازی اور اقدامات کی ضرورت ہے۔

اسلام ٹائمز: سانحہ ساہیوال جیسے بھیانک واقعات کے محرکات کیا ہیں اور انکا تدارک کیسے ممکن ہے؟
خرم نواز گنڈا پور:
سب سے پہلے ہمیں ہمیں سامراجی نظام سے جان چھڑوانا ہو گی، ریاستی جبر کے اداروں کا قیام برطانوی سامراج نے جنتا کو غلام بنانے اور دبانے کے لیے کیا تھا اور ان اداروں کا عوام دشمن کردار پاکستان کے خواص اور حکمرانوں کے لیے برقرار رکھا گیا۔ اس سے زیادہ المناک بات کیا ہوگی کہ جو خلیل اور اُس کے خاندان کے قاتل ہیں، وہی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم میں ہیں۔ اس سے زیادہ مفادات کا ٹکراؤ کیا ہوگا؟ جوڈیشل کمیشن بنائے جانے کے مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں، لیکن ماضی میں ایسے واقعات پر قائم کیے گئے کمیشنوں کے کوئی خاطر خواہ نتائج بھی تو سامنے نہیں آئے۔ ایسے میں کوئی کسے وکیل کرے اور کس سے منصفی چاہے۔ لمحہ فکریہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں ہزاروں لوگ اس طرح کی کارروائیوں میں لقمہ اجل بن چکے ہیں، نہ کوئی تفتیش ہوئی نہ احتساب۔

دہشت گردی کے عفریت سے کڑے ہاتھوں سے نپٹنا جہاں ضروری تھا، وہیں بندوق بردار سرکاری اہلکاروں کو کسی قانونی ضابطے، جوابدہی اور ضابطۂ عمل کا پابند بنایا جانا بھی ضروری تھا۔ ریاست نے جو آستین کے سانپ پالے تھے، پہلے اُنہوں نے ہزارہا پاکستانیوں کو اپنی دہشت کا نشانہ بنایا اور جب وہ ریاست پر پلٹ کر جھپٹے تو ریاست کو ہوش آیا اور اُن سے خلاصی پانے کی کوششوں میں جو آپریشنز کیے گئے، ان میں دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی مارے گئے، اُن کے گھر بار برباد ہوئے اور وہ اپنے آبائی گھروں سے بدر ہوئے۔ ہزاروں لاپتہ کر دیئے گئے اور اعلیٰ عدلیہ اور لاپتہ افراد کا کمیشن ان لوگوں کا سراغ لگانے میں بے بس پائے گئے۔ قبائلی علاقوں، بلوچستان اور سندھ میں تو یہ کام بڑے پیمانے پہ ہوا اور پنجاب میں ماورائے عدالت کے واقعات پراسرار خاموشی کے پردوں میں چھپے رہے۔ لیکن ساہیوال میں پولیس گردی نے بے احتیاطی سے ہونیوالے خفیہ آپریشنز کی ہولناکی سے پردہ اُٹھا دیا ہے۔

اسلام ٹائمز: اصلاحات تو ایک طویل المدت عمل ہے، کیا صرف پولیس اصلاحات سے معاملات درست سمت اختیار کر لیں گے اور آئندہ کوئی ایسا واقعہ رونما نہیں ہوگا؟
خرم نواز گنڈا پور:
بنیادی بات یہ ہے کہ پولیس یا کسی دوسرے ادارے کو لائسنس ٹو کل دینے کی جو روایت معاشرے میں موجود ہے اور دہشت گردی کی جنگ شروع ہونے کے بعد ناگزیر ضرورت کے تحت، بعض عدالتی اختیارات بھی امن و امان قائم رکھنے کے ذمہ دار اداروں نے حاصل کر لیے ہیں، ان پر سختی سے قدغن لگانا ضروری ہے۔ مہذب اقوام کی طرح یہ اُصول اب پورے معاشرے اور نظام پر لاگو کرنا پڑے گا کہ ایک بے گناہ کو بچانے کے لیے اگر ننانوے گناہگاروں کو بھی رعایت دینی پڑے تو مضائقہ نہیں، ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور اس کا عملی اظہار بھی ہونا چاہیے۔ ماضی میں بے گناہ بھی پولیس گردی کا نشانہ بنتے رہے اور کسی نے باز پرس کی ضرورت محسوس نہ کی، نظریہ ضرورت، ہر سطح پر کارفرما رہا اور سرکاری محکمے جھوٹ بولتے، سچ کو چھپانے اور قومی مفاد کے نام پر اپنے جرائم کی پردہ پوشی کرنے میں طاق ہو گئے۔ سی ٹی ڈی کے بیانات اس روایت کا تسلسل تھے، جو قبول عام حاصل نہ کر سکے، ننھے عمیر اور موقع پر بننے والی ویڈیو نے جھوٹ کا پردہ چاک کر دیا۔ حکومت اور سرکاری اداروں کو مان لینا چاہیے کہ موبائل فون کی صورت میں مائیک اور کیمرہ اب ہر شہری کے ہاتھ میں اور سوشل میڈیا، الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے زیادہ طاقتور ہے۔

اب ذمہ دار لوگوں کو ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے دس جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ لہٰذا حکومت اور ریاستی ادارے اب سچ بولنے کی عادت اپنائیں۔ ابھی تک موجودہ حکومت کی ساکھ برقرار ہے، اپوزیشن چونکہ ساکھ سے محروم ہے، لوگ پارلیمنٹ میں اس کے احتجاج کو مگر مچھ کے آنسو قرار دے رہے ہیں۔ وہ سانحہ ماڈل ٹائون اور نقیب اللہ محسود کیس کو یاد کر کے مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے مذمتی اور جذباتی بیانات کو ڈرامہ بازی سمجھتے ہیں، لیکن اگر حکومت نے سانحہ ساہیوال کو آخری سبق آموز واقعہ سمجھ کر دور رس اور پائیدار اقدامات نہ کیے تو انکا انجام بھی ماضی کے حکمرانوں سے مختلف نہ ہو گا۔ ابھی تک کی حقیقت یہی ہے کہ موجودہ نظام بنا ہی قاتلوں، لٹیروں کو تحفظ دینے کے لیے ہے، اس طرح کے قاتل، کرپٹ اور قومی لٹیرے کسی اور ملک میں ہوتے تو انہیں کرینوں پر چڑھا کر پھانسیاں دی جاتیں۔ قاتل اعلی نے ساری زندگی جعلی پولیس مقابلے کروانے اور سیاسی مخالفین کو قتل کروانے اور 10 شہریوں کے قتل عام کا نامزد ملزم اسمبلی میں بیٹھ کر مظلوموں کی بات کر کے انسانیت کی توہین کر رہا ہے۔ ساہیوال واقعہ انتہائی اذیت ناک ہے، خاندان اور بچوں کی دنیا اجاڑ دی گئی، ریاستی دہشتگردی کے دکھ ہم نے سہے ہیں، ہم اس درد کو محسوس کر سکتے ہیں، ذمہ داروں کو عبرتناک سزا ملنی چاہیے اور مظلوم خاندان کا مکمل تحفظ ہونا چاہیے۔

اسلام ٹائمز: موجودہ حکومت احتساب کے نام پہ اقتدار میں آئی، اب افواہیں ہیں کہ دوبارہ مفاہمت ہونیوالی ہے، آپ کیا کہیں گے؟
خرم نواز گنڈا پور:
موجودہ نظام کا یہ المیہ ہے کہ کرپشن کرنے والے اور کرپشن کا سدباب کرنے والے، ملک بچانے اور ریاست کو ناکام بنانے والے پارلیمنٹ میں آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔ احتساب بیورو کی بجائے احتساب کا عمل شفاف اور ٹائٹ ہونا چاہیے، جب تک عام آدمی احتساب کی چکی میں تھا کوئی نہیں بولا، جیسے ہی بڑوں پر ہاتھ پڑا چیخیں آسمان تک پہنچنا شروع ہو گئیں، قرضے لینے کی منصوبہ بندی کرنے کی بجائے قومی چوروں کو پکڑا جائے۔ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس سے ہی ملکی معیشت اور جمہوریت ٹریک پر آئے گی، ہمارے سیاستدانوں کو یہ پختہ یقین ہے کہ عوام کی یادداشت کمزور ہوتی ہے اور یہ سادہ لوح نہیں، اول درجے کے بے وقوف ہیں۔ ورنہ روٹی کپڑا مکان کے نعرے پر کئی عشرے تک ہے جمالو کی صدائیں لگاتے، نہ دولت لوٹ کر بیرون ملک اثاثے، بینک اکائونٹس بڑھانے والوں کو ایوان صدر تک پہنچاتے اور نہ پانامہ سکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف دوٹوک عدالتی فیصلہ آ جانے کے بعد شیر اِک واری فیر کی گردان کرتے۔

یہی وجہ ہے کہ خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں جب یہ کہا کہ میاں صاحب فکر نہ کریں لوگ پانامہ کو چند دنوں، ہفتوں میں بھول جائیں گے تو یہ ایک تجربہ کار سیاستدان کا عوام کی یادداشت کو خراج تحسین تھا اور جب سید خورشید شاہ سے لے کر رضا ربانی اور مراد علی شاہ تک زرداری خاندان اور اومنی گروپ کے خلاف ایف آئی اے کی تحقیقات کو اٹھارہویں ترمیم سے چھیڑ چھاڑ کا نام دیتے ہیں تو دراصل عوام کی عقل و دانش کا ماتم ہوتا ہے کہ انہیں بے وقوف بنانا کس قدر آسان ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ لوگوں میں شعور بھی پیدا ہوا، اپنی حیثیت کو منوانے کیلئے طویل جد و جہد کی ضرورت ہے، حالات ضرور بدلیں گے، امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ امید ہے کہ موجودہ حکومت مشکلات پر قابو بھی پائے گی اور کسی لگی لپٹی کے بغیر بلاامتیاز احتساب کریگی۔

اسلام ٹائمز: مجموعی طور پر موجودہ حکومت کے اقدامات کو کس طرح دیکھتے ہیں، جیسے بیرون ملک سے قرضے اور امداد مسلسل آ رہی ہے؟
خرم نواز گنڈاپور:
مسائل فوری طور پر حل نہیں ہو سکتے، لانگ ٹرم منصوبہ بندی کے بغیر روزہ مرہ کے مسائل حل نہیں ہوسکتے، پاکستان کی ہر حکومت کو پہلا مرحلہ بیل آؤٹ پیکیج حاصل کرنے کا پیش آتا ہے۔ پاکستان 13 سو ارب سالانہ سود کی ادائیگی کے بوجھ تلے دھنسا ہوا ہے۔ مزید قرضے سود کا بوجھ بڑھائیں گے، جس سے عام آدمی کی مشکلات بڑھیں گی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ معیشت کی بہتری کے لیے کرپشن کے خاتمے، سرمایہ کاری میں اضافہ اور ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ٹیکس چوری کی روک تھام کرے، جنہیں سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا اور انہیں کرپشن کیسز میں سزائیں ہوئیں اور بقیہ میگا کرپشن کے کیسز میں زیر حراست ہیں، وہ عناصر اگرحکومت کو ٹف ٹائم دیں اور حکومت دفاعی پوزیشن پر کھڑی نظر آئے تو یہ بہت بڑا المیہ اور سوالیہ نشان ہے۔

عمران خان نے بلاتمیز اور بلاتاخیر احتساب کا نعرہ بلند کیا تھا، اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے اس نعرے کو عملی جامہ پہنائیں، چاہے اسکی انہیں کوئی بھی قیمت چکانا پڑے، بعض مشیر انہیں پارلیمنٹ چلانے کے لیے ہتھ ہولا رکھنے کے مشورے بھی دینگے، لیکن یہ بہت بڑی خود فریبی ہوگی، تحریک انصاف کو جمہوری نہیں مافیا اپوزیشن کا سامنا ہے، جنہوں نے 3دہائیوں پر مشتمل اپنے فاشسٹ اقتدار کے ذریعے ملک کو سود اور قرضوں کے جال میں جکڑا، اداروں کو تباہ کیا، ملکی معیشت کو برباد اور غربت میں اضافہ کیا۔ یہی اس نظام کا وہ مکروہ چہرہ ہے، جس کے خلاف ڈاکٹر طاہرالقادری اور اس کے کارکنوں نے جان و مال کی بے مثال قربانیاں دیں، اس نظام میں حکومت بھی بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے، اس کے پاس بھی لٹیرے کو پروٹوکول دینے، چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

اسلام ٹائمز: موجودہ حکومت نے ریاست مدینہ کو ماڈل قرار دیا ہے، اس حوالے سے کس طرح کے اقدامات کی ضرورت ہے، یا یہ صرف نعرہ ہی ہے؟
خرم نواز گنڈاپور:
پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر چلانے کے بیانات خوش آئند ہیں اس کیلئے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر چیز پر ترجیح دینا ہو گی اور قانون کی نظر میں سب کو ایک ہی مقام پر کھڑا کرنا ہو گا، ریاست مدینہ میں ساہیوال اور ماڈل ٹاؤن جیسے سانحات کی کوئی گنجائش نہیں۔ آئین پاکستان میں پاکستان کو ریاست مدینہ کے قالب میں ڈھالنے کیلئے تمام مطلوبہ شقیں موجود ہیں تاہم عملدرآمد کا فقدان ہے۔ ریاست مدینہ میں مسلم و غیر مسلم کے جان و مال کو یکساں تحفظ حاصل تھا، پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ نے مثالی لاء اینڈ آرڈر کے قیام اور انصاف کے ذریعے اسلام کے بین الاقوامی کردار اور انتظامی وجود کی بنیاد رکھی، انصاف اورجان و مال کے تحفظ کی گارنٹی سے اسلامی طرز حکومت شرق و غرب تک پھیلا، میثاق مدینہ آج بھی امن، ترقی، خوشحالی کا نسخہ اکثیر ہے۔ آئین پاکستان فوری انصاف کی فراہمی، قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم، بلا تفریق احتساب اور جان و مال کے تحفظ پر زور دیتا ہے، مگر آئین کی ان شقوں پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، ریاست مدینہ محض میثاق مدینہ کا حوالہ دینے اور عزم ظاہر کرنے سے وجود میں نہیں آئیگی اس کیلئے فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ جب پارلیمنٹ میں دیانتدار نمائندے منتخب ہو کر آئیں گے تو یقیناً آئین و قانون کا احترام ہوگا، جب پارلیمنٹ میں بے گناہوں کے قاتل اور قومی خزانہ لوٹنے والے بیٹھیں گے تو قانون کی حکمرانی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ قائد تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ہمیشہ نظام کی اصلاح کی بات کی کیونکہ یہ نظام قومی برائیوں کو جنم دینے والے عناصر کی پشت پناہی کرتا ہے۔ تحریک منہاج القرآن کے لاکھوں، کروڑوں کارکنان نظام کی اصلاح کیلئے اپنے قائد ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے بیانیہ کے مطابق اپنا دینی، ملی کردار ادا کرتے رہینگے۔

اسلام ٹائمز: افغانستان میں امن کے حوالے سے پیش رفت ہو رہی ہے، کشمیر کی آزادی کیلئے کیا اقدامات ہونے چاہیں؟
خرم نواز گنڈاپور:
خطے میں حقیقی امن کیلئے ضروری ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں تشدد بند اور کشمیری قیادت کو رہا کرے، اسمبلیوں میں مذمتی قراردادیں پاس کرنا کافی نہیں، موثر سفارتکاری کے ذریعے اقوام متحدہ کو وعدے یاد دلوائے جائیں، کشمیر کاز کو ہائی لائٹ کرنے کے لیے سفارت خانوں کو خصوصی ہدایات دی جائیں۔ گزشتہ دس سالوں میں مسئلہ کشمیر کو سرد خانے کی نذر کیا گیا، مودی کی یار حکومت قومی مفادات کا تحفظ کرنے کی بجائے ذاتی تعلقات نبھاتی رہی۔ حکومت کیساتھ ہماری بھی ذمہ داری ہے، آواز اٹھائیں، شہید برہان وانی کی قربانی رائیگاں نہیں جانی چاہیے، نوجوان سوشل میڈیا پر کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کریں، خطہ میں امن کے لیے کثیر الملکی مذاکرات شروع ہوئے تو بھارت نے پرتشدد کارروائیاں بڑھا دیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب بھی بھارت میں الیکشن قریب آتے ہیں کشمیر اور پاکستان مخالف رویے میں تشدد آجاتا ہے، یہ غیر ذمہ دارانہ عالمی کردار ہے۔ بھارت جان لے خطہ کے پائیدار امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے، کشمیری قیادت کو قید کرنے، نظام زندگی معطل کرنے سے آزادی کی تحریک ختم نہیں ہو گی، جلد یا بدیر بھارت کو کشمیری عوام کے حق آزادی کے سامنے سر جھکانا پڑے گا۔
خبر کا کوڈ : 775428
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب