0
Monday 18 Feb 2019 00:44

آرمی چیف نے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا اور بدنام کرنیوالوں کو مایوس کر دیا ہے، ڈاکٹر غوث نیازی

آرمی چیف نے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا اور بدنام کرنیوالوں کو مایوس کر دیا ہے، ڈاکٹر غوث نیازی
سینیٹر غوث محمد نیازی پاکستان مسلم لیگ نون پنجاب کے اہم رہنماء ہیں، 2015ء میں سینیٹ کی جنرل سیٹ سے سینیٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔ 1986ء میں پنجاب سے ایم بی بی ایس مکمل کرنے بعد سے میڈیکل کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کیساتھ ساتھ سیاست میں بھی فعال ہیں۔ خارجہ امور، علاقائی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ سینیٹ آف پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ، قومی ورثہ، واٹر اینڈ پاور اور نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوارڈینشین کمیٹیز کے ممبر رہے۔ موجودہ صورتحال اور مستبقل کے ملکی و سیاسی منظرنامے کے حوالے لیگی رہنماء کا اسلام ٹائمز کیساتھ انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: پاکستان کے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے اور معاشی اصلاحات بارے آپ کی کیا رائے ہے، کیا یہ سود مند ثابت ہوگا؟
ڈاکٹر غوث نیازی:
ہمارا الیہ یہ ہے کہ ہم اپنی معیشت میں اصلاحات نہیں لاتے اس لیے 13 ویں بار آئی ایم ایف کے پاس جارہے ہیں۔ ہم برآمدات نہیں بڑھاتے اس لیے کچھ عرصے بعد وہیں جاکر کھڑے ہوجاتے ہیں، برآمدت پہلے سے کم ہوگئی ہی، یہ حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ وزراء کی کوشش ہے کہ آئی ایم ایف معاہدے کا اعلان ایک خوشخبری کی صورت میں کیا جائے۔ لگتا ہے پاکستان نے آئی ایم ایف کی پوزیشن کو قبول کیا ہے کیونکہ وزیراعظم بھی یہی کہ رہے پاکستان کو بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے جو آئی ایم ایف کی جانب سے کہا جاتا ہے۔ حکومت کی کوئی تیاری نہیں تھی، چھ ماہ گزرنے کے باوجود عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہوچکی ہے۔ تحریک انصاف کواقتدار میں آنے سے پہلے صورتحال کا علم تھا، ان کے پاس کوئی اصلاحاتی پیکج نہیں ہے، حکومت کینفویزن کا شکار ہے، انہیں کینیٹرسے اترکر ملک کو آگے بڑھانے کی پالیسی دینی ہوگی۔

حکومت عوام کو ڈلیور کرنے میں ناکام رہی ہے، عمران خان کی آئی ایم ایف چیف سے ملاقات پاکستان کی تذلیل ہے،وزیراعظم کی آئی ایم ایف چیف سے ملاقات کی ماضی میں کوئی مثال موجود نہیں۔ عمران خان پاکستان کی تذلیل کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے،کشکول توڑنے اور خود کشی کا اعلان کرنے والا خود آئی ایم ایف کے سامنے پیش ہوا ہے۔ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے عوام پر بوجھ پڑا، ہم سے استعفٰی مانگتے تھے اب کہتے ہیں وزیر ذمہ دار نہیں ہیں، حکومت نے سادگی کی مہم چلائی لیکن آج تک نہیں بتایا کہ اس سے کتنی بچت ہوئی۔ جو بھی وزیر یا وزیراعظم دورہ کرتے ہیں اپنے وعدوں کے خلاف اسپیشل جہازوں پرجاتے ہیں، 40 فیصد ترقیاتی بجٹ کم کردیا ہے۔

حکومت اس لیے وزراتیں سب کو دے رہی ہے کہ پنجاب حکومت کسی بھی وقت جاسکتی ہے اس لیے یہ بلیک میل ہورہے ہیں۔ حکومت نےعوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا ہے، حکومت نے مخصوص طبقے کو ریلیف دیا، عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا ہے۔ سیاسی جماعتوں نے احتجاج کی کال نہیں دی لیکن عوام بہت تنگ ہیں۔ حکومت کی تیاری نہیں ہے، یہ بات پہلے دن سے نظرآرہی ہے۔ حکومت آنے کے بعد سندھ حکومت کو وفاق نے پیسے کم دیئے ہیں۔ حکومت نے پارلیمنٹ کے علم میں لائے بغیرآئی ایم ایف سے معاہدہ کیا، انہی کے کہنے پر حکومت نے عام آدمی پر بھی بوجھ ڈالا۔ حکومت نے ملکی پیداوار کو بڑھانے کے بجائے کم کردیا ہے، ساری توجہ احتساب کے نعروں پر ہے۔ کرپشن کے نعروں سے عام آدمی کو ریلیف نہیں ملے گی۔

اسلام ٹائمز: چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو تبدیل کرنیکی خبروں پہ مسلم لیگ نون کا کیا ردعمل ہے؟
ڈاکٹر غوث نیازی:
حکومت کے پاس چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سمیت کسی بھی کمیٹی کے چیئرمین  کو ہٹانے کا اختیار موجود ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف ایک رکن کو ہٹانا چاہتے تھے تو اس وقت قانون موجود نہیں تھا، اس پر ہماری حکومت کے کہنے پر اسپیکر قومی اسمبلی نے رولنگ دی تھی جو اب رولز کی شکل میں موجود ہے، اب اکثریت چاہے تو چیئرمین کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ حکومت ہر کمیٹی کے چیئرمین کو ہٹاسکتی ہے۔ شہباز شریف کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی کوشش کی گئی تو حکومت قومی اسمبلی کی کارروائی بھی نہیں چلا سکے گی۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسپیکر اسد قیصر، شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک کی وجہ سے پارلیمنٹ کو چلانے کی کوشش کی، ماضی میں تحریک انصاف کے اراکین ایوان میں رقص کرتے رہے اور ٹیبل پر کھڑے ہو جاتے تھے۔

حکومت نے اپنی پوزیشن نہ بدلی تو اپوزیشن کو بھی ایسا ہی کرنا پڑے گا، اسمبلی کو باعزت طریقے سے چلایا جانا چاہیے، عمران خان اسمبلی میں بھی کنٹینر کی سیاست کر رہے ہیں۔ حکومت نے اسپیکر اسد قیصر کو پریشان کر دیا ہے، سپیکر کو کمیٹی ارکان کی ردو بدل کا اختیار نہیں، صرف پارٹی کی درخواست پر ردو بدل کرنے کا اختیار ہے، ایم کیو ایم حکومت کو بلیک میل کر کے فائدہ لے گی، ایم کیو ایم کی تاریخ ہے کہ موقع سے فائدہ اٹھاتی ہے، ایم کیو ایم کو اپوزیشن کا حصہ سمجھتے ہیں، لیکن انکی پالیسی کس وقت بدل جاتی ہے، اس کا کسی کو معلوم نہیں۔ حکومت نے کوئی قانون سازی نہیں کی ہے،عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا ہے اس لیے ان کی کوشش ہے کہ عوام اور اپوزیشن نان ایشوز میں الجھی رہے۔

اسلام ٹائمز: حکومت اگر نیب سمیت ریاستی اداروں میں اصلاحات لانا چاہے تو اپوزیشن اس میں تعاون کرئے گی؟
ڈاکٹر غوث نیازی:
حکومت اپنے دعووں میں پھنس گئی ہے، حکومت نےاصلاحات اور اداروں میں مداخلت نہ کرنے کا نعرہ لگا کرسب سے زیادہ یہی کام شروع کررکھا ہے۔ خیبرپختونخوا کی پولیس پہلے بھی بہتر تھی، اسے کبھی بھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا گیا، حکومت اپنے دعووں میں پھنس گئی ہے۔ حکومت کے پاس چیف سیکرٹری کو ہٹانے کا کوئی جواز نہیں ہے، وہ بااصول آدمی تھا لیکن اب ان کی اپنی کام کرنے کی نیت نہیں ہے۔ عمران خان شرائط تسلیم کرکے وزیراعظم بنے ہیں، پنجاب اور خیبرپختوںخوا کے وزرائے اعلی ڈمی ہیں۔ حکومت کی کوئی معاشی پالیسی نہیں ہے، خطرہ ہے کہ ڈالر کہیں دو سو پر نہ چلا جائے۔ عمران خان کو وزراء کو سمجھانا چاہیے کہ ایسے معاملات نہیں چلائے جاتے، وزیراعلی پنجاب نے اسمبلی میں آج تک ایک تقریر نہیں کی۔ ایسا زیادہ عرصہ نہیں چل سکے گا۔

اسلام ٹائمز: آپ سمجھتے ہیں کہ سعودی ولی کا دورہ پاکستان ملکی معیشت میں نمایاں اثرات مرتب کریگا؟
ڈاکٹر غوث نیازی:
موجودہ حکومت کا سارا زور دوست ملکوں سے ادھار لینے پر رہا ہے، اگرچہ حکمران جماعت مبارکبادیں وصول کر رہی ہے، لیکن عملی طور پر تو بہرحال قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ قومی خزانے کی حالت اچھی نہیں ہے۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام پر کٹ لگ چکا ہے۔ مینٹی نینس گرانٹس تک تاخیر سے ریلیز ہو رہی ہیں۔ ایف بی آر کو ریونیو کی وصولی کا ہدف حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور شارٹ فال 180 ارب روپے سے بڑھ چکا ہے۔ ان حالات میں حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کیلئے مالیاتی گنجائش دستیاب نہیں ہے۔ گیس کی قیمتوں میں اضافے پر عوام بلبلا اٹھے ہیں۔ عوامی ردعمل اس قدر شدید تھا کہ وزیراعظم نے گیس کی اووربلنگ کی انکوائری کا حکم دیدیا حالانکہ بات اووربلنگ کی نہیں ہے، محکمہ سوئی گیس نے ٹیرف میں اضافے کی تجویز ای سی سی کو دی۔

دراصل ایشو یہ ہے کہ گیس ٹیرف کا سیلپ سسٹم غیر منصفانہ ہے۔ صارف جب زیادہ گیس استعمال کرے تو اس پر آخری سیلپ کا مکمل اطلاق کیا جاتا ہے حالانکہ ہر سیلپ کا الگ اطلاق ہونا چاہئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک عام شہری کا بل اوسطاً 20 سے 25 ہزار تک پہنچ گیا ہے۔ عمران خان سے ریلیف کی توقعات لگانے والی عوام کو اس اقدام سے شدید دھچکا لگا ہے اور اس پر وزیر پٹرولیم غلام سرور خان کا یہ کہنا کہ گیزر کا استعمال لگژری ہے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے دوسرا ایسو حج سبسڈی کا ہے۔ پچھلے سال سرکاری سکیم کے تحت حج اخراجات دو لاکھ 80 ہزار تھے جنہیں بڑھا کر 4 لاکھ 36 ہزار روپے کر دیا گیا۔ ایک لاکھ 56 ہزار روپے کا اضافہ بہرحال بہت زیادہ ہے جس کا مذہبی حلقوں میں شدید منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ حکومت تسلیم کرے یا نہ کرے بہرحال مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے اور عام آدمی شدید مالی دبائو کا شکار ہے۔

وزراء کی دلیلوں سے شہریوں کی مشکلات کم نہیں ہوسکتیں بلکہ اسے پی ٹی آئی کا مقبولیت کا گراف متاثر ہو رہا ہے۔ وزیراعظم نے نوجوانوں کو روزگار اور بے گھروں کو مکان دینے کا وعدہ کیا ہے۔ کرپشن کو ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے کئی ٹاسک فورسز بنائی ہیں۔ اب عملی اقدامات کا وقت ہے۔ عمران خان کیلئے سب سے پہلا چیلنج معیشت کی بحالی ہے تمام ثمرات اس سے بند ہوئے ہیں۔ معیشت بحال ہوگی تو کہا جا سکتا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کی پوزیشن میں ہے، جو ابھی تک محسوس نہیں  ہورہا۔ لیکن ایک بات بڑی اہم ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دورہ سعودی عرب کے موقع پر سعودی ولی عہد سے ملاقات کی تھی، جنرل قمر جاوید باجوہ نے حالیہ دورے میں اہم پیش رفت ہوئی تھی۔ پاک سعودی تعلقات کی گرم جوشی کے تاریخی لمحات کا ثمر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان آج پاکستان کے مہمان ہیں، آرمی چیف نے پاکستان کی تاریخی سفارتی کامیابی کی بنیاد رکھی۔

اسلام ٹائمز: سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مفاہمت کی کئی یاداشتوں پر دستخط ہو رہے ہیں، آپ کے خیال میں ترجیحی بنیادوں پر معاہدات کیا ہونے چاہیں؟
ڈاکٹر غوث نیازی:
ایک بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ تجارتی معاہدے پر گلف تعاون کونسل سے مذاکرات 2006 ء سے مکمل تعطل کا شکار ہیں اور اب تک اس پر مذاکرات کے محض دو دور مکمل ہوئے ہیں۔ ترجیحی معاہدے میں ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹوں، جس سے پاکستان اپنی برآمدات کی توسیع میں مدد ملے گی، شامل ہونا چاہیے۔ سعودی ولی عہد سے ملاقات میں اس مسئلے کو بھی اٹھایا جانا چاہیے تھا، لیکن معلوم نہیں ایسا ہوا گا یا نہیں۔ پاکستان کی سعودی عرب سے دوطرفہ تجارت مسلسل تنزلی کا شکار ہے، تجارت گھٹ کر 2.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی، اس کی ایک وجہ پیٹرولیم مصنوعات کی گرتی ہوئی قیمتیں ہیں، جو کُل درآمدات کے 50 فیصد حصے پر مشتمل ہے۔ پاکستان کی سعودی عرب سے متعلق برآمدات میں کمی کی ایک اور وجہ چاول، پھل، سبزیوں کی تیاری، کپڑے اور ٹیکسٹائل کے دیگر سامان کی فروخت میں کمی ہے۔

سعودی عرب برآمد کی جانے والی اہم ترین مصنوعات میں سے ایک چاول ہے، لیکن اب دیگر ممالک خصوصاً بھارت نے اس مارکیٹ پر قبضہ حاصل کرلیا ہے۔ اگر ترجیحی تجارتی معاہدے پر کوئی پیشرفت ہوتی ہے تو ایران کے بعد سعودی عرب دوسرا ملک ہو گا، جس سے پاکستان کا اس نوعیت کا معاہدہ ہونا چاہیے۔ دونوں ممالک کی اہم کاروباری شخصیات کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے سال 2000 ء میں پاک سعودی مشترکہ کاروباری کونسل تشکیل دی گئی تھی، یہ کونسل گزشتہ 18سال میں 3 مرتبہ ملاقات کر چکی ہے، جس سے تجارت تعلقات کو فروغ دینے میں سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ دیکھیں ابھی جو کوآرڈینیشن کونسل بنائی گئی ہے یہ کس قدر کام آگے بڑھاتی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے حلال فوڈز، دودھ، کیٹل فارمنگ، فشریز سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری پر بھی بات چیت اور معاہدے کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح کوالٹی ایشورنس سرٹیفکیٹ ہیں جس کے لیے کوشش کی جا سکتی ہے کہ سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی اسے تسلیم کرلے۔ تفصیلات میں جا کر تجارت سمیت تمام شعبوں میں تعلقات اور روابط بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: سی پیک کی اہمیت پاکستان کیلئے بہت زیادہ ہے، کیا چین تیسرے فریق کی شمولیت سے یہ منصوبہ متاثر نہیں ہوگا؟
ڈاکٹر غوث نیازی:
جہاں تک سعودی عرب کی بات ہے تو وہ بڑی سرمایہ کاری لا رہے ہیں، سعودی عرب گوادر میں ایشیاء کی سب سے بڑی آئل ریفائنری قائم کرے گا، جس پر 10 ارب ڈالر لاگت آئے گی، دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک اقتصادی تعاون پہلی بار قائم ہو رہا ہے۔ موجودہ اقتصادی منصوبوں پر (ن) لیگ دور میں اسحاق ڈار نے بات شروع کی تھی، سعودی عرب سے تعلقات حکومت، شخصیت یا جماعت سے بالاتر ہیں۔ پاکستان کے دشمنوں کو پہلے چینی اور اب سعودی سرمایہ کاری سے تکلیف ہے، پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے اور بدنام کرنے والوں کو مایوسی ہوگی، یہ موجودہ آرمی چیف کا کارنامہ ہے، آرمی چیف کی کامیاب کوششوں سے سعودی عرب دوبارہ پاکستان کا گہرا دوست بنا ہے اور پاکستان کو دنیا میں سفارتی تنہائی سے نکالنے میں بنیادی کردار آرمی چیف ہے، کریڈٹ موجودہ حکومت لے رہی ہے۔
 
اسلام ٹائمز: ملک میں سائبر کرائم کے حوالے قوانین کی موجودگی میں سوشل میڈیا صارفین کیخلاف کریک ڈاون درست اقدام ہے، جبکہ اس سے اظہار رائے کی آزادی پر قدغن بھی سمجھا جا رہا ہے؟
ڈاکٹر غوث نیازی:
اس دور میں مین اسٹریم میڈیا سے بھی زیادہ سوشل میڈیا اہمیت اختیار کر چکا ہے، لیکن سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا اس کریک ڈاؤن کا اطلاق صرف نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں تک محدود ہوگا یا پھر اس کا نشانہ وہ لوگ بھی بن سکتے ہیں جو کسی نہ کسی معاملے پر تنقید کو اپنا جمہوری حق سمجھتے ہیں۔ کریک ڈاؤن کا کیا مطلب ہے، یہ کافی ہے کہ جو قوانین موجود ہیں انہیں پر عملدرآمد کیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 778573
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب