0
Tuesday 26 Feb 2019 23:14
یمن تنازعہ پر پاکستان کو فریق بننے کی بجائے ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے

اسرائیل اسلام و پاکستان دشمن ملک ہے، ہم اسے تسلیم کرنیکا سوچ بھی نہیں سکتے، منصور اعوان

جنرل (ر) پرویز مشرف کا اسرائیل کیساتھ دوستی کا بیان مضحکہ خیز ہے
اسرائیل اسلام و پاکستان دشمن ملک ہے، ہم اسے تسلیم کرنیکا سوچ بھی نہیں سکتے، منصور اعوان
منصور قاسم اعوان منہاج یوتھ لیگ پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل ہیں، ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی شخصیت اور انکی آئیڈیالوجی سے متاثر ہو کر منہاج یوتھ لیگ راولپنڈی میں 2007ء میں شمولیت اختیار کی، 2007ء سے 2010ء تک منہاج یوتھ لیگ راولپنڈی کے پی پی حلقہ 13 میں بطور صدر، 2010ء سے 2012ء منہاج یوتھ لیگ راولپنڈی کے ضلعی جنرل سیکرٹری، 2012ء تا 2015ء منہاج یوتھ لیگ راولپنڈی کے ضلعی صدر اور بعد ازاں جون 2015ء سے تاحال بطور مرکزی سیکرٹری جنرل منہاج یوتھ لیگ پاکستان ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے کراچی میں تنظیمی دورے پر آئے منصور قاسم اعوان کیساتھ مختلف موضوعات کے حوالے سے پاکستان عوامی تحریک کراچی کے دفتر میں ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر ان کیساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
منصور قاسم اعوان:
پاکستان عوامی تحریک کی پالیسی یہ ہے کہ ہم پی ٹی آئی حکومت کو کم از کم تین سال کا وقت دینا چاہتے ہیں، چند ماہ یا ایک سال میں کسی بھی حکومت کی کارکردگی کو نہیں جانچ سکتے، البتہ یہاں میں یہ واضح کر دوں کہ ہم فکری و نظریاتی طور پر موجودہ نظام کے ہی خلاف ہیں، موجودہ کرپٹ اور فرسودہ نظام میں ایماندار سے ایماندار شخص بھی آکر کسی کا بھلا نہیں کرسکتا، لہٰذا یہ سسٹم ہی بدلنا چاہیئے، پچیس تیس سالوں سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کا مک مکا چلتا آرہا تھا، یہ خوش آئند ہے کہ یہ مک مکا ٹوٹا ہے، کرپشن کے حوالے سے پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، البتہ سسٹم کی خرابی کے باعث ایک جانب سے نیب کرپٹ عناصر کو پکڑتی ہے، تو دوسری جانب وہ چھوٹ جاتے ہیں، بہرحال ابھی پی ٹی آئی کو وقت دینا چاہیئے کہ وہ کارکردگی کا مظاہرہ کرے، اس کے بعد ہی کوئی رائے دی جا سکتی ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت نظام کی اصلاح کیلئے اقدامات کریگی۔؟
منصور قاسم اعوان:
یہ تو پی ٹی آئی کی پارٹی پالیسی پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح سے آگے بڑھیں گے، البتہ ہمارا تو ہمیشہ یہی مطالبہ رہا ہے کہ نظام کی اصلاحات کی جائیں، نظام کو درست کیا جائے، ہمارا مقصد اقتدار کا حصول نہیں ہے، بلکہ نظام کی اصلاح ہے، نظام کی درستگی ہے، ملک و قوم کی تعمیر و ترقی اسی وقت ممکن ہے کہ جب نظام صحیح ہوگا، کیونکہ نظام ہی ڈیلیور کرے گا، نظام ہر چیز کی جڑ ہے، ہر اچھائی یا ہر برائی کی جڑ ہے۔ امید ہے اور دعا بھی ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نظام کو صحیح کرنے کیلئے اقدامات کرے۔

اسلام ٹائمز: سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی پیشرفت کے حوالے سے مطمئن ہیں۔؟
منصور قاسم اعوان:
سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے پہلے مطمئن نہیں تھے، کیونکہ اس وقت حکومت بھی انہی کی تھی، جو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ دار اور قاتل ہیں، مگر اب سپریم کورٹ کے حکم سے جو نئی جے آئی ٹی اے ڈی خواجہ صاحب کی سربراہی میں بنی ہے، اس سے مطمئن ہیں، مگر یہاں ایک بات لمحہ فکریہ ہے کہ جو جو پولیس اہلکار اس سانحہ میں ملوث ہیں، وہ ابھی تک اپنی اپنی پوسٹوں پر بیٹھے ہیں، آیا یہاں کونسی ایسی طاقت ہے، جو ان پولیس اہلکاروں کی پشت پر کھڑی ہے، یہ سوچنے کی بات ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کے مرکزی کردار گرفت میں آتے نظر آرہے ہیں۔؟
منصور قاسم اعوان:
سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث 116 پولیس افسران و اہلکاروں پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے، ان کے بیانات ریکارڈ ہو رہے ہیں، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ملوث پولیس اہلکار وعدہ معاف گوہ بنیں گے، جس سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی کردار اور بڑی مچھلیاں قانون کی گرفت میں آجائیں گی۔

اسلام ٹائمز: ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں کمی تو ضرور آئی ہے، لیکن جڑ سے خاتمہ کیسے ممکن ہے۔؟
منصور قاسم اعوان:
اللہ کا شکر ہے کہ ملک میں امن و امان کی صوتحال میں بہتری آئی ہے، البتہ دہشتگردی کا جڑ سے خاتمہ جب ہوگا، جب دہشتگرد عناصر کے ساتھ ساتھ ان کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کو بھی قانون کے شکنجے میں جکڑا جائے گا، ان سب کے خلاف بے رحمانہ کارروائی کی جائے گی، سزائیں دی جائیں گے، تب جا کر ہی دہشتگردی کا جڑ سے خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔

اسلام ٹائمز: یمن سمیت مسلم دنیا کے تنازعات میں پاکستان کا کردار کیا ہونا چاہیئے۔؟
منصور قاسم اعوان:
بحیثیت مسلم ملک پاکستان ایک حقیقت ہے اور مسلم دنیا میں ایک اہم مقام رکھنے والا پہلا اسلامی ملک ہے، جو دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت ہے، یمن تنازعہ پر پاکستان کو فریق بننے کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے، سعودی عرب کا یمن پر حملہ اور یمن کا سعودی عرب پر حملے دونوں طرف نقصان مسلمانوں کا ہی ہے، مسلمانوں کو یہ سوچنا چاہیئے کہ مسائل کا حل بات چیت میں ہے، نہ کہ آپس میں لڑائی جھگڑے میں، ایک طرف عالم کفر مسلمانوں پر اپنی طاقت سے حملہ آور ہے، دوسری طرف مسلم وحدت پارہ پارہ ہے۔ پاکستان یمن اور سعودی عرب کے درمیان ثالث بنے اور اپنا کردار ادا کرے۔

اسلام ٹائمز: جنرل (ر) پرویز مشرف نے پاک اسرائیل تعلقات قائم کرنیکے حوالے سے بیان دیا ہے، اسے کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
منصور قاسم اعوان:
پاکستان واحد اسلامی ملک ہے، جو نظریئے کی بنیاد پر وجود میں آیا اور اسرائیل ایک ایسا ملک ہے، جو یہودیت کے نام پر وجود میں آیا ہے۔ پاکستان نے اب تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا، کیونکہ اسرائیل اسلام اور پاکستان دشمن ملک ہے۔ بحیثیت پاکستانی ہم اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ رہی بات جنرل (ر) پرویز مشرف کے بیان کی کہ اسرائیل کو بھارت کے مقابلے میں اپنا دوست بنایا جائے، یہ مضحکہ خیز ہے، یہ انکی اپنی سوچ ہے، جو کہ پاکستانی قوم کیلئے قابل قبول نہیں ہے، نہ ہی اسرائیل کبھی مسلمانوں کا خیر خواہ ہوسکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 780287
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب