0
Friday 1 Mar 2019 01:26
پوری پاکستانی قوم دفاع وطن کیلئے تیار ہے

بھارت سے جنگ کی صورت میں ملت تشیع ہراول دستہ ہوگی، مولانا یوسف جعفری

بھارتی جارحیت پر نام نہاد اسلامی فوجی اتحاد کی خاموشی باعث تعجب ہے
بھارت سے جنگ کی صورت میں ملت تشیع ہراول دستہ ہوگی، مولانا یوسف جعفری
مولانا یوسف حسین جعفری کا تعلق پاراچنار کے نواحی علاقے نستی کوٹ سے ہے۔ دینی مدرسہ میں پڑھنے کے علاوہ ایم اے اسلامیات ہولڈر ہیں۔ محکمہ تعلیم میں جب تھیالوجی ٹیچر تھے تو اس دوران تنظیم العلماء صوبہ سرحد کے صدر رہے۔ ایک سال تک مجلس علمائے اہلبیت پاراچنار کے صدر رہے، جبکہ 11 مئی 2016ء سے تحریک حسینی کے صدر ہیں۔ اپنی صدرات کے ابتدائی 6 مہینے قومی حقوق کی پاداش میں جیل میں گزارے۔ مولانا صاحب نڈر اور جوشیلے مزاج کی حامل ایک انقلابی شخصیت ہیں۔ کسی بھی مصلحت کے تحت اپنے جائز موقف سے پیچھے ہٹنے پر یقین نہیں رکھتے۔ تحریک حسینی کی صدارت نہایت احسن طریقے سے نبھارہے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے حالیہ حالات کے تناظر میں انکے ساتھ ایک خصوصی گفتگو کا اہتمام کیا ہے۔ جسے محترم قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔(ادارہ)
 
اسلام ٹائمز: مولانا صاحب محسوس ایسا ہو رہا ہے کہ بھارت خطہ کو جنگ کیطرف دھکیلنے کی مکمل تیاری کرچکا ہے، آپ کیا کہیں گے۔؟
مولانا یوسف جعفری: ﷽۔ بھارت میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ پاکستان پر باقاعدہ حملہ کرے، پاکستان کا دفاع مضبوط ہے، مودی صاحب صرف اگلے انتخابات کیلئے اپنی اور اپنی جماعت کی پوزیشن مضبوط بنانے کے چکر میں ہیں، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جنگ کی صورت میں ایک ملک نہیں بلکہ پورے خطے کا نقصان ہوگا۔
 
اسلام ٹائمز: کیا آپ حکومت پاکستان کے ابھی تک کئے جانیوالے اقدامات سے مطمئن ہیں۔؟
مولانا یوسف جعفری: حکومت کا اب تک کا رویہ ٹھیک ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے وزیراعظم صاحب کیطرف سے کافی نرمی دکھائی گئی ہے، ہندوستان کو اس نرمی کا جواب نرمی سے دینا چاہیئے، ہمارے حکمرانوں کو قوم کے جذبات کی مکمل ترجمانی کرنی چاہیئے اور جس طرح سمجھداری سے آگے بڑھا جا رہا ہے، ویسے ہی آگے بڑھا جائے۔
 
اسلام ٹائمز: پاکستان نے بھی بھارت کے 2 طیارے مار گرائے، کیا اتنا جواب کافی ہے۔؟
مولانا یوسف جعفری: ہماری فضائیہ نے بھرپور جواب دیا، میں سلام پیش کرتا ہوں ہمارے بہادر جوان پائلٹ حسن کو، جس نے اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے جذبہ حسنی کے ذریعے دشمن کے طیاروں کو مار گرایا۔ یہ جواب بہت ضروری ہوچکا تھا، اگر ہماری فوج یہ اقدام نہ کرتی تو میرے خیال میں ہندوستان نے کچھ مزید گڑ بڑ کرنی تھی۔
 
اسلام ٹائمز: پاراچنار کے عوام ہمیشہ دفاع وطن میں پیش پیش رہے، بھارت سے اگر جنگ چھڑتی ہے تو یہاں کے عوام کا کیا ردعمل ہوگا۔؟
مولانا یوسف جعفری: پاکستان ہماری مادر وطن ہے، اس کے چپے چپے کے دفاع کو ہم اپنا شرعی فریضہ سمجھتے ہیں، ہم نے پاکستان کے دشمنوں کا پہلے بھی مقابلہ کیا ہے اور ا ن شاء اللہ آئندہ بھی کریں گے۔ جب پاکستان دشمن طالبان نے ہمارے علاقہ میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کی تھی تو ہم نے جس طرح طالبان کا مقابلہ کیا تھا، اسی طرح بھارت کو بھی سبق سکھانے کیلئے تیار ہیں۔ پاراچنار کے عوام سمیت پوری قوم اور ملت تشیع خاص طور پر اپنی مادر وطن کے دفاع کیلئے پوری طرح تیار ہے اور ہمارے جوان ضرورت پڑنے پر پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑیں گے۔
 
اسلام ٹائمز: بھارت کیخلاف وہ 41 ممالک کا فوجی اتحاد ابھی تک پاکستان کے حق میں سامنے نہیں آیا۔؟
مولانا یوسف جعفری: وہ نام نہاد اسلامی فوجی اتحاد وہی کر رہا ہے، جس کیلئے وہ بنایا گیا تھا۔ اس اتحاد کی جانب سے ابھی تک بھارتی جارحیت پر خاموشی معنی خیز ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ یہ اتحاد اب تک اپنا مثبت رول ادا کرچکا ہوتا، لیکن افسوس کہ ابھی تک خاموشی ہے۔
 
اسلام ٹائمز: او آئی سی کے رول کو اس موقع پر آپ کیسے دیکھتے ہیں۔؟
مولانا یوسف جعفری: انتہائی مایوس کن، او آئی سی نے ہر مرتبہ کی طرح اس بار بھی ہمیں مایوس کیا ہے، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ مسلم ممالک کب ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
 
اسلام ٹائمز: اس نازک موقع پر پاکستانی قوم کو کیا پیغام دینا چاہیں گے۔؟
مولانا یوسف جعفری: میں پوری قوم سے کہوں گا کہ یہ وقت متحد ہونے کا ہے، ہم اپنے تمام تر گروہی، سیاسی اور مسلکی اختلافات کو بھلا کر ایک ہو جائیں اور دفاع وطن کیلئے تیار رہیں، پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ ہمیں ابھی اپنی توانائیاں پاکستان کے دفاع پر خرچ کرنی چاہئیں، حکومت قوم کی ترجمانی کرے، تاکہ ہماری افواج کا بھی حوصلہ مزید بلند ہو۔
خبر کا کوڈ : 780647
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب