0
Monday 18 Mar 2019 01:42
عمران خان مخالفین کو زندہ برداشت نہیں کرسکتے

انصاف کے منافی احتسابی عمل کی وجہ سے معزز شہری خود کشیاں کر رہے ہیں، خرم دستگیر خان

انصاف کے منافی احتسابی عمل کی وجہ سے معزز شہری خود کشیاں کر رہے ہیں، خرم دستگیر خان
سابق کامرس منسٹر اور لیگی دورِ حکومت میں ایک ہی وقت میں وزارت دفاع اور امور خارجہ کا قلمدان پہ ذمہ داریاں نبھانے والے خرم دستگیر خان 1970ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے گوجرانوالا، کیڈٹ کالج حسن ابدال میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بیرون ملک اکنامکس میں گریجوایشن مکمل کی اور کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے الیکٹریکل انجیئرنگ کی۔  2002ء میں قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا، لیکن ناکام رہے، 2008ء، 2013ء اور 2018ء میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ میاں نواز شریف کی بیماری، احتسابی عمل، اپوزیشن کے اتحاد، حکومتی پالیسیوں سمیت اہم ایشوز پر پاکستان مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنماء کیساتھ اسلام ٹائمز کا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: پاکستان کو انسانی حقوق کے حوالے سے اعتراضات کا سامنا رہتا ہے، میاں نواز شریف علاج سے انکار کر رہے ہیں، تاثر دینے کی کوشش ہو رہی ہے کہ حکومت علاج کا حق چھین رہی ہے۔؟
خرم دستگیر خان: پنجاب حکومت جس سخت دلی کا مظاہرہ کر رہی ہے، یہ بے حسی پاکستانی عوام کی توقعات کے برخلاف ہے، یہ سب کیوں ہو رہا ہے، یہ لوگوں کے سامنے ہے کہ عمران خان ہی پنجاب کابینہ میں بیٹھتے ہیں اور سارے فیصلے انہی کے دم سے ہوتے ہیں، پھر وہ جلسوں میں تقریریں بھی کرتے ہیں کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا، کوئی نہیں بچے گا، جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ سیاسی مخالفین کو زندہ سلامت برداشت نہیں کرسکتے۔ بہتر ہے کہ میاں نواز شریف کو علاج کیلئے ریلیف دیا جائے، طبی بنیادوں پہ انہیں عدالت سے ریلیف ملنا چاہیئے۔ جس فیصلے میں انہیں سزا ہوئی ہے، اس میں بھی کمزوری ہے، ضمانت تو ہوسکتی ہے۔ پانچ تو بورڈ بنائے گئے ہیں، ڈاکٹر یاسمین نے بھی عمران خان کی طرح ٹوئٹ ہی کیا کہ میاں صاحب نے اپنے دور میں کوئی ہسپتال نہیں بنایا، ہم یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ ہسپتال بنانے یا نہ بنانے کے مقابلے کی بات ہو رہی ہے۔

میاں صاحب دل کے مریض ہیں اور ایسے میں یہی بہتر ہوتا ہے کہ جہاں سے انکا پہلے آپریشن ہوا، وہی ڈاکٹرز بہتر اور اطمینان بخش علاج کرسکتے ہیں، پھر جیل کے ماحول میں تو لوگ مزید بیمار ہوتے ہیں، بیماریوں کی وجہ سے اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں، میرے خیال میں یہ بنیادی انسانی حق ہے، لیکن انتقام پہ مبنی سنگدلانہ بے حسی اس میں آڑے آرہی ہے۔ میاں صاحب کی صحت کے متعلق جو تشویش تھی، وہ اب انکی زندگی کے متعلق تحفظات میں بدل چکی ہے۔ جس بے حسی کا میں نے ذکر کیا ہے، اسکا اظہار بابانگ دہل ہو رہا ہے، میڈیا سے بات کرتے ہوئے، کابینہ میٹنگ میں اور جلسوں میں ہر جگہ عمران خان کہہ رہے ہیں کہ وہ مودی سے بات کرسکتے ہیں لیکن اپوزیشن سے بات تک نہیں ہوسکتی۔ ضمانت تو عدالت نے دینی ہے لیکن پنجاب حکومت اگر چاہتی تو سنجیدہ لے سکتی تھی، انہوں نے کہیں بھاگ تو نہیں جانا۔

اب وہ ڈٹ گئے ہیں، اس کی وجہ علاج سے انکار نہیں، باعزت سلوک کا مطالبہ ہے، علاج تو وہ ضرور کروانا چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کا یہ وطیرہ ہے، پہلے بھی جب وہ اوپن ہارٹ سرجری کیلئے گئے تھے تو انہوں مذاق بنایا تھا۔ انہوں نے تو بیماری اور سرجری کو ہی جعلی قرار دیا تھا، اب کیسے سنجیدہ ہونگے، اس حوالے سے اگر دنیا میں پاکستان کا امیج خراب ہوتا ہے تو اسکی ذمہ دار حکومت ہے، حق مانگنے والے نہیں، وہ تو پاکستان کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں، انکی زندگی کا مشن ہی یہی ہے۔ یہ کیس بھی کمزور ہے، فیصلہ بھی اور کریمنل بھی نہیں، ضمانت میں کوئی مشکل نہیں۔

اسلام ٹائمز: اپنے ملک میں جو سہولتیں ہیں، ان سے استفادہ کرنے میں کیا حرج ہے، پنجاب حکومت تو یہ پیشکش بار بار کرچکی ہے، کیا نون لیگ خدانخواستہ کسی بڑے سانحے کے انتظار میں ہے۔؟
خرم دستگیر خان: یہ ملک ہمارا ہے، اس میں صحت کی سہولتیں بھی ہیں، جس کو اللہ تعالیٰ نے جو زندگی دی ہے، وہ اس نے پوری کرنی ہے، چاہے کوئی جیسے سازش کرے، ہماری دعائیں اور پاکستانی عوام کی تمنائیں میاں صاحب کیساتھ ہیں، اگر انہیں کچھ ہوتا ہے تو اسکی ذمہ داری موجودہ حکومت پر ہوگی۔ لیکن اس کے ساتھ ایک سوال ہے کہ اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان نے جو تقریریں کیں اور اب بھی کہہ رہے ہیں کہ شریف برادران حکومت میں رہے لیکن انہوں نے کوئی معیاری ہسپتال نہیں بنایا، اگر ایسا تھا تو جیل میں ملاقات کے دوران پنجاب حکومت کے ترجمان نے کیوں کہا کہ دنیا میں جو مشینری اور سہولیات موجود ہیں، وہ پنجاب کے ہسپتالوں میں بھی موجود ہیں، وہ سہولیات جو امریکہ اور یو کے میں ہیں، وہ یہاں موجود ہیں، کیا یہ لیکر آئے ہیں، انکی ساری سیاست جھوٹ اور غلط بیانی پر مبنی ہے۔ ہمارے لیے ساری حکومت ناقابل اعتماد ہے۔

اسلام ٹائمز: مسلم لیگ نون کے قائد جب پسِ دیوار زندان ہیں تو وہ آئین میں نااہلی کی شقوں میں تبدیلی کو یاد کر رہے ہیں، کیا ایوان میں صرف اپنے مفادات کو ملحوظ رکھ کر قانون سازی اور ترامیم کی جاتی ہیں۔؟
خرم دستگیر خان: یہ میرے خیال میں آمریت کے ادوار میں بننے والے قوانین کی بات ہو رہی ہے، جس کا ذکر میاں صاحب نے بھی کیا ہے، اس سے پہلے بھی اس پہ بات ہوتی رہی ہے، دنیا بھر میں قوانین بنتے رہتے ہیں، ان میں ترامیم بھی ہوتی ہیں، یہ صرف محدود نہیں کیا جاسکتا کہ اپوزیشن کی دو مخصوص جماعتوں کا نقطہ نظر ہے۔ باقی سیاسی جماعتوں جو پارلیمان کا حصہ ہیں، ان سب کو شامل ہونا چاہیئے۔ ساتھ ہی ڈیموکریسی کے چارٹر کی بات بھی اسی لیے کی جا رہی ہے، بہت ساری ایسی چیزیں ہیں، جو صرف اس لیے آئین کا حصہ بنائی گئی ہیں کہ جمہوریت کی بجائے آمریت کو چلایا جائے، سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ جمہوریت کو مضبوط بنانے کیلئے مل کر ایسے اقدامات کریں۔

یہ سب کو مل کر کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے، اس کا قطعی طور پر سیاسی دباؤ ڈالنے یا جس چیز کو اپوزیشن کہا جاتا ہے، اس سے نہیں ہے۔ نہ ہی یہ بات کسی ایک شخص یا پارٹی سے تعلق رکھتی ہے۔ اسی طرح نیب کے قوانیں ہیں، اب تو سب کہہ رہے ہیں کہ پہلے تفتیش اور کھوج لگائیں، پھر کسی کو کٹہرے میں لائیں، یہ اتنے غیر فطری قوانین ہیں، جنکی وجہ سے جرم تو ثابت نہیں ہو رہا، لیکن دباؤ کی وجہ سے لوگوں کی اموات ہو رہی ہیں اور باعزت لوگ اپنی عزت بچانے کیلئے خودکشیوں پر مجبور ہیں۔ موجودہ احتسابی عمل ناانصافی پہ مبنی ہے، جس سے صرف لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنائی جا رہی ہیں۔

اسلام ٹائمز: میاں صاحب کی بیماری، اپوزیشن کی سیاست سمیت لیگی موقف کو وکیل اور سفیر بن کر پی پی رہنماء کیوں پیش کر رہے ہیں، لیگی رہنماء آگے بڑھ کر بات کرنیکی بجائے صرف انکی تائید کیوں کر رہے ہیں۔؟
خرم دستگیر خان: ہاں یہ بات صرف کسی ایک رہنماء نے نہیں کی بلکہ خورشید شاہ، بلاول بھٹو نے نہیں کی بلکہ مولانا فضل الرحمان بھی کر رہے ہیں، نواز شریف تین بار وزیراعظم رہے ہیں، وہ ایک مقبول سیاسی لیڈر ہیں، انکی ایک حیثیت اور مقام ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسوقت اپوزیشن ہو یا حکومت، پاکستان کی سیاست میں میاں نواز شریف کو بنیادی حیثیت ہے، سب سے بڑا موضوع اور عنوان میاں نواز شریف ہیں۔ ہماری طرف سے میاں صاحب کی صحت کے حوالے سے جتنے بھی رہنماؤں نے بات کی ہے، اس کو سراہا گیا ہے، یہ معاملہ ہی ایسا ہے، مریم نواز نے بھی شکریہ ادا کیا ہے، دعاوں کی اپیل بھی کی ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ لیگی رہنماؤں نے اس معاملے میں تحفظات کا اظہار نہیں کیا، یہ ساری باتیں سب سے پہلے شریف فیملی اور لیگی رہنماؤں کی طرف سے ہی سامنے آئی تھیں۔

اسوقت ان باتوں پر کسی کان نہیں دھرے، بلکہ وہ ساری تشویش اور تحفظات سیاست کی نذر ہوگئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن کے باقی رہنماء اسی بات کو دہرا رہے ہیں، اسکا تعلق انسانی بنیادوں پہ پائے جانیوالے احساس سے ہے۔ سیاست اور سیاسی مفادات سے نہیں، اپوزیشن بھی کوشش کر رہی ہے کہ حکومت میاں صاحب کی صحت کو سیاست کے پردے میں چھپا کر نظرانداز کرنے میں کامیاب نہ ہو، یہ کوئی ایسا موقف نہیں جو اصول پہ مبنی ہو۔ خواجہ آصف نے بھی بات کی، حکومت کے ذمہ داروں کے منہ سے کم از کم یہ تو نکلا کہ پنجاب میں اچھے ہسپتال نہیں ہیں، شاہد خاقان نے بھی بات کی ہے، مریم اورنگزیب بھی یہ معاملہ اٹھا چکی ہیں، میاں صاحب کی صحت سب سے پہلے ہے۔

اسلام ٹائمز: نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد اور بھارت کیخلاف سفارتی، عسکری، معاشی اور سیاسی محاذ آرائی کیلئے پوری قوم کا ایک پیج پہ ہونا وقت کا تقاضا نہیں، ایسا ممکن نہیں کہ عدالتوں کی لڑائی قانونی طریقے سے لڑی جائے اور ملکی استحکام کیلئے ملکر کام کیا جائے۔؟
خرم دستگیر خان: دیکھیں، ان حوالوں سے جو لیڈ ہے، وہ زیادہ تر عسکری ادارے ہی لیتے ہیں، پھر انکا ساتھ دینے کیلئے انتظامیہ کے ادارے ہیں، ہمارے دور میں کبھی کوئی کمی نہیں آنے دی گئی، اب بھی ہم مسلح افواج کی پشت پہ کھڑے ہیں، ہر پاکستانی کا یہی عزم ہے، جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں، لیکن حکومت کا جو کردار ہے، وہ انتشار اور فساد کی سیاست کر رہے ہیں، ملک جب حالت جنگ میں ہے اسوقت بھی وزیراعظم بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ دشمن ملک کے وزیراعظم سے تو بات ہوسکتی ہے، لیکن اپنے ملک کی سیاسی جماعتوں سے بات نہیں ہوسکتی، ایسی کون سی خوبی ہے مودی میں، جسکی وجہ سے عمران خان اسکو فون کر رہے ہیں اور وہ سن نہیں رہا، پھر بھی اسکا گلہ سننے کو تیار نہین ہیں، لیکن اپوزیشن کو ملک دشمن ثابت کرنے پہ تلے ہیں۔ اس سے بڑھ کر قومی یکجہتی کیخلاف کیا بات ہوسکتی ہے۔

دوسری طرف دیکھ لیں، عمران خان اب بھی حافظ سعید کا قصیدہ پڑھ رہے ہیں، وہ بھی سوشل میڈیا کے ذریعے۔ ہماری حکومت نے تو اس سے سخت اقدامات کیے تھے، لیکن بھی مذاکرات یا امن کی بات کی تو ہمیں یہی عمران خان لیگی رہنماؤں کو مودی کا یار اور پتہ نہیں کیا کیا کہتے رہے، خیر وہ تو آج بھی نہیں رکے، وہی رٹ لگائی ہوئی ہے۔ ان اگر ایک طرف عمران خان اور انکی زبان رکھیں تو ہم اس قسم کی سیاست نہیں کرتے، ہمارا موقف یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت نان اسٹیٹ ایکٹرز کیخلاف اقدام پاکستان کے عین مفاد میں ہے، کیسے ان کی حمایت کرسکتے ہیں، ہم تو ان کی مخالفت کی سزا بھگت رہے ہیں۔ ہم تو اسوقت بھی کہہ رہے تھے کہ یہ اقدامات اس لیے نہیں ہو رہے کہ ہندوستان نے کہا ہے یا امریکہ کا مطالبہ اور ڈیکٹیشن ہے، بلکہ یہ اس لیے ہونا چاہیئے کہ یہ عین ملکی مفاد میں ہے۔

فرقوں اور زبان کی بنیاد پہ ہونیوالی سایست اور ہر طرح کی نفرتوں کا خاتمہ ضروری ہے، سماجی ہم آہنگی بھی اس کے بغیر ممکن نہیں۔ ہمارے دور میں جس حد تک عسکری اداروں کی دلچسپی تھی، وہ ہم نے مکمل کیا، اب بھی جس حد تک وہ چاہ رہے ہیں پورا ہونا چاہیئے۔ خان صاحب نے ان کا لاڈلا بننے کی کوشش کی ہے، اب جتنا عسکری ادارے چاہیں گے، اسی حد تک کالعدم تنظیموں کیخلاف اقدامات ہونگے، یہ میرے خیال میں ہر سیاسی حکومت کو سامنے رکھنا پڑتا ہے، یہ ایک حقیقت ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ بہت سارا جھوٹ بھی ہمارے خلاف بولا جاتا ہے، لیکن اب وقت آج چکا ہے کہ کالعدم گروہوں کو جڑ سے ختم کیا جائے، یہ پالیسی ہمارے انٹرسٹ میں نہیں ہے، نہ دنیا مزید اسے قبول کریگی۔ اسکا سدباب اب کرنا پڑیگا۔ دشمن کا نیریٹیو بھی اسی سے ناکام بنایا جا سکتا ہے۔

اب میرے خیال میں عسکری اداروں کو بھی یہ احساس ہے کہ ان گروہوں کو خاتمہ ہونا چاہیئے۔ اسوقت بلاول صاحب نے جو ہماری حکومت کے دور میں تنقید کی تھی، وہ چوہدری نثار صاحب کا طرز عمل تھا، لیکن حقیقت میں کسی سیاسی جماعت کو نیشنل ایکشن پلان سے اختلاف نہیں تھا، نہ اب ہے۔ یہ جو عمران خان کی حکومت ہے، نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کی استعداد ہی نہیں رکھتی، یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ زمام حکومت ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے، جو ملکی سلامتی اور قومی مفاد کو نہ سمجھتے ہیں نہ ایسے اقدامات کی نگرانی کرسکتے ہیں، کل جب یہ اس میں ناکام ہونگے تو اسکا الزام بھی اپوزیشن پہ دھر دینگے۔ عمران خان جو باتیں بھارت کیساتھ امن کی باتیں کرکے امن کا نوبیل انعام لینا چاہ رہے تھے، انہی باتوں پہ ہماری قیادت کو غدار ٹھہرایا گیا تھا، لیکن ہم قومی یکجہتی کی فضاء کو برقرار رکھیں گے۔
خبر کا کوڈ : 783831
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب