0
Wednesday 20 Mar 2019 23:58
پاکستانی عوام کبھی بھی اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنیکی اجازت نہیں دینگے

پاک ایران دوستانہ تعلقات کیخلاف سرگرم عناصر کیخلاف فوری کارروائی ہونی چاہیئے، علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی

پاک ایران دوستانہ تعلقات کیخلاف سرگرم عناصر کیخلاف فوری کارروائی ہونی چاہیئے، علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی
معروف اہلسنت عالم دین مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی کا تعلق بنیادی طور پر پاکستان میں اہلسنت مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی مذہبی جماعت جمعیت علمائے پاکستان سے ہے اور وہ اسوقت جے یو پی سندھ کے سینیئر نائب صدر ہونے کیساتھ ساتھ مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن بھی ہیں۔ اسکے ساتھ وہ مرکزی جماعت اہلسنت پاکستان اور اسکی بعض ذیلی تنظیموں سے بھی وابستہ ہیں اور رابطے کے حوالے سے ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ وہ ملی یکجہتی کونسل سندھ کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں۔ وہ اس سے قبل جے یو پی کراچی کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی کیساتھ بھارتی جارحیت اور اسکے خلاف حکومتی اقدامات، پاک ایران تعلقات کے موضوعات کے حوالے سے کراچی میں انکی رہائشگاہ پر ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر انکے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: حالیہ بھارتی جارحیت کیخلاف پاکستانی حکومت کے اقدامات خصوصاً بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی رہائی کو کیسے دیکھتے ہیں۔؟
مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو اپنے دباؤ میں لانے کی کوشش کی ہے، حالیہ بھارتی جارحیت بھی اسی کا تسلسل ہے، بھارت میں عنقریب الیکشن ہیں، بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے اس موقع پر پاکستان پر غیر اعلانیہ جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی، تاکہ ووٹرز کو اپنی جانب متوجہ کرسکیں، تاہم پاک فضائیہ نے بھارتی حملے کو ناکام بناتے ہوئے اس کے دو جنگی جہاز مار گرائے اور ایک بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار بھی کر لیا، اس طرح بھارت کو دنیا بھر میں شدید رسوائی کا سامنا کرنا پڑا، جہاں تک بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی رہائی کا معاملہ ہے، میرا خیال ہے کہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی رہائی پاکستانی حکومت کا بڑا دانشمندانہ فیصلہ ہے، پاکستان نے ثابت کر دیا کہ فاتح قوم کا یہی طریقہ ہوتا ہے کہ وہ شکست خوردہ قوم کے ساتھ انسانی ہمدردی پر مبنی سلوک کرتی ہے، پاکستان نے جو رویہ اپنا ہے، اس کے بعد مذاکرات کی میز پر بھی پاکستان فتح مند ہوگا، پاکستان نے اپنے اقدام سے عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کیا ہے، پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ جارح نہیں ہے، بلکہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینا بھی جانتا ہے اور حسن سلوک کا انداز اپنانا بھی جانتا ہے، حکومتی فیصلے سے پاکستان کا دنیا بھر میں وقار بلند ہوا ہے، حکومتی سنجیدگی ظاہر ہوئی، پاکستانی عوام کی امن پسندی کا اظہار ہوا۔

اسلام ٹائمز: ابھی نندن کیساتھ ساتھ پاکستان کے ہاتھوں ایک اسرائیلی پائلٹ کی گرفتاری کی خبروں کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی:
بہت ساری خبروں میں ایک خبر یہ بھی ہے کہ ابھی نندن کے علاوہ دوسرا گرفتار پائلٹ اسرائیلی تھا یا اسرائیلی ہے، لیکن اس وقت یہ ایک لاحاصل بحث ہے، اگر ہم اس بحث میں جائینگے تو اپنے اصل ہدف سے ہٹ جائینگے، لیکن یہ بعید از قیاس نہیں ہے، کیونکہ یہود اور ہنود دونوں اسلام دشمن ہیں، بھارت اور اسرائیل مشترکہ جنگی مشقیں کرتے رہے ہیں، ممکن ہے کہ اسرائیلی پائلٹ بھی اس وقت وہاں موجود ہو۔

اسلام ٹائمز: خبریں عام ہوئیں کہ بھارتی جارحیت میں اسرائیل اور ایک عالمی طاقت بھی شامل ہیں، اس بلاک کو کاؤنٹر کرنے کیلئے پاکستان کو فوری طور پر کن اقدامات کی ضرورت ہے۔؟
مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی:
ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے دوست پڑوسی ممالک سے تعلقات کو مزید مضبوط کرے، ہمارے ایک طرف ایران موجود ہے، خود ایران کو بھی جارحیت کا سامنا رہتا ہے، دہشتگردی کا خطرہ رہتا ہے، پاکستان اور ایران دونوں ممالک کو چاہیئے کہ مشترکہ حکمت عملی ترتیب دیں، ایک جانب چین موجود ہے، اس سے تعلقات مزید مضبوط کریں، لہٰذا ان حساس حالات میں ایران، چین و اطراف میں دیگر دوست ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط سے مضبوط تر کرنے چاہیئں، تاکہ افغانستان، بھارت کی سرحدوں پر ہونے والی سازشوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

اسلام ٹائمز: تاثر ہے کہ ملک میں اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کیلئے فضاء بنائی جا رہی ہے، اس حوالے سے آپکا کیا کہنا ہے۔؟
مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی:
پاکستانی عوام اچھی طرح جانتی ہے کہ اسرائیل ہمارا ازلی دشمن ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے آج تک اسرائیل کے ناجائز وجود کو تسلیم نہیں کیا، میں نہیں سمجھتا کہ موجودہ پی ٹی آئی حکومت یا کوئی اور حکومت بھی ایسا فیصلہ کریگی، جو پاکستانی عوام کے مزاج کے خلاف ہو، ہوسکتا ہے کہ ایک آدھ افراد اسرائیل کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہوں، لیکن پاکستانی عوام ہرگز ہرگز یہ برداشت نہیں کرینگے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کئے جائیں اور نہ ہی کبھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی اجازت دینگے۔

اسلام ٹائمز: گذشتہ دنوں سابق صدر مملکت اور سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف نے پاکستان کو اسرائیل کو تسلیم کرنیکا مشورہ دیا، کیا کہنا چاہیں گے۔؟
مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی:
پرویز مشرف ایک مفرور سابق جنرل ہے، جبکہ جنرلوں کی یہ شان نہیں ہوتی، بہرحال مشرف اپنے جن آقاؤں کے زیر اثر حکومت کرتا تھا، انہیں خوش کرنے کیلئے اکثر ایسے بیانات دیتا ہے، مشرف کے ایسے بیانات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: جنرل (ر) پرویز مشرف کے اس بیان کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے سینیٹ میں اسرائیل کو پاکستان کا نمبر ایک دشمن قرار دیا، اسے کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی:
علی محمد خان ایک اہم ترین حکومتی فرد اور وزیر ہیں، پارلیمنٹ کا بھی حصہ ہیں، ان کا اسرائیل کے خلاف بیان انتہائی قابل قدر اور پاکستانی عوام کے جذبات و احساسات کا عکاس ہے، میں سمجھتا ہوں کہ علی محمد خان نے اسرائیل کے حوالے سے حکومتی ترجمانی کی۔

اسلام ٹائمز: آپ نے دہشتگردی کیخلاف پاک ایران مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینے کی بات کی، گذشتہ دنوں ایرانی صدر حسن روحانی اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا، پاک ایران تعلقات میں مزید بہتری کیسے ممکن ہے۔؟
مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی:
ایک ماہ پہلے پاک ایران سرحد پر ایک دہشتگردی کا واقعہ پیش آیا اور پاک ایران تعلقات پر بھی اثر پڑتا نظر آیا، اس کے بعد پاک ایران اعلیٰ سطحی رابطہ بہت ضروری تھا، یہ کام فوری ہونا چاہیئے تھا کہ پاکستان اور ایران کی حکومتیں آپس میں رابطہ کریں اور انٹیلی جنس تعاون بڑھائیں، تاکہ کوئی بھی ایسا عنصر یا عناصر موجود ہیں، جو پاکستان کی سرزمین کو ایران کے خلاف یا ایران کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرکے کوئی سازش کرنا چاہتے ہیں یا پاک ایران دوستانہ تعلقات کے خلاف کوئی ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں، تو ایسے عناصر اور سازشوں کی بیخ کنی کی جا سکے، لہٰذا ضروری ہے کہ پاک ایران انٹیلی جنس تعاون آگے بڑھنا چاہیئے۔

پاکستان اور ایران دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے کہ اپنی سرحدوں کی بھی حفاظت کریں اور اپنے عوام کی بھی حفاظت کریں اور ہر اس سازش سے باخبر رہیں، جو خدانخواستہ پاک ایران دوستی کو متاثر کرنے کا باعث بن سکتی ہو، کیونکہ ہمارے مشترکہ دشمن کو ہماری دوستی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ دونوں ممالک نے جو انٹیلی جنس تعاون شروع کیا ہے، ان کی رپورٹس کی روشنی میں جن جن دہشتگرد عناصر پر شبہات ہیں، ان کے خلاف فوری کارروائی شروع کریں، اس کے ساتھ ساتھ اقتصادی و معاشی تعاون بھی بڑھائیں، پاک ایران گیس پائپ لائن جو ایران پاکستانی سرحد تک لے کر آچکا ہے، پاکستان بھی اسے آگے بڑھائے، ایرانی سے گیس اور تیل لے کر استعمال کرے، جب پاک ایران تعلقات مضبوط ہونگے، تو شک و شبہات کا بھی خاتمہ ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 784358
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب