0
Monday 1 Apr 2019 09:28
کرپشن اور فرقہ واریت سے پاک پاکستان چاہتے ہیں

ایم ڈبلیو ایم کی مقاومت کا مقصد تعجیل ظہور امام زمانہ (عج) کیلئے زمینہ سازی کرنا ہے، آصف رضا ایڈووکیٹ

ہم پاکستان کو ایک مضبوط مملکت کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں، جہاں کسی کے حقوق پائمال نہ ہوں
ایم ڈبلیو ایم کی مقاومت کا مقصد تعجیل ظہور امام زمانہ (عج) کیلئے زمینہ سازی کرنا ہے، آصف رضا ایڈووکیٹ
آصف رضا ایڈووکیٹ صاحب کا تعلق پنجاب کے ضلع سرگودھا سے ہے، وہ زمانہ طالب علمی میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے مربوط رہے، آئی ایس او میں مرکزی انچارج محبین کی ذمہ داری ادا کی، مجلس وحدت مسلمین کے قیام کے بعد مرکزی پولیٹیکل کوآرڈینیٹر ایم ڈبلیو ایم نامزد ہوئے، اسوقت ایم ڈبلیو ایم کے معاون مرکزی سیکرٹری تنظیم سازی کی حیثیت سے مسئولیت نبھا رہے ہیں، آصف رضا پیشہ کے لحاظ سے وکیل ہیں۔ اسلام ٹائمز نے آصف رضا ایڈووکیٹ کیساتھ ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت میں تنظیم سازی کی کس حد تک اہمیت ہوتی ہے۔؟
آصف رضا ایڈووکیٹ:
بسم اللہ الرحمان الرحیم۔ تنظیم کیونکہ افراد کے مجموعہ کا نام ہوتا ہے اور جب تک ہم ان افراد کو ایک نظم میں نہیں لاتے، اس وقت تک تنظیم کا تشکل نہیں ہوتا۔ تنظیم کے تشکل کیلئے تنظیم سازی کا عمل بہت ضروری ہوتا ہے۔ تنظیم سازی کے بغیر کوئی بھی جماعت یا تنظیم اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکتی۔ تنظیم سازی کے ذریعے سے ہی آپ افراد کو جذب کرتے ہیں اور اپنی تنظیم کے ویژن کو افراد تک منتقل کرسکتے ہیں۔ تنظیم سازی کے ذریعے ہی کسی بھی جماعت یا تنظیم کو اس کے اہداف حاصل کرنے اور اپنا پیغام معاشرہ میں پہنچانے میں آسانی ہوتی ہے۔ تنظیم سازی کا مطلب کسی ہدف کیلئے تمام افراد کو اکٹھا کرنا اور اس ہدف کیلئے اجتماعی حرکت ہے۔

اسلام ٹائمز: ایک الہیٰ جماعت اور مروجہ سیاسی جماعت میں بنیادی فرق کیا ہوتا ہے۔؟
آصف رضا ایڈووکیٹ:
الہیٰ جماعت میں سیاست ایک جزو ہوتا ہے، جبکہ مروجہ سیاسی پارٹیوں میں ان کا دار و مدار اللہ کی رضا نہیں بلکہ اقتدار کا حصول ہوتا ہے، مجلس وحدت مسلمین پاکستان چونکہ ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے، اس لئے ہمارا مقصد حصول اقتدار نہیں، بلکہ وہ مقاومتی عمل ہے، جس کے ذریعے ہم اس ضعیف ملت کو طاقتور بنا سکیں اور پاکستان میں ملت تشیع کا سیاسی قد کاٹھ اجاگر کرسکیں۔ اس سارے کے سارے سیاسی عمل کا مقصد خوشنودی خدا اور تعجیل ظہور امام زمانہ (عج) کیلئے زمینہ سازی کرنا ہے، جبکہ ایک مروجہ سیاسی جماعت کا ہدف و مقصد ظاہراً عوام کو ریلیف دینا ہوسکتا ہے، مگر عملاً ایسا نہیں ہوسکتا بلکہ یہ سیاسی جماعتیں اقتدار کے حصول کیلئے کسی بھی حد سے گزر سکتی ہیں اور گزرتی بھی ہیں۔

اسلام ٹائمز: اسوقت ملک بھر میں مجلس وحدت مسلمین کا تنظیمی اسٹرکچر کس حد تک موجود ہے۔؟
آصف رضا ایڈووکیٹ:
پاکستان کے انتظامی چار صوبوں بشمول ریاست آزاد جموں کشمیر، صوبہ گلگت بلتستان اور جنوبی پنجاب میں مجلس وحدت مسلمین کا مضبوط تنظیمی ڈھانچہ موجود ہے، جو کہ مرکز، صوبہ، ضلع، تحصیل اور یوٹس سطح کے سیٹ اپس کی شکل میں موجود ہے، اس وقت پاراچنار سے لیکر کراچی تک اور کراچی سے لیکر گلگت و بلتستان تک الحمد اللہ مجلس وحدت مسلمین کے سیٹ اپس موجود ہیں، جو کہ ایک وفاق کی علامت ہیں۔ سابقہ ادوار میں بعض مشکلات کی وجہ سے جس حد تک مجلس وحدت مسلمین کی تنظیم سازی ہونی چاہیئے تھی، ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اتنی تنظیم سازی نہیں کرسکے، اس کے باوجود بھی 85 سے زائد اضلاع میں ہمارا تنظیمی سیٹ اپ موجود ہے، جبکہ مجلس وحدت مسلمین کی عوام میں قبولیت بہت زیادہ ہے، اس کے مقابلہ میں تنظیمی سیٹ اپ شائد کم ہو۔ تاہم مجلس وحدت مسلمین ملکی سطح پر ایک شناخت اور مضبوط حیثیت رکھتی ہے۔

اسلام ٹائمز: مجلس وحدت مسلمین کو تنظیم سازی اور عوام تک اپنا پیغام پہنچانے میں کیا مشکلات پیش آئیں۔؟
آصف رضا ایڈووکیٹ:
جب مجلس وحدت مسلمین قائم ہوئی تو پاکستان میں دہشتگردی کی خطرناک لہر تھی، خاص طور پر ملت تشیع کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا جا رہا تھا، اگر یوں کہا جائے کہ پاکستان بھر میں شیعہ نسل کشی ہو رہی تھی تو غلط نہ ہوگا، اس کے علاوہ فرقہ پرست گروہ اور کالعدم جماعتیں پاکستان میں فرقہ واریت پھیلا رہی تھیں، ان حالات کا ہماری جماعت نے مقابلہ کیا، اس دوران ہم منظم تو ضرور ہوئے لیکن تنظیم سازی نہ کرسکے، یعنی دشمن نے ہمیں الجھائے رکھا۔ اس کے علاوہ گذشتہ دور حکومت میں مسلم لیگ نون نے ہمارے لئے سیاسی بنیادوں پر بہت مشکلات پیدا کیں، ہمارے کارکنوں کو ہراساں کیا گیا، بے جا کیس بنائے گئے، شیڈول فور کے ذریعے ہمارے لوگوں کو تنگ کیا گیا، ان سب حالات کے باوجود ہم نے مقابلہ کیا۔

اسلام ٹائمز: مجلس وحدت مسلمین کا تیسرا باقاعدہ ٹینیور ختم ہوچکا ہے، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مجلس وحدت وہ اہداف حاصل کرسکی، جس کیلئے یہ جماعت تشکیل دی گئی تھی۔؟
آصف رضا ایڈووکیٹ:
مجلس وحدت مسلمین کا تشکل دراصل وہ خط تھا، جو خط شہید حسینی (رہ) تھا، یعنی مجلس وحدت مسلمین کے قیام کا مقصد مظلومین جہاں کی حمایت اور پاکستان میں ملت تشیع کے حقوق کا تحفظ تھا، ہم چاہتے تھے کہ پاکستان کی خارجہ اور داخلہ جو بھی پالیسی بنے، اس میں ملت تشیع کا بھی حصہ ہو، کیونکہ ملت تشیع پاکستان کے بانیان میں سے ہے، اس ملت کو دیوار سے لگانے کی کوششیں ہو رہی تھیں، اس وجہ سے مجلس وحدت مسلمین کی بنیاد رکھی گئی۔ ہم نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں مظلومین کے حق میں آواز اٹھائی اور آئے روز ہونے والی شیعہ ٹارگٹ کلنگ بالخصوص ڈیرہ اسماعیل خان، کراچی، پاراچنار، کوئٹہ سمیت گلگت بلتستان میں ملت تشیع کے قتل عام کیخلاف آواز بننا مقصود تھا۔

اسلام ٹائمز: مجلس وحدت مسلمین نے شیعہ وحدت اور اتحاد بین المسلمین کیلئے اپنے معین کردہ اہداف کس حد تک حاصل کئے ہیں۔؟
آصف رضا ایڈووکیٹ:
مجلس وحدت مسلمین نے روز اول سے ملت تشیع کو یکجا کرنے اور ایک لڑی میں پرونے کی کوشش کی ہے، ہم نے نمازی اور ماتمی کی تفریق ختم کی، ذاکرین اور علمائے کرام کے مابین فاصلے ختم کرنے کی کوششیں کیں، تنظیموں اور اداروں کے ساتھ رابطے کئے۔ آج آپ دیکھیں کہ ملک کے نامور ذاکرین کی ایک بڑی تعداد مجلس وحدت کی قیادت کیساتھ ہم آہنگ نظر آتی ہے، ہم نے مختلف مشترکہ پروگرامز منعقد کئے، عوامی جدوجہد میں سب کو ساتھ لیکر چلے، مجلس وحدت مسلمین نے صرف تنظیم نہیں بلکہ ایک ملت بنانے کی کوشش کی۔ جہاں تک اتحاد بین المسلمین کا تعلق ہے تو ہم نے پاکستان میں موجود مثبت سوچ رکھنے والی محب وطن اہلسنت جماعتوں کو ساتھ ملایا۔ سنی اتحاد کونسل، پاکستان عوامی تحریک اور جمعیت علمائے پاکستان کیساتھ بہترین کوآرڈینیشن قائم ہوئی، ہم بہت سے ملکی معاملات پر ایک ساتھ نظر آئے، شیعہ سنی یونٹی کے اثرات نچلی سطح تک منتقل ہوئے، پاکستان میں شیعہ، سنی آج ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان میں دہشتگردی اور فرقہ واریت کی بالکل کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: مجلس وحدت مسلمین کے نئے ٹینیور کا آغاز ہونے جا رہا ہے، آئندہ آنیوالے دور میں مجلس وحدت نے کیا اہداف متعین کئے ہیں۔؟
آصف رضا ایڈووکیٹ:
جی بالکل۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے نئے سیکرٹری جنرل کا اعلان ہوچکا ہے، پہلی کابینہ دستوری تقاضوں کے مطابق مستعفی ہوئی، لیکن ان شاء اللہ امید ہے کہ موجودہ قیادت مظلومین پاکستان کے اس کارواں کو مزید آگے لیکر جائے گی، ایم ڈبلیو ایم کرپشن و فرقہ واریت سے پاک پرامن پاکستان چاہتی ہے، ہم نے نعرہ لگایا تھا کہ پاکستان بنایا ہے، پاکستان بچائیں گے، اسی نعرے کے تحت ہم آگے بڑھیں گے، ہمیں قائداعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان چاہیئے، انشاء اللہ اہداف کے حصول کی کوشش اسی طرح جاری رہے گی، ہم پاکستان کو ایک مضبوط مملکت کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں، جہاں کسی کے حقوق پائمال نہ ہوسکیں۔
خبر کا کوڈ : 786210
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب